شرح السنة للبغوي · كتاب الجمعة ‹ باب الخروج إلى المصلى يوم العيد · حديث 1099
1099 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل الخرقي ، أنا أبو الحسن علي بن عبد الله الطيسفوني ، أنا أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر الجوهري ، نا أحمد بن علي الكشميهني ، نا علي بن حجر ، نا إسماعيل بن جعفر ، نا داود بن قيس الفراء ، عن عياض بن عبد الله بن سعد عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) كان يخرج يوم الأضحى ويوم الفطر ، فيبدأ بالصلاة ، فإذا قضى صلاته وسلم ، قام فأقبل على الناس وهم جلوس في مصلاهم ، فإن كان له حاجة ببعث أو غير ذلك ذكره للناس ، وكان يقول : تصدقوا ، تصدقوا ، تصدقوا ، وكان أكثر من يتصدق النساء ، ثم انصرف فلم يزل كذلك حتى كان مروان بن الحكم ، فخرجت مخاصرا مروان حتى أتينا المصلى ، فإذا كثير بن الصلت قد بنى منبرا من طين ولبن ، فإذا مروان تنازعني يده ، كأنه يجرني نحو المنبر ، وأنا أجره نحو المصلى ، فلما رأيت ذلك صفحة رقم 294 منه قلت : أين الابتداء بالصلاة ، فقال : لا يا أبا سعيد قد ترك ما تعلم ، فقلت : كلا والذي نفسي بيده لا تأتون بخير مما أعلم ؛ ثلاث مرات ، ثم انصرف. هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن علي بن حجر ، وأخرجه محمد عن سعيد بن أبي مريم ، عن محمد بن جعفر ، عن زيد ابن عياض. قال رحمه الله : السنة أن يخرج إلى المصلى لصلاة العيد ، إلا من عذر ، فيصلي في المسجد ، روي عن أبي هريرة أنه أصابهم مطر ، فصلى بهم النبي ( صلى الله عليه وسلم ) صلاة العيد في المسجد. صفحة رقم 295 وعن علي أنه أمر رجلا ، فصلى بضعفه الناس في المسجد الجامع يوم عيد ركعتين. قال رحمه الله : وفي الحديث أنه عليه السلام خطب قائما على رجليه يوم العيد. وعن عمر أنه خطب قائما على رجليه. قال رحمه الله : وخطب في الجمعة على المنبر ، وفي الحج على بعيره وبغلته.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر اور عیدالا ضحیٰ کے دن( مدینہ کے باہر ) تشریف کے جاتے تو آغاز نماز سے کرتے ، جب نماز سے فارغ ہو جاتے اور سلام پھیر لیتے تو لوگوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ، تمام لوگ اپنی جگہوں میں بیٹھے رہتے ، اگر کہیں جہاد کے لیے لشکر روانہ کرنا مقصود ہوتا، یا کسی اور بات کا حکم دینا ہو تا تو اس بات کو لوگوں کے سامنے ذکر کرتے اور آپ حکم فرماتے : " صدقہ کرو، صدقہ کرو۔" زیادہ صدقہ و خیرات دینے والی خواتین ہوتیں، اس کے بعد آپ واپس مدینہ میں تشریف لاتے ۔ عید پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ یونہی چلتا رہا حتیٰ کہ مروان بن حکم مدینہ کے امیر و حاکم بنے ( سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں مروان کے ہمراہ نکلا، ہم جب عید گاہ پہنچے تو وہاں میں نے کثیر بن صلت کا بنایا ہو ا گارے اور کچی اینٹوں کا ایک منبر دیکھا، اب مروان اپنا ہاتھ مجھ سے کھینچنے لگا گویا مجھے منبر کی جانب کھینچ رہا ہے اور میں اسے عید گاہ کی طرف کھینچ رہا تھا، جب میں نے اس کا یہ طرز عمل دیکھا تو کہا: نماز پڑھنے سے پہلے عید کا آغاز کہاں گیا؟ مروان نے کہا: اے ابو سعید ! اب وہ زمانہ بیت گیا جس کو تم جانتے ہو ، میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم وہ خیر کا کام نہیں کر پاؤ گے جو میں جانتا ہوں، تین بار ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر وہ چلا گیا۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ*، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أحمد بن علي الكشميهني ← أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر الجوهري ← أبو الحسن علي بن عبد الله الطيسفوني ← أبو عبد الله محمد بن الفضل الخرقي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · Friday book › Exit door to the prayer hall on Eid · Hadith 1099
