شرح السنة للبغوي · كتاب الصلاة ‹ ( باب صفة الصلاة · حديث 553
553 - أخبرنا أبو عثمان الضبي ، أنا أبو محمد الجراحي ، نا أبو العباس المحبوبي نا أبو عيسى الترمذي ، نا علي بن حجر ، أنا إسماعيل بن جعفر ، عن يحيى بن علي بن يحيى بن خلاد بن رافع الزرقي [ عن أبيه ] ، عن جده صفحة رقم 7 عن رفاعة بن رافع أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بينما هو جالس في المسجد يوما - قال رفاعة : ونحن معه - إذ جاءه رجل كالبدوي فصلى وأخف صلاته ، ثم انصرف ، فسلم على النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقال النبي [ ] " وعليك فارجع فصل فإنك لم تصل " فرجع فصلى ، ثم جاء فسلم عليه ، فقال : " وعليك ارجع فصل ، فإنك لم تصل " ففعل ذلك مرتين أو ثلاثا ، كل ذلك يأتي النبي ( صلى الله عليه وسلم ) فيسلم على النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فيقول النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " وعليك فارجع فصل ، فإنك لم تصل " فعاف الناس ، وكبر عليهم أن يكون من أخف صلاته لم يصل ، فقال الرجل في آخر ذلك : فأرني وعلمني ، فإنما أنا بشر أصيب وأخطئ ، فقال : " أجل إذا قمت إلى الصلاة فتوضأ كما أمرك الله ، ثم تشهد ، وأقم ، فإن كان معك قرآن فاقرأ ، وإلا فاحمد الله وكبره وهلله ، ثم اركع فاطمئن راكعا ، ثم اعتدل قائما ، ثم اسجد واعتدل ساجدا ، ثم اجلس فاطمئن جالسا ، ثم قم ، فإذا فعلت ذلك ، فقد تمت صلاتك ، فإن انتقصت منه صفحة رقم 8 شيئا ، انتقصت من صلاتك ، قال : فكان هذا أهون عليهم من الأولى أنه من انتقص من ذلك شيئا انتقص من صلاته ، ولم يذهب كلها. قال أبو عيسى : هذا حديث حسن ، وقد روي عن رفاعة هذا الحديث من غير وجه ، وقد صح مثله عن أبي هريرة عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ). وفي دليل على وجوب القراءة في الصلاة ، فإن كان يحسن الفاتحة يجب قراءتها ، لقوله ( صلى الله عليه وسلم ) : " لا صلاة لمن لم يقرأ فيها بفاتحة الكتاب " ، فإن لم يحسن الفاتحة ويحسن شيئا غيرها من القرآن يجب أن يقرأ صفحة رقم 9 سبع آيات من حيث يحسن ، فإن لم يحسن يسبح الله ويحمده ويهلله ، وقد روي عن عبد الله بن أبي أوفى قال. جاء رجل إلى النبي ( صلى الله عليه وسلم ) قال : إني لا أستطيع أن آخذ من القرآن شيئا ، فعلمني ما يجزئني ، قال : قل : سبحان الله ، والحمد لله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ، ولا حول ولا قوة إلا بالله " قال : يا رسول الله ، هذا لله ، فما لي ؟ قال : قل : " اللهم ارحمني وعافني واهدني وارزقني " ولو صلى فنسي القراءة أعاد. وروي عن عمر أنه صلى بالناس المغرب ، فلم يقرأ فيها ، فلما انصرف ، قيل له : ما قرأت ، قال : فكيف كان الركوع والسجود ؟ فقالوا : حسنا ، فقال : لا بأس إذا.
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے۔ رفاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ہم آپ کی مجلس میں تھے۔ ایک شخص آیا جو دیکھنے سے گنوار معلوم ہوتا تھا۔ اس نے نماز پڑھی اور نہایت ہلکی نماز پڑھی۔ پر جانے کے لئے اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تھ پر بھی سلام ہو، واپس جا اور پھر نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی‘‘ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی اور پھر آ کر سلام کیا، آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ تجھ پر بھی سلامتی ہو، واپس جا اور پھر نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘ اس نے ایسا دو مرتبہ یا تین مرتبہ کیا، ہر بار نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا ،سلام کرتا، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے اور تجھ پر بھی سلام ہو، واپس جا اور پھر نماز پڑھ کیونکہ تونے نماز نہیں پڑھی۔ لوگوں پر یہ معاملہ بڑا بھاری اور گراں گزرا کہ جس نے نماز ہلکی (مختصر) پڑھی کہیں ایسا نہ ہو۔ اس کی نماز ہی نہ ہو آخر اس شخص نے کہا: آپ مجھے نماز سکھا دیجئے یا پڑھ کر بتا دیجئے۔ میں انسان ہوں مجھ سے کمی کوتاہی اور بھول چوک ہو جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا:”ٹھیک ہے، جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو وضوکر جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا فرمایا، پھر کلمہ شہادت (اشھد ان لا إلٰہ الا اللہ وحدہ، لا شریک لہ وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ) پڑھ، پھر قیام کر، اگر قرآن کا کچھ حصہ آتا ہے تو اس کی تلاوت کر بصورت دیگر اللہ تعالیٰ کی تحمید، تکبیر اور تہلیل بیان کر، پھر رکوع کر یہاں تک کہ رکوع میں پوری طرح اطمینان پا لے، پھر پوری طرح سیدھا کھڑا ہو جا، پھر سجدہ کر اور سجدے میں اعتدال کر (یعنی سجدہ کرتے ہوئے ہر عضو اپنی اپنی جگہ تک جائے) پھر بیٹھ جا اور اچھی طرح بیٹھ جا۔) دوسرے سجدہ کا تذکرہ باقی سندوں میں موجود ہے) پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو۔ جب تو اس انداز سے نماز پڑھے گا تو تیری نماز مکمل ہو گی۔ اگر تو نے اس سے کمی کی تو تیری نماز ناقص رہ جائے گی۔ راوی کہتا ہے: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری الفاظ (تیری نماز ناقص رہ جائے گی) جو اس حدیث میں ہیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر خفیف تھے بہ نسبت پہلے الفاظ (تو نے نماز نہیں پڑھی) کے کیونکہ ان میں ثواب کم ہو جانے کی بات ہے بالکل محروم رہ جانے کا ذکر نہیں۔
رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، ← جده صفحة رقم ← أَبِيهِ ← يَحْيَی بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أبو محمد الجراحي ← أبو عثمان الضبي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · prayer book › (Chapter of the description of prayer · Hadith 553
