شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ باب سترة المصلي · حديث 535
535 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، حدثنا محمد ابن عرعرة ، حدثني عمر بن أبي زائدة ، عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه قال : رأيت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في قبة حمراء من أدم ، ورأيت بلالا أخذ وضوء رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ورأيت الناس يبتدرون ذلك الوضوء ، فمن أصاب منه شيئا تمسح منه ، ومن لم يصب منه شيئا أخذ من بلل يد صاحبه ، ثم رأيت بلالا أخذ عنزة وركزها ، وخرج النبي ( صلى الله عليه وسلم ) في حلة حمراء مشمرا صلى بالناس ركعتين ، ورأيت الناس يمرون بين يدي العنزة. هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن محمد بن حاتم ، عن بهز ، عن عمر بن أبي زائدة. صفحة رقم 445 العنزة : مثل نصف الرمح أو أكبر ، فيها سنان مثل سنان الرمح ، والعكازة نحو منها. قلت : فيه دليل على طهارة الماء المستعمل ، وأن المستحب للمصلي أن يكون بين يديه سترة ، وسترة الإمام سترة لمن خلفة.
جناب عون بن ابی جحیفہ اپنے والد ابو جحیفہ (معصب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے بیان کرتے ہیں: انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سرخ چڑے کے خیمہ میں دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرا رہے ہیں اور ہر شخص آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اگر کسی کو تھوڑا سا بھی پانی مل جاتا تو وہ اسے اپنے اوپر لیتا اور اگر کوئی باقی نہ پا سکتا تو اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ پھر میں نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک برچھی اٹھائی (جس کے نچے لوہے کا پھل لگا ہوا تھا) اور اسے انہوں نے گاڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سرخ پوشاک پہنے ہوئے تہ بند اٹھائے ہوئے باہر تشریف لائے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ آدمی برچھی کے سامنے سے گزر رہے تھے۔
أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ← محمد ابن عرعرة ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › Bab Sitra Al-Musalla · Hadith 535
