شرح السنة للبغوي · ( كتاب الزكاة ) ‹ ( باب ما يكره من إمساك المال ، وما يؤمر به من الإنفاق · حديث 1661
1661 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا عبد الرحمن بن أبي شريح ، أنا أبو القاسم عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي ، نا علي بن الجعد ، أنا شعبة ، أخبرني عون بن أبي جحيفة ، سمعت المنذر ابن جرير عن أبيه قال : كنا عند النبي ( صلى الله عليه وسلم ) في صدر النهار فجاءه قوم حفاة عراة مجتابي النمار ، عليهم العباء ، والصوف ، عامتهم من مضر قال : فرأيت وجه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يتغير لما صفحة رقم 160 رأى بهم من الفاقة ، ثم قام فدخل فأمر بلالا ، فأذن وأقام ثم خرج ، فصلى ، ثم خطب ، فقال : " ) يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة ( [ النساء : 1 ] إلى آخر الآية ) اتقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد ( [ الحشر : 18 ] إلى آخر الآية. يتصدق الرجل من ديناره ، من درهمه ، من ثوبه ، من صاع بره ، من صاع تمره ، حتى قال : ولو بشق تمرة. فجاء رجل من الأنصار بصرة قد كادت كفه تعجز عنها ، بل قد عجزت ، قال : ثم تتابع الناس حتى رأيت كومين من ثياب وطعام ، ورأيت وجه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يتهلل كأنه مذهبة ، ثم قال : " من سن في الإسلام سنة حسنة يعمل بها من بعده كان له أجرها ، ومثل أجر من عمل بها من غير أن ينقص من أجورهم شيئا ، ومن سن في الإسلام سنة سيئة يعمل صفحة رقم 161 بها من بعده ، كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من غير أن ينقص شيئا ". هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن محمد بن المثنى ، عن محمد بن جعفر ، عن شعبة. قوله : " مجتابي النمار " أي : لابسي الأزر من صوف مخططة ، يقال : اجتاب فلان ثوبا : إذا لبسه ، والنمار : جمع النمرة وكل شملة مخططة من مآزر الأعراب ، فهي نمرة ، وقال القتيبي : النمرة : بردة تلبسها الإماء ، وجمعها نمرات ونمار. قوله : " يتصدق الرجل " أي : ليتصدق. لفظه لفظ الخبر ، ومعناه الأمر ، كقوله ) تؤمنون بالله ورسوله ( [ الصف : 11 ] أي : آمنوا.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دن کے آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ کچھ لوگ آئے ۔ ننگے پاؤں ، ننگے بدن، دھاری دار اون کی عبائیں پہنے ہوئے ، وہ اکثر مضر قبیلے سے تھے ۔ ان کی تنگ حالی اور بھوک دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ( مفموم ) ہو گیا۔ پھر اٹھے اور اندر ( گھر ) گئے ( مگر کچھ نہ ملا تو ) پھر باہر تشریف لے آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ انہوں نے اذان دی اقامت کہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جماعت کروائی پھر آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا : ( یایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدہ و خلق منہا زوجہا وبث منہما رجالا کثیرا و نساء واتقوا اللہ الذی تساء لون بہ والا رحام ان اللہ کان علیکم رقیبا ) ۔۔ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائے ۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کا نام لے کر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے توڑنے سے ( بھی ) ڈرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے ۔ ( سورۃ النساء : 1) ( یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد ۔۔۔) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل ( اگلی زندگی ) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے ۔ ( سورۃ حشر : 18) آدمی اپنے دینار سے صدقہ کرے ، اپنے درہم سے صدقہ کرے اپنے کپڑے سے صدقہ کرے ، گندم کا صاع دے ، کھجور کا صاع دے ، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : چاہے کھجور کا ٹکڑا ہی صدقہ کرے ۔ انصار میں سے ایک آدمی اتنی بھاری تھیلی اٹھا کر لایا کہ اس کی ہتھیلی اس کو اٹھانے سے عاجز ہو رہی تھی بلکہ عاجز ہو ہی گئی تھی، راوی نے کہا : پھر تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتی کہ میں نے دو ڈھیر دیکھے ۔ ایک غلے کا اور ایک کپڑوں کا ، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ انور یوں ) خوشی سے ) دھمکنے لگا گویا اس پر سونا چڑھا دیا گیا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، جس پر اس کے فوت ہونے کے بعد بھی عمل کیا جائے اسے اپنا ثواب بھی ملے گا اور جتنے لوگ اسے دیکھ کر وہ کام کریں گے ان کے اجر میں س بھی اسے حصہ ملے گا ، بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی ہو، اسی طرح جو شخص اسلام میں برا کام جاری کدے جس پر اس کے فوت ہونے کے بعد بھی عمل کیا جائے ، اس پر اس کا اپنا گناہ بھی ہوگا اور ان لوگوں کا بھی جو اسے دیکھ کر وہ کام کریں گے لیکن اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی۔
أَبِيهِ ← المنذر ابن جرير ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Zakat) › (Chapter What he dislikes of holding money, and what he is ordered to spend · Hadith 1661
