Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5423

5125 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن لهيعة عن الأعرج عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسولﷺسے اسی طرح کی روایت کی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← بن لهيعة ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5423

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5424

5126 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الغفار بن داود قال ثنا بن لهيعة حدثنا أبو الأسود عن عبد الرحمن بن سعد وعكرمة عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال من اشترى شاة مصراة أو لقحة مصراة ولم يعلم أنها مصراة فإنه إن شاء ردها ومعها صاع من تمر وإن شاء أمسكها

عبد الرحٰمن سعد، عکرمہ نے حضرت ابو ہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جناب نبی اکرمﷺ نے فرمایا جس نے مصراة بکری خریدی یا گابھن مصراة خریدی اور اس کو معلوم نہ ہوا کہ وہ مصراة ہے اگر وہ پسند کرے تو لوٹادے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجوربھی دے اور اگر چاہے تو اپنے پاس روک لے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عبد الرحمن بن سعد وعكرمة ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← بن لهيعة ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5424

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5425

5127 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال أخبرنا عبد الله بن صالح قال حدثني بكر بن مضر عن عمرو بن الحارث عن بكير بن عبد الله أن أبا إسحاق حدثه عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من اشترى شاة مصراة فلينقلب بها فليحلبها فإن رضي حلابها أمسكها وإلا ردها ورد معها صاعا من تمر قال أبو جعفر فقد رويت هذه الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم كما ذكرنا ولم يذكر فيها الخيار المشتري وقتا وقد روى عنه أنه جعل الخيار له في ذلك ثلاثة أيام

ابواسحاق نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسولﷺ سے بیان کیا کہ جناب رسولﷺہ نے فرمایا جس نے تھنوں میں دودھ روکی ہوئی بکری خرید لی وہ اس کولوٹا کر اس کا دودھ دوہے اگر دودھ کی مقدار پسند آئے تو روک رکھے ورنہ مالک کو واپس کر دے اور کھجور کا ایک صاع بھی ساتھ دے۔ طحاوی ؒکہتے ہیں کہ ان روایات میں تو مدت خیار کی کوئی معین مذکور نہیں مگر دیگر روایات میں مدت خیار تین دن مذکور ہے۔

بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5425

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5426

5128 - حدثنا بذلك أبو أمية قال ثنا عبد الله بن جعفر الرقي قال ثنا بن المبارك عن عبيد الله بن عمر عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن بيع الشاة وهي محفلة فإذا باعها فإن صاحبها بالخيار ثلاثة أيام فإن كرهها ردها ورد معها صاعا من تمر

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرمﷺ نے اس بکری کو فروخت سے منع فرمایا جس کے تھنوں میں دودھ زیادہ ظاہر کرنے کے لئے روکا گیا ہو جب اس نے فروخت کر دی تواب مشتری کو تین دن تک اختیار ہے اگر ناپسند کرے تو واپس کرے اور ایک صاع کھجور بھی واپس کرے۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← بذلك أبو أمية

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5426

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5427

5129 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يعقوب بن عبد الرحمن أن سهيل بن أبي صالح أخبره عن أبيه عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال من ابتاع شاة مصراة فهو فيها بالخيار ثلاثة أيام فإن شاء أمسكها وإن شاء ردها ورد معها صاعا من تمر

سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے انہوں نے جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جس نےمصراة بکری خریدی اسے تین دن کا اختیار ہے۔ خواہ روکے یا واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی دیدے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← يعقوب بن عبد الرحمن أن سهيل بن أبي صالح ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5427

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5428

5130 - حدثنا نصر بن مرزوق قال أخبرنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة عن أيوب وهشام بن عروة وحبيب عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال ردها وصاعا من طعام لا سمراء قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الشاة المصراة إذا اشتراها رجل فحلبها فلم يرض حلابها فيما بينه وبين ثلاثة أيام كان بالخيار إن شاء أمسكها وإن شاء ردها ورد معها صاعا من تمر واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وممن ذهب إلى ذلك بن أبي ليلى إلا أنه قال يردها ويرد معها قيمة صاع من تمر وقد كان أبو يوسف أيضا قال بهذا القول في بعض أماليه غير أنه ليس بالمشهور عنه وخالف ذلك كله آخرون فقالوا ليس للمشتري ردها بالعيب ولكنه يرجع على البائع بنقصان العيب وممن قال ذلك أبو حنيفة ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهما وذهبوا إلى أن ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك مما تقدم ذكرنا له في هذا الباب منسوخ فروى عنهم هذا الكلام مجملا ثم اختلف عنهم من بعد في الذي نسخ ذلك ما هو فقال محمد بن شجاع فيما أخبرني عنه بن أبي عمران نسخه قول رسول الله صلى الله عليه و سلم البيعان بالخيار ما لم يتفرقا وقد ذكرنا ذلك بأسانيده فيما تقدم من هذا الكتاب فلما قطع رسول الله صلى الله عليه و سلم بالفرقة الخيار ثبت بذلك أنه لا خيار لأحد بعدها إلا لمن إستثناه رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث بقوله إلا بيع الخيار قال أبو جعفر وهذا التأويل عندي فاسد لأن الخيار المجعول في المصراة إنما هو خيار عيب وخيار العيب لا يقطعه الفرقة ألا ترى أن رجلا لو اشترى عبدا فقبضه وتفرقا ثم رأى به عيبا بعد ذلك أن له رده على بائعه باتفاق المسلمين لا يقطع ذلك التفرق الذي روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الآثار المذكورة عنه في ذلك فكذلك المبتاع للشاة المصراة فإذا قبضها فاحتلبها فعلم أنها على غير ما كان ظهر له منها وكان ذلك لا يعلمه في احتلابه مرة ولا مرتين جعلت له في ذلك هذه المدة وهي ثلاثة أيام حتى يحلبها في ذلك فيقف على حقيقة ما هي عليه فإن كان باطنها كظاهرها فقد لزمته واستوفى ما اشترى وإن كان ظاهرها بخلاف باطنها فقد ثبت العيب ووجب له ردها به فإن حلبها بعد الثلاثة أيام فقد حلبها بعد علمه بعيبها فذلك رضاء منه بها فلهذه العلة التي ذكرت وجب فساد التأويل الذي وصفت وقال عيسى بن أبان كان ما روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من الحكم في المصراة بما في الآثار الأول في وقت ما كانت العقوبات في الذنوب يؤخذ بها الأموال فمن ذلك ما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الزكاة أنه من أداها طائعا فله أجرها وإلا أخذناها منه وشطر ماله غرمة من غرمات ربنا عز و جل ومن ذلك ما روى عنه في حديث عمرو بن شعيب في سارق الثمرة التي لم تحرز فإنه يضرب جلدات ويغرم مثليها وقد ذكرنا ذلك بأسانيده في باب وطء الرجل جارية امرأته فأغنانا ذلك عن إعادة ذكرها ههنا قال فلما كان الحكم في أول الإسلام كذلك حتى نسخ الله الربا أفردت الأشياء المأخوذة إلى أمثالها إن كانت لها أمثال وإلى قيمتها إن كانت لا أمثال لها وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نهى عن التصرية وروى عنه في ذلك فذكر ما قد

ابن سیرین نے حضرت ابو ہر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں یہ لفظ مختلف ہیں اس کا واپس کرنا ایک صاع طعام کے ساتھ ہو نہ کہ گیہوں کے ساتھ۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں: اگر کسی نے تھنوں میں دودھ روکی گئی بکری خرید لی پھر اس کا دودھ دوہتارہے تین دن میں اگر دودھ پر مطمئن نہ ہوتو واپس کرتے وقت ایک کھجور کا صاع بھی دے بقول ابن ابی لیلی ٰنے اختیار کیا البتہ انہوں نے کھجور کی بجائے ایک صاع کی قیمت ذکر کی ہے امام ابو یوسف ؒ کے بعض امالی میں بھی یہ بات ملتی ہے مگر ان کے متعلق یہ معروف نہیں۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ عیب کی وجہ سے وہ مشتری واپس کرنے کا مجاز نہیں البتہ عیب کا نقصان وه ما لک سے لے سکتا ہے یہ امام ابوحنیفہؒ اور محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔ فریق اول کی روایات کا جواب یہ ہے کہ جس قدر روایات گزری ہیں یہ منسوخ ہیں انہوں نے ہی اجمالی بات کہی ہے اب ناسخ کے متعلق پچھلے علماء کا اختلاف ہے۔ محمد بن شجاع کہتے ہیں کہ ابن ابی عمران نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ان روایات کی یہ روایات البيعان بالخيار مالم يتفرقا“ یہ روایت گزشتہ اوراق میں اسناد کے ساتھ ذکر کی جا چکی ہے۔ پس جب جناب رسول اللہ ﷺنے فرقت کے ذریعہ خیارکوختم کر دیا تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ سودا مکمل ہونے کے بعد اب کسی کو بھی اختیار نہ ہوگا سوائے اس کے جس کو جناب رسول اللہ ﷺ " الا بيع الخيار“ سے مستثنیٰ فرمایا ہے۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ تاویل غلط ہے کیونکہ تھنوں میں دودھ روکے جانے والے جانور کی بیع خیار عیب کی قسم سے ہے اور وہ بائع مشتری کی جدائی سے بھی ختم نہیں ہوتی۔ سابقہ قو ل کے قائلین کو دیکھنا چاہے کہ اگر کوئی شخص غلام خرید کراس پر قبضہ کر لے پھر وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اس کے بعد اس غلام میں عیب ظاہر ہوتو اس بات پرتمام کا اجماع ہے کہ اس کو واپس کرنے کا حق حاصل ہے اور جناب رسول ﷺ سے جو روایات فرقت کے سلسلہ میں مروی ہیں وہ اس حق کو ختم نہیں کرتیں۔ بالکل اسی طرح مسئلہ مصراۃ میں بکری کا خریدار اس پر قبضہ کر لینےکے بعد اس کا دودھ دوہتا ہے اور ظاہر کے مخالف پاتا ہے اور اس نقص کا علم ایک دو بار دوہنے سے نہیں ہوتا تو اسے اتنا وقت دیا جائے گا جس کے ذریعہ وہ حقیقت سے آگاہ ہو اور وہ تین دن کی مدت ہے اگر وہ جانور ظاہر کی طرح نکلے تابع لازم ہو جائے گی اور جو خریدا اس کومکمل وصول کرے اور اگر اس کے خلاف عیب ثابت ہو جائے تو لوٹانا واجب ہوجائے گا اور اگر اس نے تین دن کے بعد اس کا دودھ دوہاتو یہ علامت رضا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ہم نے جو علت ذکر کی ہے اس سے سابقہ تاویل کا فساد ظاہر ہو گیا۔ عیسیٰ بن ابانؒ کا کہنا ہے کہ مصرا ۃکے مسئلہ میں جس قدر روایات مالی ضمان کی وارد ہیں۔ یہ اس زمانے سے متعلق ہیں جب گناہ کی سزامالی جرمانے سے دی جاتی تھی۔ اس کی دلیل یہ مسئلہ مصراة ہے اس کی دوسری مثال زکوة کا یہ حکم ہے۔ ”من اداها طائعا فله اجرها والااخزنا هامنه و شطر ماله غرمة من غرمات ربنا عزوجل جوزکوة خوشی سے ادا کرے تو وہ اجر پائے ور نہ ہم اس سے زبردستی وصول کریں گے اور اس کے مال کا ایک حصہ بطور تاوان لیں گے جو کہ ہمارےرب تعالیٰ کی طرف سے مقررہ تاوان سے ہے۔ اس کی تیسری مثال عمرو بن شعیب کی چور کے سلسلے میں یہ روایت ہے کہ جس نے غیر محفوظ پھل کی چوری کی اسے کوڑے مارے جائیں گے اور بطور تاوان دو گنا پھل لیا جائے گا۔ ہم نے اسناد سمیت یہ روایت باب وطحا الرجل جارية امراته“ میں ذکر کی ہے اعادہ کی حاجت نہیں۔ جب اسلام کے ابتدائی دور میں حکم اسی طرح تھایہاں تک کہ الله تعالی نے سود کومنسوخ فرمایا اور اشیاء اپنی مشل کی طرف لوٹ گئیں جبکہ ان کی ہو اور جن کی مشل نہ تھی وہ قیمت کی طرف لوٹ گئیں۔ جناب رسول ﷺ نے تھنوں میں دودھ جمع کرنے سے منع فرمایا جیسا کہ روایات شاہد ہیں۔

أبو جعفر فذهب قوم إلى ← ردها وصاعا من طعام لا سمراء ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أيوب وهشام بن عروة وحبيب ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أسد ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5428

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5429

5131 - حدثنا الربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا المسعودي عن جابر الجعفي عن أبي الضحى عن مسروق عن عبد الله قال أشهد على الصادق المصدوق أبي القاسم صلى الله عليه و سلم أنه قال إن بيع المحفلات خلابة ولا يحل خلابة مسلم فكان من فعل ذلك وباع ما قد جعل يبيعه إياه مخالفا لما أمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم وداخلا فيما نهى عنه فكانت عقوبته في ذلك أن يجعل اللبن المحلوب في الأيام الثلاثة للمشتري بصاع من تمر ولعله يساوي آصعا كثيرة ثم نسخت العقوبات في الأموال بالمعاصي وردت الأشياء إلى ما ذكرنا فلما كان ذلك كذلك ووجب رد المصراة بعينها وقد زايلها اللبن علمنا أن ذلك اللبن الذي أخذه المشتري منها قد كان بعضه في ضرعها في وقت وقوع البيع عليها فهو في حكم المبيع وبعضه حدث في ضرعها في ملك المشتري بعد وقوع البيع عليها فذلك للمشتري فلما لم يكن رد اللبن بكماله على البائع إذا كان بعضه بما لم يملك بيعه ولم يمكن أن يجعل اللبن كله للمشتري إن كان ملك بعضه من قبل البائع ببيعه إياه الشاة التي قد ردها عليه بالعيب وكان ملكه له إياه بجزء من الثمن الذي كان وقع به البيع فلا يجوز أن يرد الشاة بجميع الثمن ويكون ذلك اللبن سالما له بغير ثمن فلما كان ذلك كذلك منع المشتري من ردها ورجع على بائعه بنقصان عيبها قال عيسى فهذا وجه حكم بيع المصراة قال أبو جعفر والذي قال عيسى من هذا يحتمل غير ما قال إني رأيت في ذلك وجها هو أشبه عندي بنسخ هذا الحديث من ذلك الوجه الذي ذهب إليه عيسى وذلك أن لبن المصراة الذي احتلبه المشتري منها في الثلاثة الأيام التي احتلبها فيها قد كان بعضه في ملك البائع قبل الشراء وحدث بعضه في ملك المشتري بعد الشراء إلا أنه قد احتلبها مرة بعد مرة فكان ما كان في يد البائع من ذلك مبيعا إذا أوجب نقض البيع في الشاة وجب نقض البيع فيه وما حدث في يد المشتري من ذلك فإنما كان ملكه بسبب البيع أيضا وحكمه حكم الشاة لأنه من بدنها هذا على مذهبنا وكان النبي صلى الله عليه و سلم قد جعل لمشتري المصراة بعد ردها جميع لبنها الذي كان حلبه منها بالصاع من التمر الذي أوجب عليه رده مع الشاة وذلك اللبن حينئذ قد تلف أو تلف بعضه فكان المشتري قد ملك لبنا دينا بصاع تمر دين فدخل ذلك في بيع الدين بالدين ثم نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم من بعد عن بيع الدين بالدين

مسروق نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے تھے میں گواہی دیتا ہوں کہ ابوالقاسم الصادق المصدوق حضرت محمد ﷺنے فرمایا۔ تھنوں میں دودھ روکے ہوئے جانوروں کی فروخت دھوکا ہے کسی مسلمان سے دھوکا کرنا جائز نہیں ۔ تو جو شخص یہ حرکت کرنے والا ہے وہ جناب رسول اللہﷺ کے حکم سے منہ موڑنے والا ہے یہ اس چیز میں داخل ہے جس سے آپ ﷺنے روکا ہے اب ایسی حرکت کرنے والے کی سزا یہ ہے کہ تین دن میں جو دودھ اس سے حاصل کیا ہے وہ خریدار کو صرف ایک صاع کے بدلے میں حاصل ہوجائے گا عین ممکن ہے کہ وہ کئی صاع کے برابر ہو۔ اس کے بعد مالی جرمانے سے سزا کا حکم منسوخ ہوگیا اور اشیاء کو امثال کی طرف لوٹادیا گیا (یعنی مثل صوری یا معنوی) جیسا ہم نے ذکر کیا جب بات کی اصل یہ ہے اور مصرا تہ کو بعینہ واپس لوٹانا ضروری ہے اور دودھ اس سے زائل ہو چکا (جوجمع کیا گیا تھا) اس سے معلوم ہوا کہ جو دودھ خریدار کو حاصل ہوا ہے اس میں سےکچھ مقدار سودا کرتے وقت تھنوں میں ضرور موجودتھی وہ بیع کےحکم میں ہوگا اور کچھ دودھ خریدنے کے بعد مشتری کی ملکیت میں پہنچ کر پیدا ہو وہ مشتری کا ہی ہے جبکہ تمام دودھ کو بائع کی طرف لوٹایا نہیں جاتا اس لئے کہ وہ بعض دودھ کی بیع کا مالک نہیں اورتمام دودھ کے متعلق یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مشتری اس کامالک ہے کیونکہ وہ اس مقدار دودھ کا مالک ہے جو جانور فروخت کرتے وقت اس کے تھنوں میں تھا جس جانورکے عیب کی وجہ سے واپس کر دیا گیا اور مالک نے اس کو اتنی رقم کے ساتھ اس شئی کا مالک بنایا تھا جس پران کا سودا ہوا تھا۔ پس یہی درست نہ ہوا کہ بکری کو پوری قیمت کے بدلے لوٹایا جائے اور یہ دودھ مکمل طور پر بلا قیمت اس خریدار کا ہو جائے۔ جب معاملہ اس طرح ہے تو خریدار کو واپس لوٹانے سے منع کیا جائے گا اور وہ عیب کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے سلسلہ میں بائع کی طرف رجوع کرے گا عیسیٰ بن ابان کہتے ہیں کہ مسئلہ مصراۃ کا حکم یہی ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو بات ابن ابان رضی اللہ عنہ نے کہی اس میں اس کے علادہ کی گنجائش ہے اور وہ اس روایت کی تنسیخ کے لئے اس سے بہت بہتر ہے وہ یہ ہے کہ مصراۃ کا وہ دودھ جو تین روز تک خریدارنے استعمال کیا اس میں سے کچھ دودھ تو سودے سے پہلے خریدار کی ملک تھا اور کچھ دودھ خریدنے کے بعد مشتری کی ملکیت میں پیدا ہوا البتہ اس نے بار بار دوهاتو جوکچھ خریدار کے قبضہ میں تھا وہ سودے میں شامل ہو گیا۔ جب اس جانور کی بیع کو توڑنا ضروری ہو گیا تو اس دودھ میں بھی بیع کا توڑنا ضروری ہوگیا اور جو دودھ خریدار کے ہاتھ میں ہوتے ہوئے پیدا ہوا تو اس کی ملکیت بھی توبیع کے سبب سے ہے اور اس کا حکم بھی بکری وغیرہ والا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ دودھ اس کے بدن سے نکلا ہے اور یہ بات ہمارے مذہب کے بالکل مطابق ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے مصراۃ کے خریدار کے لئے اس جانورکولوٹانے کے بعداس کے تمام دودھ کو جو اس نے اس دوران دوہا ہے ایک صاع کھجور کے بدلے قرار دیا جو صاع کھجوریں کہ وہ بکری وغیرہ کے ساتھ وہ بائع کودیتا ہے اور اس وقت تک تودہ دودھ تمام یا کم از کم اس کا بعض حصہ تلف ہو چکا ہوتا ہےپس خریدار اس دودھ کا کھجور کے قرض صاع کے بدلے مالک ہو چکا پس اس طرح وہ دودھ اس بیع القرض بالقرض میں داخل ہوا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے قرض کی بیع قرض کے بدلے منع فرمائی ہے (پس یہ اس اعتبار سے منسوخ ہوا) قرض کے بدلے قرض کی بیع ممنوع ہے۔

أشهد على الصادق المصدوق أبي القاسم صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أسد ← الربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5429

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5430

5132 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو عاصم قال أبو بكرة في حديثه أخبرنا موسى بن عبيدة وقال بن مرزوق في حديثه عن موسى بن عبيدة الزيدي عن عبد الله بن دينار عن بن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الكالئ بالكالئ يعني الدين بالدين فنسخ ذلك ما كان تقدم منه مما روى عنه في المصراة مما حكمه حكم الدين ويقال للذي ذهب إلى العمل بما روى في المصراة مما قد ذكرناه في أول هذا الباب قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال الخراج بالضمان وعملت بذلك العلماء

عبدالله بن و یار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے قرض کی قرض کے بدلے بیع سے منع فرمایا ہے۔ اس حکم کی بناپرمصراۃ کا معاملہ جو کہ قرض کے بدلے قرض قرار پاتا ہے منسوخ ٹھہرا ۔ روایات مصراۃ کے عاملین سے گزارش یہ ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الخراج بالضمان اور اس پر بہت سے علماء کامل ہے۔ روایت بالسند ملاحظہ ہو۔

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← موسى بن عبيدة الزيدي ← موسى بن عبيدة وقال بن مرزوق في حديثه ← أبو بكرة في حديثه ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5430

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5431

5133 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن أبي ذئب ح

ابوعاصم نے ابن ابی الذئب سے روایت کی ہے۔

بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5431

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5432

وحدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا القعنبي قال ثنا بن أبي ذئب عن مخلد بن خفاف عن عروة عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الخراج بالضمان

ابن ابی الذئب مخلد بن خفاف انہوں نے عروہ سے ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ضمان کے سبب خراج کا حقدار ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← وحدثنا صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5432

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5433

5134 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا أبو الوليد قال ثنا الزنجي بن خالد سمعته يقول زعم لنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت إن رجلا اشترى عبدا فاستغله ثم رأى به عيبا فخاصمه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فرده بالعيب فقال يا رسول الله إنه قد استغله فقال له الغلة بالضمان

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے غلام خریدا پھر چند دن اس سے کام لیا پھر اس میں عیب پایا تو وہ اپنا مقدمہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کوعیب کے ساتھ مالک کو واپس لوٹا دیاما لک نے کہا یارسول اللہ ﷺ اس نے چند دن اس سے کام لیا ہے آپ نے فرمایا ضمان کے سبب وہ نفع کا حقدار بن گیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← زعم لنا هشام بن عروة ← الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5433

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 5 باب بيع المصراة ) · حديث 5434

5135 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا مطرف بن عبد الله قال ثنا الزنجي بن خالد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5434

chevron_left Previous
1…579580581…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter