Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح السنة للبغوي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi

by Imam Al Baghvi

4,339 Hadith1416 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب · حديث 4254

4254 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا عبد العزيز بن عبد الله ، حدثني سليمان بن بلال ، عن ثور بن زيد ، عن أبي الغيث عن أبي هريرة ، عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " لا تقوم الساعة حتى يخرج رجل من قحطان يسوق الناس بعصاه " وبهذا الإسناد أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " يعرق الناس يوم القيامة حتى يذهب عرقهم في الأرض سبعين ذراعا ويلجمهم حتى يبلغ آذانهم ". هذان حديثان متفق على صحتهما أخرج مسلم الحديثين عن قتيبة ابن سعيد ، عن عبد العزيز بن محمد ، عن ثور.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"قیامت قائم نہ ہوگی جب تک قحطان قبیلہ کا ایک شخص لوگوں کو اپنی چھڑی سے نہ ہانک لے ۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْغَيْثِ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › ( Door · Hadith 4254

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4255

4255 - أخبرنا أبو سعيد عبد الله بن أحمد الطاهري ، أنا جدي عبد الصمد بن عبد الرحمن البزاز ، أنا محمد بن زكريا العذافري ، أنا إسحاق بن إبراهيم الدبري ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن الزهري ، عن سالم عن ابن عمر قال : قام رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في الناس ، فأثنى على الله بما هو أهله ، ثم ذكر الدجال ، فقال : " إني لأنذركموه وما من نبي إلا أنذر قومه لقد أنذره نوح قومه ، ولكني سأقول لكم قولا لم يقله نبي لقومه : تعلمون أنه أعور ، وأن الله ليس بأعور ". هذا حديث صحيح أخرجه محمد عن عبدان ، عن عبد الله بن يونس ، عن ابن شهاب.

سید نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں خطبہ سنانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا بیان کی، پھر دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:" میں تمہیں دجال کے فتنے سے ڈراتا ہوں اورکوئی بنی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے بھی اپنی قوم کو نہیں بتائی تھی، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دجال کا نا ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← محمد بن زكريا العذافري ← جدي عبد الصمد بن عبد الرحمن البزاز ← أبو سعيد عبد الله بن أحمد الطاهري

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4255

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4256

4256 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله صفحة رقم 50 النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا موسى بن إسماعيل ، نا جويرية ، عن نافع عن عبد الله قال : ذكر الدجال عند النبي ( صلى الله عليه وسلم ) فقال : " إن الله لا يخفى عليكم ، إن الله ليس بأعور ، وأشار بيده إلى عينه. وإن المسيح الدجال أعور عين اليمنى ، كأن عينه عنبة طافية ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن ابن نمير ، عن محمد بن بسر ، عن عبيد الله ، عن نافع. الطافية من العنب : الحبة الخارجة عن أخواتها ، ومنه الطافي من السمك ، لأنه يعلو أو يظهر على رأس الماء ، يريد أن حدقته قائمة كذلك.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا :"یقیناً تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کا نا نہیں ہے۔ "اور آپ نے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا "اور دجال مسیح کی دائیں آنکھ کانی ہوگی، جیسے اس کی آنکھ پر انگور کا ایک اُٹھا ہوا دانہ ہو۔"

الدَّجَّالُ عِنْدَ النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله صفحة رقم النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4256

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4257

4257 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو سعيد محمد ابن موسى الصيرفي ، أنا أبو العباس الأصم ، نا محمد بن هشام بن ملاس النميري ، نا مروان الفزاري ، نا حميد عن أنس ، عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " إن الدجال أعور ، عينه الشمال عليها ظفرة غليظة ، بين عينيه مكتوب : كافر ك ف ر ". هذا حديث متفق على صحته أخرجاه من طرق عن قتادة عن أنس. صفحة رقم 51 وعن حذيفة أيضا : أنه أعور العين اليسرى قال الأصمعي : الظفرة : لحمة تنبت عند المآقي. وروى ربعي بن حراش عن حذيفة قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " إن الدجال ممسوح العين ، عليها ظفرة غليظة ، مكتوب بين عينيه كافر يقرؤه كل مؤمن كاتب وغير كاتب ".

سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:" بلاشبہ دجال کانا ہے، اس کی بائیں آنکھ پر سخت ناخنہ (ایک بیماری ہے) ہوگا، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان میں کافر (یعنی ک، ف ، ر) لکھا ہواہے۔"

حُذَيْفَةَ ← روى ربعي بن حراش ← الأصمعي الظفرة لحمة تنبت عند المآقي. ← حذيفة أيضا أنه أعور العين اليسرى ← أنس. صفحة رقم ← قَتَادَةَ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ← محمد بن هشام بن ملاس النميري ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو سعيد محمد ابن موسى الصيرفي ← أحمد بن عبد الله الصالحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4257

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4258

4258 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا أبو اليمان ، أنا شعيب ، عن الزهري ، أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود أن أبا سعيد قال : نا النبي ( صلى الله عليه وسلم ) يوما حديثا طويلا عن الدجال ، فكان فيما يحدثنا به أنه قال : " يأتي الدجال وهو محرم عليه أن يدخل نقاب المدينة ، فينزل بعض السباخ التي تلي المدينة ، فيخرج إليه رجل ، وهو خير الناس ، أو من خيار الناس ، فيقول : أشهد أنك الدجال الذي حدثنا رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) حديثه ، فيقول الدجال : أرأيتم إن قتلت هذا ، ثم أحييته ، هل تشكون في الأمر ؟ صفحة رقم 52 فيقولون : لا ، فيقتله ، ثم يحييه ، فيقول : والله ما كنت فيك أشد بصيرة مني اليوم ، فيريد الدجال أن يقتله ، فلا يسلط عليه ". هذا حديث متفق على صحته وأخرجه مسلم عن عبد بن حميد وغيره ، عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، عن أبيه ، عن صالح ، عن ابن شهاب. ورواه معمر عن الزهري. قال معمر : بلغني أنه يجعل على حلقه صفيحة من نحاس ، وبلغني أنه الخضر الذي يقتله الدجال ، ثم يحييه.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک روزدجال کے متعلق طویل حدیث سنائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےہمیں جوباتیں بیان کیں ان میں سے یہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"دجا ل نکلے گا اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس کا داخلہ ممنوگ ہوگا، وہ مدینہ منورہ کے قریب شورزدہ جگہ پر اترے گا، اس کے پاس ایک شخص جائے گا جوبہت نیک ہوگا یا کہاکہ نیک لوگوں میں سے ہوگا، وہ اس کو مخاطب کر کے کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہ دجال ہے جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبردی ہے ۔ دجال کہے گا: مجھے بتاؤاگر میں اس شخص کو قتل کرکے زندہ کرلوں تو کیا تم میری خدائی کے بارے میں شک کروگے؟وہ نفی میں جواب دیں گے (اس کے بعد ) وہ اسے قتل کر دے گا، پھر اس کو زندہ کرےگا(زندہ ہونے کے بعد ) وہ شخص کہے گا: اللہ کی قسم ! مجھے تیرے بارےمیں آج کے دن سے زیادہ بصیرت پہلے کبھی نہ تھی ۔ دجال اس شخص کو قتل کرنے کا ارادہ کرے گا لیکن اس کو اس پر تسلط حاصل نہیں ہوگا۔"

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4258

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4259

4259 - أخبرنا ابن عبد القاهر ، أنا عبد الغافر بن محمد ، أنا محمد بن عيسى ، حدثنا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج ، نا علي بن حجر ، نا شعيب بن صفوان ، عن عبد الملك بن عمير ، عن ربعي بن حراش عن عقبة بن عمرو أبي مسعود الأنصاري قال : انطلقت معه إلى حذيفة بن اليمان ، فقال له عقبة : حدثني ما سمعت من رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في الدجال ، قال : صفحة رقم 53 إن الدجال يخرج وإن معه ماء ونارا ، فأما الذي يراه الناس ماء ، فنار تحرق ، وأما الذي يراه الناس نارا ، فماء بارد عذب ، فمن أدرك ذلك منكم ، فليقع في الذي يراه النار ، فإنه ماء عذب طيب " فقال عقبة : وأنا قد سمعته تصديقا لحذيفة هذا حديث صحيح

جناب ربعی بن حراش رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور جناب عقبہ بن عمر و ابو مسعود انصاری سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عقبہ نے ان سے عرض کیا: دجال کے بارے میں آپ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن رکھا ہے مجھے بیان کیجیے ، انہوں نے کہا :آپ علیہ السلام نے فرمایا:" دجال جب نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی او رآگ ہوگی ، جس کو لوگ پانی سمجھیں گے وہ (درحقیقت ) جلانے والی آگ ہو گی اور جس کو لوگ آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا شیریں پانی ہوگا۔ تم میں سے جو شخص اس کو پائے تو وہ اس کی آگ میں گرپڑے ، وہ ٹھنڈا عمدہ پانی ہوگا۔" جناب عقبہ نے کہا:میں نے اس حدیث کو سن رکھا تھا ، اب تو سید نا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بطور تصدیق سنا ہے ۔

صفحة رقم ← من رسول الله في الدجال ← مَا ← لَهُ عُقْبَةُ ← انْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَی حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← عبد الغافر بن محمد ← ابن عبد القاهر

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4259

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4260

4260 - أخبرنا أبو عبد الله عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي بكر القفال المروزي ، أخبرنا أبو علي منصور بن عبد الله بن خالد الهروي أنا أبو الحسن أحمد بن جعفر بن محموية بالبصرة ، نا يحيى بن أبي طالب ، نا نصر بن حماد ، نا شعبة وهشيم ، عن إسماعيل بن أبي خالد قال : سمعت قيس بن أبي حازم يحدث عن المغيرة بن شعبة قال : ما سأل أحد رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) عن الدجال أكثر مما سألته ، فقال : إنه لن يضرك إنك لن تدركه ، قلت : يا رسول الله يزعمون أن معه جبال خبز وأنهار ماء ، وأنه يحيي الموتى ، فقال رسول الله [ ] : " إنه أهون على الله من ذلك ". صفحة رقم 54 هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد ، عن مسدد ، عن يحيى ، وأخرجه مسلم عن سريج بن يونس ، عن هشيم ، كلاهما عن إسماعيل بن أبي خالد.

سیدنا مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دجال کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جتنا میں نے پوچھا اتنا کسی نے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"وہ تجھے ہر گز نقصان نہیں پہنچاسکے گا، یقیناً تو اسے نہیں پائے گا۔" میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! لو گ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی اور یہ کہ وہ مروں کو زندہ کرے گا۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"بلاشبہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ ہلکا اوربے حیثیت ہے ۔"

الدَّجَّالِ أَکْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ ← مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللهِ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، وَهُشَيْمٌ، ← نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الحسن أحمد بن جعفر بن محموية ← أبو علي منصور بن عبد الله بن خالد الهروي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4260

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4261

4261 - أخبرنا ابن عبد القاهر ، أنا عبد الغافر بن محمد ، أنا محمد ابن عيسى الجلودي ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج حدثني محمد بن مهران الرازي ، نا الوليد بن مسلم ، نا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ، عن يحيى بن جابر الطائي ، عن عبد الرحمن بن جبير ابن نفير ، عن أبيه جبير بن نفير عن النواس بن سمعان قال : ذكر رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) الدجال ذات غداة ، فخفض فيه ورفع حتى ظنناه في طائفة النخل ، فلما رحنا إليه ، عرف ذلك فينا ، فقال : ما شأنكم ؟ قلنا : يا رسول الله ذكرت الدجال غداة ، فخفضت فيها ورفعت حتى ظنناه في طائفة النخل ، فقال : " غير الدجال أخوفني عليكم ، إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم ، وإن يخرج ولست فيكم ، فامرؤ حجيج نفسه ، والله خليفتي على كل مسلم ، إنه شاب قطط ، صفحة رقم 55 عينه طافئة ، كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن ، فمن أدركه منكم ، فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف ، إنه خارج خلة بين الشام والعراق ، فعاث يمينا ، وعاث شمالا ، يا عباد الله فاثبتوا ، قلنا : يا رسول الله وما لبثه في الأرض ؟ قال : أربعون يوما يوم كسنة ، ويوم كشهر ، ويوم كجمعة ، وسائر أيامه كأيامكم ، قلنا : يا رسول الله فذلك اليوم الذي كسنة أيكفينا فيه صلاة يوم ؟ قال : لا ، أقدروا له قدره ، قلنا : يا رسول الله وما إسراعه في الأرض ؟ قال : كالغيث استدبر به الريح ، فيأتي على القوم ، فيدعوهم فيؤمنون به ، ويستجيبون له ، فيأمر السماء فتمطر ، والأرض فتنبت ، فتروح عليهم سارحتهم أطول ما كان ذرى وأسبغه ضروعا ، وأمده خواصر ، ثم يأتي القوم ، فيدعوهم ، فيردون عليه قوله ، قال : فينصرف عنهم ، فيصبحون ممحلين ليس بأيديهم شيء من أحوالهم ، ويمر بالخربة ، فيقول لها : أخرجي كنوزك ، فيتعبه كنوزها كيعاسيب النحل ، ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا ، فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية بالغرض ، ثم يدعوه ، صفحة رقم 56 فيقبل ويتهلل وجهه يضحك ، فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم ، فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على أجنحة ملكين إذا طأطأ رأسه ، قطر ، وإذا رفعه ، تحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ ، فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات ، ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه ، فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ، ثم يأتي عيسى قوم قد عصمهم الله منه ، فيمسح عن وجوههم ، ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة ، فبينما هو كذلك إذ أوحى الله إلى عيسى : إني قد أخرجت عبادا لي لا يدان لأحد بقتالهم ، فحرز عبادي إلى الطور ، ويبعث الله يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون ، فيمر أوائلهم على بحيرة طبرية ، فيشربوا ما فيها ، ويمر آخرهم فيقول : لقد كان بهذه مرة ماء ، ويحصر نبي الله وأصحابه حتى يكون رأس الثور لأحدهم خيرا من مائة دينار لأحدكم اليوم ، فيرغب نبي الله وأصحابه ، فيرسل الله عليهم النغف في رقابهم ، فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ، ثم يهبط نبي الله وأصحابه إلى صفحة رقم 57 الأرض ، ولا يجدون في الأرض موضع شبر إلا ملأه زهمهم ونتنهم ، فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه إلى الله ، فيرسل الله طيرا كأعناق البخت ، فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ، ثم يرسل الله مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر ، فيغسل الأرض حتى يتركها كالزلفة ، ثم يقال للأرض : أنبتي ثمرك ، وردي بركتك ، فيومئذ تأكل العصابة من الرمانة ، ويستظلون بقحفها ، ويبارك في الرسل حتى إن اللقحة من الإبل لتكفي الفئام من الناس ، واللقحة من البقر لتكفي القبيلة من الناس ، واللقحة من الغنم لتكفي الفخذ من الناس ، بينما هم كذلك إذ بعث الله ريحا طيبة ، فتأخذهم تحت آباطهم ، فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم ، ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر ، فعليهم تقوم الساعة ". وأخبرنا ابن عبد القاهر ، أنا عبد الغافر بن محمد ، أنا محمد ابن عيسى ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج ، نا علي بن حجر السعدي ، نا عبد الله بن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ، والوليد بن مسلم عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر بهذا الإسناد نحو ما ذكرنا ، وزاد بعد قوله " لقد كان بهده مرة ماء ، ثم صفحة رقم 58 يسيرون حتى ينتهوا إلى جبل الخمر وهو جبل بيت المقدس ، فيقولون : لقد قتلنا من في الأرض ، هلم فلنقتل من في السماء ، فيرمون بنشابهم إلى السماء ، فيرد الله عليهم نشابهم مخضوبة دما ". هذا حديث صحيح قوله : إنه خارج خلة ، أي : سبيلا بين الشام والعراق. وقوله : " فيقطعه جزلتين " أي : قطعتين. قوله : " بين مهرودتين " أي : في شقتين أو خلتين ، ويروى هذا الحرف : " مهرودتين " بالدال والذال جميعا أي : ممصرتين ، والممصرة من الثياب : التي فيها صفرة. ويروى في وصف عيسى : " رجل مربوع إلى البياض والحمرة يمشي بين ممصرتين ". وقوله : وهم من كل حدب ينسلون ، أي : يسرعون ، يقال : نسل ينسل نسلانا. وقوله : " فيرسل عليهم النغف " النغف : دود يكون في أنوف الإبل والغنم واحدها : نغفة. وقوله : " فيصبحون فرسى " أي : قتلى الواحد فريس ، مثل قتلى وقتيل ، وصريع وصرعى من فرس الذئب الشاة. وقوله : " فيتركها كالزلفة " الزلفة : واحدة الزلف وهي المصانع ، وهي المزالف أيضا.

سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر فرمایا ، پس اس کے فتنے کو حقیر اور بڑا خطرناک کرکے بیان کیا (یا آواز کو بلند اور پست کیا) یہاں تک کہ ہم نے اس کی بابت گمان کیا کہ وہ یہاں کھجوروں کے جھنڈمیں ہے ۔ چنانچہ جب ہم (بعدمیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپ نے ہمارے اندر موجود اضطراب کو پہچان لیا ور دریافت فرمایا :" تمہارا کیا حال ہے ؟" ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے صبح دجال کا ذکر فرمایا اور اسے حقیر اور خطرناک کر کے بیان فرمایا ، یہاں تک کہ ہم نے اس کی بابت گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں ہی موجود ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" دجال کے علاوہ چیزوں سےمجھے تمہاری بابت زیادہ شدید اندیشہ ہے ، اگر دجال میری زندگی میں نکلا تو تمہاری جگہ میں خود اس سے نمٹ لوگا اور اگر میری زندگی کے بعد نکلا تو ہر آدمی خود اپنے نفس کادفاع کرے گااوراللہ ہر مسلمان پر میرا جانشین ہے (میری بجائے اللہ نگران ہے ) وہ دجال نوجوان گھنگھر یالے بالوں والا ہوگا۔ اس کی ایک آنکھ (انگورکی طرح ) اُبھری ہوئی ہوگی گویا کہ میں اسے عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں۔ لہٰذا تم میں سے جو شخص اس کو پالے ، اسے چاہیے کہ وہ اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے ۔ وہ شام اور عراق کے درمیانی راستے پر ظاہر ہوگا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا۔ اے اللہ کے بندو ! (اس وقت) ثابت قدم رہنا ۔"ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! اس کا زمین میں کتنا قیام ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"چالیس دن ، ایک ایک سال کے برابر ، ایک دن ایک مہینے کے برابر اور ایک دن جمعے کے برابر ہوگااور اس کے باقی دن تہمارے دنوں کی طرح ہوں گے ۔ " ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ دن جو سال کے برابر ہوگا ، کیا س میں ہمیں دن کی (پانچ) نمازیں کافی ہوں گی؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" نہیں ، تم اس کا اندازہ کر کے پڑھنا۔" ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ ! زمین میں اس کی تیز رفتاری کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" بارش کی طرح ، جس کو ہوا پیچھے کی طرف سے دھکیل رہی ہوں ۔ وہ لوگوں کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گاچنانچہ وہ اس پر ایمان لےآئیں گے اور اس کے حکم کو مانیں گے ، پھر وہ آسمان کے حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا تو وہ بناتات اگائے گی، چنانچہ ان کے چرنے والے جانور جب شام کو ان کے پاس لوٹیں گے تو ان کے کوہان پہلے سے کہیں زیادہ لمبے ہوں گے ، ان کے تھن کا مل طور پر بھرے ہوں گے او ان کی کوکھیں زیادہ کشادہ ہوں گی۔ پھر وہ کچھ اور لوگوں کے پاس آئے گا اور انہیں اپنے ماننے کی دعوت دے گا۔ و ہ ا س کی بات کو رد کر دیں گے ۔ پس وہ ان سے لوٹے گا تو وہ قحط سالی کا شکار ہو جائیں گے ، ان کے مالوں (ڈنگروں) میں سے ان کے پاس کچھ نہیں رہے گااور وہ کسی ویرانے سے گزرے گا تو اسے کہے گا:اپنے خزانے نکال دے ! اس زمین کے خزانے شہد کی سردار مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے لگ جائیں گے۔ پھر وہ ایک بھرپور جوان کو بلائے گا اور اس پر تلوار سے وار کرے گاجو اسے دو ٹکڑے کر دے گا، جیسے نشانے پر تیر ماراجاتاہے ۔ پھر اسے بلائے گا تو ہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ ہنس رہا رہوگا ، پس داجال اسی حالت میں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہ السلام کو زمین میں بھیج دے گا۔ چنانچہ وہ آسمان سے دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار پر زرد رنگ کا جوڑا پہنے ہوئے ، اپنی ہتھیلیاں دو فرشتوں کے پروں (بازوؤں) پر رکھے ہوئےاتریں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پانی قطرے گریں گے اور جب اپنا سر اُٹھا ئیں گے تب بھی موتی کی طرح چاندی کو بوندیں گریں گی۔ جس کافر کو بھی آپ کے سانس کی بھاپ پہنچے گی وہ مرجائے گا، اور آپ کا سانس آپ کی حدنظر تک پہنچے گا۔ چنانچہ دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسےباب لد کے پاس پالیں گے او ر اسے قتل کردیں گے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام ایسے لوگوں کے پاس آئیں گے جن کو اللہ نے اس دجال کے فتنے سے محفوظ رکھا ہوگا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور انہیں ان درجات کی خوشخبری دیں گے جوان کو جنت میں ملیں گے ۔ پس وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائے گا کہ میں نے اپنے کچھ بندے ایسے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں، چنانچہ تو میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جا کر ان کی حفاظت فرما اور اللہ تعالیٰ یا جوج اور ماجوج کو بھیجے گااور وہ ہر بلندی سے پستی کی طرف تیزی سے دوڑیں گے ۔ ان کا پہلا ٹولہ بیحرہ طبریہ سے گزرے گا اور اس کا سارا پانی پی جائے گا اور اس کا آخری ٹولہ وہاں سے گزرے گا تو کہے گا کہ یہاں کبھی پانی ہوتا تھا ۔ (اس عرصے میں ) اللہ کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی گھرے ہوئے رہیں گے یہاں تک کہ ان میں ہر ایک کو بیل کی ایک سری تمہارے آج کے سود ینار سے بہتر معلوم ہوگی۔ پس اللہ کے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی، اللہ ان سے راضی ہو، اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کردے گا جس وہ دفعتاًایک جان کی طرح مرجائیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین زمین پر اتریں گے اور وہ زمین میں ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں پائیں گے جو ان کی (لاشوں کی) گندگی اور سخت بدبو سے خالی ہو۔ لہٰذا اللہ کے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب پھر اللہ کی طرف دعا کے لیے متوجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے بڑے پرندے بھیجے گا جیسے بختی اونٹوں کی گردنیں ہوتی ہیں۔ وہ پرندے ان کی لاشوں کو اُٹھا ئیں گے اور جہاں اللہ کو منظور ہو گا وہاں پھینک دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش نازل فرمائے گا جس سے کوئی گھر اور خیمہ محفوظ نہیں رہے گا۔ (سب کو پہنچے گی) چنانچہ وہ ساری زمین کودھودے گی حتیٰ کہ اسے چکنی چٹان یا آئینے کی طرح صاف کر کے چھوڑے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنے پھل اُگااور اپنی برکت پھیرلا!۔ پس اس وقت ایک انار کو ایک جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں اتنی برکت ڈال دی جائے گی کہ ایک دودھ دینے والی اونٹنی لوگوں کی ایک جماعت کو کافی ہوگی اور ایک دودھ دینے والی گائے لوگوں کے ایک قبیلے کو کافی ہوگی اور دودھ دینے والی ایک بکری لوگوں میں سے ایک گھرانے کو کافی ہوگی۔ پس وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ان مسلمانوں کو ان کی بغلوں کے نیچے سے لگے گی ، پس وہ ہر مومن اور مسلمان کی روح قبض کرلے گی۔ (اس کے بعد) صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اس زمین پر گدھوں کی طرح علانیہ لوگوں کے سامنے عورتوں سے جماع کریں گے انہی لوگوں پر قیامت قائم ہو گی۔"ایک سند سے یہ الفاظ مزید مذکورہیں :"یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا، پھر وہ چلیں گے اور جبل حمر کے پاس پہنچیں گے اور یہ بیت المقدس کے پاس ایک پہاڑ ہے ، وہ کہیں گے :ہم نے زمین میں موجود تمام افراد کو تو قتل کر ڈالا ہے آؤ !اب ہم آسمان والوں کو قتل کریں ۔ وہ اپنے تیر آسمان کی جانب چلائیں گے تو اللہ ان کے تیروں کو خون آلود کر کے لوٹائے گا۔"

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4261

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4262

4262 - أخبرنا ابن عبد القاهر ، أنا عبد الغافر بن محمد ، أنا محمد ابن عيسى ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج ، نا صفحة رقم 59 محمد بن عبد الله بن فهزاذ من أهل مرو ، نا عبد الله بن عثمان ، عن أبي حمزة ، عن قيس بن وهب ، عن أبي الوداك عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " يخرج الدجال ، فيتوجه قبله رجل من المؤمنين ، فيلقاه المسالح مسالح الدجال ، فيقولون له : أين تعمد ؟ فيقول : أعمد إلى هذا الذي خرج ، قال : فيقولون له : أو ما تؤمن ؟ فيقول : ما بربنا خفاء ، فيقولون : اقتلوه ، فيقول بعضهم لبعض : أليس قد نهاكم ربكم أن تقتلوا أحدا دونه ، قال : فينطلقون به إلى الدجال ، فإذا رآه المؤمن قال : يا أيها الناس هذا الدجال الذي ذكر رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، قال : فيأمر الدجال به ، فيشبح ، فيقول : خذوه فشبحوه ، فيوسع ظهره وبطنه ضربا قال : فيقول : أو ما تؤمن بي ؟ قال : فيقول : أنت المسيح الكذاب ، قال : فيؤمر به ، فيوشر بالميشار من مفرقه حتى يفرق بين رجليه ، قال : ثم يمشي الدجال بين القطعتين ، ثم يقول له : قم فيستوي قائما ، ثم يقول له : أتؤمن بي ؟ فيقول : ما ازددت فيك إلا بصبرة ، قال : ثم يقول : صفحة رقم 55 عينه طافئة ، كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن ، فمن أدركه منكم ، فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف ، إنه خارج خلة بين الشام والعراق ، فعاث يمينا ، وعاث شمالا ، يا عباد الله فاثبتوا ، قلنا : يا رسول الله وما لبثه في الأرض ؟ قال : أربعون يوما يوم كسنة ، ويوم كشهر ، ويوم كجمعة ، وسائر أيامه كأيامكم ، قلنا : يا رسول الله فذلك اليوم الذي كسنة أيكفينا فيه صلاة يوم ؟ قال : لا ، أقدروا له قدره ، قلنا : يا رسول الله وما إسراعه في الأرض ؟ قال : كالغيث استدبر به الريح ، فيأتي على القوم ، فيدعوهم فيؤمنون به ، ويستجيبون له ، فيأمر السماء فتمطر ، والأرض فتنبت ، فتروح عليهم سارحتهم أطول ما كان ذرى وأسبغه ضروعا ، وأمده خواصر ، ثم يأتي القوم ، فيدعوهم ، فيردون عليه قوله ، قال : فينصرف عنهم ، فيصبحون ممحلين ليس بأيديهم شيء من أحوالهم ، ويمر بالخربة ، فيقول لها : أخرجي كنوزك ، فيتعبه كنوزها كيعاسيب النحل ، ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا ، فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية بالغرض ، ثم يدعوه ، صفحة رقم 56 فيقبل ويتهلل وجهه يضحك ، فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم ، فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على أجنحة ملكين إذا طأطأ رأسه ، قطر ، وإذا رفعه ، تحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ ، فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات ، ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه ، فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله ، ثم يأتي عيسى قوم قد عصمهم الله منه ، فيمسح عن وجوههم ، ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة ، فبينما هو كذلك إذ أوحى الله إلى عيسى : إني قد أخرجت عبادا لي لا يدان لأحد بقتالهم ، فحرز عبادي إلى الطور ، ويبعث الله يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون ، فيمر أوائلهم على بحيرة طبرية ، فيشربوا ما فيها ، ويمر آخرهم فيقول : لقد كان بهذه مرة ماء ، ويحصر نبي الله وأصحابه حتى يكون رأس الثور لأحدهم خيرا من مائة دينار لأحدكم اليوم ، فيرغب نبي الله وأصحابه ، فيرسل الله عليهم النغف في رقابهم ، فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة ، ثم يهبط نبي الله وأصحابه إلى صفحة رقم 57 الأرض ، ولا يجدون في الأرض موضع شبر إلا ملأه زهمهم ونتنهم ، فيرغب نبي الله عيسى وأصحابه إلى الله ، فيرسل الله طيرا كأعناق البخت ، فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ، ثم يرسل الله مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر ، فيغسل الأرض حتى يتركها كالزلفة ، ثم يقال للأرض : أنبتي ثمرك ، وردي بركتك ، فيومئذ تأكل العصابة من الرمانة ، ويستظلون بقحفها ، ويبارك في الرسل حتى إن اللقحة من الإبل لتكفي الفئام من الناس ، واللقحة من البقر لتكفي القبيلة من الناس ، واللقحة من الغنم لتكفي الفخذ من الناس ، بينما هم كذلك إذ بعث الله ريحا طيبة ، فتأخذهم تحت آباطهم ، فتقبض روح كل مؤمن وكل مسلم ، ويبقى شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر ، فعليهم تقوم الساعة ". وأخبرنا ابن عبد القاهر ، أنا عبد الغافر بن محمد ، أنا محمد ابن عيسى ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج ، نا علي بن حجر السعدي ، نا عبد الله بن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ، والوليد بن مسلم عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر بهذا الإسناد نحو ما ذكرنا ، وزاد بعد قوله " لقد كان بهده مرة ماء ، ثم صفحة رقم 58 يسيرون حتى ينتهوا إلى جبل الخمر وهو جبل بيت المقدس ، فيقولون : لقد قتلنا من في الأرض ، هلم فلنقتل من في السماء ، فيرمون بنشابهم إلى السماء ، فيرد الله عليهم نشابهم مخضوبة دما ". هذا حديث صحيح قوله : إنه خارج خلة ، أي : سبيلا بين الشام والعراق. وقوله : " فيقطعه جزلتين " أي : قطعتين. قوله : " بين مهرودتين " أي : في شقتين أو خلتين ، ويروى هذا الحرف : " مهرودتين " بالدال والذال جميعا أي : ممصرتين ، والممصرة من الثياب : التي فيها صفرة. ويروى في وصف عيسى : " رجل مربوع إلى البياض والحمرة يمشي بين ممصرتين ". وقوله : وهم من كل حدب ينسلون ، أي : يسرعون ، يقال : نسل ينسل نسلانا. وقوله : " فيرسل عليهم النغف " النغف : دود يكون في أنوف الإبل والغنم واحدها : نغفة. وقوله : " فيصبحون فرسى " أي : قتلى الواحد فريس ، مثل قتلى وقتيل ، وصريع وصرعى من فرس الذئب الشاة. وقوله : " فيتركها كالزلفة " الزلفة : واحدة الزلف وهي المصانع ، وهي المزالف أيضا.

سید نا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"دجال کاخروج ہوگا تو ا س کی جانب ایک مومن شخص روانہ ہوگا ، اس شخص روانہ ہوگا، اس شخص سے دجال کے مسلح محافظین ملاقات کریں گے اور اس سے پوچھیں گے : تو کہاں جانے کا رادہ رکھتا ہے ؟ وہ انہیں بتائے گا کہ میں اس شخص کی طرف جارہاہوں جس نے (ابھی ابھی حق کے خلاف )خروج کیا ہے ؟"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"نے فرمایا:"وہ اس سے دریافت کریں گے کہ کیاتو اس پرایمان نہیں رکھتا ؟وہ جواب دے گا:ہمارارب تو ظاہرہے وہ کہیں گے :اسے قتل کردو ۔ پھر وہ آپس میں اس خیال کا اظہار کریں گے کہ کیا تمہارے خدا(دجال) نے تمہیں روکا نہیں ہے کہ تم نے اس کے علم میں لائے بغیر کسی کو قتل نہیں کرنا؟چنانچہ وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے ۔ جب مومن شخص دجال کو دیکھے گاتو کہے گا: اے لوگو! یہ وہی دجال ہے جس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نے کیا ہے ۔"راوی بیان کرتا ہے : "دجال اس شخص کے بارے میں حکم دے گاکہ اسے پیٹ کے بل لٹادیاجائے اور کہے گا کہ اسے پکڑ و اور اس کا سر کچل دو۔ چنانچہ اس کی کمر اور اس کی کمر اور اس کا پیٹ ضربات سے متورم ہو جائیں گے ۔"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"دجال اس شخص سے پوچھے گا کہ تو مجھ پر اب بھی ایمان نہیں رکھتا؟ وہ جواب دے گا:تو مسیح کذاب ہے ۔"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" اس کے بارے میں دجال حکم دے گا کہ اس کی سرکی مانگ پر آرا چلایا جائے یہاں تک کہ اس کی دونوں ٹانگوں کو الگ الگ کر دیا جائے گا۔"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"پھر اس کے بعد دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا، پھراس شخص سے کہے گا کہ کیا تو مجھ پراب بھی ایمان نہیں رکھتا؟وہ جواب دے گا:میری بصیرت میں مزید اضافہ ہوچکا ہے"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" پھر وہ شخص اعلان کرے گا: اے لوگو! اب میرے بعد کسی شخص کے بارے میں (یہ شعبدہ بازی) نہیں دکھا سکے گا۔"آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"اس کے بعد دجال اس کو پکڑ کر ذبح کرنا چاہے گا لیکن اس کی گردن سے ہنسلی تک کی جگہ تانبہ کی صورت اختیار کر جائے گی۔ وہ اس کو قتل کرنے کی طاقت نہ پائے گاپھر وہ اس کو اس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں سے پکڑ کر پھینک دے گا، لوگوں کا خیال ہوگا کہ اس نے اس کو آگ میں پھینکاہے جب کہ اسے جنت میں گرایا گیا ہوگا۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"اللہ رب العالمین کے نزدیک یہ دشمن تمام لوگوں سے شہادت کے لحاظ سے بڑا عظمت والا ہوگا۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← صفحة رقم محمد بن عبد الله بن فهزاذ من أهل مرو ← مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ← محمد ابن عيسى ← عبد الغافر بن محمد ← ابن عبد القاهر

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4262

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4263

4263 - أخبرنا أبو سعيد الطاهري ، أنا جدي عبد الصمد البزاز ، أنا محمد بن زكريا العذافري ، أنا إسحاق الدبري ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن قتادة ، عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد الأنصاري قالت : كان رسول الله [ ] في بيتي ، فذكر الدجال ، فقال : إن بين يديه ثلاث سنين : سنة تمسك السماء ثلث قطرها والأرض ثلث نباتها ، والثانية تمسك السماء ثلثي قطرها ، والأرض ثلثي نباتها ، والثالثة تمسك السماء قطرها كله ، والأرض نباتها كله ، فلا تبقى ذات ظلف ولا ذات ضرس من البهائم إلا صفحة رقم 61 هلكت ، وإن من أشد فتنة أنه يأتي الأعرابي ، فيقول : أرأيت إن أحييت لك إبلك ألست تعلم أني ربك قال : فيقول : بلى ، فيمثل له نحو إبله كأحسن ما يكون ضروعا وأعظمه أسنمة ، قال : ويأتي الرجل قد مات أخوه ، ومات أبوه ، فيقول : أرأيت إن أحييت لك أباك ، وأحييت لك أخاك ألست تعلم أني ربك ؟ فيقول : بلى فيمثل له الشياطين نحو أبيه ونحو أخيه ، قالت : ثم خرج رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) لحاجته ، ثم رجع والقوم في اهتمام وغم مما حدثهم ، قالت : فأخذ بلحمتي الباب ، فقال : مهيم أسماء ؟ قلت : يا رسول الله لقد خلعت أفئدتنا بذكر الدجال ، قال : إن يخرج وأنا حي ، فأنا حجيجه ، وإلا فإن ربي خليفتي على كل مؤمن ، قالت أسماء : فقلت : يا رسول الله والله إنا لنعجن عجيننا ، فما نخبزه حتى نجوع فكيف بالمؤمنين يومئذ ؟ فقال : يجزيهم ما يجزي أهل السماء من التسبيح والتقديس ".

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نے دجال کا تذکرہ کیا کہ اس (کے خروج) سے پہلے تین سالوں کے دوران پہلا سال ایسا ہوگاکہ آسمان اس سال اپنی بارش کا تیسرا حصہ روک لے گا اورزمین اپنی پیداوار سے تیسرا حصہ روک لی گی اور دوسرے سال میں آسمان دوتہائی بارش کو روک لے گا اورزمین دوتہائی پیداوار کو روک لے گی اور تیسرے سال آسمان اپنی تمام بارش کو روک لے گا اور زمین اپنی تمام پیداور کو روک لے گی۔ جنانچہ کوئی جانوراور کوئی درندہ باقی نہیں رہے گا، سب مرجائیں گے اور دجال کا خطرناک فتنہ یہ ہوگا کہ وہ ایک دیہاتی کے ہاں جائے گا، اس سے پوچھے گا کہ اگر میں تیرے اونٹ زندہ کردوں تو تیرا کیا خیا ل ہے ؟کیا تجھے یقین نہیں ہوگا کہ میں تیر ارب ہوں؟وہ اثبات میں جواب دے گا۔ دجال اس کے اونٹوں کے ہم شکل اونٹ بناکر پیش کر ے گاجن کے تھن ان سے بہتر اور ان کی کوہانیں ان سے بڑی ہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" وہ ایک شخص کے پاس جائے گاجس کا بھائی اور والد فوت ہو چکے ہوگا ،دجال اسے کہے گا کہ اگر میں تیرے والد اور بھائی کو زندہ کردوں تو تیرا کیا خیال ہے ؟کیا تجھے یقین نہیں ہوگا کہ میں تیرا رب ہوں ؟ وہ شخص جواب دے گا :ہاں ، چنانچہ وہ اس کے والد اور بھائی کے مشابہ شیاطین کی شکلیں پیش کرے گا۔"راوی بیان کرتا ہے :اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت سے باہر چلے گئے ۔ واپس آئے تو لوگ آپ کی باتوں سے پریشان اور غمگین تھے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نے دروازےکی دونوں دہلیزوں کو پکڑ ا فرمایا :"اسماء کیابت ہے ؟"میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول !دجال کا تذکرہ سن کر ہمارے دل نکل گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نے وضاحت فرمائی :"اگر اُس کاخروج میری زندگی میں ہوا تو میں اس سے جھگڑ ا کروں گا ورگرنہ میرا پروردگار ہر مومن کے لیے میرا خلیفہ ہوگا۔"اسماء کہتی ہیں :میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول !اللہ کی قسم!ہم آٹا گوندھتی ہیں ، ابھی روٹیاں پکا کر فارغ بھی نہیں ہوئیں کہ ہم بھوک محسوس کرنے لگ جاتے ہیں تو دنوں ایمانداروں کا کیا حال ہوگا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"سبحان اللہ "سبحان الملک القدوس"کے کلمات کفایت کریں گے جیسا کہ آسمان میں رہنے والے (فرشتوں)کو کفایت کرتے ہیں ۔

الدَّجَّالِ، ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي بَيْتِي ← أسماء بنت يزيد الأنصاري ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← محمد بن زكريا العذافري ← جدي عبد الصمد البزاز ← أبو سعيد الطاهري

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4263

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4264

4264 - أخبرنا أبو سعيد الطاهري ، أنا جدي عبد الصمد البزاز ، أنا محمد بن زكريا ، أنا إسحاق الدبري ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن ابن خيثم ، عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : قال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " يمكث الدجال في الأرض أربعين سنة ، السنة كالشهر ، والشهر كالجمعة ، والجمعة كاليوم ، واليوم كاضطرام السعفة في النار ".

سید ہ اسماء بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"دجال زمین میں چالیس سال ٹھہرے گا(اور اس وقت) سال ماہ کے برابر ، ماہ ہفتہ کے برابر ، ہفتہ دن کے برابر ، دن گھنٹہ کے برابراور گھنٹہ آگ کے شعلے کی مانندہوگا۔"

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابن خيثم ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← جدي عبد الصمد البزاز ← أبو سعيد الطاهري

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4264

شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الدجال لعنه الله · حديث 4265

4265 - أخبرنا أبو سعيد الطاهري ، أنا جدي عبد الصمد البزاز ، أنا محمد بن زكريا العذافري ، أنا إسحاق الدبري ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن أبي هارون العبدي عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " يتبع الدجال من أمتي سبعون ألفا عليهم السيجان ". السيجان : جمع الساج : وهو طيلسان أخضر ، وقال الأزهري : صفحة رقم 63 هو الطيلسان المقور ينسج كذلك.

سید نا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"میری امت میں سے ستر ہزار افراد دجال کاساتھ دیں گے ، انہوں نےسبزچادریں اوڑھی ہوئی ہوں گی۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← محمد بن زكريا العذافري ← جدي عبد الصمد البزاز ← أبو سعيد الطاهري

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Antichrist, may God curse him · Hadith 4265

chevron_left Previous
1…345346347…362
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. (The Book of Faith)
    1. Door2. (Chapter explaining the deeds of Islam and the reward for establishing them)3. (Chapter explaining that deeds are part of faith, and that faith increases and decreases, and responding to the Murji'ah)4. (Chapter of the sweetness of faith and love of God Almighty and His Messenger (may God bless him and grant him peace)5. (Chapter of the one who embraced Islam on the good that he had previously accepted6. (Chapter of pledging allegiance to Islam and its laws and fighting with those who refuse)7. (Chapter signs of hypocrisy8. (Chapter on major sins9. Chapter He who dies does not associate anything with God10. (Chapter on pardoning self-talk11. (Chapter on responding to waswasah12. (The door of Islam began strange and will return as it began13. (Chapter on Belief in Destiny14. (Matters chapter with the will of God Almighty15. (Chapter of business with endings16. (Bab and Abdul Qadriyah17. (Children of the polytheists chapter18. (Chapter on the words of God Almighty (We turn their minds and eyes) as they did not believe in it for the first time.19. (Chapter in response to Jahmiyya20. (Chapter on responding to those who said about the creation of the Qur’an)21. (The door to sit-in with the Qur’an and Sunnah22. (Chapter Rejecting heresies and whims23. (Door to avoiding the people of passions24. (Chapter Reward for one who calls for guidance or revives Sunnah and the sin of one who invents heresy or calls for it)
3. (The Book of Knowledge)
    25. Chapter on communicating the hadith of the Messenger (may God bless him and grant him peace)26. Chapter: The Sin of Who Lied to the Prophet (may God bless him and grant him peace)27. (Chapter of those who say in the Qur’an without knowledge28. (Chapter on litigation in the Qur’an29. (Chapter of the one who narrated a hadeeth who thinks that it is a lie30. (Chapter of the hadith of the People of the Book31. (Chapter on the merit of knowledge32. (Chapter of Al-Tafaqah in Religion33. (Science scribes chapter34. (Chapter on envy in science35. (Chapter: Whoever leaves a note to benefit from it36. (Chapter and feast of the concealment of knowledge he knows37. (Chapter re-speech to understand38. (Chapter on Prevention of Fatwa39. (Chapter put the issue to friends for testing40. (Chapter on entitlement to sermon41. (The door to capture the flag
4. (The Book of Purity)
    42. (Chapter on the merit of ablution43. (Chapter on what requires ablution44. (Ablution from sleep door45. (Ablution door from touching the vulva46. (Ablution from touching a woman chapter47. Chapter Leaving ablution, which touches the fire48. (The chapter on rinsing of milk and suwaiq49. (Chapter of doubt about the event is based on certainty50. (Chapter on outdoor literature51. (The door to concealment when defecating52. (Chapter What to say if he enters the toilet53. (Chapter on hate speech to relieve the toilet54. (Chapter of the places in which it is forbidden to relieve themselves55. (Urine door standing56. (Urine in the vessel chapter57. (Chapter on cleaning oneself with water58. (Chapter on tooth brushing59. (Chapter Intention in ablution and other acts of worship60. (Chapter on washing hands when starting ablution61. (Chapter on naming it in ablution62. (The chapter on rinsing and sniffing, exaggerating them, and picking fingers63. (Chapter Pickling the beard64. (Beginning door in Mayman65. (Chapter on prolonging the bangs66. (Chapter on the obligation to wash the legs67. (Chapter on the attribute of the ablution of the Prophet (may God bless him and grant him peace)68. (Chapter on wiping the head and ears
4. (The Book of Purity)
    75. Chapter What requires washing76. Chapter on how to wash77. Door overturning braids78. Menstrual washing door79. The door of washing a man with a woman80. Ablution door thanks to others81. Ablution door thanks to women82. The side shaking hands and mixing with him door83. The door of the side if he wants to sleep, oud, or food, he does ablution84. Bab al-Muhaddith eats before ablution85. Chapter on the prohibition of reading the Qur’an on the side and staying in the mosque86. The updated section does not touch the Koran87. The door of ablution and washing water88. Chapter Water provisions89. Water door that is not defiled90. Chapter forbidding urine in permanent water91. The door of the purity of the captures of lions and kittens except for a dog92. The door to washing the impurity of a dog93. Menstrual blood washing section94. Urine door hits the ground95. The door of Paul, the boy who was not fed96. Semen that infects a garment97. The door hurts the sole98. Door tanner99. The door of tayammum100. Chapter How to perform tayammum101. Chapter prohibition of Ghashabban menstruating women from homes, as the action of the Jews102. The door of intercourse with menstruating women
5. prayer book
    111. Chapter of the virtue of the five daily prayers112. The door and the feast of the one who does not pray113. Chapter of prayer times114. The door to expediting prayers115. The door to expediting the dawn prayer116. The door to expedite the noon prayer117. The door of the refrigerator at the back in the heat118. The door to accelerate the era119. Chapter and feast from the end of the afternoon until the yellowing of the sun and the warning of the missed120. Door to accelerate Morocco121. The door to delay dinner122. The door of those who hate to be called dinner dark123. Chapter of the merit of Fajr and Asr prayers124. Chapter of the merit of evening and dawn prayers in the congregation125. Middle prayer door126. The door to hasten prayer if the imam is delayed127. The door to spend the past128. Time keeping section129. The door of the catch of time130. The door to prayer and residence, and that it is two-fold, and the residence is individual131. Chapter rewind in the call to prayer132. The door of redemption133. Chapter twisting in the call to prayer134. Chapter on the merit of the call to prayer135. Chapter answering the muezzin136. Chapter of supplication between the call to prayer and residence137. The door to prayer between the call to prayer and residence
5. prayer book
    180. (Chapter of the description of prayer181. (Chapter on takbeer at the beginning of prayer182. (Chapter on raising the hands when opening the opening takbeer, when bowing, rising from it, and standing up from the two rak'ahs183. (Chapter placing the right over the left in prayer184. (Chapter on what begins with prayer of supplication185. (Chapter on seeking refuge186. (Chapter: It is obligatory to read the beginning of the book187. (Opening the door to reciting with al-fatiha and leaving the name out loud188. (Chapter on loudly securing loudspeakers189. (Chapter on the merit of insurance190. (Chapter on reading in the afternoon and afternoon191. (The chapter on reading secrets in the afternoon and afternoon192. (Chapter on reading in the Maghrib prayer193. (Chapter on reading at dinner194. (Chapter on reading in the morning195. (Chapter on reading behind the imam and whoever said: He should not recite if the imam is speaking aloud196. (Chapter What is partial to the illiterate and the non-Muslim recitation197. (Kneeling body door198. (Chapter of the celebration of the one who does not bow and prostrate, and the necessity of tranquility in moderation199. (Chapter on what he says in bowing and prostrating200. (Chapter forbidding reading in bowing and prostrating201. (Chapter on straightening up from kneeling and prostrating202. (Chapter: What to say after straightening up from bowing203. (Bab Al Qunoot204. (Chapter on supplication in Qunoot
6. (Sections of redundancy
    281. (Chapter on Sunan salaries282. (The door of the two rak'ahs of Fajr and their preference283. (Chapter on reducing the two rak'ahs of Fajr and what is recited in them284. (The door of the dajaa after the two rak'ahs of dawn285. (Chapter of the one who prays four before noon and after four286. (Chapter on the four before afternoon and the daytime prayer statement287. (The door to prayer before sunset288. (Chapter of prayer between sunset and dinner289. (The door of the two rak'ahs after dinner
6. (Sections of redundancy
    290. Night prayer door291. The door of the one who opened his prayer with two light rak'ahs at night292. The door to lengthening night prayers293. Chapter how reading at night294. The door of incitement to pray the night295. The door of diligence in the night prayers296. The introduction of minors in the night and other things297. The door to work continuity298. The door to leave work when sleep and apathy prevail299. The door to pray in the middle of the night300. The door of reviving the end of the night and its preference301. Chapter what he says if he rises from the night302. The door of the night prayer is two by two, and the tendon is one303. The door of tendon with three and five and seven or more304. The door makes the last prayer at night and see305. The door of the initiative waxing with tendon306. Witr door before bed307. The door of greed to rise at the end of the night at the end of the tendon308. Chapter of all hours of the night time for Witr309. The door to wake up parents to tendon310. Chapter of what is read in the gut311. Chapter on the merit of Witr312. Night prayer door sitting313. Prayer of the base on the half of the prayer of the Qaem314. The door of the one who slept for his party spent it during the day315. The door to the month of Ramadan and its preference
7. Travel prayer doors
    327. The door of the prayer palace328. The door of the passport of minors in the event of security329. A door if the traveler stays in a house to how short it is330. Chapter prayer for the resident behind the traveler331. The door of those who did not volunteer to travel332. Chapter on volunteering and tendon on the traveler where she headed333. Chapter combining prayers in travel334. The door to combine with an excuse for rain
8. Friday book
    335. The door to impose Friday336. Chapter preferred on Friday and what was said in the hour of response337. The door and the slave of leaving Friday without an excuse338. Friday door in the villages339. Chapter of who is not obligated by Friday340. The door of cleaning and perfume on Friday341. Door early to Friday342. Chapter expediting the Friday prayer and the nap after it343. The door to surrender if ascending the pulpit and relying on the stick344. The door to call to prayer on Friday345. The door of the engagement standing and sitting between the two sermons346. The door of the engagement palace347. Chapter reading the Qur’an in the sermon348. The hatred of raising hands in the sermon349. The door to listen to the sermon and receive the imam350. The door of the person who entered the sermon and the imam prayed two rak'ahs351. The hatred of skipping on Friday352. The door of sleepiness turns353. Chapter reading on Friday prayers354. Chapter If the enemy was not in the direction of the Qiblah, the Imam dispersed them two divisions, and he prayed in each sect355. Chapter of the one who said: The first sect stands up and completes its prayer, then the second sect comes and the imam prays with them one rak'ah356. The door of those who said pray two rak'ahs in each sect357. Section If the enemy was from the direction of the qiblah, the Imam prayed with all of them and guarded in prostration358. The door of the two feasts
9. (Book of invitations)
    408. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for his nation409. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for the one who cursed him from his ummah is to make it a bag for him410. Chapter: The merit of remembrance of God Almighty and the majlis of dhikr411. (Chapter on drawing closer to God Almighty with redundancy and remembrance412. (The door of the one who sits in a council in which God did not mention413. (Chapter on the names of God Almighty414. (Chapter of what was said in the greatest name415. (Chapter of the Reward of Praise416. (Chapter of holding praise by hand417. (Chapter on the Reward of Hamid418. (Chapter on the Reward of Tahlil419. (Chapter: Reward Glory be to God, Praise be to God, and there is no god but God and God is Great420. (Chapter of the merits of there is no strength or power except with God421. (The door for forgiveness422. (Chapter of Repentance423. (The door to the best of forgiveness424. (Chapter what he says if he takes his bed425. Chapter426. (Chapter of what he says when it becomes427. (Chapter on what the married person says428. (Chapter of what he says when talking with parents429. (Chapter on what to say when distress430. (Chapter what to say when angry431. (Chapter of what he says when a rooster crows432. (Chapter of what he says when seeing the crescent
69. (Ablution door once
70. (Ablution door twice twice
71. (Ablution three trips
72. (Chapter on the desirability of ablution for every prayer
73. (Chapter on wiping over the socks
74. (Timing section in the survey
103. Section on the time of puerperium
104. The door of the menstruating woman, if she becomes pure, she should make up the fast and not make up the prayer
105. The chapter on the ruling of the case
106. Bab Al-Safra and Al-Brown
107. The door of his blood
108. Friday washing door
109. Door washing from washing the dead
110. The door of washing when Islam
138. The traveler's call to prayer
139. The door of the call to prayer for morning before dawn
140. The door of the call to prayer for the missed person and the residence for her
141. Chapter when the muezzin resides and when the people rise
142. The door of the one who does not hurry after residency
143. Speech after the stay
144. The door to convert Qibla from Jerusalem to the Kaaba
145. The door of a kiss who missed Mecca
146. The door to prayer in the Kaaba
147. Chapter on the merit of praying in the Grand Mosque, Madinah Mosque and Al-Aqsa Mosque
148. The door of the Al-Aqsa Mosque
149. The door of the Quba Mosque
150. Chapter of the virtue of mosques
151. The door of reward for those who built a mosque
152. Chapter preferred to attain mosques
153. The door of guidance in walking to prayer
154. Door
155. Gravel door in the mosque and sweep it
156. The door to greet the mosque
157. Chapter what to say if he entered the mosque
158. The door of the merit of sitting in the mosque to wait for prayer
159. Chapter on hatred of buying and selling in the mosque
160. The door to sleep in the mosque
161. The hatred of slugs in the mosque and towards the Qiblah
162. The door of eating garlic, not close to the mosque
163. Prayer door on the pulpit
164. Mosques door in homes and cleaned
165. The door to prayer in the pens of sheep and donated camels
166. Chapter of places where prayer was prohibited
167. Door hatred to take the grave as a mosque
168. The door to prayer in one garment
169. Door sidl in prayer
170. The door to prayer in the quilts of women
171. The hatred of prayer door in a dress with flags
172. Chapter about how many clothes a woman prays
173. The door to prayer on the winery and mats
174. Prayer door in slippers
175. Bab Sitra Al-Musalla
176. Door near the jacket
177. Blazer pot door
178. The hatred of passing in the hands of the worshiper and the permissibility of pushing him
179. Door does not cut his prayer what passed between his hands
205. (The door to prostration on seven members
206. (Chapter of the body of prostration
207. (Chapter on the merit of prostration
208. (The door to sitting between the two prostrations
209. (Chapter what he says between the two prostrations
210. (The door to sitting next to the two prostrations in the first and third
211. (Chapter How to get up
212. (Chapter on easing sitting for the first Tashahhud
213. (Chapter on how to sit for the two Tashahhuds
214. Chapter How to put the hands in the two Tashahhuds
215. (Chapter on reading the Tashahhud
216. (Chapter on concealing the tashahhud
217. Chapter: Prayer on the Prophet (may God bless him and grant him peace)
218. Chapter: The merit of praying upon the Prophet (may God bless him and grant him peace)
219. (The chapter on supplication before peace
220. (Chapter of submission in prayer
221. (Chapter on turning away from prayer
222. (The man's door leaves before the imam
223. (Door of the imam staying in the prayer hall until the women leave
224. Chapter: What is desirable to sit in the mosque after the morning prayer
225. (Dhikr chapter after prayer
226. (Chapter on the prohibition of speaking in prayer
227. (Chapter on yawning during prayer
228. (Chapter on crying in prayer
229. (Chapter on dislike abbreviation in prayer
230. (Chapter on detestation of turning around in prayer
231. (The hatred of raising the gaze to the sky in prayer
232. (The chapter on reverence during prayer
233. (Carrying a boy during prayer door
234. (Chapter on killing snakes and scorpions in prayer
235. (The door to simple work does not nullify prayer
236. (Chapter of praise if something swirls during prayer
237. (Chapter on the event in prayer
238. (Chapter on prostration for forgetfulness
239. Chapter: Whoever doubts his prayer and does not know how much he prayed based on certainty
240. (Chapter of the five noon prayers
241. (Chapter on the one who left the first tashahhud
242. (Chapter of the blessings of two rak'ahs
243. (Chapter on prostration of the Qur’an
244. (Chapter on prostration in Hajj
245. (Chapter on prostration on p
246. (Chapter on the prostration of recitation in prayer
247. (The door of prostration with the prostration of the reader
248. (Chapter on the one who neglects the prostration of recitation
249. (Chapter of what he says in the prostration of recitation
250. (Prostration of thanksgiving chapter
251. (Chapter of the times during which it is forbidden to pray
252. (Chapter on the concession to pray at midday on Friday
253. (Chapter on the permission to pray at these times in Mecca, may God protect it
254. (Chapter on what is prayed during these past times
255. Chapter: The Prophet (peace and blessings be upon him) persevering two rak'ahs after Asr
256. (Chapter on the merit of the group
257. (Emphasis on leaving the group
258. (Chapter of the permission to leave in congregation and Friday when rain and excuse
259. (Chapter of starting food if attended and if the prayer is performed
260. (Bab does not pray while he is an injector
261. (Chapter: If the prayer is established, there is no prayer except the written one
262. (Class leveling and completion chapter
263. (Chapter on the merit of the first row
264. (Who is the first in the first grade chapter
265. (Chapter of those who pray behind the row alone
266. (Chapter if there is one man with the imam standing on his right
267. (Chapter if they were three, the imam would lead, and the other two stood behind him in a row, and the woman stood behind the men alone
268. (Chapter if the imam stood in a higher place
269. (Chapter Who is the first to lead the imamate
270. (Chapter about who is the mother of a people and they hate him
271. (Chapter: What an imam must complete the prayer
272. (The Imam door reduces the prayer
273. (Mitigation section to order happen
274. (Chapter: It is obligatory to follow the imam
275. (Chapter and the feast of one who raises his head before the imam
276. (Chapter if the imam prays sitting
277. (The door to the side who prays with people who are people
278. (Chapter of the one who prays alone then catches up with a group he is praying with them
279. (Chapter of the one who prays once and then the mother of people in that prayer
280. (Women go out to mosques door
316. Bab in the night of the fifteenth of Shaban
317. Chapter preferred to volunteer at home
318. Duha prayer door
319. 4 Chapter number of Duha prayers
320. Chapter of the merit of Duha prayer
321. Door time for Duha prayer
322. Chapter of the merit of one who purifies and prays his punishment
323. The door to prayer upon repentance
324. Chapter of Istikhara prayer
325. Chapter of praise prayers
326. Chapter on the merit of volunteering
359. Exit door to the prayer hall on Eid
360. Section No call to prayer or Iqama for Eid prayer and offering prayer
361. The door to eating the day of breaking the fast before going out
362. Chapter Takbeers Eid prayer and reading in it
363. The door of someone who crosses the road if he returns from the prayer hall
364. The door to prayer before and after the Eid prayer
365. The door for women to go out to the two Eids
366. The license door to play on Eid
367. Chapter of the year of Eid al-Adha and delaying the sacrifice
368. Chapter What is desirable from the sacrifice and what is disliked from it
369. Chapter on the reward for the sacrifice
370. Chapter reward work in the tenth of Dhu al-Hijjah
371. Chapter If the tithe enters, whoever wants to sacrifice does not touch anything of his hair and nails
372. Chapter sharing in the sacrifice
373. Chapter eating from the sacrifice after three or more
374. Chapter of the eclipse prayer and its lengthening
375. Chapter of the one who prays in each rak'ah two rak'ahs and the call to prayer is combined
376. Chapter How to read in the eclipse prayer
377. The door of alienation in the eclipse
378. Chapter fear of profit
379. Star Throwing Door
380. The door of prostration when a verse occurs
381. Drops door
382. Door raising hands in dropsy
383. The door of rain of righteous people and people of the house of prophethood
384. Chapter of rain in the Friday sermon
385. The hatred of raining rain
386. The door of the unseen only God knows
387. The jutting door of the rain
388. Chapter on the merit of learning the Qur’an and teaching it
389. Chapter on the merit of reciting the Qur’an
390. Door
391. Chapter preferred to open the book
392. Chapter virtue of Surat Al-Baqara and the family of Imran
393. Chapter on the merit of Ayat al-Kursi and the two verses from the end of Surat al-Baqarah
394. Seven door height
395. Chapter preferred Surat Al-Kahf
396. Door in the pain of downloading prostration and blessing
397. Chapter of the merit of Surat Al-Ikhlas
398. The door of Almoothtin
399. Chapter How to read and rewind it
400. The door to singing the Quran
401. The door to hear the Qur’an
402. The door of pledging the Qur’an and promising those who forgot it
403. Section on how much it reads
404. Door
405. Chapter on the saying of the Prophet (may God bless him and grant him peace): The Qur’an was revealed in seven letters
406. Chapter of collecting the Qur’an
407. Door does not travel the Quran to the land of the enemy
433. (Chapter what to say if he is seen afflicted
434. Chapter What to say if it enters the market
435. (Chapter on penance for the Council
436. (Chapter what he says if he goes out to travel
437. (Chapter what to say if riding an animal
438. (Farewell door
439. (Chapter What to say if he went down
440. (Chapter on Takbir if it rises honor and praise if it is revealed
441. (Chapter what to say if locked from travel
442. (Chapter on praying for infidels with guidance
443. (Chapter on supplication for infidels
444. Chapter: Abandoning supplication to the oppressor
445. (The chapter on seeking refuge
446. (Chapter of the Mosque of supplication
447. (Encouraging supplication chapter
448. (Abandoning urgency section
449. (Chapter of the one who called, let him resolve
450. (Chapter on whose call is answered
451. (Chapter on the etiquette of supplication and raising hands in it
452. ( Door