شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( باب الرجل يتحرك سنه هل يشدها بالذهب أم لا ) · حديث 6603
6253 - حدثنا محمد بن العباس قال ثنا علي بن معبد عن محمد بن الحسن عن أبي يوسف عن أبي حنيفة وقال أصحاب الإملاء منهم بشر بن وليد عن أبي يوسف عن أبي حنيفة أنه لا بأس أن يشدها بالذهب وقال محمد بن الحسن لا بأس أن يشدها بالذهب كذلك وكان من الحجة لأبي حنيفة في قوله الذي رواه محمد عن أبي يوسف عنه أنه قد نهي عن الذهب والحرير فنهى عن استعمالهما وكان ما نهى عنه من الحرير قد دخل فيه لباسه وعصب الجراح به فكذلك ما نهى عنه من استعمال الذهب يدخل فيه شد السن به وكان من الحجة لمحمد فيما ذهب إليه من ذلك على أبي حنيفة في روايته عن أبي يوسف عنه أن ما ذكر من تعصيب الجراح بالحرير إن كان ما فعل لأنه علاج للجراح فلا بأس به لأن ذلك دواء كما أباح رسول الله صلى الله عليه و سلم للزبير بن العوام وعبد الرحمن بن عوف لبس الحرير من الحكة التي كانت بهما كذلك عصائب الحرير إن كانت علاجا للجرح لتقل مدته كما أن الثوب الحرير علاج للحكة فلا بأس بها وإن يكن علاجا للجرح فكانت هي وسائر العصائب في ذلك سواء فهي مكروهة فكذلك ما ذكرنا من الذهب إن كان يراد منه أنه لا ينتن كما تنتن الفضة فلا بأس به وقد أباح رسول الله صلى الله عليه و سلم لعرفجة بن أسعد أن يتخذ أنفا من ذهب
علی بن معبد نے محمد بن حسن اور ابو یوسف نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ قول نقل کیا ہے ۔ اصحاب امالی کا قول ہے کہ بشر بن ولید نے ابو یوسف سے انہوں نے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا دانتوں کو سونے ( کے تار ) سے باندھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ امام محمد کا قول ہے کہ سونے ( کے تار ) باندھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی دلیل ہے کہ محمد رحمتہ اللہ علیہ نے ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ سے جو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ہے اس میں یہ ہے کہ سونے اور ریشم کے استعمال سے منع کیا گیا اور ریشم کی اس ممانعت میں ریشم کا لباس اور زخموں پر پٹی باندھنا بھی شامل ہے اسی طرح سونے کے استعمال سے منع کیا گیا اس میں دانت کا باندھنا بھی شامل ہے ۔ امام محمد کی دلیل ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا جو قول محمد رضی اللہ عنہ نے ابو یوسف رضی اللہ عنہ کی وساطت سے نقل کیا اس میں زخم پر مرہم پٹی کے لئے ریشمی پٹی کا جواز مذکور ہے کیونکہ یہ دواء ہے جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ حضرت زبیر اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے لئے خارش کی وجہ سے ریشم کے پہننے کو جائز قرار دیا ۔ اسی طرح ریشمی کپڑے سے مرہم پٹی کا بھی حکم ہے ۔ اگر اس سے کم مدت میں زخم درست ہوتا ہو جیسا کہ ریشمی کپڑا خارش کا علاج ہے تو پھر کوئی حرج نہیں اور اگر زخم کا علاج نہ ہو تو پھر یہ اور دوسری پٹیاں برابر ہیں اس صورت میں ریشمی پٹی مکروہ ہو گی پس اسی طرح سونے کا حکم ہے اگر اس سے بدبو سے حفاظت ہو اور چاندی کی طرح بدبو نہ دینے لگے تو تب کوئی حرج نہیں جناب رسول اللہ ﷺ نے عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کے لئے سونے کی ناک بنوانے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی ۔ ( روایت یہ ہے )
أَبِي حَنِيفَةَ ← أَبِي يُوسُفَ ← أصحاب الإملاء منهم بشر بن وليد ← أَبِي حَنِيفَةَ ← أَبِي يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6603
