شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ ( باب في مرضه ووفاته ( صلى الله عليه وسلم ) · حديث 3821
3821 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن صفحة رقم 38 عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف الفربري ، نا محمد بن إسماعيل البخاري ، نا إسماعيل بن عبد الله ، حدثني مالك ، عن أبي النضر مولى عمر بن عبيد الله ، عن عبيد يعني ابن حنين عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) جلس على المنبر ، فقال : " إن عبدا خيره الله بين أن يؤتيه من زهرة الدنيا ما شاء وبين ما عنده ، فاختار ما عنده " فبكى أبو بكر ، قال : فديناك بآبائنا وأمهاتنا ، فعجبنا له ، وقال الناس : انظروا إلى هذا الشيخ يخبر رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) عن عبد خيره الله بين أن يؤتيه من زهرة الدنيا وبين ما عنده ، وهو يقول : فديناك بآبائنا وأمهاتنا ، فكان رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) هو المخير ، وكان أبو بكر هو أعلمنا به ، وقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " إن من أمن الناس علي في صحبته وماله أبا بكر ، ولو كنت متخذا خليلا من أمتي لاتخذت أبا بكر إلا خلة الإسلام لا تبقين في المسجد خوخة إلا خوخة أبي بكر ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن عبد الله بن جعفر صفحة رقم 39 ابن يحيى بن خالد عن معن عن مالك. والخوخة : مخترق بين بيتين أو دارين ينصب عليها باب. قوله : " إن من أمن الناس علي " أي : أسمح بماله وأجود بذات يده ، والمن العطاء ، وقد يكون المن بمعنى الاعتداد بالضيعة ، وذلك مذموم كما قال الله سبحانه وتعالى ( لا تبطلوا صدقاتكم بالمن والأذى ( [ البقرة : 264 ] وليس معنى الحديث هذا ، إذ لا منة لأحد على رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، بل له المنة على جميع الأمة. وقوله " إلا خلة الإسلام " أشار إلى أخوة الدين. وفي أمره بترك سد خوخته الاختصاص كما خصه بالاستخلاف في الصلاة ، وكل ذلك مما يؤكد خلافته رضي الله عنه.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر فروکش ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا:’’ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی چمک دمک اور زیب وزینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے دے یا پھر اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کر لے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کر لیا۔‘‘ یہ بات سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے اور فرمایا:ہم اپنے ماں باپ سمیت آپ پر قربان۔ اس پر ہمیں تعجب ہوا۔ لوگوں نے کہا:اس بزرگ کو دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایک بندے کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اختیار دیا کہ دنیا کی چمک دمک اور زیب وزینت میں سے جو چاہے اللہ اسے دے دے یا وہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کر لے اور یہ بزرگ کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے ماں باپ کے ساتھ آپ پر قربان۔ (لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ) جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔اور ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’مجھ پر اپنی رفاقت اور مال میں سب سے زیادہ صاحب احسان ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کوخلیل بناتا تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخلیل بناتا لیکن ان کے ساتھ اسلام کی اخوت اور محبت کا تعلق ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہ چھوڑا جائے سوائے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے کے۔“
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ حُنَيْنٍ ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، ← أحمد بن صفحة رقم عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › (Chapter on his illness and death (may God bless him and grant him peace) · Hadith 3821
