شرح السنة للبغوي · ( كتاب فضائل الصحابة ) ‹ ( باب خير القرون · حديث 3858
3858 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري ، أنا حاجب بن أحمد الطوسي ، نا عبد الرحيم بن منيب ، نا سليمان بن داود ، عن هشام ، عن قتادة ، عن زرارة بن أبي أوفى عن عمران بن حصين قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " خير أمتي القرن الذي بعثت فيهم ، ثم الذين يلونهم ، ثم الذين يلونهم ، ثم ينشأ قوم يشهدون ولا يستشهدون ، وينذرون ولا يوفون ، ويخونون ولا يؤتمنون ، ويفشو فيهم السمن ". هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن محمد بن مثنى ، عن معاذ بن هشام ، عن أبيه. قال محمد بن عمران بن أبي ليلى في معنى قوله : يظهر فيهم السمن يعني جمع المال والحرص على الدنيا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی منقو ل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " میری امت کا بہترین دو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا، پھر ان لوگوں کا جو اس کے بعد آئیں گے، پھر ان لوگوں کا جو اس کے بعد آئیں گے پھر ایک ایسی قوم معرض وجود میں آئے گی جو گواہی دے گی جبکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے، وہ نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے، وہ خیانت کریں گے اور اعتماد کے قابل نہ رہیں گے اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا۔
عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري، ← أحمد بن عبد الله الصالحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Book of the Virtues of the Companions) › (Chapter of the best of centuries · Hadith 3858
