شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5435
5136 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال أخبرنا عبد الملك بن عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة الماجشون قال ثنا مسلم بن خالد فذكر بإسناده مثله فتلقى العلماء هذا الخبر بالقبول وزعمت أنت أن رجلا لو اشترى شاة فحلبها ثم أصاب بها عيبا غير التحفيل أنه يردها ويكون اللبن له وكذلك لو كان مكان اللبن ولد ولدته ردها على البائع وكان الولد له وكان ذلك عندك من الخراج الذي جعله النبي صلى الله عليه و سلم للمشتري بالضمان فليس يخلو الصاع الذي توجبه على مشتري المصراة إذا ردها على البائع بالتصرية أن يكون عوضا من جميع اللبن الذي احتلبه منها الذي كان بعضه في ضرعها في وقت وقوع البيع وحدث بعضه في ضرعها بعد البيع أو يكون عوضا من اللبن الذي كان في ضرعها في وقت وقوع البيع خاصة فإن كان عوضا منهما فقد نقضت بذلك أصلك الذي جعلت الولد واللبن للمشتري بعد الرد بالعيب لأنك جعلت حكمها حكم الخراج الذي جعلها النبي صلى الله عليه و سلم للمشتري بالضمان وإن كان ذلك الصاع عوضا مما كان في ضرعها في وقت وقوع البيع خاصة والباقي سالم للمشتري لأنه من الخراج فقد جعلت للبائع صاعا دينا بلبن دين وهذا غير جائز في قولك ولا في قول غيرك فعلى أي الوجهين كان هذا المعنى عليه عندك فأنت به تارك أصلا من أصولك وقد كنت أنت بالقول بنسخ هذا الحكم في المصراة أولى من غيرك لأنك أنت تجعل اللبن في حكم الخراج وغيرك لا يجعله كذلك
عبد الملک بن عبدالعزیز نے مسلم بن خالد سے بیان کیا پھر انہوں نے اپنی سند سے اس کی مثل روایت نقل کی ہے۔ علماء نے اس روایت کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور قبول کیا ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تمہارا خیال یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی بکری خریدے پھر اس کا دودھ دو ہے اس کے بعد اس میں ایسا عیب پائے جو تھنوں میں دودھ کے جمع کرنے سے علادہ ہو تو وہ اس کو لوٹا دے اور وہ دودھ کا مالک ہو جائے گا اور اگر دودھ کی بجائے بچہ جنے تو وہ جانور بائع کی طرف لوٹا دیا جائے گا مگر بچ خریدار کا ہو گا اور تمہارے ہاں یہ وہ نفع ہے جس کو جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کے بدل مشتری کیلئے قرار دیا ہے پس ایک صاع کھجور جس کو تھنوں میں دودھ جمع کئے جانے والے جانور کو خریدنے والے پر لازم کرتے ہو کہ بائع کی طرف لوٹانے کی صورت میں پیاس تمام دودھ کا عوضانہ ہے جو اس نے خریداری کے ایام میں استعمال کیا ہے جس میں سے کچھ تو سودا کے وقت بکری کے تھنوں میں تھا اور کچھ دودھ سودا کر لینے کے بعدا سکے تھنوں میں پیدا ہوا یاوہ کھجوروں کا صاع اس دودھ عوض ہے جو سودا کرتے وقت اسکے تھنوں میں موجود تھا۔ اگر بقول تمہارے ان دونوں کے بدلے میں ہے تو اس سے تمہارا قاعدہ مقرر ٹوٹ گیا کہ تم نے عیب کی وجہ سے بیع کو رد کرنے کی صورت میں دودھ اور بچے دونوں کو مشتری کی ملک قرار دیا کیونکہ تمہارے ہاں اس کا حکم اس نفع کی طرح ہے جن کو جناب رسول الله ﷺ نے ضمان کی وجہ سے مشتری کے لئے قرار دیا اور اگر کھجوروں کا وہ صاع اس دودھ کا مرض ہے جو سودا کرتے وقت اس کے تھنوں میں پایا جاتا تھا اور باقی تمام کا تمام مشتری کیلئے ہو گا کیونکہ یہ نفع کا حصہ ہے تو تم نے قرض دودھ کے بدلے مالک کے لئے ایک صاع کھجور بطور قرض لازم کر دیں اور یہ بات تمہارے اور دوسروں کے ہاں بھی جائز نہیں ہے۔ بہرحال ان دونوں باتوں میں سے جو بات بھی تمہارے ہاں درست ہو اس سے کسی نہ کسی قاعدہ کا ترک لازم آئے گا اگر چہ تمہارا قول دوسروں کے قول سے بہتر ہے کہ مصراۃ کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔ کیونکہ تم اس دودھ کونفع کے حکم میں قرار دیتے ہو اور دوسروں کے ہاں اس طرح نہیں۔ .
مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عبد الملك بن عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة الماجشون ← صالح بن عبد الرحمن
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5435
