Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4619

4361 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا سفيان عن المغيرة عن إبراهيم قال قال عبد الله إذا أدى المكاتب قيمة رقبته فهو غريم

ابراہیم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا جب مکاتب اپنی گردن کی قیمت ادا کر دے تو وہ مقروض ہے ۔

عبد الله إذا أدى المكاتب قيمة رقبته فهو غريم ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْمُغِيرَةِ، ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4619

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4620

4362 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن سفيان عن جابر عن الشعبي قال كان عبد الله وشريح يقولان في المكاتب إذا أدى الثلث فهو غريم

جابر نے شعبی سے نقل کیا کہ عبداللہ اور شریح دونوں مکاتب کے متعلق کہتے ہیں کہ جب اس نے ثلث مال مکاتبت دے دیا تو اب وہ مقروض ہے ۔

كان عبد الله وشريح يقولان في المكاتب إذا أدى الثلث فهو غريم ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4620

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4621

4363 - حدثنا يونس قال أخبرني عبد الله بن نافع عن أبي معشر عن سعيد بن أبي سعيد المقبري أن أم سلمة رضي الله عنها قالت المكاتب عبد ما بقى عليه من كتابته شيء

سعید بن ابو سعید مقبری کہتے ہیں کہ ام سلمہ کہنے لگیں ۔ مکاتب اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے ذمہ کتابت میں سے کچھ بھی باقی ہے۔

الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ شَيْءٌ. ← سعيد بن أبي سعيد المقبري أن أم سلمة ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4621

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4622

4364 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني أسامة بن زيد ومالك عن نافع عن بن عمر قال المكاتب عبد ما بقي عليه من كتابته شيء

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ مکاتب غلام ہے جب تک اس پر بدل کتابت میں سے کوئی چیز باقی ہے ۔

الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ شَيْءٌ. ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أسامة بن زيد ومالك ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4622

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ ( 3 باب المكاتب متى يعتق ) · حديث 4623

4365 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا سفيان عن بن أبي نجيح عن مجاهد قال كان زيد بن ثابت رضي الله عنه يقول المكاتب عبد ما بقي عليه شيء من كتابته وكان جابر بن عبد الله رضي الله عنه يقول شروطهم جائزة فيما بينهم فلما كانوا اختلفوا في ذلك كما ذكرنا وكل قد أجمع أن المكاتب لا يعتق بعقد المكاتبة وإنما يعتق بحال ثانية فقال بعضهم تلك الحال هي أداء جميع المكاتبة وقال بعضهم هي أداء بعض المكاتبة وقال بعضهم يعتق منه بقدر ما أدى من مال المكاتبة ثبت أن حكم ذلك قد خرج من حكم المعتق على مال لأن المعتق على مال يعتق بالقول قبل أن يؤدي شيئا والمكاتب ليس كذلك لإجماعهم على ما ذكرنا فلما ثبت أن المكاتب لا يستحق العتاق بعقد المكاتبة وإنما يستحقه بحال ثانية نظرنا في ذلك وفي سائر الأشياء التي لا تجب بالعقود وإنما تجب بحال أخرى بعدها كيف حكمها فرأينا الرجل يبيع الرجل العبد بألف درهم فلا تجب للمشتري قبض العبد بنفس العقد حتى يؤدي جميع الثمن ولا يكون له قبض بعض العبد بأدائه بعض الثمن وكذلك الأشياء التي هي محبوسة بغيرها مثل الرهن المحبوس بالدين فكل قد أجمع أن الراهن لو قضى المرتهن بعض الدين فأراد أن يأخذ الرهن أو بعضه بقدر ما أدى من الدين لم يكن له ذلك إلا بأدائه جميع الدين فكان هذا حكم الأشياء التي تملك بأشياء إداء وجب احتباسها فإنما تحبس حتى يؤخذ جميع ما جعل بدلا منها فلما خرج المكاتب من أن يكون في حكم المعتق على المال الذي يعتق بالعقد لا بحال ثانية وثبت أنه في حكم من يحبس لأداء شيء ثبت أن حكمه في المكاتبة وفي احتباس المولى إياه كحكم المبيع في احتباس البائع إياه فكما كان المشتري غير قادر على أخذه إلا بعد أداء جميع الثمن كان كذلك المكاتب أيضا غير قادر على أخذ شيء من رقبته من ملك المولى إلا بأداء جميع المكاتبة فثبت بما ذكرنا قول الذين قالوا لا يعتق من المكاتب شيء إلا بأداء جميع المكاتبة وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

مجاہد کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے مکاتب اس وقت تک غلام ہے جب تک بدل کتابت میں سے کوئی چیز اس کے ذمہ باقی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے آقا اور مکاتب کی اپنے مابین شرائط لگانا جائز ہے۔ اب جبکہ اقوال صحابہ و تابعین بھی مختلف ہوئے مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ فقط عقد کتابت سے وہ آزاد نہیں ہوتا دوسری حالت سے آزاد ہوگا اب اس میں بعض نے کہا کہ وہ تمام مال کتابت کی ادائیگی ہے اور دوسروں نے کہا کہ بعض مال کتابت کی ادائیگی کے آزاد کر د ے گی اور بعض نے کہا اسی قدر آزاد ہوگا جتنا اس نے بدل کتابت اداکیا ۔ اس سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ مکاتب مال پرآزاد کئے جانے والے غلام کے حکم سے خارج ہے کیونکہ مال کی شرط پر آزاد کیا ہوا۔ کسی چیز کی ادائیگی کے بغیر وہ پہلے قول سے آزاد کرتا ہے اور مکاتب کا یہ حال نہیں کیونکہ اس پرتو تمام کاتفاق ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ مکاتب عرف عقد کتابت کر لینے سے عتاق کا حقدار نہیں بن جاتا۔ بلکہ ثابت ہونے والی حالت سے وہ اس کا مستحق بنتا ہے۔ ہم نے ان تمام اشیاء پر غور کیا جو فقط عقد سے واجب نہیں ہوتی بلکہ اس کے بعد طاری ہونے والی حالت سے واجب ہوتی ہیں کہ ان کا کیا حکم ہے؟ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ آدی اپنا غلام ایک ہزار درہم میں فروخت کرتا ہےتو فقط عقد سے مشتری کے ذمہ لازم نہیں ہوتا کہ وہ غلام پر قبضہ کرنے جب تک کہ وہ ثمن ادانہ کرے اور بعض ثمن ادا کر کے بھی وہ غلام کے بعض حصے بعض قیمت ادا کرکے قبضہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح وہ اشیاء جو کسی اور وجہ سے اس کے قبضہ میں رکی ہوئی ہوں ان کا حکم بھی یہی ہے۔ مثلا رہن قرض کی وجہ سے قبضہ میں ہے تو اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر رہن رکھنے والا شخص ہرمقروض کے قرض کا کچھ حصہ ادا کردے اور رہن رکھی چیز واپس لینا چاہے یا جس قدر قرض ادا کیا گیا اس کی مقدار واپس لینا چاہے تو ایسے کرنے کا اختیار نہیں۔ جب تک کہ تمام قرض ادا نہ کر دے۔ تو یہ ان اشیاء کا حکم ہے جن کی ملکیت دوسری اشیاء کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے جب ان کوبھی اس وقت تک روکنا ضروری ہے جب تک کہ ان کا بدل مکمل طور پر نہ لیا جائے تو یہ روکی جائیں گی۔ پس جب مکاتب اس غلام کے حکم سے نکل گیا جس کو مال کے بدلے میں آزاد کیا جاتا ہے کہ وہ محض عقد سے آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ دوسری حالت میں شامل نہیں اور بھی ثابت ہوگیا کہ وہ ان چیزوں کے حکم میں داخل ہو گیا ہے جن کو کسی چیز کی ادائیگی کے بدلے روکا نہیں جاتا تو اس سے خود ثابت ہوگیا کہ مکاتبت اور مالک کے اس کو روک لینے کے سلسلہ میں اس کا حکم اس بیع کی طرح ہے جس کو بائع اپنے پاس روکتا ہے تو جس طرح خریدار تمام قیمت ادا کرنے کے بعد ہی اس چیز کو لینے پر قادر ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح مکاتب بھی ملک کی ملک سے اپنی گردن کا کچھ حصہ حاصل کرنے پر اس وقت تک قادر نہیں ہوتا جب تک کہ مکمل بدل کتابت کی ادائیگی نہ کر د ے ان تمام گفتگو سے ان لوگوں کا قول ثابت ہو گیا جو یہ کہتے ہیں کہ مکاتب کی کوئی چز تمام مالک کتابت کی ادائیگی کے بغیر آزادی ہوگی اور یہی قول امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمدرحمتہ اللہ علیہ کا ہے۔

مُجَاهِدٍ ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4623

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4624

4366 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت كان عتبة بن أبي وقاص عهد إلى أخيه أي وصى إليه سعد بن أبي وقاص أن بن وليدة زمعة مني فاقبضه إليك فلما كان عام الفتح أخذه سعد وقال بن أخي قد كان عهد إلي فيه فقام إليه عبد بن زمعة فقال أخي وابن وليدة أبي ولد على فراشه فتساوقا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال سعد يا رسول الله بن أخي قد كان عهد إلي فيه وقال عبد بن زمعة أخي وابن وليدة أبي ولد على فراشه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هو لك يا عبد بن زمعة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الولد للفراش وللعاهر الحجر ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لسودة بنت زمعة إحتجبي منه لما رأى به من شبهة بعتبة فأتت فما رآها حتى لقي الله تعالى قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الأمة إذا وطئها مولاها فقد لزمه كل ولد يجئ به بعد ذلك إدعاه أو لم يدعه واحتجوا في ذلك بهذا الحديث لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال هو لك يا عبد بن زمعة ثم قال الولد للفراش وللعاهر الحجر فألحقه رسول الله صلى الله عليه و سلم بزمعة لا لدعوة ابنه لأن دعوة الابن للنسب لغيره من أبيه غير مقبولة ولكن لأن أمه كانت فراشا لزمعة بوطئه إياها واحتجوا في ذلك أيضا بما

عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا وہ فرماتی ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی کو وصیت کی یعنی سعد بن ابی وقاص کو کہ زمعہ کی لونڈی کا بچہ مجھ سے ہے ۔ پس اس کو اپنے قبضے میں کر لینا۔ جب مکہ فتح ہوا تو سعد رضی اللہ عنہ نے اس پر قبضہ کر لیا اور دعویٰ کیا کہ یہ میرا بھتیجا ہے میرے بھائی نے اس کے متعلق مجھ سے اقرار لیا تھا۔ تو عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی اور میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے ہاں پیدا ہوا دونوں نے اپنا مقدمہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا عبد بن زمعہ نے کہا یہ میرا بھائی اور میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے عبد بن زمعہ وہ تیرا بھائی ہے ۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الولد للفراش وللماھر الحجر ، پھر آپ نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اس سے پردہ کیا کرو۔ اس لئے کہ اس میں عتبہ کی مشابہت دیکھی ۔ پس اس نے سودہ کو نہ دیکھا یہاں تک وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملا۔ اما م طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا قول یہ ہے کہ جب لونڈی کا مالک اس سے وطی کرے ۔ تو جو بچہ وہ جنے گی وہ اسی کا شمار ہو گا خواہ اس کو دعویٰ کرے یا نہ کرے ۔ انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبد بن زمعہ وہ تیرا بھائی ہے ۔ پھر فرمایا " الولد للفراش و للعاھر الحجر " تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو زمعہ کے حوالہ کر دیا اس وجہ سے نہیں کہ اس کے بیٹے نے دعویٰ کیا تھا کیونکہ باپ کے غیر سے نسبت کے لئے بیٹے کا دعویٰ غیر مقبول ہے ۔ لیکن اس کو ملانے کی وجہ تھی کہ وہ زمعہ کی لونڈی اور اس کی موطوہ تھی۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4624

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4625

4367 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن سالم بن عبد الله عن أبيه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال ما بال رجال يطؤون ولائدهم ثم يعزلونهن لا تأتيني وليدة يعترف سيدها أن قد ألم بها إلا قد ألحقت به ولدها فاعزلوا أو اتركوا

سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ وہ فرماتے تھے لوگوں کا کیا حال ہے جو کہ لونڈیوں سے وطی کرتے ہوئے عزل کر لیتے ہیں میرے پاس جو لونڈی لائی جائے گی جس کا آقایہ اعتراف کرے گا کہ اس نے اس سے جماع کیا ہے میں اس لڑکے کو اس سے ملا دوں گا۔ اب تم عزل کرو یا نہ کرو ( تمہاری مرضی ہے )

أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4625

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4626

4368 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو اليمان قال أخبرنا شعيب عن الزهري قال حدثني سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر قال سمعت عمر بن الخطاب يقول فذكر مثله

سالم بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی۔

فذكر مثله. ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4626

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4627

4369 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع عن صفية بنت أبي عبيد أن عمر بن الخطاب قال ما بال رجال يطؤون ولائدهم ثم يدعونهن يخرجن لا تأتيني وليدة يعترف سيدها أن قد ألم بها إلا ألحقت به ولدها فأرسلوهن بعد أو أمسكوهن

صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگوں کیا حال ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے جماع کرتے ہیں پھر ان کو باہر نکلنے دیتے ہیں میرے پاس جو لونڈی اس حال میں لائی جائے گی کہ اس کے مالک نے اس سے جماع کیا ہے تو میں اس کے لڑکے کو اس سے ملا دوں گا ۔ خواہ تم ان کو کھلا چھوڑو یا روکو ( تمہاری مرضی ہے )

صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← نَافِعٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4627

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4628

4370 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني أسامة بن زيد عن نافع عن بن عمر قال من وطئ أمة ثم ضيعها فأرسلها تخرج ثم ولدت فالولد منه والضيعة عليه قال نافع فهذا قضاء عمر بن الخطاب وقول بن عمر وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما جاءت به هذه الأمة من ولد فلا يلزم مولاها إلا أن يقر به وإن مات قبل أن يقربه لم يلزمه وكان من الحجة لهم في الحديث الأول أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما قال لعبد بن زمعة هو لك يا عبد بن زمعة ولم يقل هو أخوك فقد يجوز أن يكون أراد بقوله هو لك أي هو مملوك لك لحق مالك عليه من اليد ولم يحكم في نسبه بشيء والدليل على ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أمر سودة بنت زمعة بالحجاب منه فلو كان النبي صلى الله عليه و سلم كان قد جعله بن زمعة إذا لما حجب بنت زمعة منه لأنه صلى الله عليه و سلم لم يكن يأمر بقطع الأرحام بل كان يأمر بصلتها ومن صلتها التزاور فكيف يجوز أن يأمرها وقد جعله أخاها بالحجاب منه هذا لا يجوز عليه صلى الله عليه و سلم وكيف يجوز ذلك عليه وهو يأمر عائشة رضي الله عنها أن تأذن لعمها من الرضاعة عليها ثم يحجب سودة ممن قد جعله أخاها وابن أبيها ولكن وجه ذلك عندنا والله أعلم أنه لم يكن حكم فيه بشيء غير اليد التي جعله بها لعبد بن زمعة ولسائر ورثة زمعة دون سعد فإن قال قائل فما معنى قوله الذي وصله بهذا الولد للفراش وللعاهر الحجر قيل له ذلك على التعليم منه لسعد أي أنك تدعى لأخيك وأخوك لم يكن له فراش وإنما يثبت النسب منه لو كان له فراش فإذا لم يكن له فراش فهو عاهر وللعاهر الحجر وقد بين هذا المعنى وكشفه ما قد

اسامہ بن زید نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جس نے اپنی لونڈی سے وطی کی پھر اس کو ضائع کیا اور اس کو باہر نکلنے دیا پھر اس نے بچہ جنا تو بیڑکا اس کا شمار ہوگا اور ضائع کرنے کی ذمہ داری اس پر ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسرے علماء کا قول یہ ہے کہ لونڈی کے ہاں جو بچہ پیدا ہو گا وہ آقا کو لازم نہیں ہوگا البتہ یہ کہ وہ اس کا اقرار کرے ۔ اگر اقرار سے پہلے مر گیا تو وہ بچہ اس سے متعلق نہ کیا جائے گا اس کی دلیل سابقہ روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے:"هو لك يا عبد بن زمعة“ آپ نے یہ نہیں فرمایا وہ تیرا بھائی ہے اور "هو لک کاسے یہ معنی لینا درست ہے کہ وہ تیرا غلام ہے کیونکہ تم لوگوں نے اپنے مال سے خریدا ہے اس کے نسب میں کچھ فیصلہ نہ کیا جائے گا اس کی دلیل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا ۔ اگر آپ ﷺ نے اس کو ابن زمعہ کا بھائی قرار دیا ہوتا تو بنت زمعہ اس سے پردہ نہ کرتیں کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ قطع رحمی کا حکم دینے والے نہ تھے بلکہ آپ صلہ رحمی کا حکم دینے والے تھے اور ایک دوسرے کی ملاقات یہ صلہ رحمی کا حصہ ہے پھر یہ کیونکر جائز تھا کہ اس کو اس کا بھائی قرار دے کر پھر اس سے پردے کا حکم دیا گیا؟ اور یہ آپ ﷺ سے ممکن نہیں ہے اور یہ درست کیسے ہوسکتا ہے جبکہ آپ عائشہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنے رضائی چچا کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دیں پھر سورہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ اپنے بھائی اور باپ کے بیٹے سے پردہ کریں؟ مگر اس کی اصل وجہ ہمارے ہاں (والله اعلم) یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے تعلق اور کوئی فیصلہ نہیں فرمایا۔ سوائے اس بات کے کہ وہ عبد بن زمعہ کی ملکیت ہے اور زمعہ کے تمام ورثاء کا اس میں حق ہے سعد کا حق نہیں۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ اگر بات اتنی سی ہے جو آپ نے کہی تو پھر اس ارشاد کو ساتھ ملانے کا کیا مقصد ہے: ”الولد للفراش وللعاهر الحجر؟‘‘ اس سے تو نسب کے ساتھ ان سے ملانا عیاں ہورہا ہے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات سعد رضی اللہ عنہ کو سمجھانے کے لئے کہی کہ تم اس کے متعلق دعوی رکھتے ہو کہ وہ تیرے بھائی کا ہے۔ حالانکہ یہ اس کی ذاتی لونڈی نہیں۔ اگر یہ اس کی ذاتی لونڈی ہوتی تو تب نسب ثابت ہوتا جب اس کی لونڈی نہیں تو وہ زانی ہے اور زانی پتھروں کا حقدار ہے۔ یہ روایت اس معنی کی وضاحت کرتی ہے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4628

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4629

4371 - حدثنا علي بن عبد الرحمن بن محمد بن المغيرة قال ثنا محمد بن قدامة قال ثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن مجاهد عن يوسف بن الزبير عن عبد الله بن الزبير قال كانت لزمعة جارية يطؤها وكان يظن برجل آخر أنه يقع عليها فمات زمعة وهي حبلى فولدت غلاما كان يشبه الرجل الذي كان يظن بها فذكرته سودة لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أما الميراث فله وأما أنت فأحتجبي منه فإنه ليس لك بأخ ففي هذا الحديث أن زمعة كان يطأ تلك الأمة وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لسودة ليس هو لك بأخ يعني بن الموطوءة فدل هذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن قضى في نسبه على زمعة بشيء وأن وطء زمعة لم يكن عنده بموجب أن ما جاءت به تلك الموطوءة من ولد منه فإن قال قائل ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أما الميراث فله فهذا يدل على قضائه بنسبه قيل له ما يدل ذلك على ما ذكرت لأن عبد بن زمعة قد كان ادعاه وزعم أنه بن أبيه لأن عائشة رضي الله عنها قد أخبرت في حديثها الذي ذكرناه عنها في أول هذا الباب أن عبد بن زمعة قال لرسول الله صلى الله عليه و سلم حين نازعه سعد بن أبي وقاص أخي بن وليدة أبي ولد على فراش أبي فقد يجوز أن تكون سودة قالت مثل ذلك وهما وارثا زمعة فكانا مقرين له بوجوب الميراث مما ترك زمعة فجاز ذلك عليهما في المال الذي كان يكون لهما لو لم يقر بما أقرا به من ذلك ولم يجب بذلك ثبوت نسب يجب به حكم فيخلى بينه وبين النظر إلى سودة فإن قال قائل إنما كان أمرها بالحجاب منه لما كان رأى من شبهه ب عتبة كما في حديث عائشة رضي الله عنها قيل له هذا لا يجوز أن يكون كذلك لأن وجود الشبه لا يجب به ثبوت نسب ولا يجب بعدمه انتفاء نسب ألا ترى إلى الرجل الذي قال لرسول الله صلى الله عليه و سلم إن امرأتي ولدت غلاما أسود فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم هل لك من إبل فقال نعم قال فما ألوانها فذكر كلاما قال فهل فيها من أورق قال إن فيها لورقا قال مم ترى ذلك جاءها قال من عرق نزعه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ولعل هذا من عرق نزعه وقد ذكرنا هذا الحديث بإسناده في باب اللعان فلم يرخص له رسول الله صلى الله عليه و سلم في نفيه لبعد شبهه منه ولا منعه من إدخاله على بناته وحرمه بل ضربه له مثلا أعلمه به أن الشبه لا يوجب ثبوت الأنساب وأن عدمه لا يجب به انتفاء الأنساب فكذلك بن وليدة زمعة لو كان وطء زمعة لأمه يوجب ثبوت نسبه منه إذا لما كان لبعد شبهه منه معنى ولكان نسبه منه ثابت الدخل على بناته كما يدخل عليهن غيره من بنيه وأما ما احتجوا به عن عمرو وابن عمر رضي الله عنهما في ذلك مما قد رويناه عنهما فإنه قد خالفهما في ذلك عبد الله بن عباس وزيد بن ثابت رضي الله عنهم

یوسف بن زبیر نے عبدالله بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ وطی کرتے تھے ان کا گمان یہ تھا کہ اور ( فلاں) آدی بھی اس سے قربت کرتا ہے زمعہ کی وفات ہوگئی جبکہ وہ حاملہ تھی اور اس نے ایک بچہ جنا اور وہ بچہ اس آدی کے مشابہ تھا جس کے متعلق زمعہ کو گمان تھا حضرت سودہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جناب رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا۔ یہ زمعہ ہی کی میراث ہے۔ رہا تیرا معاملہ تو تو اس سے پردہ کیا کرو، وه تمہارا بھائی نہیں ہے۔ اس روایت میں واضح موجود ہے کہ زمعہ اس سے وطی کرتا تھا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے سوده رضی اللہ عنہ کوصاف فرمایا وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔ بلکہ وہ موطوہ کا بیٹا ہے۔ اس سے واضح دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے زمعہ کے لئے نسب کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا اور زمعہ کا اس سے وطی کرنا بھی آپ کے ہاں اس بات کو لازم کرنے والا نہ تھا کہ جو بچہ جنا ہے یہ اسی کا ہے۔ اس پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ”اما الميراث فله“ کے الفاظ ثابت کر رہے ہیں کہ یہ فیصلہ نسب کے سلسلہ میں تھا۔ اس حدیث میں یہ بات کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الميراث فله یہ جملہ نسبی فیصلے پر دلالت نہیں۔ بلکہ اتنی بات ہے کہ عبد بن زمعہ نے اس کا دعوی کیا تھا اور اس کا خیال یہ تھا کہ وہ اس کا باپ جایا ہے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے کہ عبد بن زمعہ نے جناب رسول اللہ ﷺ کوسعد رضی اللہ عنہ کے جھگڑے کے موقعہ پرکہا یہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے اور میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا اور یہ بات سودہ رضی اللہ عنہ کے لئے بھی درست ہے کہ وہ ایسی بات کہیں کیونکہ زمعہ کے وہی دونوں وارث تھے۔ تو وہ اس کا اقرارزمعہ کی میراث کے وجوب کے لئے کررہے تھے۔ تو یہ اقرار دونوں کو اس تمام مال کے متعلق درست تھاجوڑمع چھوڑ کر مرے تھے۔ جیسا کہ اگر وہ دونوں اقرارنہ بھی کرتے تب بھی وہ وارث تھےمگر اس سے ثبوت نسب نہیں ہوا کہ جس سے کوئی حکم لگ سکے ۔ کہ سورہ رضی اللہ عنہ کو اس سے پردہ کرنے کا حکم نہ دیا جائے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ سودہ رضی اللہ عنہ کو پردہ کا حکم تو اس لئے دیا تھا کہ عتبہ سے اس کی مشابہت پائی گئی تھی۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے۔ اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ ایسی بات نہیں ہوسکتی کیونکہ فقط مشابہت کے پائے جانے سے نسب ثابت ہوتا اور نہ ہی عدم مشابہت نسب کی نفی کو لازم کرنے والا ہے۔ اس کے لئے آپ اس روایت کو سامنے رکھیں کہ ایک شخص بارگاہ نبوی میں عرض پیرا ہے کہ میری بیوی نے سیاہ رنگ بچہ جنا ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا۔ کس رنگ کے ہیں ؟ اس نے رنگوں کے متعلق بات بتلائی تو آپ نے فرمایا کیا ان میں گندمی رنگ کے بھی ہیں آپ نے فرمایاده گندمی رنگ کہاں سے آئے تیرا کیا خیال ہے۔ اس نے عرض کیا کسی رگ نے اسے کھینچا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بھی کسی رگ نے کھینچا ہو ۔ یہ روایت مکمل تفصیل کے ساتھ باب اللعان میں گزری ہے۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے عدم مشابہت کی وجہ سے نسبت کی نفی کو جائز قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس وجہ سے اس کو دوسرے بیٹے اور بیٹیوں اور دیگر مستورات کے پاس آنے جانے سے روکا۔ بلکہ ایک مثال دے کر اسے بتلایا کہ محض مشابہت سے نسب ثابت نہیں ہوتا اور عدم مشابہت سے نسب کی نفی نہیں کی جاتی ۔ تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر زمعہ نے اس کی ماں سے وطی کی ہے تو اس کا اس سے نسب ثابت ہوگا اور اس صورت میں عدم مشابہت کا کوئی مطلب نہ ہوگا اور اس کا نسب اس سے ثابت رہے گا اور یہ اس کی بیٹیوں کے پاس دوسرے بیٹوں کی طرح آجا اور داخل ہو سکے گا۔ رہی وہ روایت جوعمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس سلسلہ میں منقول ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت موجود ہے۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4629

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 8 كتاب العتاق ) ‹ باب الأمة يطؤها مولاها ثم يموت وقد كانت جاءت بولد في حياته هل يكون ابنه وتكون به أم ولد أم لا · حديث 4630

4372 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال ثنا شعبة عن عمارة بن أبي حفصة عن عكرمة عن بن عباس قال كان بن عباس يأتي جارية له فحملت فقال ليس مني إني أتيتها إتيانا لا أريد به الولد

عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنی ایک لونڈی کے ہاں تشریف لے جاتے اسے حمل ٹھہر گیا انہوں نے فرمایا یہ مجھ سے نہیں کیونکہ میں نے تو اس کے پاس اس طریقے سے جاتا تھا کہ بچہ اس سے مقصود نہ تھا یعنی عزل کرتا تھا۔

كان بن عباس يأتي جارية له فحملت ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4630

chevron_left Previous
1…512513514…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter