شرح السنة للبغوي · ( كتاب فضائل الصحابة ) ‹ ( باب فضل الأنصار رضي الله عنهم · حديث 3978
3978 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا أبو نعيم ، نا عبد الرحمن بن سليمان بن حنظلة بن الغسيل ، نا عكرمة عن ابن عباس قال : خرج رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في مرضه الذي مات فيه بملحفة قد عصب بعصابة دسماء حتى جلس على المنبر ، فحمد الله ، وأثنى عليه ، ثم قال : " أما بعد ، فإن الناس يكثرون ، ويقل الأنصار حتى يكونوا في الناس بمنزلة الملح في الطعام ، فمن ولي منكم شيئا يضر فيه قوما ، وينفع فيه الآخرين ، فليقبل من محسنهم ، ويتجاوز عن مسيئهم ، فكان آخر مجلس جلس فيه النبي ( صلى الله عليه وسلم ) " هذا حديث صحيح. قوله عصب بعصابة دسماء ، أي : بعمامة سوداء ، والعصابة : العمامة ، والدسماء : السوداء ، روي عن عثمان رأى صبيا تأخذه العين ، فقال : دسموا نونته. النونة : النقرة في الذقن.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مرض الوفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ ایک چکنے کپڑے سے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے تھے ۔ آپ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما ہوئے، پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: " اما بعد ! بلا شبہ آنے والے دور میں دوسرے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا لیکن انصار کم ہوتے جائیں گے اور ایک زمانہ آئے گا کہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی تعداد اتنی کم ہو جائے گی جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے پس اگر تم میں سے کوئی شخص کہیں حاکم بنے اور وہ اپنی حکومت کی وجہ سے کسی کو نقصان اور نفع بھی پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ انصار کے نیک افراد کی نیکیوں کو قبول کرے اور ان کے خطا کاروں کی خطاؤں اور لغزشوں سے صرف نظر کرے۔" یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری مجلس وعظ تھی۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عبد الرحمن بن سليمان بن حنظلة بن الغسيل ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Book of the Virtues of the Companions) › (Chapter of the merit of the Ansar, may God be pleased with them · Hadith 3978
