شرح السنة للبغوي · ( كتاب فضائل الصحابة ) ‹ ( باب ظهور طائفة من هذه الأمة على من خالفهم ودعاء النبي ( صلى الله عليه وسلم ) · حديث 4014
4014 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري ، نا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني ، نا نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ، أنا يعلى بن عبيد الطنافسي ، نا عثمان بن حكيم عن عامر بن سعد بن أبي وقاص. عن أبيه قال : أقبلنا مع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) حتى مررنا على مسجد بني معاوية ، فدخل فصلى ركعتين ، وصلينا معه ، فناجى ربه طويلا ، ثم قال : " سألت ربي ثلاثة : صفحة رقم 215 سألته ألا يهلك أمتي بالغرق ، فأعطانيها ، وسألته ألا يهلك أمتي بالسنة ، فأعطانيها ، وسألته ألا يجعل بأسهم بينهم ، فمنعنيها ". هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن ابن نمير ، عن أبيه ، عن عثمان بن حكيم.
جناب عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا؛ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک جگہ سے واپس آ رہے تھے کہ ہمارا گزر بنی معاویہ کی مسجد کے پاس سے ہوا۔ آپ اندر تشریف لے گئے اور دو رکعتیں پڑھیں۔ ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر آپ نے اپنے رب سے طویل مناجات فرمائی، بعد ازاں فرمایا: " میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی، میں نے یہ درخواست کی تھی کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرنا، اللہ نے مجھے یہ چیز عطا فرما دی اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرنا، اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز بھی عطا فرما دی اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی جنگ آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہو ، اللہ تعالیٰ نے میری یہ درخواست قبول نہیں فرمائی۔"
أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري، ← أحمد بن عبد الله الصالحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Book of the Virtues of the Companions) › Chapter: The emergence of a group of this ummah on those who disagreed with them and the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) · Hadith 4014
