شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ ( باب القراءة في العشاء · حديث 601
601 - أخبرنا عمر بن عبد العزيز ، أنا القاسم بن جعفر ، أنا أبو علي اللؤلؤي ، نا أبو داود ، حدثنا يحيى بن حبيب ، نا خالد بن الحارث ، نا محمد بن عجلان ، عن عبيد الله بن مقسم. عن جابر ذكر قصة معاذ قال : وقال - يعني النبي ( صلى الله عليه وسلم ) - للفتى : " كيف تصنع يا ابن أخي إذا صليت " ، قال : أقرأ بفاتحة الكتاب ، وأسأل الله الجنة ، وأعوذ به من النار ، وإني لا أدري ما دندنتك ودندنة معاذ ، فقال رسول الله [ ] : " إني ومعاذا حول هاتين " أو نحو ذا. صفحة رقم 75 ويروى " حولهما ندندن ". والدندنة : قراءة مبهمة غير مفهومة ، والهينمة نحوها.
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جوان سے پوچھا:”اے بھتیجے! تم نماز میں کیا کہتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: میں سورة فاتحہ پڑھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں آپ نے کی اور سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گنگناہٹ کو اچھی طرح نہیں سمجھتا (یعنی آپ اور معاذ کیا دعا مانگتے ہیں؟ آواز تو سنتا ہوں، لیکن واضح الفاظ سمجھ میں نہیں آتے) تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں اور معاذ بھی (جنت اور دوزخ) کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔‘‘ یا فرمایا: ’’اسی قسم کی دعا کرتے ہیں (یعنی جنت اور دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں۔)
يَعْنِي النَّبِيَّ لِلْفَتَی کَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ ← قِصَّةَ مُعَاذٍ ← جَابِرٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي اللؤلؤي ← القاسم بن جعفر ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › (Chapter on reading at dinner · Hadith 601
