شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ باب الحصى في المسجد وكنسه · حديث 477
477 - أخبرنا عمر بن عبد العزيز ، أنا القاسم بن جعفر ، أنا أبو علي اللؤلؤي ، نا أبو داود ، نا سهل بن تمام بن يزيع ، حدثنا عمر ابن سليم الباهلي ، عن أبي الوليد قال : سألت ابن عمر عن الحصى الذي في المسجد ، قال : مطرنا ذات ليلة ، فأصبحت الأرض مبتلة ، فجعل الرجل يجيء بالحصى في ثوبه ، فيبسطه تحته ، فلما قضى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) الصلاة قال : " ما أحسن هذا ".
جناب ابو الولید سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسجد کی کنکریوں کے متعلق دریافت کیا۔ انہوں نے کہا: ایک رات بارش برسی تو زمین گیلی ہو گئی۔ ایک شخص اپنے کپڑے میں کنکریاں لا کر اپنے نیچے زمین پر بچھاتا تھا۔ (اس طرح لوگوں نے نماز ادا کرنے کے لئے زمین کو خشک کر لیا) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو فرمایا: ’’یہ کس قدر خوب ہے۔“
أَبِي الْوَلِيدِ ← عمر ابن سليم الباهلي ← سهل بن تمام بن يزيع ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي اللؤلؤي ← القاسم بن جعفر ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › Gravel door in the mosque and sweep it · Hadith 477
