شرح السنة للبغوي · ( كتاب الزكاة ) ‹ ( باب تحريم السؤال إلا من ضرورة ووعيد السائل · حديث 1625
1625 - أخبرنا أبو سعيد عبد الله بن أحمد الطاهري ، أنا جدي أبو سهل عبد الصمد بن عبد الرحمن البزاز ، أنا أبو بكر محمد بن زكريا بن عذافر ، أنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد الدبري ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن هارون بن رباب عن كنانة العدوي قال : كنت جالسا عند قبيصة بن مخارق ، إذ جاءه نفر من قومه يستعينونه في نكاح رجل منهم فأبى أن يعطيهم شيئا ، فانطلقوا من عنده قال كنانة : فقلت له : أنت سيد قومك ، وأتوك يسألونك ، فلم تعطهم شيئا ؟ قال : أما في مثل هذا ، فلا أعطي شيئا ، ولو عصبه بقد حتى يقحل ، لكان خيرا له من أن يسأل في مثل صفحة رقم 123 هذا ، وسأخبرك عن ذلك : إني تحملت بحمالة في قومي ، فأتيت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقلت : يا رسول الله إني تحملت بحمالة في قومي ، وأتيتك لتعينني فيها : قال : " بل نحملها عنك يا قبيصة ، ونؤديها إليهم من الصدقة " ثم قال : " يا قبيصة إن المسألة حرمت إلا في إحدى ثلاث : في رجل أصابته جائحة ، فاجتاحت ماله ، فيسأل حتى يصيب قواما من عيشه ، ثم يمسك ، وفي رجل أصابته حاجة حتى يشهد ثلاثة نفر من ذوي الحجى من قومه أن المسألة قد حلت له ، فيسأل حتى يصيب القوام من العيش ثم يمسك ، وفي رجل تحمل بحمالة فيسأل حتى إذا بلغ أمسك ، وما كان غير ذلك فإنه سحت يأكله صاحبه سحتا ". هذا حديث صحيح. القحل : التزاق الجلد بالعظم من الهزال. قال رحمه الله : معناه لو عصبه بقد ، أي : لو شده بقد حتى يهزل ، فلصق جلده بعظمه.
جناب کنانہ عدوہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : میں سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کی قوم کے چند لوگ آئے ۔ وہ ان سے ایک شخص کے نکاح کے سلسلہ میں معاونت کے طلب گار تھے ، انہوں نے کچھ دینے سے انکار کر دیا۔ وہ سب ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے ، کنانہ نے کہا : میں نے ان سے کہا: آپ اپنی قوم کے سردار ہیں ۔ وہ آپ سے مانگنے کے لیے آئے آپ نے انہیں کچھ بھی نہ دیا ؟ انہوں نے جواب دیا : اس قسم کے معاملات میں ، میں کچھ نہیں دیا کرا، اگر وہ تنگ دستی اور بدحالی سے ہڈی اور چمڑہ ہو جائے تو یہ اس کے حق میں مانگنے سے بہتر ہے ، میں تجھے اس کے متعلق بتاتا ہوں ۔ ہوا یوں کہ میں نے ایک دفعہ اپنی قوم میں ایک مالی بوجھ اپنے ذمے لے لیا، پھر اس کی ( ادائیگی میں تعاون کی ) بابت سوال کرنے کے لیے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے قبیصہ ! ہم اس بوجھ کو آپ سے ہٹائیں گے اور سدقے کے مال سے ان کی ادائیگی کے لیے دیں گے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے قبیصہ ! بلا شبہ مانگنا حرام ہے سوائے تین حالتوں میں سے ایک کے : ایک وہ آدمی کہ اس پر کوئی ایسی آفت یا مصیبت آ پڑی جس نے اس کا مال تباہ کر دیا تو ایسے شخص کے لیے سوال کرنا حلال ہے حتی کہ گزارے کے لائق اپنی ضروریات حاصل کر لے اور پھر رک جائے دوسرا وہ آدمی جسے انتہائی احتیاج نے آ لیا ہو حتی کہ اس کی قوم کے تین عقل مند افراد گواہی دے دیں تو اسے بھی سوال کرنا حلال ہے حتی کہ گزران حاصل کر لے اور پھر رک جائے ، تیسرا وہ شخص جس نے کوئی ضمانت لی ہو تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتی کہ اپنی ضروریات پوری کر لے ، پھر رک جائے ۔ ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے اور مانگنے والا حرام کھاتا ہے ۔
كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونَ بْنِ رَبَابٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّبَرِيُّ، ← أبو بكر محمد بن زكريا بن عذافر ← جدي أبو سهل عبد الصمد بن عبد الرحمن البزاز ← أبو سعيد عبد الله بن أحمد الطاهري
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Zakat) › (Chapter prohibition of the question except from the necessity and warning of the asker · Hadith 1625
