شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 4 باب الشاة عن كم تجزئ أن يضحي بها ) · حديث 6087
5762 - حدثنا يونس قال ثنا علي بن معبد عن عبيد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن علي بن حسين عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا ضحى أشتري كبشين عظيمين أملحين حتى إذا خطب الناس وصلى أتى بأحدهما وهو قائم في مصلاه فذبحه بيده ثم قال اللهم هذا عن أمتي جميعا من شهد لك بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ ثم يؤتى بالآخر فيذبحه ثم يقول اللهم هذا عن محمد وآل محمد ثم يجمعهما جميعا ويأكل هو وأهله منهما قال فمكثنا سنين ليس رجل من بني هاشم يضحي قد كفى الله المؤنة والعزم برسول الله صلى الله عليه و سلم
علی ابن حسین نے حضرت ابو رافع سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے بڑے چتکبرے مینڈھے خریدتے جب لوگوں کو نماز پڑھا کر اور خطبہ دے کر فارغ ہو تے تو ایک کو لایا جاتا جبکہ آپ ابھی عید گاہ میں تشریف فرما ہوتے اور اپنے دست مبارک سے اس کو ذبح کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے اللھم ۔۔۔۔۔۔ اے اللہ یہ میر ی تمام امت کے ان لوگوں کے لیے ہے جو توحید کی گواہی دینے والے اور میرے پیغام پہنچانے کی گواہی دینے والے ہیں پھر دوسرے کو لایا جاتا اور اس کا گوشت اکٹھا کرتے اور آپ خود اور گھر والے کھاتے تھے ابو رافع کہتے ہیں کہ ہمارے کئی سال ایسے گزر ے کہ بنی ہاشم میں سے کوئی بھی قربانی نہیں کرتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مشقت کو ہٹا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تاوان سے کفایت کر دی ۔
أَبِي رَافِعٍ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6087
