Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5991

5671 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا أحمد بن سكيت قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

ابراہیم نے عبیدہ سے پھر انہوں نے حضرت عبداللہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أحمد بن سكيت ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5991

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5992

5672 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة الجريري عن أبي نضرة عن عبد الله بن مولة قال كنت أسير مع بريدة الأسلمي وهو يقول اللهم ألحقني بقرني الذي أنا منه ثلاثا وأنا معه فقلت وأنا فدعا لي ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول خير هذه الأمة القرن الذي بعثت فيهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يكون قوم تسبق شهاداتهم أيمانهم وأيمانهم شهاداتهم

عبداللہ بن مولہ کہتے ہیں کہ میں حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا اور وہ یہ دعا کرتے تھے الھم الحقنبی بقرنی الذی انامنہ ) اے اللہ مجھ سے میرا وہ ساتھی ملا دے جس سے میں ہوں ۔ یہ تین مرتبہ دہرایا میں نے کہا اور میں پھر میرے لیے دعا فرمائی پھر کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا اس امت کا سب سے بہتر زمانہ وہ ہے جس میں میری بعثت ہوئی پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر ایسے لوگ آئیں گے انکی گواہی ان کی قسموں سے سبقت کرنے والی ہو گی اور ان کی قسمیں ان کی گواہی سے آگے بڑھنے والی ہوں گی ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← فدعا لي ثم ← معه فقلت ← منه ثلاثا ← اللهم ألحقني بقرني الذي ← كنت أسير مع بريدة الأسلمي وهو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ ← أَبِي نَضْرَةَ ← حماد بن سلمة الجريري ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5992

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5993

5673 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا حسين بن علي الجعفي عن زائدة عن عاصم عن خيثمة عن النعمان بن بشير عن النبي صلى الله عليه و سلم قال خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يخلف قوم تسبق شهاداتهم أيمانهم وأيمانهم شهاداتهم

خیثمہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ سب سے بہتر میرے زمانہ والے لوگ ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر کچھ لوگ قسمیں اٹھائیں گے ان کی گواہی ان کی قسموں سے اور قسمیں گواہی سے سبقت کرنے والی ہوں گی ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← خيثمة ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5993

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5994

5674 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم فذكر بإسناده مثله وزاد ثم الذين يلونهم مرة أخرى ثم يأتي قوم فكان من حجتنا على الذين احتجوا بهذه الآثار لأهل المقالة الأولى أن هذه الشهادة لم يرد بها الشهادة على الحقوق وإنما أريد بها الشهادة في الأيمان وقد روى ما يدل على ذلك عن إبراهيم النخغي

ابو بکر بن عیاش نے عاصم سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے اور اس روایت میں ثم الذین یلو نہم ایک مرتبہ اضافہ ہے اس کے بعد ثم یاتی قوم ہے ۔ ان روایات میں جس شہادت کا تذکرہ ہے اس سے شہادت علی الحقوق مراد نہیں ہے اور ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے ایسی بات منقول ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5994

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5995

5675 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال أنا شيبان عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله قال قلنا يا رسول الله أي الناس خير قال قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يجئ قوم يسبق شهادة أحدهم يمينه ويمينه شهادته قال إبراهيم كان أصحابنا ينهوننا ونحن غلمان أن نحلف بالشهادة والعهد فدل هذا من قول إبراهيم أن الشهادة التي ذم النبي صلى الله عليه و سلم صاحبها هي قول الرجل أشهد بالله ما كان كذا على معنى الحلف فكره ذلك كما يكره الحلف لأنه مكروه للرجل الإكثار منه وإن كان صادقا فنهى عن الشهادة التي هي حلف كما نهى عن اليمين إلا أن يستحلف بها فيكون حينئذ معذورا ولعله أن يكون أراد بالشهادة التي ذكرنا الحلف على ما لم يكن لقوله ثم يفشو الكذب فتكون تلك الشهادة شهادة كذب وقد روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في تفضيل الشاهد المبتدي بالشهادة ما

ابراہیم نے عبیدہ سے انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا میرے زمانہ والے پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہیں پھر کچھ لوگ ایسے آئیں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے سبقت کر نے والی ہو گی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت کرنے والی ہو گی ۔ ابراہیم کہتے ہیں جب ہم بچے تھے تو ہمارے احباب ہمیں شہادت و عہد کے ساتھ قسم اٹھانے سے منع کرتے تھے ۔ ابراہیم کا یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شہادت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذمت فرمائی اس سے مراد کسی آدمی کا اس طرح بطر حلف کہنا ہے " اشھد با اللہ ماکان کذا" پس اس کو ناپسند کیا گیا جیسا کہ حلف کو بھی ناپسند کیاگیا اگرچہ آدمی سچا ہو مگر اسے ایسا بار بار کہنا ناپسندیدہ حرکت ہے پس شہادت والے حلف سے روکا گیا جیسا کہ قسم سے روکا گیا ہاں اگر اس سے حلف اٹھوایا جائے گا تو اس وقت وہ معذور شمار ہو گا ۔ ممکن ہے اس مذکورہ شہادت سے مراد ایسے کام پر قسم کھانا ہو جو وقوع پذیر نہیں ہوا ۔ کیونکہ آپ نے فرمایا پھر جھوٹ پھیل جائے گا پس اس گواہی سے مراد جھوٹی گواہی ہو گی ۔

قُلْنَا ← عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شَيْبَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5995

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5996

5676 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الله بن أبي بكر عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن عثمان عن أبي عمرة الأنصاري عن زيد بن خالد الجهني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ألا أخبركم بخير الشهداء الذي يأتي بشهادته قبل أن يسأل عنها أو يخبر بشهادته قبل أن يسألها قال مالك الذي يخبر بشهادته ولا يعلم بها الذي هي له أو يأتي بها الإمام فيشهد بها عنده وجعله خير الشهداء 4 فأولى بنا أن نحمل الآثار الأول على ما وصفنا من تأويل كل أثر منها حتى لا تتضاد ولا تختلف ولا يدفع بعضها بعضا فتكون الآثار الأول على المعاني التي ذكرنا وتكون هذه الآثار الأخر على تفضيل المبتدي بالشهادة من هي له أو المخبر بها الإمام وقد فعل ذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتوا الإمام فشهدوا ابتداء منهم أبو بكرة ومن كان معه حين شهدوا على المغيرة بن شعبة فرأوا ذلك لأنفسهم لازما ولم يعنفهم عمر على ابتدائهم إياه بذلك بل سمع شهاداتهم ولو كانوا في ذلك مذمومين لذمهم من سألكم عن هذا ألا قعدتم حتى تسألوا فلما سمع منهم ولم ينكر ذلك عليهم عمر ولا أحد ممن كان بحضرته من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم دل ذلك على أن فرضهم كذلك وأن من فعل ذلك ابتداء لا عن مسألة محمود فمما روى في ذلك ما

ابو عمرہ انصاری نے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بہترین گواہ نہ بتلاؤں پھر فرمایا جو مطالبہ کرنے سے پہلے گواہی دے اور مطالبہ سے پہلے اپنی شہادت کی خبر اور اطلاع دے ۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو اپنی گواہی کی خبر دے جبکہ صاحب حق کو اس کی گواہی کا علم بھی نہ ہو یا امام و حاکم کے پاس آکر وہ گواہی دے تو اس کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہترین گواہ قرار دیا ہے ۔ ہمارے لیے مناسب یہ ہے کہ ان آثار کی وہ تاویل کی جائے جو ہم نے ذکر کی ہے تاکہ آثار میں تضاد و تخالف نہ ہوا اور وہ ایک دوسرے کی تردید نہ کریں پس آثار اول سے پہلا معنی اور بعد والے آثار سے دوسرا معنی مراد ہو گا کہ شہادت کی ابتداء کرنے والا افضل ہے یا خود امام کو اپنی گواہی کی اطلاع دینے والا افضل ہے اور صحابہ کرام سے اس فعل کا کرنا خود ثابت ہے چنانچہ وہ امام کے پاس آئے اور انہوں نے ابتداء گواہی دی ان صحابہ رضی اللہ عنہ میں ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور جو ان کے ساتھ تھے جبکہ انہوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے متلق گواہی دی ۔ انہوں نے اسے ضروری قرار دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابتداء شہادت پر ان کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی بلکہ ان کی گواہی کو سنا اگر ان کا یہ فعل قابل مذمت ہوتا تو ان کی ضرور مذمت کرتے اور اس طرح فرماتے " من سالکم عن ھذا ؟ الا قعد تم حتی تسالو ا ؟ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات سنی اور انکار نہیں فرمایا اوردیگر مجلس میں موجود اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی نے بھی نکیر نہیں فرمائی اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کایہی فریضہ تھا اور جس نے ابتداء بالشہادت کی جبکہ اس سے مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تو اس کا یہ فعل قابل مدح ہے اس سلسلہ میں یہ روایات بھی وارد ہیں ۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5996

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5997

5677 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا عفان بن مسلم وسعيد بن أبي مريم قالا حدثنا السري بن يحيى قال ثنا عبد الكريم بن رشيد عن أبي عثمان النهدي قال جاء رجل إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فشهد على المغيرة بن شعبة فتغير لون عمر ثم جاء آخر فشهد فتغير لون عمر ثم جاء آخر فشهد فتغير لون عمر حتى عرفنا ذلك فيه وأنكر لذلك وجاء آخر يحرك بيديه فقال ما عندك يا سلخ العقاب وصاح أبو عثمان صيحة تشبه بها صيحة عمر حتى كربت أن يغشى علي قال رأيت أمرا قبيحا قال الحمد لله الذي لم يشمت الشيطان بأمة محمد فأمر بأولئك النفر فجلدوا

ابو عثمان نہدی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور اس نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق گواہی دی تو اس کی بات سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا پھر دوسرا آیا اور اس نے گواہی دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا پھر دوسرا آیا اور اس نے گواہی دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا پھر ایک اور آیا اور اس نے گواہی دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رنگ بدل گیا ۔ یہاں تک کہ اس کا اثر آپ کے چہرہ پر معلوم ہونے لگا آپ اس بات کو انوکھا خیال کیا اور ایک اور شخص آیا جو اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہا تھا آپ نے فرمایا اے سزا کو کھینچ کر دور کرنے والے تیرے پاس کیا خبر ہے ۔ ابو عثمان راوی نے زور سے چیخ ماری جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی چیخ کے مشابہہ تھی یہاں تک کہ مجھے بے ہوشی کا خطرہ ہوا ۔ وہ کہنے لگا میں نے ایک بری بات دیکھی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا الحمد اللہ اللہ کا شکر ہے جس نے شیطان کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر خوش ہونے کا موقع نہیں دیا ۔ پھر اس گروہ کو کوڑے مارنے کا حکم دیا چنانچہ ان لوگوں کو کوڑے لگائے گئے ۔

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ رَشِيدٍ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← عفان بن مسلم وسعيد بن أبي مريم ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5997

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5998

5678 - حدثنا فهد قال ثنا بن أبي مريم قال أنا محمد بن مسلم الطائفي قال ثنا إبراهيم بن ميسرة عن سعيد بن المسيب قال شهد على المغيرة أربعة فنكل زياد بن أبي سفيان فجلد عمر بن الخطاب الثلاثة واستتابهم فتاب الإثنان وأبى أبو بكرة أن يتوب فكان يقبل شهادتهما حين تابا وكان أبو بكرة لا تقبل شهادته لأنه أبى أن يتوب وكان مثل التصوم من العبادة

ابراہیم بن میسرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ مغیرہ کے متعلق چار آدمیوں نے گواہی دی ان میں سے زیاد بن ابی سفیان نے اس بات سے انکار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تینوں کو کوڑے لگائے اور ان سے توبہ کا مطالبہ کیا تو ان میں سے دو نے توبہ کر لی مگر ابو بکرہ نے توبہ سے انکار کیا تو جب ان دو نے توبہ کر لی تو ان کی گواہی کوقبول کرلیا تو ان میں سے دو نے توبہ کر لی مگر ابو بکرہ نے توبہ سے انکار کیا تو جب ان دو نے توبہ کر لی تو ان کی گواہی کو قبول کر لیا جانے لگا اور ابو بکرہ کی گواہی قبول نہ کی جاتی تھی کیونکہ انہوں نے تو توبہ سے انکار کیا تھا ۔ ( اور یہ توبہ نہ کرنا ) عبادت سے باز رہنے کی طرح تھا ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5998

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 4 باب الرجل يكون عنده الشهادة للرجل هل يجب عليه أن يخبره بها وهل يقبله الحاكم على ذلك أم لا ) · حديث 5999

5679 - حدثنا فهد قال ثنا إبراهيم قال ثنا الوليد بن عبد الله بن جميع قال حدثني أبو الطفيل قال أقبل رهط معهم امرأة حتى نزلوا فتفرقوا في حوائجهم فتخلف رجل مع امرأة فرجعوا وهو بين رجليها فشهد ثلاثة منهم أنهم رأوه يهب كما يهب المرود في المكحلة وقال الرابع أحمي سمعي وبصري لم أره يهب فيها رأيت سختليه يعني خصيتيه يضربان أستها ورجلاها مثل أذني حمار وعلى مكة يومئذ نافع بن الحارث الخزاعي وكتب إلى عمر فكتب عمر إن شهد رابع بمثل ما شهد الثلاثة فقدمهما اجلدهما وإن كانا محصنين فارجمهما وإن لم يشهدا إلا بما كتبت به إلي فاجلد الثلاثة وخل سبيل الرجل قال فجلد الثلاثة وأخلى سبيل الرجل والمرأة فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد شهد بعضهم ابتداء وقبلها بعضهم وحضر ذلك أكثرهم فلم ينكر فدل ذلك على إتفاقهم جميعا على هذا المعنى وثبت أن معاني الآثار الأول على ما ذكرنا من معانيها التي وصفناها في مواضعها وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله

ولید بن عبداللہ نے بیان کیا کہ مجھے حضرت ابو الطفیل نے بیان کیا کہ ایک گروہ آیا اور ان کے ساتھ ایک عورت تھی یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر اترے اور اپنی اپنی ضروریات کے لیے چلے گئے ایک مرد عورت کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب وہ واپس لوٹے تو وہ اس کے دونوں پاؤں کے درمیان تھا ان میں سے تین نے گواہی دی کہ انہوں نے اسے اس طرح گھسا ہوا پایا جس طرح سلائی سرمہ دانی میں گھسی ہوئی ہوتی ہے چوتھے نے کہا میں اپنے کانوں اور آنکھوں کو صحیح خیال کرتا ہوں میں نے اسے گھسا ہوا نہیں دیکھا میں نے اس کے خصیتین کو دیکھا کہ وہ عورت کی سرین سے لگے ہوئے تھے اور اس کے پاؤں گدھے کے دو کانوں کی طرح تھے ان دنوں مکہ مکرمہ کے حاکم حضرت نافع بن حارث خزاعی رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے یہ معاملہ عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا اگر چوتھا آدمی بھی ان تینوں کی طرح گواہی دے تو ان دونوں کو لا کر کوڑے مارو اور اگر وہ دونوں شادی شدہ ہوں تو پھر ان کو سنگ سار کر دو اور اگر گواہی کی نوعیت وہی ہو جو تم نے تحریر کی ہے تو تینوں کو ( تہمت کی وجہ سے ) کوڑے لگاؤ اور اس مرد ( اور عورت ) کا راستہ چھوڑ دو ۔ راوی کہتے ہیں کہ ان تینوں کو کوڑے لگائے گئے اور مرد و عورت کا راستہ چھوڑ دیا گیا ۔ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ہیں ان سے بعض ہیں جنہوں نے گواہی کو خود ابتداء کی اور بعض نے اس کو قبول کیا اور اس سے پہلی روایات کے وہ معانی بھی ثابت ہو گئے جو ہم نے پہلے بیان کیے ۔ یہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمہم کا قول ہے ۔

أَبُو الطُّفَيْلِ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5999

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6000

5680 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو اليمان قال أنا شعيب بن أبي حمزة قال أخبرني عروة بن الزبير أن زينب بنت أبي ساحة وأمها أم سلمة أخبرته أن أمها أم سلمة قالت سمع النبي صلى الله عليه و سلم جلبة خصام عند بابه فخرج إليهم فقال إنما أنا بشر وإنه يأتي الخصم ولعل بعضكم أن يكون أبلغ من بعض فأقضي له بذلك وأحسب انه صادق فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من النار فليأخذها أو ليدعها

زینب نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو آپ ان لوگوں کی طرف تشریف لائے اور فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں اور میرے پاس جھگڑا کرنے والے آتے ہیں ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے زیادہ فصیح و بلیغ ہو اور میں اس کے مطابق فیصلہ کر دو ں اور میرے خیال میں وہ سچا ہو ۔ فلہذا میں جس شخص کے لیے کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دو تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے پس اب وہ اس کو لے لے یا چھوڑ دے ( اس پر موقف ہے )

"إِنَّمَا ← أمها أم سلمة أخبرته أن أمها أم سلمة ← عروة بن الزبير أن زينب بنت أبي ساحة ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6000

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6001

5681 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد العزيز الأويسي قال ثنا إبراهيم بن سعد عن صالح عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

صالح نے ابن شہاب سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← صَالِحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6001

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 20 كتاب القضاء والشهادات ) ‹ ( 5 باب الحاكم يحكم بالشيء فيكون في الحقيقة بخلافه في الظاهر ) · حديث 6002

5682 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن هشام بن عروة عن أبيه عن زينب عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنكم تختصمون إلي وإنما أنا بشر ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته فأقضي له على نحو ما أسمع منه فمن قضيت له من حق أخيه شيئا فإنما أقطع له قطعة من النار فلا يأخذه

زینب نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے پاس جھگڑا لاتے ہو اور بلا شبہ میں انسان ہوں ممکن ہے کہ تم میں سے ایک دوسرے سے اپنی دلیل بیان کرنے میں زیادہ عمدہ ہو تو میں جو کچھ اس سے سنوں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ کردوں ۔ فلہذا جس کے لیے میں اس کے مسلمان بھائی کے حق کا فیصلہ کروں گا گویا میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔ پس وہ اسے نہ لے ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6002

chevron_left Previous
1…161718…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter