شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب وعيد من يأمر بالمعروف ولا يأتيه · حديث 4158
4158 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا علي ، نا سفيان ، نا الأعمش عن أبي وائل قال : قيل لأسامة : لو أتيت فلانا ، فكلمته قال : إنكم لترون أني لا أكلمه إلا سمعكم أني أكلمه في السر دون أن أفتح بابا لا أكون أول من فتحه ، ولا أقول لرجل إن كان علي أميرا : إنه خير الناس بعد شيء سمعته من رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قالوا : وما سمعته يقول ؟ قال : سمعته يقول : " يجاء بالرجل يوم القيامة ، فيلقى في النار ، فتندلق أقتابه في النار ، فيدور كما يدور الحمار برحاه ، فيجتمع أهل النار عليه ، فيقولون : أي فلان ما شأنك أليس كنت تأمرنا بالمعروف ، وتنهانا عن المنكر ؟ قال : صفحة رقم 352 كنت آمركم بالمعروف ولا آتيه ، وأنهاكم عن المنكر وآتيه ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن أبي كريب وغيره عن أبي معاوية ، عن الأعمش. وقال شعبة عن الأعمش : فيطحن فيها كطحن الحمار برحاه. قوله : " لا أكلمه إلا سمعكم " أي : بحيث تسمعون بكسر السين. قوله : " تندلق أقتابه " أي : تخرج أمعاؤه. فالاندلاق : خروج الشيء من مكانه ، وكل شيء بدر خارجا ، فقد اندلق ، يقال : اندلق السيف من الغمد : إذا شقه فخرج منه ، والأقتاب : الأمعاء ، قاله الأصمعي ، واحدها : قتبة ، وقال الكسائي : واحدها قتب ، وقال أبو عبيدة : القتب ما تحوى في البطن يعني استدار وهي الحوايا ، فأما الأمعاء ، فإنها الأقصاب ، واحدها قصب. قال أبو هريرة : قال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : رأيت عمرو بن عامر الخزاعي يجر قصبه في النار ، وكان أول من سيب السوائب.
جناب ابو وائل نے بیان کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ اگر آپ فلاں صاحب( عثمان رضی اللہ عنہ ) کے پاس جا کر ان سے گفتگو کریں تو اچھا ہو ( تاکہ وہ یہ فساد دبانے کی تدبیر کریں) انہوں نے کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تم کو سنا کر ( تمہارے سامنے ہی ) بات کرتا ہوں، میں تنہائی میں ان سے گفتگوں کرتا ہوں اس طرح کے فساد کادروازہ نہیں کھولتا ، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ سب سے پہلے میں فساد کا دروازہ کھولوں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہیں کہتا کہ جو شخص میرے اوپر امیر ہو وہ سب لوگوں میں بہتر ہے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ کیا ہے ؟سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: " قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اتنے میں اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ شخص اس طرح چکر لگانے لگے گا جیسے گدھا اپنی چکی پر گردش کیا کرتا ہے ۔ جہنم میں ڈالے جانے والے اس کے قریب آکر جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے : اے فلاں ! آج تمہارا یہ کیا حشر ہے ؟ کیا تم ہمیں اچھے کام کرنے کے لیے نہیں کہتے تھے اور کیا تم برے کاموں سے ہمیں منع نہیں کیا کرتے تھے ؟ وہ شخص کہے گا : جی ہاں ، میں تمہیں تو اچھے کاموں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا۔ برے کاموں سے تمہیں منع کرتا تھا لیکن میں خود انہیں کیا کرتا تھا۔
أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter and the feast of those who command favor and do not come to it · Hadith 4158
