Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 1 باب الربا ) · حديث 5663

5353 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب قال ثنا حماد عن داود بن أبي هند عن أبي نضرة عن أبي الصهباء أن بن عباس نزع عن الصرف فهذا بن عباس رضي الله عنهما وهو الذي روى عن أسامة بن زيد رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال إنما الربا في النسيئة وتأول ذلك على إجازة الفضة بالفضة والذهب بالذهب مثلين بمثل وأكثر من ذلك قد رجع عن قوله ذلك فإما أن يكون رجوعه لعلمه أن ما كان أسامة رضي الله عنه حدثه إنما هو ربا القرآن وعلم أن ربا النسيئة بغير ذلك أو يكون ثبت عنده ما خالف حديث أسامة رضي الله عنه مما لم يثبت منه حديث أسامة من كثرة من نقله له عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى قامت عليه به الحجة ولم يكن ذلك في حديث أسامة رضي الله عنه لأنه خبر واحد فرجع إلى ما جاءت به الجماعة الذين تقوم بنقلهم الحجة وترك ما جاء به الواحد الذي قد يجوز عليه السهو والغلط والغفلة وهذا الذي بينا في الصرف قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

ابو نضرہ نے ابو الصہباء سے روایت کی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ سود تو ادھار میں ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ چاندی اور سونے کے بدلے سونے کی بیع ایک مثل کے بدلے دو ۔ زیادہ مثل کی صورت میں جائز ہے اور انہوں نے اس سے رجوع کر لیا تو ان کا رجوع یا تو اس بات کے معلوم ہو جانے کی وجہ سے تھا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ ان سے بیان کیا کہ اس سے مراد وہ رہا ہے جس کا قرآن مجید میں تذکرہ ہے اور ان کو معلوم ہو گیا کہ اسھار والا سود اور ہے یا پھر ان کے ہاں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے خلاف روایت اس طریقہ پر ثابت ہوئی کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس طرح ثابت نہ ہوئی جیسا کہ دوسری روایات ہیں کیونکہ وہ نہایت کثرت سے منقول ہیں ۔ اس لئے یہ روایت ان کے لئے حجت بن گئی اور یہ بات حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں نہ تھی ۔ کیونکہ وہ تو خبر واحد ہے ۔ چنانچہ ان کا رجوع اس روایت کی طرف ہوا جس کو ایک بڑی جماعت نے نقل کیا کہ ان کا نقل کرنا حجت بن جاتا ہے اور انہوں نے خبر واحد کو چھوڑ دیا ۔ کیونکہ اس میں بھولنے اور غلطی کا امکان ہے ۔ یہ اوپر بیان کیا گیا امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔

أَبِي الصَّهْبَاءِ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← الخصيب ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5663

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5664

5354 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا عمر بن عون الواسطي قال ثنا هشيم عن ليث بن سعد عن خالد بن أبي عمران عن حنش الصنعاني عن فضالة بن عبيد الله قال أصبت يوم خيبر قلادة فيها ذهب وخرز فأردت أن أبيعها فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال أفضل بعضها عن بعض ثم بعها كيف شئت

حنش صنعانی نے فضالہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں خیبر کے ادن ایک ہار پایا جس میں سونا اور موتی تھے میں نے فروخت کرنا چاہا تو میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ان کو ایک دوسرے سے الگ کرو پھر اسے طرح چاہو فروخت کرو ۔

فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← حنش الصنعاني ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← هُشَيْمٌ ← عُمَرُ بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5664

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5665

5355 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا الليث بن سعد قال حدثني أبو شجاع سعيد بن يزيد الحميري عن خالد بن أبي عمران عن فضالة بن عبيد صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال اشتريت يوم خيبر قلادة فيها ذهب وخرز بإثني عشر دينارا ففصلتها فإذا الذهب أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لا تباع حتى تفصله

خالد بن ابی عمران نے فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں خیبر کے دن ایک ہار بارہ دینار سے خریدا جس میں سونا اور موتی تھے پس میں نے ان کو الگ کیا تو سونا بارہ دینار سے زیادہ تھا تو میں نے یہ بات جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ذکر کی تو آپ نے فرمایا اس کو فروخت نہ کیا جائے یہاں تک کہ تم اس کو الگ کرو ۔

فضالة بن عبيد صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← أبو شجاع سعيد بن يزيد الحميري ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5665

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5666

5356 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا عبد الله بن المبارك عن سعيد بن يزيد قال سمعت خالد بن أبي عمران يحدث عن حنش عن فضالة قال أتى النبي صلى الله عليه و سلم يوم خيبر بقلادة فيها خرز معلقة بذهب إبتاعها رجل بسبع أو بتسع فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال لا حتى تميز ما بينهما فقال إنما أردت الحجارة فقال لا حتى تميز بينهما فرده قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن القلادة إذا كانت كما ذكرنا لم يجز أن تباع بالذهب لأن ذلك الثمن وهو ذهب يقسم على قيمة الخرز وعلي الذهب فيكون كل واحد منهما مبيعا بما أصابه من الثمن كالعرضين يباعان بذهب فكل واحد منهما مبيع بما أصاب قيمته من ذلك الذهب قالوا فلما كان ما يصيب الذهب الذي في القلادة إنما يصيبه بالخرز والظن وكان الذهب لا يجوز أن يباع بالذهب إلا مثلا بمثل لم يجز البيع إلا أن يعلم أن ثمن الذهب الذي في القلادة مثل وزنه من الذهب الذي أشتريت به القلادة ولا يعلم بقسمة الثمن إنما يعلم بأن يكون على حدة بعد الوقوف على وزنه وذلك غير موقوف عليه إلا بعد أن يفصل من القلادة قالوا فلا يجوز بيع هذه القلادة بالذهب إلا بعد أن يفصل ذهبها منها لما قد ذكرناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ولما احتججنا به من النظر وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إن كانت هذه القلادة لا يعلم مقدار ذهبها أهو مثل وزن جميع الثمن أو أقل من ذلك أو أكثر إلا بأن تفصل القلادة فيوزن ذلك الذهب الذي فيها فيوقف على زنته لم يجز بيعها بذهب إلا بعد أن يفصل ذهبها منها فيعلم أنه أقل من ذلك الثمن وإن كانت القلادة يحيط العلم بوزن ما فيها من الذهب ويعلم أنه أقل من الذهب الذي بيعت به أولا يحيط العلم بوزنه إلا أنه يعلم في الحقيقة أقل من الثمن الذي بيعت به القلادة وهو ذهب فالبيع جائز وذلك أنه يكون ذهبها يمثل وزنه من الذهب الثمن ويكون ما فيها من الخرز بما بقى من الثمن ولا يحتاج إليه في العروض المبيعة بالثمن الواحد والدليل على ذلك أنا رأينا الذهب لا يجوز أن يباع بذهب مثلا بمثل ورأيناهم لا يختلفون في دينارين أحدهما في الجودة أفضل من الآخر بيعا صفقة واحدة بدينارين متساويين في الجودة أو بذهب غير مضروب جيد أن البيع جائز فلو كان ذلك مردود إلى حكم القيمة كما ترد العروض من غير الذهب والفضة إذا بيعت بثمن واحد إذا لفسد البيع لأن الدينار الردي يصيبه أقل من وزنه إذا كانت قيمته أقل من قيمة الدينار الآخر فلما أجمع على صحة ذلك البيع وكانت السنة قد ثبتت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بأن الذهب تبره وعينه سواء ثبت بذلك أن حكم الذهب في البيع إذا كان يذهب على غير القسمة على القيم وأنه مخصوص في ذلك بحكم دون حكم سائر العروض المبيعة صفقة واحدة وإنما يصيبه من الثمن وزنه لا ما يصيب قيمته فهذا هو ما يشهد لهذا القول من النظر وقد اضطرب علينا حديث فضالة الذي ذكرنا فرواه قوم على ما ذكرنا في أول هذا الباب ورواه آخرون على غير ذلك

حنش نے فضالہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس خیبر کے سن ایک قلادہ لایا گیا جس میں جواہرات سونے کے ساتھ لٹکے ہوئے تھے ، ایک آدمی نے اسے سات یا نو دینار کے بدلے خریدا ۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اور یہ بات عرض کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا ددونوں کو الگ کرنے کے بغیر فروخت نہیں کر سکتے ہو ۔ اس نے میرا قصور تو جواہرات تھے آپ نے فرمایا پھر بھی جائز نہیں جب تک کہ دونوں کو الگ الگ نہ کیا جائے پس اس نے واپس کر دیا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر ہار کی مذکورہ صورت ہو تو علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ ایسے ہار کو سونے کے بدلے فروخت کرنا درست نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ سونا ثمن ہے اس کو جواہرات اور سونے پر تقسیم کیا جائے تو وہ دونوں اس قیمت میں فروخت شدہ مال بنے گا جیسا کہ وہ اشیاء سونے کے بدلے فروخت کی جائیں تو اس سونے میں سے جس چیز کے حصہ میں جتنا آئے گا وہ اس کے بدلے میں بیع کی جانے والی چیز ہو گی ۔ ہار کے سونے کی قیمت وہ جواہرات اور اندازے کے بدلے ہو گی حالانکہ سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر برابر فروخت کر سکتے ہیں تو اس بیع کے اب جائز ہونے کی ایک صورت ہے کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اہر والے سونے کی قیمت اس سونے کے وزن کے برابر ہے جس سونے کے بدلے ہار کو خریدا گیا ہے اور یہ بات تقسیم قیمت سے معلوم نہیں ہو سکتی ۔ اس کی صورت یہی ہے کہ جب ہار کے سونے کا وزن کر کے اس کی قیمت الگ سے مقرر کی جائے اور یہ اس وقت معلوم ہو گا جب کہ وہ اس ہار سے الگ کر دیا جائے ۔ پس اس ہار کو سونے کے بدلے فروخت کرنا جائز نہیں جب تک اس کا سونا الگ نہ کر دیا جائے جیسا کہ ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے اور اس سبب سے جو ہم نے قیاس سے استدلال کیا ہے دوسروں نے کہا اس ہار کے سونے سے متعلق یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ تمام قیمت کے برابر ہے یا اس سے کم زیادہ ہے مگر جبکہ اس کو ہار سے الگ کر کے وزن کیا جائے اور اس کے وزن سے واقفیت حاصل کی جائے تو اب اس کی بیع اس وقت تک جائز نہ ہو گی جب تک کہ وہ سونا الگ نہ کیا جائے اور معلوم ہو جائے کہ وہ اس قیمت سے کم ہے اور اگر ہار کے سونے کا علم حاصل ہوا اور یہ بھی معلوم ہو جائے کہ فی الواقع اس کا سونا ہار کی قیمت سے کم ہے اور وہ سونا ہار کی قیمت سے کم ہے جس سونے کے بدلے ہار فروخت کیا گیا تو اس صورت میں یہ سودا جائز ہے اور اس کی وجہ یہ ہے ہار کا سونا اس سونے کے برابر جس کے بدلے میں فروخت کیا گیا ہے اور بقیہ ثمن کے بدلے موتی و جواہرات ہیں اس صورت میں ثمن ( سونے ) کو قیمتوں پر تقسیم کی ضرورت نہ ہو گی جیسا کہ سامان جس کو ایک ثمن پر فروخت کیا جائے ( اس میں الگ اشیاء پر تقسیم کی حاجت نہیں ) اس کی دلیل یہ ہے کہ ہم یہ بات پاتے ہیں کہ سونا برابر سونے کے بدلے فروخت کرنا درست ہے اور یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ فقہا ء کا اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں کہ ایسے دو دینار جن میں ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ کھر ہوایک ہی معاہدے میں ان دو دینار وں کے بدلے فروخت کرنا جائز ہے جو کھرے پن میں برابر ہوں یا اس سونے کی ڈلی کے بدلے جس کا سکہ نہ بنایا گیا ہو اور وہ خالص ہو ۔ اگر اس کو بھی قیمت کے حکم کی طرف لوٹایا جاتا جیسا کہ سونے چاندی کے عالوہ سامان کو لوٹایا جاتا ہے جبکہ ان کو ایک ہی ثمن سے فروخت کیا جائے تو یہ بیع فاسد ہوتی کیونکہ ردی دینار کے بدلے کم مقدار میں سونا آئے گا اور اس لئے کہ اس کی قیمت تو دوسرے دینار سے کم ہے ۔ یہ ہے کہ ان دو دیناروں کی برابر سونے کے بدلے بیع جب جائز ہے اور یہ طریقہ جناب رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل سے ثابت ہے کہ سونے کو سونے کے بدلے فروخت کے وقت قیمتوں پر تقسیم نہ کیا جائے گا اور یہ حکم سونے کا پترا اور خالص سونا دونوں برابر ہیں اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ بیع میں یہ سونے کا حکم اس وقت ہے جبکہ وہ سونے کے بدلے میں ہو قیمتوں پر تقسیم والا نہیں ہو گا یہ حکم سونے کے ساتھ مخصوص ہے دوسرے سامان کا یہ حکم نہیں ہے ۔ اس کے مقابلے میں جو قیمت ہو گی وہ وزن کے اعتبار سے ہو گی قیمت کے لحاظ سے نہیں قیاس کا بھی یہی تقاضا ہے ۔ حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ والی روایت میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے ۔ ایک روایت میں تو اسے اسی طرح روایت کیا گیا جیسا کہ ہم نے شروع باب میں نقل کیا ہے ۔ دوسرے حضرات نے اس طرح روایت کی ہے ۔

فَضَالَةَ، ← حنش ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5666

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5667

5357 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني أبو هانئ أنه سمع علي بن رباح اللخمي يقول سمعت فضالة بن عبيد الأنصاري يقول أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بخيبر بقلادة فيها ذهب وخرز وهي من المغانم تباع فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالذهب الذي في القلادة فنزع وحده ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الذهب بالذهب وزنا بوزن

علی بن رباح لخمی نے حجرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے پاس خیبر میں ایک ہار لایا گیا اس می سونا اور جواہرات تھے وہ مال غنیمت میں تھا اس کو فروخت کیا جا رہا تھا ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ہار میں لگے ہوئے سونے کو الگ کرنے کا حکم دیا پھر سونے کے بدلے سونا وزن کے لحاظ سے ہوتا ہے ۔

فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ: ← عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ← أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5667

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5668

5358 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا حميد بن هانئ عن فضالة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه لم يقل بخيبر

حمید بن ہانی نے حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ جناب نبی اکرم ﷺ سے اس کی مچل روایت کرتے ہیں البتہ انہوں نے خیبر کا ذکر نہیں کیا ۔

فَضَالَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ، ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5668

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5669

5359 - حدثنا بكر بن إدريس قال ثنا المقرئ قال ثنا حيوة عن أبي هانئ فذكر بإسناده مثله ففي هذا الحديث غير ما في الحديث الأول في هذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نزع الذهب فجعله على حدة ثم قال الذهب بالذهب وزنا بوزن ليعلم الناس كيف حكم الذهب بالذهب فقد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم فصل الذهب لأن صلاح المسلمين كان في ذلك ففعل ما فيه صلاحهم لا لأن بيع الذهب قبل أن ينزع مع غيره في صفقة واحدة غير جائز وهذا خلاف ما روى من روى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا تباع حتى تفصل وقد رواه آخرون على خلاف ذلك أيضا

حیوہ نے ابو ہانی سے روایت کی انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح رویت کی ہے ۔ اس روایت میں جو کچھ ہے وہ پہلی روایت میں مذکور نہیں آپ ﷺ نے خوعد سونے کو اتار کر الگ فرمایا پھر ارشاد فرمایا کہ سونے کے بدلے سونا وزن کے لحاظ سے برابر ہوتا ہے یہ آپ نے اس لئے کیا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ سونے کا حکم کیا ہوتا ہے ، اس لئے الگ کیا کہ اس میں مسلمانوں کا فائدہ تھا تو مسلمانوں کی بہتری والا عمل فرمایا یہ وجہ نہیں کہ سونے کو الگ کرنے کے بغیر ایک ہی سودے میں اس کا فروخت کرنا جائز نہ تھا اور یہ بات اس روایت کے خلاف ہے کہ جس میں فرمایا سونے کو جدا کرنے کے بغیر فروخت نہ کیا جائے ۔

أَبِي هَانِئٍ، ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← بكر بن إدريس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5669

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5670

5360 - فحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا خالد بن أبي عمران قال حدثني حنش بن عبد الله الصنعاني أنه كان في البحر مع فضالة بن عبيد الأنصاري قال حنش فاشتريت قلادة فيها تبر وياقوت وزبرجد فأتيت فضالة بن عبيد فذكرت له ذلك فقال لا تأخذ التبر بالتبر إلا مثلا بمثل فإني كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بخيبر فاشتريت قلادة بسبعة دنانير فيها تبر وجوهر فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عنها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تأخذ التبر بالذهب إلا مثلا بمثل ففي هذا الحديث غير ما تقدمه من الأحاديث وذلك أن ما حكى فضالة في هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم هو التبر بالذهب مثلا بمثل ولم يذكر فساد البيع في القلادة المبيعة بذلك إذ كان فيها ذهب وغيره فهذا خلاف الأحاديث الأول وقد رواه آخرون أيضا على غير ذلك

حنش بن عبداللہ صنعانی کہتے ہیں کہ میں ایک دریائی سفر میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی معیت میں تھا میں نے ایک ہار خریدا جس میں سونا ، یاقوت ، زبر جد کا جڑاؤ تھا میں حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے برابر لو ۔ میں خیبر میں جناب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھا میں نے ساٹھ دینار میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور جواہرات تھے میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے برابر ہی لے سکتے ہیں ۔ اس روایت میں پہلی احادیث سے مختلف مضمون ہے وہ اس طرح کہ اس روایت میں حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا وہ یہ ہے کہ سونے کو سونے کے بدلے برابر لیا جائے اور جس ہار کو سونے کے بدلے فروخت کیا گیا اس کی بیع کی فاسد ہونے کا ذکر نہیں ہے جبکہ اس میں سونا اور دوسری چیزیں بعینہ خیبر والے ہار کی طرح تھیں یہ روایت پہلی روایات سے مختلف ہے ۔

خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5670

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5671

5361 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني قرة بن عبد الرحمن وعمرو بن الحارث أن عامر بن يحيى المعافري أخبرهما عن حنش أنه قال كنا مع فضالة بن عبيد في غزوة فصارت لي ولأصحابي قلادة فيها ذهب وورق وجوهر فأردت أن أشتريها فسألت فضالة فقال انزع ذهبها وأجعله في الكفة واجعل ذهبا في الكفة الأخرى ثم لا تأخذن إلا مثلا بمثل فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يأخذن إلا مثلا بمثل فهذا خلاف لما تقدمه من الأحاديث لأن فيه أمر فضالة بنزع الذهب وبيعه وحده ولم يذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه و سلم والذي ذكره عن النبي صلى الله عليه و سلم هو نهيه عن بيع الذهب بالذهب إلا وزنا بوزن فهذا مالا اختلاف فيه والأمر بالتفصيل من قول فضالة رضي الله عنه فقد يجوز أن يكون أمر بذلك على أنه لا يجوز عنده البيع فيها في الذهب حتى تفصل وقد يجوز أن يكون أمر بذلك لإحاطة علمه أن تلك قلادة لا يوصل إلى علم ما فيها من الذهب ولا إلى مقداره إلا بعد أن يفصل منها فقد اضطرب هذا الحديث فلم يوقف على ما أريد منه فليس لأحد أن يحتج بمعنى من المعاني التي روي عليها إلا احتج مخالفه عليه بالمعنى الآخر وقد قدمنا في هذا الباب كيف وجه النظر في ذلك وأنه على ما ذهب إليه الذين جعلوا حكم الذهب المبيع مع غيره بالذهب لا على قسم الثمن على القيم ولكن على أن الذهب مبيع بوزنه من الذهب الثمن وما بقي مبيع بما بقي من الثمن وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

حضرت حنش سے مروی ہے کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے تو مجھے اور میرے ساتھیوں کو ایک ہار ملا جس میں سونا اور جواہرات تھے میں نے اس کو خریدنا چاہا تو حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا انہوں نے فرمایا اس کا سونا الگ کردو اور اسے ترازو کے ایک پلڑے مین رکھو اور دوسرے پلڑے میں بھی سونا رکھو پھر برابر برابر کر کے لو ۔ اس کے علاوہ نہ لو کیونکہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ سونے کو سونے کے بدلے برابر کے علاوہ ہر گز نہ لے ۔ یہ روایت پہلی روایات کے خلاف ہے کیونکہ اس میں موجود ہے کہ حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ نے سونا اترانے اور اس کو الگ فروخت کرنے کا حکم فرمایا اور یہ بات جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل نہیں کی جو کچھ جناب رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا ہے اس میں سونے کے بدلے سونے کے برابر برابر کے علاوہ فروخت کی ممانعت ہے اس میں تو کسی کو کلام نہیں ۔ البتہ سونے کو الگ کرنے کا حکم حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے ثابت ہے ۔ ممکن ہے کہ انہوں نے اس بات کا حکم اس لئے دیا ہو کہ ان کے ہاں ہار میں جڑے ہوئے سونے کا الگ کئے بغیر فروخت کر ان درست نہ ہو یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اس کا حکم اس لئے دیا کہ وہ جانتے تھے کہ اس ہار میں جڑے ہوئے سونے کی مقدار کا عمل اس وقت تک حا صل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو الگ نہ کیا جائے ۔ اس روایت میں اضطراب ہوا اور یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس کا مطلب کیا ہے پس جو شخص ان معافی میں سے کسی ایک کو دلیل بنائے گا مخالف دوسرے معنی والی روایت ست استدلال کرے گا ۔ ہم نے اس باب میں قیاس کا طریقہ پہلے ذکر کر دیا ہے اور یہ ان لوگوں کے مسلک کے مطابق ہے جنہوں نے فروخت شدہ سونے کو دوسرے سونے کے مقابلے میں قرار دیا ہو ۔ نہ یہ کہ قیمت کو ان دونوں چیزوں کی قیمت پر تقسیم کرنا بلکہ سونا قیمت میں سے ہم وزن سونے کےئ مقابل ہو گا اور جو باقی رہے گا وہ اس چیز کی قیمت ہو گی جو سونے کے ساتھ جڑی ہوئی تھی اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے ۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5671

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5672

5362 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني بن لهيعة عن عبد الله بن هبيرة السبائي عن أبي تميم الجيشاني قال اشترى معاوية بن أبي سفيان قلادة فيها تبر وزبرجد ولؤلؤ وياقوت بستمائة دينار فقام عبادة بن الصامت حين طلع معاوية المنير أو حين صلى الظهر فقال ألا إن معاوية اشترى الربا وأكله ألا إنه في النار إلى حلقه فقد يجوز أن يكون تلك القلادة كان فيها من الذهب أكثر مما اشتريت به فكان من عبادة ما كان لذلك ويجوز أن يكون بيعت بنسيئة فإنه قد روى عن معاوية أنه لم يكن يرى بذلك بأسا وقد روي في ذلك وفي السبب الذي من أجله عبادة رضي الله عنه أنكر على معاوية في ذلك ما أنكر ما

حضرت ابو تمیم جیشانی سے مروی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہار جس میں سونا ، زبر جد ، جواہرات اور یاقوت جڑا ہوا تھا چھ سو دینار کے بدلے خریدا حضرت معاویہ منبر پر بیٹھے یا انہوں نے نماز ظہر ادا کی تو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا سنو ! معاویہ نے سود کے طور پر سودا کیا اور اسے کھایا سنو ! وہ حلق تک جہنم میں ہو گا ۔ یہ ممکن ہے کہ اس ہار میں جڑا ہوا سونا اس چھ سو دینار سے زیادہ ہو جس کے بدلے اس کو خریدا گیا توحضرت عبادہ نے اسی وجہ سے یہ کلام فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے اسے ادھار کے طور پر خریدا گیا ہو اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے ۔

اشترى معاوية بن أبي سفيان قلادة فيها تبر ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ← بن لهيعة ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5672

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5673

5363 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس قال أخبرنا عبد الوهاب بن عبد المجيد عن أيوب السختياني عن أبي قلابة عن أبي الأشعث قال كنا في غزاة علينا معاوية فأصبنا ذهبا وفضة فأمر معاوية رجلا أن يبيعها الناس في عطياتهم قال فتنازع الناس فيها فقام عبادة فنهاهم فردوها فأتى الرجل معاوية فشكا إليه فقام معاوية خطيبا فقال ما بال رجال يحدثون عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أحاديث يكذبون فيها عليه لم نسمعها فقام عبادة فقال والله لنحدثن عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وإن كره معاوية قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الفضة بالفضة ولا البر بالبر ولا الشعير بالشعير ولا التمر بالتمر ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء يدا بيد عينا بعين

ابو قلابہ نے ابو الاشعت سے نقل کیا کہ ہم ایک غزوہ میں شامل تھے جس میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے سپہ سالار تھے ، ہمیں سونا چاندی حاصل ہوا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم فرمایا کہ لوگ اپنے عطیات کو فروخت کر لیں ۔ چنانچہ لوگوں نے اس سلسلے میں باہمی نزاع کیا تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور ان کو اس سے منع فرمایا ۔ لوگوں نے وہ اشیاء لوٹا دیں ےتو وہ آدمی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس بات کی شکایت کی تو امیر معاویہ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ان لوگوں کا کیا حال ہے جو جناب رسول اللہ ﷺ سے اسیسی احادیث بیا ن کرتے ہیں جن میں وہ آپ پر بہتان لگاتے ہیں ہم نے ہ نہیں سنی ہیں ۔ اس پر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ! ہم جناب رسول اللہ ﷺ کی باتیں ضرور بیان کریں گے اگرچہ وہ معاویہ کو نا پسند ہوں جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ سونے کو سونے کے بدلے اور نہ چاندی کو چاندی کے بدلے اور نہ گندم کو گندم کے بدلے اور نہ جو کو جو کے بدلے اور نہ کجھور کو کجھور کے بدلے اور نہ نمک کو نمک کے بدلے فروخت کرو مگر جب کہ وہ برابر ہوں اور دست بدست اور نقد بنقد ہوں

أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5673

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 14 كتاب الصرف ) ‹ ( 2 باب القلادة تباع بذهب وفيها خرز وذهب ) · حديث 5674

5364 - حدثنا إسماعيل بن يحيى قال ثنا محمد بن إدريس قال ثنا عبد الوهاب عن خالد عن أبي قلابة عن أبي الأشعث الصنعاني أنه قال قدم ناس في إمارة معاوية يبيعون آنية الذهب والفضة إلى العطاء فقام عبادة بن الصامت فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والتمر بالتمر والشعير بالشعير والملح بالملح إلا مثلا بمثل سواء بسواء فمن زاد أو أزداد فقد أربى قال أبو جعفر فدل ذلك أن ما كان من إنكار عبادة رضي الله عنه على معاوية وهو بيع الذهب بالذهب إلى أجل لا غير ذلك وأما القلادة التي فيها الذهب المبيعة بالذهب أو القلادة التي فيها الفضة المبيعة بالفضة فلا دلالة فيما روينا عنه على حكم ذلك إذا بيع بأكثر من وزن ذهبه أو فضته من الذهب أو الفضة وقد

ابو قلابہ نے ابو الاشعت صنعانی سے روایت کی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کچھ لوگ آئے جو سونے اور چاندی کے برتن عطیات کے ملنے تک کے وعدے پر فروخت کرتے تھے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا بےشک جناب رسول اللہ ﷺ نے سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے اور گندم کو گندم کے بدلے اور کجھور کو کجھور کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا مگر جبکہ وہ دونوں برابر برابر ہوں جس نے زیادہ لیا دیا اس نے سود کھایا ۔ امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض سونے کو ( ادھار ) میعاد تک فروخت کرنے کی وجہ سے تھا اور کسی وجہ سے نہ تھا ۔ جہاں تک اس ہار کا تعلق ہےجس میں جڑا ہوا سونا ، سونے کے بدلے فروخت کیا گیا یا وہ ہار جس میں جڑی ہوئی چاندی چاندی کے بدلے فروخت کی گئی ان روایات میں اس سے متعلق حکم پر دلالت موجود نہیں ہے کہ جب اس کو ہار اس سے زیادہ سونے یا س کی چاندی سے زیادہ چاندی کے بدلے فروخت کیا جائے ۔ اس مسئلہ میں تابعین کی رئے مختلف ہے ۔

أبي الأشعث الصنعاني أنه ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5674

chevron_left Previous
1…599600601…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter