شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب كيف كان عيش النبي ( صلى الله عليه وسلم ) وعيش أصحابه رضي الله عنهم · حديث 4086
4086 - أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أبي توبة ، أنا محمد بن أحمد بن الحارث ، أنا محمد بن يعقوب الكسائي ، أنا عبد الله ابن محمود ، أنا إبراهيم بن عبد الله الخلال ، نا عبد الله بن المبارك ، صفحة رقم 281 عن سليمان بن المغيرة ، عن حميد بن هلال ، عن خالد بن عمير العدوي قال : خطبنا عتبة بن غزوان ، فحمد الله وأثنى عليه ، ثم قال : أما بعد ، فإن الدنيا قد آذنت بصرم ، وولت حذاء ، وإنما بقي منها صبابة كصبابة الإناء يتصابها صاحبها وإنكم منتقلون منها إلى دار لا زوال لها ، فانتقلوا بخير ما بحضرتكم ، فإنه قد ذكر لنا أن الحجر يلقى من شفة جهنم ، فيهوي بها سبعين عاما لا يدرك لها قعرا ، والله لتملأن ، أفعجبتم ؟ ولقد ذكر لنا أن ما بين مصراعين من مصاريع الجنة مسيرة أربعين سنة ، وليأتين عليه يوم وهو كظيظ الزحام ، ولقد رأيتني سابع سبعة مع رسول الله [ ] ما لنا طعام إلا ورق الشجر حتى قرحت أشداقنا فالتقطت بردة ، فاشتققتها بيني وبين سعد بن مالك ، فاتزرت بنصفها ، واتزر بنصفها ، فما أصبح اليوم منا أحد حيا إلا أصبح أميرا على مصر من الأمصار ، وإني أعوذ بالله أن أكون في نفسي عظيما ، وعند الله صغيرا ، وإنها لم تكن نبوة قط إلا تناسخت حتى تكون عاقبتها ملكا ، وستبلون أو قال : ستخبرون الأمراء بعدي. صفحة رقم 282 هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن شيبان بن فروخ ، عن سليمان ابن المغيرة. قوله : وولت حذاء ، أي : مسرعة ، قال أبو عبيد : هي السريعة الخفيفة التي انقطع آخرها ، ومنه قيل للقطاة : حذاء لقصر ذنبها وخفتها ، وحمار أحذ : قصير الذنب. وصبابة الإناء : البقية اليسيرة تبقى في الإناء من الشراب. يتصابها أي : يشربها صاحبها. وهو كظيظ ، أي : ممتلئ ، والكظيظ : الزحام ، يقال : كظه الشراب ، وكظه الغيظ : إذا ملأ صدره ، يقال : رأيت على بابه كظيظا ، أي : زحاما.
سیدنا خالد بن عمیر عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عتبہ بن غزوان نے ہمیں ایک خطبہ دیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا اما بعد ! دنیا نے اپنے ختم ہونے کی خبر دے دی ہے اور اس میں سے کچھ بھی باقی رہا سوائے اس کے کہ جس طرح ایک برتن میں کچھ بچا ہوا پانی باقی رہ جاتا ہے جسے اس کا پینے والا چھوڑ دیتا ہے اور تم لوگ اس دنیا سے ایسے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو کہ جس کو پھر کوئی زوال نہیں۔ لہذا تم اپنے نیک اعمال آگے بھیج کر جاؤ کیونکہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ایک پتھر جہنم کے ایک کنارے سے اس میں ڈالا جائے گا اور وہ ستر سال تک اس میں گرتا رہے گا پھر وہ جہنم کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اللہ کی قسم ! دوزخ کو بھر دیا جائے گا۔ کیا تم تعجب کرتے ہو؟ اور ہم سے یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ جنت کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چالیس سال کی مسافت ہے اور جنت پر ایک ایسا دن آئے گا کہ وہ لوگوں کے رش کی وجہ سے بھری ہوئی ہوگی اور تو نے مجھے دیکھا ہو گا کہ میں ساتوں میں سے ساتواں ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ہمارا کھانا سوائے درختوں کے پتوں کے اور کچھ نہ تھا ۔ یہاں تک کہ ہمارے باچھیں زخمی ہو گئیں ۔ مجھے ایک چادر ملی جسے پھار کر میں نے دو ٹکڑے کیے ۔ ایک ٹکڑے کا تہ بند بنایا اور ایک ٹکڑے کا سعد بن مالک نے تہ بند بنایا اور آج ہم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں ہے کہ جو شہروں میں سے کسی شہر کا حکم نہ ہو اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھوں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں چھوٹا سمجھا جاؤں کیونکہ کسی نبی کی نبوت بھی ہمیشہ نہیں رہی اور نبوت کا اثر بھی جاتا رہا یہاں تک کہ اس کا آخر کار انجام یہ ہوا کہ وہ سلطنت تباہ ہو گئی اور تم عنقریب ان حاکموں کا تجربہ کرو گے ۔جو ہمارے بعد آئیں گے۔
خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عبد الله بن المبارك صفحة رقم ← إبراهيم بن عبد الله الخلال، ← عبد الله ابن محمود ← محمد بن يعقوب الكسائي ← محمد بن أحمد بن الحارث ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن أبي توبة
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › Chapter How was the life of the Prophet (may God bless him and grant him peace) and his companions, may God be pleased with them · Hadith 4086
