Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح السنة للبغوي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi

by Imam Al Baghvi

4,339 Hadith1416 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب قول الله عز وجل ( إن زلزلة الساعة شيء عظيم يوم ترونها تذهل كل مرضعة عما أرضعت ) · حديث 4326

4326 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا الفربري ، نا محمد بن إسماعيل البخاري ، نا آدم ، نا الليث ، عن خالد بن يزيد ، عن سعيد بن أبي هلال ، عن زيد بن أسلم ، عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال : سمعت النبي عليه السلام يقول : " يكشف ربنا عن ساقه ، فيسجد له كل مؤمن صفحة رقم 142 ومؤمنة ، ويبقى من كان يسجد في الدنيا رياء وسمعة ، فيذهب ليسجد ، فيعود ظهره طبقا واحدا ". هذا حديث صحيح. قوله : " يكشف ربنا عن ساقه " قال الخطابي : هذا مما تهيب القول فيه شيوخنا ، وأجروه على ظاهر لفظه ، ولم يكشفوا عن باطن معناه على نحو مذهبهم في التوقف في تفسير كل ما لا يحيط العلم بكنهه من هذا الباب ، وقد تأوله بعضهم على معنى قوله : ) يوم يكشف عن ساق ( ، فروي عن ابن عباس أنه قال : عن شدة وكرب ، وسئل عكرمة عن قوله ) يوم يكشف عن ساق ( قال : إذا اشتد الأمر في الحرب قيل : كشفت الحرب عن الساق.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمارہے تھے :"ہمارا رب (قیامت کے دن) اپنی پنڈلی کھولے گا، اس وقت ہر مون مرد اور مومن عورت اس کے لیے سجدے میں گرپڑیں گے ۔ صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھاوے اور ناموری کے لیے سجدہ کرتے تھے ۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختہ ہوجائے گی اور وہ سجدے کے لیے نہ مڑ سکیں گے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← آدَمُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← الْفَرَبْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the words of God Almighty (The earthquake of the hour is a great thing on the day you see it astound every breastfeeding woman about what she breastfed) · Hadith 4326

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب قول الله عز وجل ( إن زلزلة الساعة شيء عظيم يوم ترونها تذهل كل مرضعة عما أرضعت ) · حديث 4327

4327 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، حدثنا محمد بن عبد الله ، نا سعيد بن أبي مريم ، أنا المغيرة ، حدثني أبو الزناد ، عن الأعرج عن أبي هريرة ، عن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " إنه ليأتي الرجل العظيم السمين يوم القيامة لا يزن عند الله جناح بعوضة " وقال : اقرؤوا ) فلا نقيم له يوم القيامة وزنا ( [ الكهف : 106 ]. هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن أبي بكر بن إسحاق ، عن يحيى بن بكير ، عن المغيرة. قوله ) فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا ( قال ابن الأعرابي : تقول العرب : ما لفلان عندنا وزن ، أي : قدر لخسته ، وقيل : معناه : لا يزن لهم سعيهم عند الله عز وجل مع كفرهم شيئا.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"بلاشبہ قیامت کے دن ایک بہت بھاری بھرکم موٹا تازہ شخص آئے گا لیکن وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی کوئی قدر نہیں رکھے گا۔ "اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"پڑھو( فلانقیم لھم یوم القیامہ وزنا) ۔۔قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے ۔ "(سورہ کہف:105)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← الْمُغِيرَةِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the words of God Almighty (The earthquake of the hour is a great thing on the day you see it astound every breastfeeding woman about what she breastfed) · Hadith 4327

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب قول الله عز وجل ( إن زلزلة الساعة شيء عظيم يوم ترونها تذهل كل مرضعة عما أرضعت ) · حديث 4328

4328 - أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أبي توبة ، أنا محمد ابن أحمد بن الحارث ، أنا محمد بن يعقوب الكسائي ، أنا عبد الله بن محمود ، أنا إبراهيم بن عبد الله الخلال ، نا عبد الله بن المبارك ، عن علي صفحة رقم 144 ابن علي ، عن الحسن قال : قال عبد الله بن قيس : يعرض الناس يوم القيامة ثلاث عرضات ، فأما عرضتان ، فجدال ومعاذير ، وأما العرضة الثالثة ، فعند ذلك تطاير الصحف في الأيدي ، فإما آخذ بيمينه ، وإما آخذ بشماله ". ورفعه بعضهم عن أبي موسى

سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی۔ دو پیشیوں میں تو بحث مباحثہ بھی ہوگا اور معذرتیں بھی پیش کی جائیں گی۔ تیسری پیشی میں اعمال نامے اڑکر ہاتھوں میں آجائیں گے ، کوئی اسے دائیں ہاتھ میں لے گا اور کوئی اسے بائیں ہاتھ میں ۔

الْحَسَنِ، ← علي صفحة رقم ابن علي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← إبراهيم بن عبد الله الخلال، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ ← محمد بن يعقوب الكسائي ← محمد ابن أحمد بن الحارث ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن أبي توبة

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the words of God Almighty (The earthquake of the hour is a great thing on the day you see it astound every breastfeeding woman about what she breastfed) · Hadith 4328

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب شهادة الأعضاء · حديث 4329

4329 - حدثنا أبو الفضل زياد بن محمد الحنفي ، أنا أبو معاذ الشاه ابن عبد الرحمن بن محمد بن مأمون ، نا أبو الحسن عبد الله بن أحمد بن محمد بن أبي البلخ ببغداد ، نا أبو قلابة الرقاشي ، حدثنا المعلى بن أسد ، نا عبد الواحد بن زياد ، عن عبد الرحمن بن إسحاق ، عن النعمان ابن سعد قال : سمعت المغيرة بن شعبة يقول : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : شعار المؤمنين يوم القيامة على الصراط : اللهم سلم سلم صفحة رقم 150 قال أبو عيسى : هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث عبد الرحمن بن إسحاق.

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے دن پُل صراط سے گزرنے والے مومنوں کا شعار یہ ہوگا: اے اللہ !سلامتی فرما ۔سلامتی فرما۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← النعمان ابن سعد ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أبو الحسن عبد الله بن أحمد بن محمد بن أبي البلخ ببغداد ← أبو معاذ الشاه ابن عبد الرحمن بن محمد بن مأمون ← أبو الفضل زياد بن محمد الحنفي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Certification of Members Chapter · Hadith 4329

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب شهادة الأعضاء · حديث 4330

4330 - أخبرنا أبو سعيد عبد الله بن أحمد الطاهري ، أنا جدي أبو سهل عبد الصمد بن عبد الرحمن البزاز ، أخبرنا أبو بكر محمد بن زكريا العذافري ، أنا إسحاق بن إبراهيم الدبري ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن بهز بن حكيم بن معاوية ، عن أبيه عن جده قال : أتيت النبي ( صلى الله عليه وسلم ) فقلت : والله ما جئتك حتى حلفت بعدد أصابعي ألا أتبعك ، ولا أتبع دينك ، وإني أتيت أمرا لا أعقل شيئا إلا ما علمني الله ورسوله ، وإني أسألك بالله بما بعثك إلينا ربنا ؟ قال : اجلس ، ثم قال : بالإسلام ، فقلت : ما آية الإسلام ؟ قال : تشهد أن لا إله إلا الله ، وأن محمدا رسول الله ، وتقيم الصلاة ، وتؤتي الزكاة ، وتفارق الشرك ، وأن كل مسلم على مسلم محرم ، أخوان نصيران لا يقبل الله من مشرك أشرك بعد إسلامه عملا ، وإن ربي داعي وسائلي هل بلغت عباده ، فليبلغ شاهدكم غائبكم ، وإنكم تدعون مفدم على أفواهكم بالفدام ، فأول ما يسأل عن أحدكم فخذه وكفه " قال : قلت يا رسول الله هذا ديننا ؟ قال : صفحة رقم 151 نعم وأينما تحسن يكفك ، وإنكم تحشرون على وجوهكم ، وعلى أقدامكم وركبانا ". هذا حديث حسن. والفدام : مصفاة الكوز والإبريق ، معناه : أنهم منعوا الكلام بالأفواه حتى تكلم أفخاذهم ، فشبه ذلك بالفدام الذي يجعل على الإبريق ويروى " كل مسلم عن مسلم محرم " يقال : إنه محرم عنك ، أي : يحرم أذاك عليه.

بہز بن حکیم کے دادا(سیدنا معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم !میں نے آپ کے پاس آنے سے قبل اپنے ہاتھ کی انگلیوں کے تعداد سے بھی زیادہ قسمیں کھائی تھیں کہ نہ آپ کا کہامانوں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا ، او اب میں نے ایسا معاملہ (دین) قبول کیا ہے کہ میں اس کی کوئی سمجھ نہیں رکھتا مگر جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ کو سکھائیں اور میں آپ سے اللہ کی ذات کے واسطے سے سوال کرتاہوں کہ ہمارے رب نے آپ کوہمارے پاس کیا چیز دے کر بھیجا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"بیٹھ جاؤ۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"اسلام دے کر ۔"میں نے عرض کیا: اسلام کی نشانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"یہ کہ توگواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوکوئی عبادت کے لائق نہیں اور یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور تو نماز قائم کرے اور زکاۃ ادا کرے اور شرک کو چھوڑ دے ۔ بلاشبہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام ہے ۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے مددگار بھائی ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کسی مشرک سے جو بعد از اسلام بھی شرک کا مرتکب ہو ، اس کے اسلام لانے کے بعد بھی کوئی عمل قبول نہیں فرماتا اور یقیناًمیرا پروردگار مجھے بلانے والا اور مجھ سے پوچھنے والا ہے کہ کیا میں نے اس کے بندوں کو اس کا پیغام پہنچا دیا ۔ پس چاہیے کہ تم میں سے جو موجود ہے وہ غیر موجود تک یہ پیغام پہنچادے ۔ بے شک تمہیں بلایا جائے گا اس حالت میں کہ تمہارے منہ بندہوں گے تو سب سے پہلے تمہاری ران اور ہتھیلی سے پوچھا جائے گا۔"سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول !یہ ہمارادین ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"ہاں اور تو جہاں کہیں رہ کر عمدگی کے ساتھ اس پر عمل کرے تجھے کفایت کرے گا اوریقیناً تمہیں چہروں کے بل ، پیدل اورسوارجمع کیا جائے گا۔"

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← أبو بكر محمد بن زكريا العذافري ← جدي أبو سهل عبد الصمد بن عبد الرحمن البزاز ← أبو سعيد عبد الله بن أحمد الطاهري

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Certification of Members Chapter · Hadith 4330

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب شهادة الأعضاء · حديث 4331

4331 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا يوسف بن موسى نا أبو أسامة ، حدثني الأعمش ، عن خيثمة عن عدي بن حاتم قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " ما منكم من أحد إلا سيكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان ولا حجاب يحجبه ". هذا حديث صحيح.

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جس سے اس کارب کلانہ کرے، اس کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا اور نہ کوئی حجاب ہوگا جو اسے چھپائے رکھے۔"

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Certification of Members Chapter · Hadith 4331

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب شفاعة الرسول ( صلى الله عليه وسلم ) · حديث 4332

4332 - أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أبي توبة الكشميهني ، أنا أبو طاهر محمد بن أحمد بن الحارث ، أنا أبو الحسن محمد بن يعقوب صفحة رقم 153 الكسائي ، أنا عبد الله بن محمود ، أنا أبو إسحاق إبراهيم بن عبد الله الخلال ، نا عبد الله بن المبارك ، عن أبي حيان التيمي ، عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير عن أبي هريرة قال : أتي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بلحم ، فرفع إليه الذراع ، وكانت تعجبه ، فنهس منها نهسة ، ثم قال : أنا سيد الناس يوم القيامة ، وهل تدرون مم ذلك ؟ يجمع الله الناس الأولين والآخرين في صعيد واحد يسمعهم الداعي ، وينفذهم البصر ، وتدنو الشمس ، فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون : ولا يحتملون ، فيقول الناس بعضهم لبعض : ألا ترون ما قد بلغكم ، ألا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم ؟ فيقول الناس بعضهم لبعض : عليكم بآدم فيأتون آدم ، فيقولون له : يا آدم أنت أبو البشر خلقك الله بيده ، ونفخ فيك من روحه ، وأمر الملائكة ، فسجدوا لك ، فاشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه ، ألا ترى ما قد بلغنا ؟ فيقول لهم آدم : إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ، ولن يغضب بعده مثله ، وإنه قد نهاني عن الشجرة ، فعصيته نفسي نفسي نفسي ، اذهبوا إلى غيري ، اذهبوا إلى نوح ، صفحة رقم 154 فيأتون نوحا ، فيقولون : يا نوح أنت أول الرسل إلى أهل الأرض وقد سماك الله عبدا شكورا اشفع لنا إلى ربك ، ألا ترى إلى ما نحن فيه ، ألا ترى ما قد بلغنا ؟ قال : فيقول : إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ، ولن يغضب بعده مثله ، وإنه قد كانت لي دعوة دعوتها على قومي نفسي نفسي نفسي ، إذهبوا إلى غيري ، إذهبوا إلى إبراهيم ، فيأتون إبراهيم ، فيقولون : يا إبراهيم أنت نبي الله وخليله من أهل الأرض ، اشفع لنا إلى ربك ، ألا ترى إلى ما نحن فيه ، ألا ترى إلى ما قد بلغنا ؟ فيقول : إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ، ولن يغضب بعده مثله ، وإني قد كذبت ثلاث كذبات ( فذكرهن أبو حيان ) نفسي نفسي نفسي ، اذهبوا صفحة رقم 155 إلى غيري ، اذهبوا إلى موسى ، فيأتون موسى ، فيقولون : يا موسى أنت رسول الله فضلك برسالاته وبكلامه على الناس اشفع لنا ألا ترى إلى ما نحن فيه ؟ فيقول : إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ، ولن يغضب بعده مثله ، إني قد قتلت نفسا لم أومر بقتلها نفسي نفسي نفسي ، اذهبوا إلى غيري ، اذهبوا إلى عيسى ، فيأتون عيسى ، فيقولون : يا عيسى أنت رسول الله وكلمته ألقاها إلى مريم ، وروح منه ، وكلمت الناس في المهد ، اشفع لنا ألا ترى إلى ما نحن فيه ، فيقول عيسى : إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله ولن يغضب بعده مثله ، ولم يذكر ذنبا نفسي نفسي نفسي ، إذهبوا إلى غيري ، إذهبوا إلى محمد ، فيأتون محمدا ( صلى الله عليه وسلم ) ، فيقولون : صفحة رقم 156 يا محمد أنت رسول الله ، وخاتم الأنبياء ، وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر ، اشفع لنا إلى ربك ألا ترى إلى ما نحن فيه ، فأنطلق فآتي تحت العرش ، فأقع ساجدا لربي ، ثم يفتح الله علي من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه على أحد قبلي ، ثم يقال : يا محمد ارفع رأسك سل تعطه ، واشفع تشفع ، فارفع رأسي ، فأقول : أمتي يا رب ، أمتي يا رب ، أمتي يا رب ، فيقال : يا محمد أدخل من أمتك من لا حساب عليه من الباب الأيمن من أبواب الجنة ، وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب ، ثم قال : والذي نفسي بيده إن ما بين المصراعين من مصاريع الجنة كما بين مكة وحمير ، وكما بين مكة وبصرى ". أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، حدثني محمد بن مقاتل ، عن عبد الله بن المبارك بهذا الإسناد مثله هذا حديث متفق على صحته وأخرجه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة ، عن محمد بن صفحة رقم 157 بشر ، عن أبي حيان قوله " ينفذهم البصر " قال أبو عبيد : المعنى أنه ينفذهم بصر الرحمن حتى يأتي عليهم كلهم ، قال الكسائي : نفذني بصره : إذا بلغني وجاوزني ، قال ابن عون : يقال : أنفذت القوم : إذا خرقتهم ومشيت في وسطهم ، فإن جزتهم حتى تخلفهم ، قلت : نفذتهم بلا ألف ، وقال غير أبي عبيد : تخرقهم أبصار الناس لاستواء الصعيد ، والله سبحانه وتعالى أحاط بالناس أولا وآخرا. قوله : " غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله " أراد به إظهار الغضب في ذلك الوقت ، وإلا فالغضب والرضى من صفات الله عز وجل لم يزل موصوفا بهما قبل أن خلق الخلق ، وكذلك جميع صفات الله تعالى.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گوشت لایا گیا ، اس سے آپ کو دستی پیش کی گئی ، دستی کا گوشت آپ کو مرغوب تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلے دانتوں کے ساتھ ایک بارتناول فرمایا ۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے روز میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔اور کیاتمہیں معلوم ہے کہ یہ کس طرح ہوگا؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو ، اگلوں اور پچھلوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا۔ اس طرح کہ آواز دینے والے کی آواز ہرجگہ سنی جاسکے گی اور سب تک نظر پہنچے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔ لوگ غم اور بے چینی کی وجہ سے بے بس ہوں گے اور نہ ہی ان میں اس کیفیت کو برداشت کرنے کی طاقت ہوگی ۔ لوگ آپس میں کہیں گے : دیکھتے نہیں کہ سب لوگ گیسی پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے ، جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم سب کی شفاعت کے لیے جائے ۔ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے : تم آدم علیہ السلام کے پاس جاؤ! چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان کی خدمت میں عرض کریں گے : اے آدم !آپ انسانوں کے باپ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا ، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی تھی ، ملائکہ کو حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تھا ۔ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کردیں ۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس درجہ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ آدم علیہ السلام ان سے کہیں گے : اللہ تعالیٰ آج اس درجہ غضب ناک ہے کہ کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا اور مجھے پہلے ہی درخت کےکھانے سے منع کر چکا تھا لیکن میں اس فرمان کو بجا لانے میں کوتاہی کر گیا ۔ ہائے میرا نفس ، ہائے میر انفس ، ہائے میرا نفس۔ تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ ۔ ہاں نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ۔ اے نوح علیہ السلام !آپ روئے زمین پر سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو "عبد شکور"کہہ کر پکارا ہے ، آپ اپنےرب کے حضورہماری شفاعت کیجیے !کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس مشقت اور مصیبت میں گرفتار ؟ کیا آپ کو معلوم نہیں ہماری پریشانی کس درجہ سنگین ہے ؟"آپ نے فرمایا:"نوح علیہ السلام کہیں گے : بلاشبہ میرارب آج اس درجہ غضب ناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتناغضب ناک ہوا۔ میری ایک ہی دعا یقینی قبول ہونے والی تھی وہ میں نے اپنی قوم کے خلاف کردی ہے ۔ آج تو مجھے خود اپنی ہی فکر ہے ۔ نفسی (ہائے میر ی جان) نفسی، نفسی ۔ تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ !ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ !چنانچہ سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوں گے اور عرض کریں گے : اے ابراہیم !آپ اللہ کے نبی ہیں اور تمام روئے زمین کے باشندوں میں سے اس کے خلیل ہیں ۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کردیں ۔ آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں کہ آج ہم کیسی مصیبت و پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں ۔ وہ بھی یہی جواب دیں گے : بے شک میرارب آج اس درجہ غضب ناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایساغضب ناک نہیں ہو تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا غضب ناک ہوگا اور میں نے تین جھوٹ بولے تھے (ابوحیان نے ان تینوں مقامات کا ذکر کیا ہے ) آج تو مجھے خود اپنی فکر ہے ، نفسی، نفسی،نفسی ۔ تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ ، ہاں موسیٰ علیہ اسلام کے پاس جاؤ ۔ چنانچہ وہ سب جناب موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے : اے موسیٰ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے رسالت اور ہم کلامی کے شرف سے لوگون پر فضیلت بخشی ہے ۔ آپ ہماری شفاعت فرمائیں ۔ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کیسی مصیبت و پریشانی کے عالم میں ہیں ۔ وہ بھی یہی جواب دیں گے : بلا شک میرارب آج اس درجہ غضب ناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایساغضب ناک نہیں ہو تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا غضب ناک ہوگا۔ میں نے ایک ایسی جان کو قتل کردیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں تھا ۔ آج تو مجھے خود اپنی فکر ہے ۔ تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ ۔ ہاں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور عرض گزار ہوں گے ۔ اے عیسیٰ !آپ اللہ کے رسول اور اس کاکلمہ ہیں جس کو اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے روح ہیں ۔ آپ نے لوگوں سے پنگھوڑے مین بات کی۔ آپ ہی ہماری سفارش فرمادیں ، کیا آپ دیکھتے ہیں؟ ہم کس کر بناک کیفیت میں مبتلا ہیں ۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے : یقیناً آج میرارب اس درجہ غضب ناک ہے کہ کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو تھا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔ وہ اپنے کسی گناہ کا ذکر نہیں کریں گے ۔ نفسی، نفسی، نفسی۔ تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ ۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ ۔ چنانچہ سب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے : اےمحمد !آپ اللہ کے رسول ہیں ، خاتم النبین ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں ۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں ۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس درجہ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ چنانچہ میں چل دوں گا اور عرش الٰہی کے نیچے آجاؤں گا اور اپنے رب کے حضور سجدے میں گرپڑوں گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی حمد و ثنا عمدہ تعریفات اور مدح و ستائش کے وہ کلمات مجھے سکھائے گا جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ سکھائے گئے ہوں گے ۔ بعد از کہا جائے : اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !سر اُٹھاؤ!سوال کرو ، دیئے جاؤ گے سفارش کروقبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں اپنا سر اُٹھا کر کہوں گا : میری امت ، اے میرے رب !میری امت ، اے میرے رب !میری امت ، اے میرے رب !ارشاد ہوگا: اے محمد !اپنی امت کے ان لوگوں کو جن کا کوئی حساب و کتاب نہیں ،جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کرو!حالانکہ وہ باقی دروازوں سے گرنے کے لیے دیگر لوگوں کے شریک ہوں گے ۔ (مگر اعزاز اً انہیں جنت کے دائیں دروازے سے گرزارا جائے گا) پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"اس ذت اقدس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلاشبہ جنت کی دو دہلیزوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر کے درمیان یا مکہ اور بَصریٰ (شام کا ایک شہر ) کے درمیان ہے ۔"

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › Chapter of the Intercession of the Messenger (may God bless him and grant him peace) · Hadith 4332

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب شفاعة الرسول ( صلى الله عليه وسلم ) · حديث 4333

4333 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل البخاري ، نا سليمان ابن حرب ، نا حماد بن زيد ، نا معبد بن هلال العنزي قال : اجتمعنا ناس من أهل البصرة ، فذهبنا إلى أنس بن مالك ، وذهبنا معنا بثابت إليه يسأله لنا عن حديث الشفاعة ، فإذا هو في قصره ، فوافقنا يصلي الضحى ، فاستأذنا ، فأذن لنا وهو قاعد على فراشه ، فقلنا لثابت : صفحة رقم 158 لا تسأله عن شيء أول من حديث الشفاعة ، فقال : يا أبا حمزة هؤلاء إخوانك من أهل البصرة جاؤوا يسألونك عن حديث الشفاعة ، فقال : حدثنا محمد ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " إذا كان يوم القيامة ماج الناس بعضهم في بعض ، فيأتون آدم ، فيقولون : اشفع إلى ربك ، فيقول : لست لها ، ولكن عليكم بإبراهيم ، فإنه خليل الرحمن ، فيأتون إبراهيم ، فيقول : لست لها ، ولكن عليكم بموسى ، فإنه كليم الله ، فيأتون موسى ، فيقول : لست لها ، ولكن عليكم بعيسى ، فإنه روح الله وكلمته ، فيأتون عيسى ، فيقول : لست لها ، ولكن عليكم بمحمد ، فيأتوني ، فأقول : أنا لها ، فأستأذن على ربي ، فيؤذن لي ويلهمني محامد أحمده بها لا تحضرني الآن ، فأحمده بتلك المحامد ، فأخر له ساجدا ، فقال : يا محمد ارفع رأسك ، وقل يسمع ، وسل تعط ، واشفع تشفع ، فأقول : يا رب أمتي أمتي ، فيقال : انطلق فأخرج من كان في قلبه مثقال شعيرة من إيمان ، فأنطلق فأفعل ، ثم أعود فأحمده بتلك المحامد ، ثم أخر له ساجدا ، فيقال : يا محمد ارفع رأسك ، وقل صفحة رقم 159 يسمع ، وسل تعط ، واشفع تشفع ، فأقول : يا رب أمتي أمتي ، فيقال : انطلق ، فأخرج منها من كان في قلبه مثقال ذرة أو خردلة من إيمان ، فأنطلق فأفعل ، ثم أعود بتلك المحامد ، ثم أخر له ساجدا ، فيقال : يا محمد ارفع رأسك ، وقل يسمع ، وسل تعط ، واشفع تشفع ، فأقول : يا رب أمتي أمتي ، فيقول : انطلق فأخرج من كان في قلبه أدنى أدنى مثقال حبة خردلة من إيمان فأخرجه من النار من النار من النار ، فأنطلق فأفعل ، فلما خرجنا من عند أنس قلت لبعض أصحابنا : لو مررنا بالحسن وهو متوار في منزل أبي خليفة فحدثناه بما حدثنا أنس بن مالك ، فأتيناه فسلمنا عليه ، فأذن لنا ، فقلنا له : يا أبا سعيد جئناك من عند أخيك أنس ، فلم نر مثل ما حدثنا في الشفاعة ، قال : هيه ، فحدثناه بالحديث ، فانتهى إلى هذا الموضع ، فقال : هيه ، فقلنا : لم يزد لنا على هذا ، فقال : حدثني وهو جميع منذ صفحة رقم 160 عشرين سنة ، فلا ندري أنسي أو كره أن تتكلوا ، قلنا : يا أبا سعيد فحدثنا ، فضحك ، وقال : خلق الإنسان عجولا ما كرته إلا وأنا أريد أن أحدثكم حدثني كما حدثكم ، ثم قال : ثم أعود الرابعة ، فأحمده بتلك المحامد ، ثم أخر له ساجدا ، فيقال : يا محمد ارفع رأسك ، وقل تسمع ، وسل تعطه ، واشفع تشفع ، فأقول : يا رب ائذن لي فيمن قال لا إله إلا الله ، فيقول : وعزتي وجلالي وكبريائي وعظمتي لأخرجن منها من قال لا إله إلا الله ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن سعيد بن منصور ، عن حماد بن زيد. قوله : " ماج الناس " أي : اختلط بعضهم ببعض ، ومنه قوله سبحانه وتعالى ( وتركنا بعضهم يومئذ يموج في بعض ( [ الكهف : 100 ] أي : يختلط بعضهم ببعض مقبلين ومدبرين حيارى.

جناب معبد بن ہلال عنزی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ بصرہ کے کچھ لوگ ہمارے پاس جمع ہو گئے پھ رہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور اپنے ساتھ جناب ثابت کو بھی لے گئے تاکہ وہ ہمارے لیے شفاعت کی حدیث پوچھیں ۔ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے محل میں تھے جب ہم پہنچے تو چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے ۔ ہم نے ملاقات کی اجازت چاہی اور ہمیں اجازت مل گئی ۔ اس وقت وہ اپنے بستر پر بیٹھے تھے ۔ ہم نے ثابت سے کہا تھا کہ حدیث شفاعت سے پہلے ان سے اور کچھ نہ پوچھنا۔ چنانچہ انہوں نے کہا : اے ابو حمزہ !یہ آپ کے بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے شفاعت کی حدیث پوچھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا: ہم سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "قیامت کا دن جب آئے گا تو لوگ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ظاہر ہوں گے ۔ پھر وہ سب لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ ہماری اپنے رب کے پاس شفاعت کیجیے ۔ وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں ، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ ، وہ اللہ کے خلیل ہیں ۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے ، وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں عم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ سے شرف ہمکلامی پانے والے ہیں ۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئین گے اوروہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں البتہ تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے ۔ وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں،ہاں تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ ۔ لوگ میرے پاس آئیں گے او رمیں کہوں گا کہ میں شفاعت کے لیے ہوں اور پھر میں اپنے رب سے اجازت چاہون گا اور مجھے اجازت دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ تعریفوں کے الفاظ مجھ الہام کرے گا جن کے ذریعے سے میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کروں گا جو اس وقت مجھے یاد نہیں ہیں ۔ چنانچہ جب میں یہ تعریفیں بیان کروں گا اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد !اپنا سر اُٹھا ، جو کہوگے وہ سنا جائے گا ، جو مانگوں گے وہ دیا جائے گا، جو شفاعت کروگے قبول کی جائے گی۔ پھر میں کہوں گا: اے رب!میری امت ؟ کہا جائے گا کہ جاؤ اور ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لوجن کے دل میں ذرہ یا رائی برابر بھی ایمان ہو۔ چنانچہ میں جاؤں گا ایساہی کروں گا ۔ پھر میں لوٹوں گا اوریہی تعریفیں پھر کروں گا اور اللہ کے لیے سجدے میں چلاجاؤں گا ، مجھ سے کہا جائے گا : اپنا سراُٹھا ؤ!کہو آپ کی بات سنی جائے گی ، جو مانگوگے وہ دیا جائے گا ، جو شفاعت کروگے وہ قبول کی جائے گی ۔ میں کہوں گا: اے رب !میری امت ، میری امت ؟ کہاجائے گا کہ جاؤ او ر ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لو جن کے دل میں ذرہ یارائی برابربھی ایمان ہو۔ پھر میں جاؤ گا اور نکالوں گا۔ پھرمیں لوٹوں گا اور یہی تعریفیں پھر کروں گا اور اللہ کے لیے سجدے میں چلاجاؤں گا ۔ مجھ سے کہا جائے گا : اے محمد !اپنا سر اُٹھا ؤ !کہو کہ آپ کی سنی جائے گی، جو مانگوں گے وہ دیا جائے گا، جوشفاعت کر وگے قبول کی جائے گی ۔ میں کہوں گا : اے رب !میری امت، میری امت؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے کم سے کم تر حصہ کے برابر بھی ایمان ہو ، اسے جہنم سے نکال لو ، آگ سے، آگ سے ۔ چنانچہ میں جاؤں گا اور نکال لوں گا۔" پھر جب ہم سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی چلنا چاہیے ۔ وہ اس وقت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے مکان میں تھے۔ ان سے وہ حدیث بیان کرنی چاہیے جو انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم سے بیان کی ہے ۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا ۔ پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی اور ہم نے ان سے کہا: اے ابو سعید !ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں سے آئے ہیں اور انہوں نے ہم سےجو شفاعت کے متعلق حدیث بیان کی ، اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی ،انہوں نے کہا : حدیث بیان کرو۔ ہم نے ان سے حدیث بیان کی ، جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا: اور بیان کرو۔ ہم نے کہا کہ اس سے زیادہ انہوں نے نہیں بیان کی ۔ انہوں نے کہا: انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب صحت مند تھے ، بیس سال قبال ، تو انہوں نےمجھے یہ حدیث بیان کی تھی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی بھول گئے یا س لیے بیان کرنا ناپسند کیا کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کربیٹھیں ۔ ہم نے کہا : ابو سعید ! پھرآپ ہم سے وہ حدیث بیان کیجیے !۔ آپ اس پر ہنس پڑے اور فرمایا : انسان بڑ اجلد باز پیدا کیا گیا ہے ۔ میں نے ا س کا ذ کر ہی اس لیے کیا ہے کہ تم سے بیان کرچاہتا ہوں ۔ سیدن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےمجھ سے اسی طرح حدیث بین کی جس طرح تم سے بیان کی ( اوراس مین یہ لفظ بڑھائے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا اور تعریفیں کروں گا اور ا للہ کے لیے سجدے میں چلا جاؤں گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد !اپنا سر اُٹھا ؤ !جو کہوگے سناجائے گا ، جو مانگوگے دیا جائے گا، جوشفاعت کروگے قبل کی جائے گی ۔ میں کہوں گا :اے رب !مجھے ان کے بارے مین بھی اجازت دیجیے جنہوں نے لاالہ الااللہ کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میری عزت ، میرے جلال ، میری کبریائی ، میری بڑائی کی قسم !اس میں سے انہیں بھی نکالوں گا جنہوں کلمہ لا الٰہ الا اللہ کہا ہے ۔"

مَعبد بن هلالٍ العَنزي ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَان ابْن حَرْب ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › Chapter of the Intercession of the Messenger (may God bless him and grant him peace) · Hadith 4333

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب شفاعة الرسول ( صلى الله عليه وسلم ) · حديث 4334

4334 - أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الحميدي ، أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ ، أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ، صفحة رقم 161 نا عثمان بن سعيد الدارمي ، نا مسلم بن إبراهيم ، نا هشام الدستوائي ، نا قتادة عن أنس بن مالك ، عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) قال : يجمع المؤمنون يومئذ ، فيهتمون لذلك اليوم ، ويقولون : لو استشفعنا إلى ربنا عز وجل حتى يخرجنا من مكاننا هذا ، فيأتون آدم ، فيقولون : يا آدم أنت أبو الناس خلقك الله بيده ، وأسجد لك ملائكته ، وعلمك أسماء كل شيء ، فاشفع لنا إلى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا ، فيقول لهم : لست هناكم ويذكر لهم خطيئته التي أصاب ، ولكن ائتوا نوحا أول رسول بعثه الله إلى الأرض ، فيأتون نوحا فيقول لهم : لست هناكم ، ويذكر خطيئته التي أصاب ، ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن ، فيأتون إبراهيم ، فيقول لهم : لست هناكم ، ويذكر خطاياه التي أصاب ، ولكن ائتوا موسى عبدا آتاه الله التوراة ، وكلمه تكليما ، فيأتون موسى ، فيقول : لست هناكم ، ويذكر لهم خطيئته التي أصاب ، ولكن ائتوا عيسى عبد الله ورسوله ، وكلمة الله وروحه ، فيأتون عيسى ، فيقول لهم : لست هناكم ، صفحة رقم 162 ولكن ائتوا محمدا عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر. قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : فيأتوني ، فأنطلق معهم فأستأذن على ربي ، فيؤذن لي ، فإذا رأيت ربي ، وقعت له ساجدا ، فيدعني ما شاء الله أن يدعني ، ثم يقول : يا محمد ارفع رأسك سل تعطه ، واشفع تشفع ، فأحمد ربي بمحامد علمنيها ، ثم أحد لهم حدا ، فأدخلهم الجنة ، ثم أرجع الثانية ، فأستأذن على ربي ، فيؤذن لي ، فإذا رأيت ربي ، وقعت له ساجدا ، فيدعني ما شاء الله أن يدعني ، ثم يقول : يا محمد ارفع رأسك سل تعطه ، واشفع تشفع ، فأحمد ربي بمحامد ، ثم أحد لهم حدا ثانيا فأدخلهم الجنة ، ثم أرجع الثالثة ، فأستأذن على ربي ، فيؤذن لي ، فإذا رأيت ربي ، وقعت له ساجدا ، فيدعني ما شاء الله أن يدعني ، ثم يقول لي : يا محمد ارفع رأسك سل تعطه ، واشفع تشفع ، فأحمد ربي بمحامد علمنيها ربي ، ثم أحد لهم حدا ثالثا ، فأدخلهم الجنة حتى أرجع ، فأقول : يا رب ما بقي في النار إلا من وجب عليه الخلود ، أو حبسه القرآن ، وهو المقام المحمود الذي وعده الله عز وجل صفحة رقم 163 ) عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا ( [ الإسراء : 79 ]. هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن مسلم بن إبراهيم ، وقال في آدم : لست هناك ويذكر ذنبه ، فيستحيي ، وفي نوح ، فيستحيي ، وفي موسى يذكر قتل النفس بغير حق فيستحيي ، ورواه مسلم عن محمد بن مثنى ، عن معاذ بن هشام ، عن أبيه.

سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "اس روز مومنوں کو جمع کیا جائے گا۔ و ہ اس دن کی سختی کی وجہ سے سخت غمگین ہوں گے اور کہیں گے کہ کاش!ہم کسی کو اپنے پروردگار کی طرف سفارشی لے جائیں تاکہ وہ ہمیں اس مصیبت سے نکال دے ۔ چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے : اے آدم !آپ تمام لوگوں کے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے پیدا فرمایا ، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کر وایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام بتائے ، آپ ہمارے پروردگار کے پاس ہمارے لیے سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس مصیبت سے آرام پہنچائے ۔ آدم علیہ السلام ان سے کہیں گے : میرا یہ مقام نہیں ہے اور وہ عذر پیش کرتے ہوئے اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے جو انہوں نے کی تھی (ممنوعہ درخت سے تناول کر لیا تھا )آدم علیہ السلام کہیں گے :البتہ تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ، وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے پاس بھیجا ۔ چنانچہ وہ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، وہ جواب دیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، وہ بھی اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے (انہوں نے اپنے رب سے اپنے بیٹے کے بچالینے کے بارے میں بغیر سوچے سوال کیا تھا) نوح علیہ السلام کہیں گے : تم ابراہیم علیہ السلام خلیل الرحمٰن کے پاس جاؤ۔ چنانچہ وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے ۔ وہ جواب دیں گے : میرا یہ مقام نہیں ہے ، وہ بھی اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جن کے وہ دنیا میں مرتکب ہوئے تھے (تین جھوٹ بولنے ک اذکر کریں گے ) ابراہیم علیہ السلام کہیں گے : تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ ، وہ ایسے بندے جن کو اللہ تعالیٰ نے تورات عطا کی اور اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوئے ۔ چنانچہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے ۔ وہ جواب دیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں ہے ۔ وہ اپنی اس غلطی کا تذکرہ کریں گے جو ان سر زد ہوئی تھی( ایک قبطی شخص کو قتل کرنے کی صورت میں) موسیٰ علیہ السلام کہیں گے :البتہ تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے ہیں ، اس کے رسول ہیں ، اللہ کے کلمہ اور اس کی روح ہیں (یعنی وہ کلمہ کن سے پیدا کیے گئے ہیں ) چنانچہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے لیکن عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کہیں گے کہ مجھ میں اس کی ہمت نہیں ، تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے مقبول بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ا ن کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "چنانچہ لو گ میرے پاس آئیں گے ، میں ان کے ساتھ جاؤ ں گا اور اپنے رب سے اجازت چاہوں گا ۔ مجھے اجازت مل جائے گی۔ پھر میں اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا میں سجدے رہوں گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد !اپنا سر اُٹھاؤ اور جو چاہو مانگو، تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ تو میں اللہ کی وہ حمد و ثنا بیان کروں گا جو وہ مجھے اس وقت سکھائے گا۔ پھر میں ان کے لیے ایک حد مقرر کردوں گا اور انہیں جنت میں داخل کراؤں گا۔ پھر میں دوسری مرتبہ جاؤں گا اور اپنے رب کے پاس داخل ہونے کی اجازت طلب کروں گا ، تو مجھے اجازت عطا کی جائے گی ۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو میں سجدے میں گر پڑوں گا ۔ پس مجھے اللہ تعالیٰ سجدے میں رہنے دے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ مجھے سجدے میں رہنے دیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد !سر اُٹھائیں !جو مانگوگے دیا جائے گا اور سفارش کریں کہ آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں اپنے رب کی خوب حمد و ثنا بیان کروں گا ۔ پھر میں دوسری مرتبہ ان کے لیے ایک حد مقرر کردوں گا اور انہیں جنت میں داخل کراؤ ں گا۔ پھر تیسری مرتبہ جاؤں گا اور اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت عطا کی جائے گی۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو میں سجدے میں گر پڑوں گا۔ پس مجھے اللہ تعالیٰ سجدے میں رہنے دے گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ وہ مجھے سجدے میں رہنے دے ۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا: اے محمد !سر اُٹھائیں !سوال کریں ، آپ کو نوازا جائے گااور سفارش کریں کہ آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کروں گا جو میرا پر وردگار مجھے سکھائے گا۔ پھر میں تیسری مرتبہ ان کے لیے ایک حد مقرر کروں گا اور انہیں جنت میں داخل کراؤں گا۔ پھر میں بارگاہِ رب العزت سے واپس آؤں گا اور کہوں گا : اے پرودگار !جہنم میں ان لوگوں کے سوا اور کوئی اب باقی نہیں رہا کہ جنہیں ہمیشہ کے لیے جہنم میں ہی رہنا ہے ، یا جنہیں قرآن نے روک لیا ہے ۔ یہی وہ مقام محمود ہے جس کا للہ عز وجل نے وعدہ فرما رکھا ہے (پھر ( عسیٰ ان یبعثک ربک مقام محمود)۔۔۔ "عنقریب آپ کو آپ کارب مقام محمود میں بھیجے گا۔"(سورۃ اسراء:79)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه صفحة رقم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ← أبو سعد أحمد بن محمد الحميدي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › Chapter of the Intercession of the Messenger (may God bless him and grant him peace) · Hadith 4334

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب شفاعة الرسول ( صلى الله عليه وسلم ) · حديث 4335

4335 - حدثنا أبو المظفر محمد بن أحمد بن حامد التميمي ، أنا أبو محمد عبد الرحمن بن عثمان ابن القاسم المعروف بابن أبي نصر ، أنا أبو الحسن خيثمة بن سليمان بن حيدرة الأطرابلسي ، نا إسحاق بن إبراهيم ابن عباد بصنعاء ، نا عبد الرزاق ، نا معمر ، عن قتادة ، عن النضر بن أنس عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " إن الله - عز وجل - وعدني أن يدخل الجنة من أمتي أربعمائة ألف ، فقال أبو بكر : زدنا يا رسول الله ، فقال وهكذا فحثى بكفيه وجمعهما. قال أبو بكر : زدنا يا رسول الله قال وهكذا ، فقال عمر بن الخطاب : دعنا يا أبا بكر ، فقال أبو بكر : وما عليك أن يدخلنا الله عز وجل كلنا صفحة رقم 164 الجنة ، فقال عمر : إن الله عز وجل إن شاء أن يدخل خلقه بكف واحد ، فعل ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " صدق عمر ابن الخطاب ". وأخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو الحسين بن بشران ، أنا إسماعيل بن محمد الصفار ، نا أحمد بن منصور الرمادي ، نا عبد الرزاق ( ح ) وأخبرنا أبو سعيد الطاهري ، أنا جدي عبد الصمد البزاز ، أنا محمد بن زكريا العذافري ، نا إسحاق الدبري ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن قتادة ، عن أنس ، أو عن النضر بن أنس عن أنس بهذا وروي عن أبي أمامة قال : سمعت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يقول : " وعدني ربي أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب مع كل ألف سبعون ألفا وثلاث حثيات من حثيات ربي ".

سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے چا ر لاکھ افراد کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل فرمائے گا" سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول !ہماری اس تعداد میں اضافہ فرمائیں ۔ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا : آپ نے اس طرح کیا کہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا کر کے ان کا چلو بنایا ۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول !اور اضافہ فرمائیں ۔ آپ نے پہلے کی طرح اپنی دونوں ہتھیلیوں کو کٹھا کر کے بتایا ۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !ہمیں اپنے حال پر رہنے دیں ۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ کو کیا نقصان ہے اگر ہم سب کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرما دے ۔ توسید نا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ عزوجل اگر چاہے کہ وہ اپنی تمام مخلوق کو ایک ہی بار جنت میں داخل کردے تو وہ ایسا کر سکتا ہے ۔ ( عمر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ بات سن کر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "عمر بن خطاب سچ کہتا ہے "

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إسحاق بن إبراهيم ابن عباد بصنعاء ← أبو الحسن خيثمة بن سليمان بن حيدرة الأطرابلسي ← أبو محمد عبد الرحمن بن عثمان ابن القاسم المعروف بابن أبي نصر ← أبو المظفر محمد بن أحمد بن حامد التميمي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › Chapter of the Intercession of the Messenger (may God bless him and grant him peace) · Hadith 4335

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب شفاعة الرسول ( صلى الله عليه وسلم ) · حديث 4336

4336 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل الخرقي ، أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله الطيسفوني ، أنا عبد الله بن عمر الجوهري ، نا أحمد بن علي الكشميهني ، نا علي بن حجر ، نا إسماعيل بن جعفر ، نا عمرو هو ابن أبي عمرو مولى المطلب ، عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة قال : قلت يا رسول الله : من أسعد الناس بشفاعتك يوم القيامة ؟ فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " لقد ظننت يا أبا هريرة أن لا يسألني عن هذا الحديث أحد أول منك لما رأيت من حرصك على الحديث ، أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال : لا إله إلا الله خالصة من قبل نفسه ". هذا حديث صحح أخرجه محمد عن قتيبة بن سعيد ، عن إسماعيل ابن جعفر.

سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا:اے اللہ کے رسول !قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کون لوگ حاصل کریں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "اے ابوہریرہ !میرا بھی خیال تھا کہ یہ حدیث تم سے پہلے اور کوئی مجھ سے نہیں پو چھے گا کیونکہ حدیث کے لینے کے لیے میں تمہاری بہت زیادہ حرص دیکھتا ہوں ۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہوگی جس نے کلمہ لاالہ الا اللہ خلوص دل سے پڑھا ۔"

قُلْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عمرو هو ابن أبي عمرو مولى المطلب ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أحمد بن علي الكشميهني ← عبد الله بن عمر الجوهري ← أبو الحسن علي بن عبد الله الطيسفوني ← أبو عبد الله محمد بن الفضل الخرقي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › Chapter of the Intercession of the Messenger (may God bless him and grant him peace) · Hadith 4336

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب شفاعة الرسول ( صلى الله عليه وسلم ) · حديث 4337

4337 - أخبرنا ابن عبد القاهر ، أنا عبد الغافر بن محمد ، أنا محمد بن عيسى الجلودي ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج ، حدثني يونس بن عبد الأعلى الصدفي ، نا ابن وهب ، أخبرني عمرو ابن الحارث أن بكر بن سوادة ، حدثه عن عبد الرحمن بن جبير عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) تلا صفحة رقم 166 قول الله تعالى في إبراهيم ) رب إنهن أضللن كثيرا من الناس فمن تبعني فإنه مني ( الآية [ إبراهيم : 36 ] وقال عيسى : ) إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم ( [ المائدة : 121 ]. فرفع يديه ، وقال : اللهم أمتي أمتي وبكى ، فقال الله عز وجل : يا جبريل اذهب إلى محمد - وربك أعلم - فسله ما يبكيه ؟ فأتاه جبريل ، فسأله ، فأخبره رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بما قال ، وهو أعلم ، فقال الله : يا جبريل اذهب إلى محمد فقل : إنا سنرضيك في أمتك ولا نسوؤك ". هذا حديث صحيح.

سیدنا عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی جو ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہے ( رب انھن اضللن کثیر امن الناس فمن تبعنی فاء نہ منی)۔ ۔ " اے میرے پر ودگار ! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے ۔ پس جو شخص میرا تابعدار بنا وہ مجھ سے ہے ۔" ( سورہ ابراہیم :36) اور عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : ( ان تعزبھم فاء نھم عبادک و ان تغفر لھم فاء نک انت العزیز الحکیم) ۔۔۔ " اگر تو ان کو عذاب میں مبتلا کرے تو بلاشبہ یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کردے تو تُو زبردست ، حکمت والا ہے ۔" (سورہ مائدہ :118)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور دعا کی: " اے اللہ !میری امت؟ میری امت؟ ۔"اور آپ روپڑے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبرائیل !محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا جبکہ تیرے پر وردگار کو خوب علم ہے اور ان سے دریافت کر کہ آپ کے رونے کا کیا سبب ہے ؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپ سے دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وجہ بتائی۔ اللہ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ محمد کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور ہم آپ کو غمگین نہیں کریں گے ۔ "

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عمرو ابن الحارث أن بكر بن سوادة ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ← محمد بن عيسى الجلودي ← عبد الغافر بن محمد ← ابن عبد القاهر

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › Chapter of the Intercession of the Messenger (may God bless him and grant him peace) · Hadith 4337

chevron_left Previous
1…351352353…362
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. (The Book of Faith)
    1. Door2. (Chapter explaining the deeds of Islam and the reward for establishing them)3. (Chapter explaining that deeds are part of faith, and that faith increases and decreases, and responding to the Murji'ah)4. (Chapter of the sweetness of faith and love of God Almighty and His Messenger (may God bless him and grant him peace)5. (Chapter of the one who embraced Islam on the good that he had previously accepted6. (Chapter of pledging allegiance to Islam and its laws and fighting with those who refuse)7. (Chapter signs of hypocrisy8. (Chapter on major sins9. Chapter He who dies does not associate anything with God10. (Chapter on pardoning self-talk11. (Chapter on responding to waswasah12. (The door of Islam began strange and will return as it began13. (Chapter on Belief in Destiny14. (Matters chapter with the will of God Almighty15. (Chapter of business with endings16. (Bab and Abdul Qadriyah17. (Children of the polytheists chapter18. (Chapter on the words of God Almighty (We turn their minds and eyes) as they did not believe in it for the first time.19. (Chapter in response to Jahmiyya20. (Chapter on responding to those who said about the creation of the Qur’an)21. (The door to sit-in with the Qur’an and Sunnah22. (Chapter Rejecting heresies and whims23. (Door to avoiding the people of passions24. (Chapter Reward for one who calls for guidance or revives Sunnah and the sin of one who invents heresy or calls for it)
3. (The Book of Knowledge)
    25. Chapter on communicating the hadith of the Messenger (may God bless him and grant him peace)26. Chapter: The Sin of Who Lied to the Prophet (may God bless him and grant him peace)27. (Chapter of those who say in the Qur’an without knowledge28. (Chapter on litigation in the Qur’an29. (Chapter of the one who narrated a hadeeth who thinks that it is a lie30. (Chapter of the hadith of the People of the Book31. (Chapter on the merit of knowledge32. (Chapter of Al-Tafaqah in Religion33. (Science scribes chapter34. (Chapter on envy in science35. (Chapter: Whoever leaves a note to benefit from it36. (Chapter and feast of the concealment of knowledge he knows37. (Chapter re-speech to understand38. (Chapter on Prevention of Fatwa39. (Chapter put the issue to friends for testing40. (Chapter on entitlement to sermon41. (The door to capture the flag
4. (The Book of Purity)
    42. (Chapter on the merit of ablution43. (Chapter on what requires ablution44. (Ablution from sleep door45. (Ablution door from touching the vulva46. (Ablution from touching a woman chapter47. Chapter Leaving ablution, which touches the fire48. (The chapter on rinsing of milk and suwaiq49. (Chapter of doubt about the event is based on certainty50. (Chapter on outdoor literature51. (The door to concealment when defecating52. (Chapter What to say if he enters the toilet53. (Chapter on hate speech to relieve the toilet54. (Chapter of the places in which it is forbidden to relieve themselves55. (Urine door standing56. (Urine in the vessel chapter57. (Chapter on cleaning oneself with water58. (Chapter on tooth brushing59. (Chapter Intention in ablution and other acts of worship60. (Chapter on washing hands when starting ablution61. (Chapter on naming it in ablution62. (The chapter on rinsing and sniffing, exaggerating them, and picking fingers63. (Chapter Pickling the beard64. (Beginning door in Mayman65. (Chapter on prolonging the bangs66. (Chapter on the obligation to wash the legs67. (Chapter on the attribute of the ablution of the Prophet (may God bless him and grant him peace)68. (Chapter on wiping the head and ears
4. (The Book of Purity)
    75. Chapter What requires washing76. Chapter on how to wash77. Door overturning braids78. Menstrual washing door79. The door of washing a man with a woman80. Ablution door thanks to others81. Ablution door thanks to women82. The side shaking hands and mixing with him door83. The door of the side if he wants to sleep, oud, or food, he does ablution84. Bab al-Muhaddith eats before ablution85. Chapter on the prohibition of reading the Qur’an on the side and staying in the mosque86. The updated section does not touch the Koran87. The door of ablution and washing water88. Chapter Water provisions89. Water door that is not defiled90. Chapter forbidding urine in permanent water91. The door of the purity of the captures of lions and kittens except for a dog92. The door to washing the impurity of a dog93. Menstrual blood washing section94. Urine door hits the ground95. The door of Paul, the boy who was not fed96. Semen that infects a garment97. The door hurts the sole98. Door tanner99. The door of tayammum100. Chapter How to perform tayammum101. Chapter prohibition of Ghashabban menstruating women from homes, as the action of the Jews102. The door of intercourse with menstruating women
5. prayer book
    111. Chapter of the virtue of the five daily prayers112. The door and the feast of the one who does not pray113. Chapter of prayer times114. The door to expediting prayers115. The door to expediting the dawn prayer116. The door to expedite the noon prayer117. The door of the refrigerator at the back in the heat118. The door to accelerate the era119. Chapter and feast from the end of the afternoon until the yellowing of the sun and the warning of the missed120. Door to accelerate Morocco121. The door to delay dinner122. The door of those who hate to be called dinner dark123. Chapter of the merit of Fajr and Asr prayers124. Chapter of the merit of evening and dawn prayers in the congregation125. Middle prayer door126. The door to hasten prayer if the imam is delayed127. The door to spend the past128. Time keeping section129. The door of the catch of time130. The door to prayer and residence, and that it is two-fold, and the residence is individual131. Chapter rewind in the call to prayer132. The door of redemption133. Chapter twisting in the call to prayer134. Chapter on the merit of the call to prayer135. Chapter answering the muezzin136. Chapter of supplication between the call to prayer and residence137. The door to prayer between the call to prayer and residence
5. prayer book
    180. (Chapter of the description of prayer181. (Chapter on takbeer at the beginning of prayer182. (Chapter on raising the hands when opening the opening takbeer, when bowing, rising from it, and standing up from the two rak'ahs183. (Chapter placing the right over the left in prayer184. (Chapter on what begins with prayer of supplication185. (Chapter on seeking refuge186. (Chapter: It is obligatory to read the beginning of the book187. (Opening the door to reciting with al-fatiha and leaving the name out loud188. (Chapter on loudly securing loudspeakers189. (Chapter on the merit of insurance190. (Chapter on reading in the afternoon and afternoon191. (The chapter on reading secrets in the afternoon and afternoon192. (Chapter on reading in the Maghrib prayer193. (Chapter on reading at dinner194. (Chapter on reading in the morning195. (Chapter on reading behind the imam and whoever said: He should not recite if the imam is speaking aloud196. (Chapter What is partial to the illiterate and the non-Muslim recitation197. (Kneeling body door198. (Chapter of the celebration of the one who does not bow and prostrate, and the necessity of tranquility in moderation199. (Chapter on what he says in bowing and prostrating200. (Chapter forbidding reading in bowing and prostrating201. (Chapter on straightening up from kneeling and prostrating202. (Chapter: What to say after straightening up from bowing203. (Bab Al Qunoot204. (Chapter on supplication in Qunoot
6. (Sections of redundancy
    281. (Chapter on Sunan salaries282. (The door of the two rak'ahs of Fajr and their preference283. (Chapter on reducing the two rak'ahs of Fajr and what is recited in them284. (The door of the dajaa after the two rak'ahs of dawn285. (Chapter of the one who prays four before noon and after four286. (Chapter on the four before afternoon and the daytime prayer statement287. (The door to prayer before sunset288. (Chapter of prayer between sunset and dinner289. (The door of the two rak'ahs after dinner
6. (Sections of redundancy
    290. Night prayer door291. The door of the one who opened his prayer with two light rak'ahs at night292. The door to lengthening night prayers293. Chapter how reading at night294. The door of incitement to pray the night295. The door of diligence in the night prayers296. The introduction of minors in the night and other things297. The door to work continuity298. The door to leave work when sleep and apathy prevail299. The door to pray in the middle of the night300. The door of reviving the end of the night and its preference301. Chapter what he says if he rises from the night302. The door of the night prayer is two by two, and the tendon is one303. The door of tendon with three and five and seven or more304. The door makes the last prayer at night and see305. The door of the initiative waxing with tendon306. Witr door before bed307. The door of greed to rise at the end of the night at the end of the tendon308. Chapter of all hours of the night time for Witr309. The door to wake up parents to tendon310. Chapter of what is read in the gut311. Chapter on the merit of Witr312. Night prayer door sitting313. Prayer of the base on the half of the prayer of the Qaem314. The door of the one who slept for his party spent it during the day315. The door to the month of Ramadan and its preference
7. Travel prayer doors
    327. The door of the prayer palace328. The door of the passport of minors in the event of security329. A door if the traveler stays in a house to how short it is330. Chapter prayer for the resident behind the traveler331. The door of those who did not volunteer to travel332. Chapter on volunteering and tendon on the traveler where she headed333. Chapter combining prayers in travel334. The door to combine with an excuse for rain
8. Friday book
    335. The door to impose Friday336. Chapter preferred on Friday and what was said in the hour of response337. The door and the slave of leaving Friday without an excuse338. Friday door in the villages339. Chapter of who is not obligated by Friday340. The door of cleaning and perfume on Friday341. Door early to Friday342. Chapter expediting the Friday prayer and the nap after it343. The door to surrender if ascending the pulpit and relying on the stick344. The door to call to prayer on Friday345. The door of the engagement standing and sitting between the two sermons346. The door of the engagement palace347. Chapter reading the Qur’an in the sermon348. The hatred of raising hands in the sermon349. The door to listen to the sermon and receive the imam350. The door of the person who entered the sermon and the imam prayed two rak'ahs351. The hatred of skipping on Friday352. The door of sleepiness turns353. Chapter reading on Friday prayers354. Chapter If the enemy was not in the direction of the Qiblah, the Imam dispersed them two divisions, and he prayed in each sect355. Chapter of the one who said: The first sect stands up and completes its prayer, then the second sect comes and the imam prays with them one rak'ah356. The door of those who said pray two rak'ahs in each sect357. Section If the enemy was from the direction of the qiblah, the Imam prayed with all of them and guarded in prostration358. The door of the two feasts
9. (Book of invitations)
    408. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for his nation409. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for the one who cursed him from his ummah is to make it a bag for him410. Chapter: The merit of remembrance of God Almighty and the majlis of dhikr411. (Chapter on drawing closer to God Almighty with redundancy and remembrance412. (The door of the one who sits in a council in which God did not mention413. (Chapter on the names of God Almighty414. (Chapter of what was said in the greatest name415. (Chapter of the Reward of Praise416. (Chapter of holding praise by hand417. (Chapter on the Reward of Hamid418. (Chapter on the Reward of Tahlil419. (Chapter: Reward Glory be to God, Praise be to God, and there is no god but God and God is Great420. (Chapter of the merits of there is no strength or power except with God421. (The door for forgiveness422. (Chapter of Repentance423. (The door to the best of forgiveness424. (Chapter what he says if he takes his bed425. Chapter426. (Chapter of what he says when it becomes427. (Chapter on what the married person says428. (Chapter of what he says when talking with parents429. (Chapter on what to say when distress430. (Chapter what to say when angry431. (Chapter of what he says when a rooster crows432. (Chapter of what he says when seeing the crescent
69. (Ablution door once
70. (Ablution door twice twice
71. (Ablution three trips
72. (Chapter on the desirability of ablution for every prayer
73. (Chapter on wiping over the socks
74. (Timing section in the survey
103. Section on the time of puerperium
104. The door of the menstruating woman, if she becomes pure, she should make up the fast and not make up the prayer
105. The chapter on the ruling of the case
106. Bab Al-Safra and Al-Brown
107. The door of his blood
108. Friday washing door
109. Door washing from washing the dead
110. The door of washing when Islam
138. The traveler's call to prayer
139. The door of the call to prayer for morning before dawn
140. The door of the call to prayer for the missed person and the residence for her
141. Chapter when the muezzin resides and when the people rise
142. The door of the one who does not hurry after residency
143. Speech after the stay
144. The door to convert Qibla from Jerusalem to the Kaaba
145. The door of a kiss who missed Mecca
146. The door to prayer in the Kaaba
147. Chapter on the merit of praying in the Grand Mosque, Madinah Mosque and Al-Aqsa Mosque
148. The door of the Al-Aqsa Mosque
149. The door of the Quba Mosque
150. Chapter of the virtue of mosques
151. The door of reward for those who built a mosque
152. Chapter preferred to attain mosques
153. The door of guidance in walking to prayer
154. Door
155. Gravel door in the mosque and sweep it
156. The door to greet the mosque
157. Chapter what to say if he entered the mosque
158. The door of the merit of sitting in the mosque to wait for prayer
159. Chapter on hatred of buying and selling in the mosque
160. The door to sleep in the mosque
161. The hatred of slugs in the mosque and towards the Qiblah
162. The door of eating garlic, not close to the mosque
163. Prayer door on the pulpit
164. Mosques door in homes and cleaned
165. The door to prayer in the pens of sheep and donated camels
166. Chapter of places where prayer was prohibited
167. Door hatred to take the grave as a mosque
168. The door to prayer in one garment
169. Door sidl in prayer
170. The door to prayer in the quilts of women
171. The hatred of prayer door in a dress with flags
172. Chapter about how many clothes a woman prays
173. The door to prayer on the winery and mats
174. Prayer door in slippers
175. Bab Sitra Al-Musalla
176. Door near the jacket
177. Blazer pot door
178. The hatred of passing in the hands of the worshiper and the permissibility of pushing him
179. Door does not cut his prayer what passed between his hands
205. (The door to prostration on seven members
206. (Chapter of the body of prostration
207. (Chapter on the merit of prostration
208. (The door to sitting between the two prostrations
209. (Chapter what he says between the two prostrations
210. (The door to sitting next to the two prostrations in the first and third
211. (Chapter How to get up
212. (Chapter on easing sitting for the first Tashahhud
213. (Chapter on how to sit for the two Tashahhuds
214. Chapter How to put the hands in the two Tashahhuds
215. (Chapter on reading the Tashahhud
216. (Chapter on concealing the tashahhud
217. Chapter: Prayer on the Prophet (may God bless him and grant him peace)
218. Chapter: The merit of praying upon the Prophet (may God bless him and grant him peace)
219. (The chapter on supplication before peace
220. (Chapter of submission in prayer
221. (Chapter on turning away from prayer
222. (The man's door leaves before the imam
223. (Door of the imam staying in the prayer hall until the women leave
224. Chapter: What is desirable to sit in the mosque after the morning prayer
225. (Dhikr chapter after prayer
226. (Chapter on the prohibition of speaking in prayer
227. (Chapter on yawning during prayer
228. (Chapter on crying in prayer
229. (Chapter on dislike abbreviation in prayer
230. (Chapter on detestation of turning around in prayer
231. (The hatred of raising the gaze to the sky in prayer
232. (The chapter on reverence during prayer
233. (Carrying a boy during prayer door
234. (Chapter on killing snakes and scorpions in prayer
235. (The door to simple work does not nullify prayer
236. (Chapter of praise if something swirls during prayer
237. (Chapter on the event in prayer
238. (Chapter on prostration for forgetfulness
239. Chapter: Whoever doubts his prayer and does not know how much he prayed based on certainty
240. (Chapter of the five noon prayers
241. (Chapter on the one who left the first tashahhud
242. (Chapter of the blessings of two rak'ahs
243. (Chapter on prostration of the Qur’an
244. (Chapter on prostration in Hajj
245. (Chapter on prostration on p
246. (Chapter on the prostration of recitation in prayer
247. (The door of prostration with the prostration of the reader
248. (Chapter on the one who neglects the prostration of recitation
249. (Chapter of what he says in the prostration of recitation
250. (Prostration of thanksgiving chapter
251. (Chapter of the times during which it is forbidden to pray
252. (Chapter on the concession to pray at midday on Friday
253. (Chapter on the permission to pray at these times in Mecca, may God protect it
254. (Chapter on what is prayed during these past times
255. Chapter: The Prophet (peace and blessings be upon him) persevering two rak'ahs after Asr
256. (Chapter on the merit of the group
257. (Emphasis on leaving the group
258. (Chapter of the permission to leave in congregation and Friday when rain and excuse
259. (Chapter of starting food if attended and if the prayer is performed
260. (Bab does not pray while he is an injector
261. (Chapter: If the prayer is established, there is no prayer except the written one
262. (Class leveling and completion chapter
263. (Chapter on the merit of the first row
264. (Who is the first in the first grade chapter
265. (Chapter of those who pray behind the row alone
266. (Chapter if there is one man with the imam standing on his right
267. (Chapter if they were three, the imam would lead, and the other two stood behind him in a row, and the woman stood behind the men alone
268. (Chapter if the imam stood in a higher place
269. (Chapter Who is the first to lead the imamate
270. (Chapter about who is the mother of a people and they hate him
271. (Chapter: What an imam must complete the prayer
272. (The Imam door reduces the prayer
273. (Mitigation section to order happen
274. (Chapter: It is obligatory to follow the imam
275. (Chapter and the feast of one who raises his head before the imam
276. (Chapter if the imam prays sitting
277. (The door to the side who prays with people who are people
278. (Chapter of the one who prays alone then catches up with a group he is praying with them
279. (Chapter of the one who prays once and then the mother of people in that prayer
280. (Women go out to mosques door
316. Bab in the night of the fifteenth of Shaban
317. Chapter preferred to volunteer at home
318. Duha prayer door
319. 4 Chapter number of Duha prayers
320. Chapter of the merit of Duha prayer
321. Door time for Duha prayer
322. Chapter of the merit of one who purifies and prays his punishment
323. The door to prayer upon repentance
324. Chapter of Istikhara prayer
325. Chapter of praise prayers
326. Chapter on the merit of volunteering
359. Exit door to the prayer hall on Eid
360. Section No call to prayer or Iqama for Eid prayer and offering prayer
361. The door to eating the day of breaking the fast before going out
362. Chapter Takbeers Eid prayer and reading in it
363. The door of someone who crosses the road if he returns from the prayer hall
364. The door to prayer before and after the Eid prayer
365. The door for women to go out to the two Eids
366. The license door to play on Eid
367. Chapter of the year of Eid al-Adha and delaying the sacrifice
368. Chapter What is desirable from the sacrifice and what is disliked from it
369. Chapter on the reward for the sacrifice
370. Chapter reward work in the tenth of Dhu al-Hijjah
371. Chapter If the tithe enters, whoever wants to sacrifice does not touch anything of his hair and nails
372. Chapter sharing in the sacrifice
373. Chapter eating from the sacrifice after three or more
374. Chapter of the eclipse prayer and its lengthening
375. Chapter of the one who prays in each rak'ah two rak'ahs and the call to prayer is combined
376. Chapter How to read in the eclipse prayer
377. The door of alienation in the eclipse
378. Chapter fear of profit
379. Star Throwing Door
380. The door of prostration when a verse occurs
381. Drops door
382. Door raising hands in dropsy
383. The door of rain of righteous people and people of the house of prophethood
384. Chapter of rain in the Friday sermon
385. The hatred of raining rain
386. The door of the unseen only God knows
387. The jutting door of the rain
388. Chapter on the merit of learning the Qur’an and teaching it
389. Chapter on the merit of reciting the Qur’an
390. Door
391. Chapter preferred to open the book
392. Chapter virtue of Surat Al-Baqara and the family of Imran
393. Chapter on the merit of Ayat al-Kursi and the two verses from the end of Surat al-Baqarah
394. Seven door height
395. Chapter preferred Surat Al-Kahf
396. Door in the pain of downloading prostration and blessing
397. Chapter of the merit of Surat Al-Ikhlas
398. The door of Almoothtin
399. Chapter How to read and rewind it
400. The door to singing the Quran
401. The door to hear the Qur’an
402. The door of pledging the Qur’an and promising those who forgot it
403. Section on how much it reads
404. Door
405. Chapter on the saying of the Prophet (may God bless him and grant him peace): The Qur’an was revealed in seven letters
406. Chapter of collecting the Qur’an
407. Door does not travel the Quran to the land of the enemy
433. (Chapter what to say if he is seen afflicted
434. Chapter What to say if it enters the market
435. (Chapter on penance for the Council
436. (Chapter what he says if he goes out to travel
437. (Chapter what to say if riding an animal
438. (Farewell door
439. (Chapter What to say if he went down
440. (Chapter on Takbir if it rises honor and praise if it is revealed
441. (Chapter what to say if locked from travel
442. (Chapter on praying for infidels with guidance
443. (Chapter on supplication for infidels
444. Chapter: Abandoning supplication to the oppressor
445. (The chapter on seeking refuge
446. (Chapter of the Mosque of supplication
447. (Encouraging supplication chapter
448. (Abandoning urgency section
449. (Chapter of the one who called, let him resolve
450. (Chapter on whose call is answered
451. (Chapter on the etiquette of supplication and raising hands in it
452. ( Door