شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 4 باب ما ينهى عن قتله من النساء والولدان في دار الحرب ) · حديث 5063
4787 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال أخبرنا شعبة عن قتادة فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فلما كان المعضوض نزع يده وإن كان في ذلك تلف ثنايا غيره وكان حراما عليه القصد إلى نزع ثنايا غيره بغير إخراج يده من فيه ولم يكن القصد في ذلك إلى غير التلف كالقصد إلى التلف في الإثم ولا في وجوب العقل كان كذلك كل من له أخذ شيء وفي أخذه إياه تلف غيره مما يحرم عليه القصد إلى تلفه كان له القصد إلى أخذ ماله أخذه من ذلك وإن كان فيه تلف ما يحرم عليه القصد إلى تلفه فكذلك العدو قد جعل لنا قتالهم وحرم علينا قتل نسائهم وولدانهم فحرام علينا القصد إلى ما نهينا عنه من ذلك وحلال لنا القصد إلى ما أبيح لنا وإن كان فيه تلف ما قد حرم علينا من غيرهم ولا ضمان علينا في ذلك وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين
شعبہ بن قتادہ سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت اس طرح نقل کی ہے ۔ ان روایات سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے ۔ جس آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا جب اس نے اپنے ہاتھ کھینچا اگرچہ اس کی وجہ سے دوسرے آدمی کے دانت گر گئے اس کے منہ سے ہاتھ کو نکالنے کے بغیر دانتوں کی کسی اور طریقے سے نکالنے کا قصد کرنا بھی حرام تھا اور دیت کے لازم ہونے کے اعتبار سے برابر نہیں تو بالکل اس طرح ہر وہ آدمی جس کو کسی چیز کے لینے کا اختیار ہوا اور اس کے لینے میں کسی دوسرے کا ایسا نقصان ہوتا ہو جس کا ارادہ کرنا حرام ہے ۔ اس کے باوجود بھی وہ آدمی اپنی چیز لے سکتا ہے خواہ دوسرے کی وہ چیز ضائع ہو جائے جس کا قصداً ضائع کرنا حرام ہے بلاکل اسی طرح معاملہ دشمن کا بھی ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں ان سے لڑنے کا حکم دیا اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا بھی ہم پر حرام کر دیا پس جس بات سے ہمیں روکا گیا ہے اس کا ارادہ کرنا حرام ہے لیکن جس چیز کو ہمارے لئے جائز کیا گیا ہے اس کا ارادہ کرنا بھی جائز ہے اگرچہ اس کے حصول کے لئے کوئی ایسی چیز ضائع ہوتی ہو جس کا ضائع کرنا حرام ہو ۔ فلہذا اس سلسے میں ہم ہر کوئی تاوان بھی لازم نہیں ہو گا ۔ ہمارے ئمہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃاللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔
بإسناده مثله ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5063
