شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ ( باب ما يستفتح به الصلاة من الدعاء · حديث 572
572 - أخبرنا أبو سعيد إسماعيل بن عبد القاهر الجرجاني ، أنا أبو الحسين عبد الغافر بن محمد الفارسي ، أنا أبو أحمد محمد بن عيسى الجلودي ، نا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا أبو الحسين مسلم بن الحجاج القشيري ، نا محمد بن أبي بكر المقدمي ، نا يوسف بن الماجشون ، حدثني أبي ، عن عبد الرحمن الأعرج ، عن عبيد الله بن أبي رافع عن علي بن أبي طالب ، عن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) أنه كان إذا قام إلى الصلاة قال : وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا ، وما أنا من المشركين ، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين ، لا شريك له ، وبذلك أمرت وأنا من المسلمين ، اللهم أنت الملك ، لا إله إلا أنت ، أنت ربي ، وأنا عبدك ، ظلمت نفسي ، واعترفت بذنبي ، فاغفر لي ذنوبي جميعا ، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت ، واهدني لأحسن الأخلاق ، لا يهدي لأحسنها إلا أنت ، واصرف عني سيئها ، لا يصرف عني سيئها إلا صفحة رقم 35 أنت ، لبيك وسعديك ، والخير كله في يديك ، والشر ليس إليك ، أنا بك ، وإليك ، تباركت وتعاليت ، أستغفرك وأتوب إليك. وإذا ركع قال : اللهم لك ركعت ، وبك آمنت ، ولك أسلمت ، خشع لك سمعي ، وبصري ، ومخي ، وعظمي ، وعصبي. وإذا رفع قال : اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات والأرض وملء ما بينهما ، وملء ما شئت من شيء بعد. وإذا سجد قال : اللهم لك سجدت ، وبك آمنت ، ولك أسلمت ، سجد وجهي للذي خلقه وصوره ، وشق سمعه وبصره ، تبارك الله أحسن الخالقين. ثم يكون من آخر ما يقول بين التشهد والتسليم : " اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت ، وما أسررت وما أعلنت ، وما أسرفت ، وما أنت أعلم به مني ، أنت المقدم ، وأنت المؤخر ، لا إله إلا أنت. صفحة رقم 36 هذا حديث صحيح. قال مسلم بن الحجاج : حدثنا زهير بن حرب ، حدثنا عبد الرحمن ابن مهدي ، نا عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة ، عن عمه الماجشون ، عن أبي سلمة ، عن الأعرج بهذا الإسناد ، وقال : كان رسول الله [ ] إذا استفتح الصلاة كبر ، ثم قال : " وجهت وجهي " ، وقال : " وأنا أول المسلمين " وإذا سلم قال : " اللهم اغفر لي ما قدمت... " إلى آخر الحديث. قوله : " وجهت وجهي " أي : قصدت بعبادتي وتوحيدي إليه ، وقوله سبحانه وتعالى : ( فأقم وجهك للدين القيم ( [ الروم : 43 ] أي : أقم قصدك. قوله : " حنيفا " قال أبو عبيد : الحنيف عند العرب : من كان على دين إبراهيم ، وقيل الحنف : الاستقامة ، وإنما قيل للمائل الرجل : أحنف ، تفاؤلا بالاستقامة. وقيل : معنى الحنيفية في الإسلام : الميل إليه ، والإقامة على عقده ، والحنف : إقبال إحدى القدمين على الأخرى. وقوله : " إن صلاتي ونسكي " : كل ما يتقرب به إلى الله تعالى ، فيقال : فلان ناسك من النساك ، أي : عابد من العباد ، صفحة رقم 37 يؤدي المناسك وما يتقرب به إلى الله تعالى ، ويقال : النسك : ما أمرت به الشريعة ، والورع ما نهي عنه. وقوله : " لبيك " ، أي : إجابة بعد إجابة. وقوله : " سعديك " أي : ساعدت طاعتك يا رب مساعدة بعد مساعدة. وقوله : " والشر ليس إليك " قال الخليل : معناه : الشر ليس مما يتقرب به إليك ، وقيل : أراد أن الشر لا يصعد إليك ، إنما يصعد إليك الطيب ، وهو الخير ، وقيل : معناه : لا ينسب الشر إليك على الانفراد تعظيما ، فلا يقال : يا خالق الشر ، ويا خالق القردة والخنازير افعل كذا ، وإن كان الله خالقها ، ولا يقال : يا ضار ويا مذل افعل كذا ، بل يقال : يا ضار يا نافع ، يا معز يا مذل ، كما أخبر الله سبحانه وتعالى عن إبراهيم ( صلى الله عليه وسلم ) أنه قال : ) وإذا مرضت فهو يشفين ( [ الشعراء : 80 ] أضاف المرض إلى نفسه ، والشفاء إلى ربه ، وأخبر عن الخضر حيث أضاف إرادة عيب السفينة إلى نفسه فقال : ) فأردت أن أعيبها ( [ الكهف : 79 ] ، وأضاف ما كان من باب الرحمة إلى ربه ، فقال : ) فأراد ربك أن يبلغا أشدهما... ( الآية [ الكهف : 82 ].
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو وجھت سے اتوب الیک تک پڑھتے ، یعنی میں نے اپنا چہره یکسو ہو کر اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنایا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی، میری موت اللہ کے لئے ہے جو جہانوں کو پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور اسی بات کا مجھے حکم کیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو میرا پالنے والا ہے، میں تیرا غلام ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، سو میرے سب گناہوں کو بخش دے، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخشا اور سکھا دے مجھے اچھی عادتیں، تیرے سوا اچھی عادتیں کوئی نہیں سکھاتا، اور دور کر دے مجھ سے بری عادات ہیں دور رکھ سکتا مگر تو ہی، اے اللہ! میں حاضر ہوں اور تیرا فرمانبردار ہوں، اور ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، اور شر تیری طرف منسوب نہیں ہوتا (یا شر سے تیری قربت حاصل نہیں کی جاسکتی) میری توفت تیری طرف سے ہے اور میری التجا تیرے آگے ہے، تو بڑی برکت والا ہے اور بلند ذات والا ہے۔ میں تجھ سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور تیری طرف لوٹتا ہوں۔‘‘ اور جب رکوع کرتے تو پڑھتے :”اے اللہ میں تیرے لئے جھکتا ہوں، اور تجھ پر یقین رکھتا ہوں، جھک گئے تیرے لئے میرے کان، میری آنکھیں، میرا مغز، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے‘‘ اور جب سر اٹھاتے تو فرماتے: ’’اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار! حمد وتعريف تیرے ہی لیے ہے۔ آسمانوں اور زمین بھرنے کے بقدر اور ان کے درمیانی خلا بھرنے کے بقدر اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے اس کے بھرنے کے بقد‘‘ اور جب سجدہ کرتے تو پڑھتے: ”اے اللہ! میں نے تیرے لئے ہی سجدہ کیا اور تجھ پر یقین کیا اور میں تیرا فرمانبردار ہوں، میرے چہرےنے سجدہ کیا اس ہستی کے لئے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی صورت بنائی اور کھولے اس کے کان اور آنکھیں، بڑی برکت والا ہے اللہ بہت اچھا پیدا کرنے والا“ پھر آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان میں کہتے: ”اے الله! بخش دے، میرے وہ تمام گناہ جو میں نے آگئے کئے یا پیچھے کئے، چھپا کر کئے یا ظاہر کئے اور جو حد سے زیادہ کئے اور جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تو سب سے پہلے تھا اور سب کے بعد رہے گا، تیرے سوا کوئی معبودنہیں‘‘ اعرج نے اسی سند سے بیان کیا کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو الله اكبر کہتے پھر وجھت وجھی پڑھتے اور انا اول المسلمین کہتے اور جب سلام کہے تو اللھم لی ما قدمت ۔۔۔۔۔۔۔آخر حدیث تک پڑھتے۔
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › (Chapter on what begins with prayer of supplication · Hadith 572
