شرح السنة للبغوي · ( كتاب الزكاة ) ‹ ( باب التعفف عن السؤال · حديث 1613
1613 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن ابن شهاب ، عن عطاء بن يزيد عن أبي سعيد الخدري أن ناسا من الأنصار سألوا رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأعطاهم ، ثم سألوه فأعطاهم حتى نفد ما عنده قال : ما يكن عندي من خير ، فلن أدخره عنكم ، ومن يستعف يعفه الله ، ومن يستغن يغنه الله ، ومن يتصبر يصبره الله ، وما أعطي أحد عطاءا هو خير وأوسع من الصبر ". صفحة رقم 111 هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عبد الله بن يوسف ، وأخرجه مسلم عن قتيبة ، كلاهما عن مالك.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو عنایت فرمایا : انہوں نے پھر سوال کیا تو آپ نے اور دیا حتی کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا، جب سب ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس جو مال بھی ہوگا وہ میں تم سے ہر گز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ اور جو سوال سے بچے گا اللہ اسے بچائے گا، جو غنا اختیار کرے گا اللہ اس کو غنی بنا دے گا اور جو کوئی صبر کرے گا اللہ اسے صابر بنا دے گا اور صبر سے بڑھ کر کوئی ایسی وسیع نعمت نہیں ہے جو اللہ نے کسی کو دی ہو۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Zakat) › (Chapter on abstinence from the question · Hadith 1613
