Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح السنة للبغوي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi

by Imam Al Baghvi

4,339 Hadith1416 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3713

3713 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف الفربري ، نا محمد بن إسماعيل البخاري ، نا محمد بن المثنى ، نا أبو أحمد الزبيري ، نا إسرائيل ، عن منصور ، عن إبراهيم ، عن علقمة. عن عبد الله قال : كنا نعد الآيات بركة ، وأنتم تعدونها تخويفاً ، كنا مع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في سفرٍ ، فقل الماء ، فقال : " اطلبوا فضلة من ماء " فجاؤوا بإناءٍ فيه ماءٌ قليلٌ ، فأدخل يده في الإناء ، ثم قال : " حي على الطهور المبارك والبركة من الله " فلقد رأيت الماء ينبع من بين أصابع رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ولقد كنا نسمع تسبيح الطعام ، وهو يؤكل. هذا حديث صحيح.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہو گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔‘‘ چنانچہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے ، آپ نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا:’’ برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔‘‘ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے کی طرح پھوٹ رہا تھا اور ہم تو آپ کے زمانے میں کھاتے وقت کھانے کی تسبیح سنتے تھے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3713

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3714

3714 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أخبرنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، نا محمد بن يوسف الفربري ، نا محمد بن إسماعيل البخاري ، نا محمد بن بشار ، نا ابن أبي عدي ، عن سعيد ، عن قتادة عن أنس قال : أتي النبي ( صلى الله عليه وسلم ) بإناء ، وهو بالزوراء ، فوضع يده في الإناء ، فجعل الماء ينبع من بين أصابعه ، صفحة رقم 291 فتوضأ القوم. قال قتادة : قلت لأنسٍ : كم كنتم ؟ قال : ثلاثمائة أو زهاء ثلاثمائة. هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن أبي غسان المسمعي ، عن معاذ بن هشام ، عن أبيه ، وأخرجه عن محمد بن مثنى ، عن محمد ابن جعفر ، عن سعيد. وهذه آيةٌ ومعجزةٌ ، وقيل : هذا أبلغ من تفجير الماء من الحجر لموسى عليه السلام ، لأن في طبع الحجارة أن يخرج منها الماء ، وليس في طباع أعضاء بني آدم ذلك.

سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت زوراء مقام میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے اس برتن میں ہاتھ مبارک رکھا تو آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا اور اسی پانی سے پوری جماعت نے وضو کیا۔ جناب قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا:میں نے سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے کہا:تین سو ہوں گے یا تین سو کے قریب ہوں گے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3714

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3715

3715 - وبهذا الإسناد : نا محمد بن إسماعيل البخاري ، نا يوسف ابن عيسى ، نا ابن فضيل ، نا حصين ، عن سالم عن جابر قال : عطش الناس يوم الحديبية ، ورسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بين يديه ركوةٌ ، فتوضأ منها ، ثم أقبل الناس نحوه ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " ما لكم ؟ " قالوا : يا رسول الله ليس عندنا ماءٌ نتوضأ منه ، ولا نشرب إلا ما في ركوتك ، قال : فوضع النبي ( صلى الله عليه وسلم ) يده في الركوة ، فجعل الماء يفور من بين أصابعه كأمثال العيون قال : فشربنا وتوضأنا ، فقلت لجابر : كم كنتم يومئذٍ ؟ قال : لو كنا مائةَ ألف صفحة رقم 292 لكفانا ، كنا خمس عشرة مائة. هذا حديث متفق على صحته.

سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی ہوئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پانی کا ایک برتن (پاگل) رکھا ہوا تھا۔ آپ نے اس سے وضو کیا۔ اتنے میں لوگ آپ کے پاس آ گئے۔ آپ نے فرمایا:” کیا بات ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا:جو پانی آپ کے سامنے ہے اس کے سوا نہ تو ہمارے پاس وضو کے لیے کوئی دوسرا پانی ہے اور نہ پینے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک چھاگل میں رکھ دیا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹنے لگا اور ہم سب لوگوں نے اس پانی کو پیا اور اس سے وضو بھی کیا۔ میں نے پوچھا:آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے کہا:اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی کافی ہوتا، ویسے ہماری تعداد اس وقت پندرہ سو تھی۔

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3715

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3716

3716 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ، أنا إسماعيل بن محمد الصفار ، نا أحمد بن منصور الرمادي ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن قتادة ، عن عبد الله بن رباح عن أبي قتادة قال : خرج رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في جيشٍ ، فلما كان في بعض الطريق ، تخلف لبعض حاجته ، وتخلفت معه بميضأةٍ ، وهي الإداوةُ ، قال أبو قتادة : فقضى حاجته ، ثم جاءني ، فسكبت عليه من الميضأةِ ، فتوضأ ، وقال لي : احفظها فلعله أن يكون لبقيتها شأنٌ ، قال : وسار الجيشُ ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : إن يطيعوا أبا بكرٍ وعمر يرفقوا بأنفسهم ، وإن يعصوهما ، يشقوا على أنفسهم ، قال : فكان أبو بكر وعمر أشارا عليهم ألا ينزلوا حتى يبلغوا الماء ، وقال بقية الناس : بل ننزل حتى يأتي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : فنزلوا قال : فجئناهم في نحر الظهيرة ، وقد هلكوا من العطش فدعا النبي ( صلى الله عليه وسلم ) بالميضأةِ ، فأتيته بها ، فاستأبطها ، ثم جعل صفحة رقم 293 يصب لهم ، فشربوا حتى رووا وتوضؤوا ، وملؤوا كل إناء كان معهم حتى جعل يقول : هل من مالٍ ؟ قال : فخيل إلي أنها كما أخذها ، وكانوا يومئذ اثنين وسبعين رجلاً.

سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لشکر میں نکلے، آپ ابھی راستے میں ہی تھے کہ قضائے حاجت کے لیے لشکر سے پیچھے ہو گئے، میں بھی رُک گیا، میرے پاس وضو والا برتن تھا۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:آپ نے اپنی حاجت سے فراغت حاصل کی ، پھر پاس تشریف لائے ، میں نے وضو والے برتن سے آپ پر پانی بہایا ، چنانچہ آپ نے وضو کیا اور مجھے فرمایا:’’اس برتن کو سنبھال کر رکھنا ہو سکتا ہے اس میں بچ جانے والے پانی کو عظمت وشان حاصل ہو۔‘‘ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:لشکر (اپنی منزل کی طرف) چل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اگر انہوں نے ابو بکرو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات مانی تو سہولت میں رہیں گے اور اگر ان کی نافرمانی کی تو یہ چیز ان کے لیے باعث مشقت ہو گی۔‘‘ راوی نے کہا:سیدنا ابو بکرو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل لشکر سے کہا کہ پانی پر پہنچ کر ہی پڑاؤ کرنا چاہیے لیکن باقی لوگوں کا موقف تھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے تک یہیں اتر جانا چاہیے۔ راوی نے کہا:چنانچہ وہ اتر پڑے، سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:ہم لوگوں کے پاس اس وقت پہنچے جب دوپہر خوب گرم ہو چکی تھی اور لوگ پیاس کے سبب تباہ ہو گئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کا برتن منگوایا، میں اسے لے کر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گیا ، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد برتن سے پانی امڈنے لگا، چنانچہ لوگوں نے پانی پیا اور خوب سیراب ہوگئے اور سب نے وضو کیا اور لشکر میں موجود ہر برتن کو پانی سے بھر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے:” کیا کوئی جانور پانی پینے سے رہ تو نہیں گیا؟‘‘ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:مجھے تو یوں لگا کہ پانی ویسے کا ویسا ہی ہے، اس روز لوگوں کی تعداد بہتر (۷۲) تھی۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ← أحمد بن عبد الله الصالحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3716

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3717

3717 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ، أنا إسماعيل بن محمد الصفار ، نا أحمد بن منصور الرمادي ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن عوف ، عن أبي رجاء العطاردي. عن عمران بن حصين قال : سرى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في سفر هو وأصحابه ، قال : فأصابهم عطشٌ شديدٌ ، فأرسل النبي ( صلى الله عليه وسلم ) رجلين من أصحابه قال : أحسبه علياً والزبير أو غيرهما ، فقال : إنكما ستجدان امرأةً بمكان كذا وكذا معها بعير عليه مزادتان ، فأتياني بها ، قال : فأتيا المرأة ، فوجداها قد ركبت بين مزادتين على البعير فقالا لها : أجيبي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقالت : ومن رسول الله ؟ هذا الصابئ قالا : هو الذي تعنين ، وهو رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) صفحة رقم 294 حقاً فجاءا بها ، فأمر النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فجعل في إناء من مزادتيها ، ثم قال فيه ما شاء الله أن يقول : ثم أعاد الماء في المزادتين ، ثم أمر بعزلاء المزادتين ، ففتحت ، ثم أمر الناس ، فملؤوا آنيتهم وأسقيتهم ، فلم يدعوا يومئذ إناء ولا سقاء إلا ملؤوه. قال عمران : حتى كان يخيل إلي أنها لم تزدد إلا امتلاءً ، قال : فأمر النبي ( صلى الله عليه وسلم ) بثوبها فبسط ، ثم أمر أصحابه ، فجاؤوا من زادهم حتى ملأ لها ثوبها ، ثم قال لها : " اذهبي فإنا لم نأخذ من مائك شيئاً ، ولكن الله سقانا " فجاءت أهلها ، فأخبرتهم ، فقالت : جئتكم من عند أسحر الناس ، أو إنه ل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) حقاً ، فجاء أهل ذلك الحواء حتى أسلموا كلهم. هذا حديث متفق على صحته أخرجاه من طرق عن عوف عن أبي رجاء. والمزادة : التي يسميها الناس الراوية ، والراوية : البعير الذي يسقى عليه ، وهذه هي المزادة ، والسطيحة نحو المزادة غير أنها أصغر من صفحة رقم 295 المزادة ، فهي من جلدين ، والمزادة أكبر. والصابئ عند العرب : الذي خرج من دين إلى دينٍ ، وكان المشركون يقولون لمن أسلم : قد صبا فلانٌ. والعزلاء : هي فم المزادة الأسفل ، يخرج الماء منه خروجاً واسعاً. والحواءُ : بيوتٌ مجتمعةٌ على ماءٍ ، وجمعها أحويةٌ. وفي الحديث دليلٌ على أن أواني المشركين على الطهارة ما لم يعلم نجاستها ، وفيه أن أخذ ماء الغير يجوز عند ضرورة العطش بالعوض ، وقد أعطاها النبي ( صلى الله عليه وسلم ) من الزاد ما كان عوضاً عن مائها.

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رات بھر چلتے رہے۔ راوی نے کہا:تمام لشکر والوں کو سخت پیاس نے آ گھیرا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمیوں کو پانی کی تلاش میں روانہ کیا۔ راوی نے کہا:میرے خیال کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا یا ان کے علاوہ کوئی اور دو شخص تھے اور آپ نے فرمایا :”تمہیں فلاں جگہ ایک خاتون ملے گی ، اس کے پاس اونٹ ہو گا جس پر دو مشکیزے لا دے ہوں گے، اس کو میرے پاس لے آنا۔‘‘ راوی نے کہا:دونوں شخص عورت کو جاملے ، اسے اس حالت میں پایا کہ دو مشکیزوں کے درمیان اونٹ پر سوار جا رہی تھی۔ انہوں نے خاتون سے کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلو! ، اس نے کہا:رسول کون ہیں؟ وہی جس نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا ہے؟ انہوں نے کہا:وہی شخص جس کو آپ مراد لے رہی ہیں ، وہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ چنانچہ وہ اس خاتون کو لے آئے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا تو دونوں مشکیزوں میں سے کچھ پانی ایک برتن میں ڈالا گیا، پھر آپ نے اس پانی پر جو اللہ نے چاہا پڑھا اور پانی کومشکیزوں میں ڈال دیا گیا، اس کے بعد آپ نے مشکیزوں کے دہانوں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں کھول دیا گیا۔ آپ نے لوگوں کو پانی بھرنے کا حکم دیا۔ لوگوں نے اپنے برتن اور مشکیزے بھر لیے ، اس روز کوئی برتن اور مشکیزہ ایسا نہ تھا جس کو لوگوں نے بھر نہ لیا ہو۔ سیدنا عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:مجھے تو ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ مشکیزہ پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہے۔ راوی نے کہا:اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو کپڑا بچھانے کا حکم دیا جسے بچھا دیا گیا۔ پھر آپ نے اپنے صحابہ کو حکم فرمایا تو وہ اپنے زاد راہ سے تھوڑا تھوڑا لے آئے حتٰی کہ اس عورت کا کپڑا بھر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون سے کہا:’’چلی جا ، ہم نے آپ کے پانی سے کچھ وصول نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پانی پلایا ہے۔‘‘ چنانچہ وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس واپس آ گئی اور انہیں سارا واقعہ سنایا اور کہا:میں تمہارے پاس سب سے بڑے جادوگر کے ہاں سے آئی ہوں یا پھر وہ اللہ کا سچا رسول ہے۔ پھر اس قبیلے کے سارے افراد آئے حتٰی کہ سب کے سب مشرف بہ اسلام ہو گئے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← عَوْفٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ← أحمد بن عبد الله الصالحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3717

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3718

3718 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو الحسين بن بشران ، أنا إسماعيل بن محمد الصفار ، نا أحمد بن منصور الرمادي ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن عطاء بن السائب ، عن عبد الله بن حفصٍ عن يعلى بن مرة الثقفي قال : ثلاثة أشياء رأيتها من رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بينا نحن نسير معه إذ مررنا ببعير يسنى عليه ، قال : فلما رآه البعير ، جرجر فوضع جرانه ، فوقف عليه النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، قال : " أين صاحب هذا البعير ؟ " فجاءه ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " بعنيه " قال : بل نهبه لك يا رسول الله ، قال : " بل بعنيه " قال : بل نهبه لك فإنه لأهل بيت مالهم معيشةٌ غيره ، قال : " أما إذ ذكرت هذا من أمره ، فإنه شكا كثرة العمل ، وقلة العلف ، فأحسنوا إليه " قال : ثم سرنا حتى نزلنا منزلاً ، فنام النبي صفحة رقم 296 [ ] ، فجاءت شجرةٌ تشق الأرض حتى غشيته ، ثم رجعت إلى مكانها ، فلما استيقظ رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ذكرت له ، فقال : " هي شجرة استأذنت ربها في أن تسلم على رسول الله ، فأذن لها " قال : ثم سرنا فمررنا بماء ، فأتته امرأة بابن لها به جنة ، فأخذ النبي ( صلى الله عليه وسلم ) بمنخره ، ثم قال : " اخرج إني محمد رسول الله " قال : ثم سرنا ، فلما رجعنا من سيرنا ، مررنا بذلك الماء ، فأتته المرأة بجزرٍ ولبنٍ ، فأمرها أن ترد الجزر ، وأمر أصحابه ، فشربوا اللبن ، فسألها عن الصبي ، فقالت : والذي بعثك بالحق ما رأينا منه ريباً بعدك. صفحة رقم 297 قوله : جرجر ، أي : صوت ، والجران : باطن عنق البعير.

سیدنا یعلی بن مرہ ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین واقعات کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بچشم خود ملاحظہ کیا ہے۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ محوسفر تھے کہ ہم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس پر بہت زیادہ پانی لادا ہوا تھا۔ اونٹ نے جب آپ کو دیکھا تو بلبلانے لگا اور اس نے اپنی گردن زمین پر رکھ دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے اور دریافت فرمایا:’’اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ ‘‘ اتنے میں وہ آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا:’’ یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔‘‘ اس نے کہا:اللہ کے رسول! ہم آپ کو تحفے کے طور دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:’’نہیں بلکہ مجھے قیمتاً دے دو۔‘‘ اس نے کہا:بلکہ ہم آپ کو ہدیہ کرتے ہیں، دراصل یہ اونٹ ایسے گھر کا ہے جن کا اس کے علاوہ اور کوئی ذریعہ آمدنی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”بہرحال جب تو نے اس کے متعلق وضاحت کر دی ہے (تو میں نہیں خریدتا مگر سنو) اس نے کام کی کثرت اور چارے کی کمی کا شکوہ کیا ہے ، لہٰذا اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘ راوی نے کہا:پھر ہم چل پڑے حتٰی کہ ایک مقام پر اترے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے تو ایک درخت زمین چیرتے ہوئے آیا تاکہ اس نے آپ کو ڈھانپ لیا پھر وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے آپ سے ذکر کیا، آپ نے فرمایا:’’اس درخت نے اپنے رب سے اللہ کے رسول کو سلام کرنے کی اجازت مانگی تھی ، سو اسے اجازت دے دی گئی۔‘‘ راوی نے کہا:پھر ہم چل دیے۔ ہمارا گزر ایک پانی کے چشمے کے پاس سے ہوا تو وہاں آپ کے پاس ایک خاتون اپنا بیٹا لائی جس کو جن لگے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناک سے پکڑ کر کہا:’’نکل بھاگ، میں محمد اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ راوی نے کہا:پھر ہم آگے کی طرف چل دیے۔ واپسی پر جب ہم اسی مقام سے گزرے تو اس خاتون نے آپ کی خدمت میں چند بکریاں اور دودھ بطور ہدیہ پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکریاں واپس کرنے کا حکم دیا اور اپنے ساتھیوں کو دودھ نوش کرنے کے لیے کہا اور اس کے بچے کا حال دریافت کیا۔ اس نے کہا:اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث کیا ہے، آپ کے تشریف لے جانے کے بعد ہم نے اس میں بیماری کا شائبہ تک نہیں دیکھا۔

يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← أحمد بن عبد الله الصالحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3718

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3719

3719 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، حدثني بشر بن مرحوم ، نا حاتم بن إسماعيل ، عن يزيد بن أبي عبيد. عن سلمة قال : خفت أزواد القوم ، وأملقوا ، فأتوا النبي ( صلى الله عليه وسلم ) في نحر إبلهم ، فأذن لهم ، فلقيهم عمر ، فأخبروه ، فقال : ما بقاؤكم بعد إبلكم ؟ فدخل على النبي [ ] ، فقال : يا رسول الله ما بقاؤهم بعد إبلهم ؟ فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " ناد في الناس يأتون بفضل أزوادهم " فبسط لذلك نطعٌ ، وجعلوه على النطعِ ، فقام رسول الله [ ] ، فدعا وبرك عليه ، ثم دعاهم بأوعيتهم ، فاحتثى صفحة رقم 298 الناس حتى فرغوا ، ثم قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " أشهد أن لا إله إلا الله ، وأني رسول الله ". هذا حديث صحيح أخرج مسلم من رواية الأعمش عن أبي صالح ، عن أبي هريرة ، أو عن أبي سعيد ، شك الأعمش معناه ، وقال : في غزوة تبوك ، وقال : اجتمع على النطع شيء يسيرٌ ، فدعا النبي ( صلى الله عليه وسلم ) بالبركة ، ثم قال : خذوا في أوعيتكم فأخذوا حتى ما تركوا في العسكر وعاء إلا ملؤوه قال : فأكلوا حتى شبعوا ، وفضلت فضلةٌ ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " أشهد أن لا إله إلا الله ، وأني رسول الله لا يلقى الله بهما عبد غيرُ شاكٍ فيحجب عن الجنة ". واحتج به البخاري في النهد في الطعام ، في جواز قسمة ما يكال وبوزن مجازفة ، وقبضة قبضة.

سیدنا سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ غزوہ ہوازن میں لوگوں کا زاد راہ ختم ہو گیا اور فقر ومحتاجی آ گئی ، اور لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اپنے اونٹوں کو ذبح کرنے کی اجازت لینے لگے (تاکہ ان کے گوشت سے پیٹ بھرسکیں) آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ راستے میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات ان سے ہو گئی تو انہیں بھی ان لوگوں نے اطلاع دی۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اونٹوں کو کاٹ ڈالو گے تو پھر تم کیسے زندہ رہو گے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! اگر انہوں نے اونٹ بھی ذبح کر لیے تو پھر یہ لوگ کیسے زندہ رہیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اچھا تمام لوگوں میں اعلان کر دو کہ ان کے پاس جو کچھ تو شے بچ رہے ہیں وہ لے کر یہاں آ جائیں۔‘‘ اس کے لیے ایک چڑے کا دسترخوان بچھا دیا گیا اور لوگوں نے توشے اس دستر خوان پر لا کر رکھ دیئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُٹھے اور اس میں برکت کی دعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر سب لوگوں کو اپنے اپنے برتنوں کے ساتھ بلایا اور سب نے دونوں ہاتھوں سے توشے اپنے برتنوں میں بھر لیے، جب لوگ بھر چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں۔‘‘

سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← بشر بن مرحوم ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3719

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3720

3720 - أخبرنا أبو سعيد عبد الله بن أحمد الطاهري ، أنا جدي عبد الصمد بن عبد الرحمن البزاز ، أنا أبو بكر محمد بن زكريا العذافري ، أنا إسحاق بن إبراهيم الدبري ، نا عبد الرزاق ، أخبرنا معمر ، عن الزهري. أخبرني أنس بن مالك أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) خرج حين زاغت الشمس ، فصلى الظهر ، فلما سلم ، قام على المنبر ، صفحة رقم 299 فذكر الساعة ، وذكر أن بين يديها أموراً عظاماً ، ثم قال : " من أحب أن يسأل عن شيءٍ ، فليسأل عنه ، فوالله لا تسألوني عن شيءٍ إلا أخبرتكم به ما دمت في مقامي هذا " قال أنسٌ : فأكثر الناس البكاء حين سمعوا ذلك من رسول الله [ ] وأكثر رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) أن يقول : " سلوني سلوني " قال أنس : فقام رجل فقال : أين مدخلي يا رسول الله ؟ فقال : " النار " وقال : فقام عبد الله بن حذافة ، فقال : من أبي يا رسول الله ؟ قال : أبوك حذافة ، ثم أكثر أن يقول : " سلوني " قال : فبرك عمر رضي الله عنه على ركبتيه ، فقال : رضينا بالله رباً ، وبالإسلام ديناً ، وبمحمدٍ رسولاً ، قال : فسكت النبي ( صلى الله عليه وسلم ) حين قال عمر ذلك ، ثم قال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " والذي نفسي بيده لقد عرضت علي الجنة والنار آنفاً في عرض هذا الحائط ، وأنا أصلي ، فلم أر كاليوم في الخير والشرّ ". قال الزهري : وأخبرني عبد الله قال : قالت أم عبد الله بن حذافة : ما رأيت ابناً أعق منك ، أكنت تأمن أن تكون أمك قد قارفت بعض ما قارف أهل الجاهلية ، صفحة رقم 300 فتفضحها على أعين الناس. فقال عبد الله : لو ألحقني بعبدٍ أسودَ للحقته. هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن محمود ، وأخرجه مسلم عن عبد بن حميد ، كلاهما عن عبد الرزاق.

امام زہری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا:مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی، پھر سلام پھیرنے کے بعد منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور آپ نے ذکر کیا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے واقعات ہوں گے۔ پھر آپ نے فرمایا:’’تم میں سے جو شخص کسی چیز کے متعلق سوال کرنا کیا ہے تو سوال کرے، اللہ کی قسم ! آج مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں اس کا جواب دوں گا ، جب تک میں اپنی اس جگہ پر ہوں۔‘‘ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر لوگ بہت زیادہ رونے لگے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات کرتے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار وہی فرماتے تھے:”مجھ سے پوچھو، مجھ سے پوچھو۔‘‘ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:پھر ایک صحابی کھڑا ہوا اور پوچھا:میری جگہ کہاں ہے؟ اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا:’’جہنم میں ۔‘‘ پھر سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا:میرے والد کون ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تمہارے والد حذافہ ہیں۔‘‘ بیان کیا کہ آپ مسلسل کہتے رہے کہ ’’مجھ سے پوچھو۔‘‘ آخر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہا:’’ہم اللہ سے رب کی حیثیت سے، اسلام سے دین کی حیثیت سے ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رسول اللہ کی حیثیت سے راضی ہیں۔راوی نے کہا:جب سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کلمات کہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی مجھ پر جنت اور دوزخ اس دیوار کی چوڑائی میں میرے سامنے کی گئی تھی جب میں نماز پڑھ رہا تھا ، آج کی طرح میں نے خیرو شر کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ امام زہری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا:مجھے سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ ان کی والدہ نے کہا:میں نے تجھ سے بڑھ کر کوئی نافرمان نہیں دیکھا، کیا تجھے اس بات کا ڈر نہ تھا کہ ممکن ہے تیری ماں سے بھی اہل جاہلیت کی طرح کا کوئی گناہ سر زد ہو، تو تو (یوں سوال کر کے) اسے لوگوں کے سامنے ذلیل ورسوا کر دے؟ اس پر سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:’’اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا نسب نامہ سیاہ فام غلام سے ملا دیتے تو میں اسے قبول کر لیتا۔‘‘

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← أبو بكر محمد بن زكريا العذافري ← جدي عبد الصمد بن عبد الرحمن البزاز ← أبو سعيد عبد الله بن أحمد الطاهري

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3720

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3721

3721 - أخبرنا أبو الحسن الشزري ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة أنه سمع أنس بن مالك يقول : قال أبو طلحة لأم سليم : لقد سمعت صوت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ضعيفاً أعرف فيه الجوع ، فهل عندك من شيءٍ ؟ فقالت : نعم ، فأخرجت أقراصاً من شعير ، ثم أخذت خماراً لها ، فلفت الخبز ببعضه ، ثم دسته تحت يدي ، وردتني ببعضه ، ثم أرسلتني إلى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : فذهبت به ، فوجدت رسول الله [ ] جالساً في المسجد ، ومعه الناس ، فقمت عليهم ، صفحة رقم 301 فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " أرسلك أبو طلحة ؟ " قال : فقلت : نعم ، فقال : " لطعامٍ ؟ " فقلت : نعم ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) لمن معه : " قوموا " قال : فانطلق وانطلقت بين أيديهم حتى جئت أبا طلحة ، فأخبرته ، قال أبو طلحة : يا أم سليم قد جاء رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بالناس ، وليس عندنا ما نطعمهم. فقالت : الله ورسوله أعلم ، قال : فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأقبل رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) معه حتى دخلا ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " هلمي ما عندك يا أم سليم " فأتت بذلك الخبز ، فأمر به رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ففت ، وعصرت أم سليم عكة لها فأدمته ، ثم قال فيه رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ما شاء أن يقول ، ثم قال : ائذن لعشرة فاذن لهم ، فأكلوا حتى شبعوا ، ثم خرجوا ، ثم قال : ائذن لعشرة فأذن لهم ، فأكلوا حتى شبعوا ، ثم قال : ائذن لعشرة حتى أكل القوم كلهم وشبعوا ، والقوم سبعون رجلاً أو ثمانون. هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عبد الله بن يوسف ، صفحة رقم 302 وأخرجه مسلم عن يحيى بن يحيى ، كلاهما عن مالك. العكة : وعاء السمن. قوله : فأدمته ، أي : أصلحته بالإدام ، أدمت الخبز آدمه وآدمه ، وخبز مأدوم.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری والدہ اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنی تو آپ کی آواز میں بہت ضعف معلوم ہوا، میرا خیال ہے کہ آپ بہت بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا:جی ہاں، چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ میں چھپا دیا اور اس اوڑھنی کا دوسرا حصہ میرے بدن پر باندھ دیا اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مجھے بھیج دیا، میں جو گیا تو آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، میں آپ کے پاس کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا ابو طلحہ نے آپ کو بھیجا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ نے دریافت فرمایا:’’ کچھ کھانا دے کر؟“ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ کے ساتھ اس وقت موجود تھے ان سب سے آپ نے فرمایا:’’چلو اُٹھو!‘‘ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے اور میں آپ کے آگے آگے لپک رہا تھا اور ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر پہنچ کر میں نے انہیں خبر دی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے:اُم سُلیم ! حضور اکرم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لائے ہیں۔ ہمارے پاس اتنا کھانا کہاں ہے کہ سب کو کھلایا جا سکے؟ اُم سُلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، ہم فکر مند کیوں ہوں؟ خیر ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے، آپ کے ساتھ وہ بھی چل رہے تھے، گھر پہنچ کر آپ نے فرمایا:’’اُم سلیم ! تمہارے پاس جو کچھ ہے لے آؤ۔‘‘ اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہی روٹی لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے روٹیوں کا چورا کر دیا گیا ، اُم سُلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکُپی نچوڑ کر اس پر گھی ڈال دیا اور اس طرح سالن ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد اس پر دعا کی جو اللہ تعالیٰ نے چاہا، پھر فرمایا:’دس آدمیوں کو بلا لو۔‘‘ انہوں نے ایسا ہی کیا ، ان سب نے روٹی پیٹ بھر کر کھائی اور جب یہ لوگ باہر آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ پھر دس آدمیوں کو بلا لو ۔‘‘ چنانچہ دس آدمیوں کو بلایا گیا اور انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، اور جب یہ لوگ باہر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ پھر دس آدمیوں کو اندر بلا لو ۔‘‘ انہوں نے ایسا ہی کیا ، اور ان دس آدمیوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا ، جب وہ باہر گئے تو آپ نے فرمایا:’’ پھر دس آدمیوں کو دعوت دے دو۔‘‘ اس طرح سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور ان لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشزري

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3721

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3722

3722 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل البخاري ، حدثنا أحمد بن أبي شريح ، أنا عبيد الله بن موسى ، نا شيبان ، عن فراسٍ ، عن الشعبي عن جابر بن عبد الله أن أباه استشهد يوم أحدٍ ، وترك عليه ديناً ، وترك ست بناتٍ ، فلما حضر جزاز النخل قال : أتيت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) فقلت : قد علمت أن والدي استشهد يوم أحدٍ ، وترك ديناً كثيراً ، وإني أحب أن يراك الغرماء فقال : " اذهب ، فبيدر كل تمرٍ على ناحيته " ففعلته ، ثم دعوته ، فلما نظروا إليه كأنما أغروا بي تلك الساعة ، فلما رأى ما يصنعون ، أطاف حول أعظمها بيدرا صفحة رقم 303 ثلاثَ مراتٍ ، ثم جلس عليه ، ثم قال : " ادع لي أصحابك " فما زال يكيل لهم حتى أدى الله عن والدي أمانته ، وأنا أرضى أن يؤدي الله أمانة والدي ، ولا أرجع إلى إخواتي بتمرةٍ ، فسلم الله البيادر كلها ، وحتى إني أنظر إلى البيدر الذي كان عليه النبي ( صلى الله عليه وسلم ) كأنها لم تنقص تمرةً واحدةً. هذا حديث صحيح.

سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد محترم جنگ احد میں شہید ہو گئے ، دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے اوپر قرض اور چھ بیٹیاں چھوڑ گئے ، جب کھجوروں کی کٹائی کا وقت آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی:آپ کے علم میں ہے کہ میرے والد اُحد کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے، انہوں نے کافی قرض دینا تھا اور مجھے پسند ہے کہ جب قرض خواہ آپ کو دیکھیں گے تو کچھ رعایت کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :” تم ہرقسم کی کھجور کا الگ الگ ڈھیر لگاؤ۔‘‘ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا ، اس کے بعد میں نے آپ سے کو بلایا ، جب قرض خواہوں نے آپ کو دیکھا تو گویا کہ وہ اس وقت میرے خلاف غصے میں آ گئے ، جب آپ نے ان کا رویہ ملاحظہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے سب سے بڑے ڈھیر کے گرد تین چکر لگائے اور بعد ازاں اس پر تشریف فرما ہو گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ تم قرض داروں کو میرے پاس بلاؤ۔‘‘ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں ماپ ماپ کر دیتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کا قرض اتار دیا ، میں خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کے قرض کو اتار دے خواہ میں بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی نہ لے جا سکوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام ڈھیروں کو صحیح سالم رکھا ، اور میں نے اس ڈھیر کو دیکھا کہ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے ، یوں لگتا تھا کہ جیسے اس ڈھیر سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3722

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3723

3723 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري ، أنا حاجب بن أحمد الطوسي ، نا محمد بن يحيى ، نا عبد الرزاق ، أخبرنا معمر ، عن الزهري. عن الأعرج في قوله سبحانه وتعالى : ( إنّ الّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أنْزَلَنَا مِنَ البَيِّنَاتِ وَالهُدَى مِنْ بَعْدِ ما بَيَّنَّاه للنّاسِ في الكِتَاب (. قال : قال أبو هريرة : إنكم تقولون أكثر أبو هريرة عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) والله الموعد ، وإنكم تقولون : ما بال المهاجرين لا يحدثون عن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) بهذه الأحاديث ، وما بال الأنصار لا يحدثون بهذه الأحاديث ؟ وإن أصحابي صفحة رقم 304 من المهاجرين كانت تشغلهم صفقاتهم في الأسواق ، وإن أصحابي من الأنصار كانت تشغلهم أرضوهم ، والقيام عليها ، وإني كنت امرءاً مسكيناً ، وكنت أكثر مجالسة رسول الله [ ] أحضرُ إذا غابوا ، وأحفظ إذا نسوا ، وإن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) حدثنا يوماً ، فقال : " من يسبط ثوبه حتى أفرغ من حديثي ثم يقبضه إليه ، فإنه لن ينسى شيئاً سمعه مني أبداً " قال : فبسطت ثوبي ، أو قال نمرتي ، ثم حدثنا ، فقبضته إليّ ، فوالله ما نسيت شيئاً سمعته منه ، وايم الله لولا آيةٌ في كتاب الله ما حدثتكم بشيءٍ أبداً ثم تلا : ) إنَّ الّذِينَ يَكْتُمُونَ ( ( البقرة : 184 ) الآية كلها. هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن موسى بن إسماعيل عن إبراهيم بن سعد ، وأخرجه مسلم عن قتيبة وغيره عن سفيان ، كلاهما عن الزهري. قوله : صفقاتهم في الأسواق : أراد : صفق الأكف عند البيع كانوا إذا تصافقوا بالأكف كان ذلك إمارة الملك ، وانبرام البيع ، ولذلك يضاف الأملاك إلى الأيدي ، والقبوض تقع بها.

جناب معمر نے امام زہری سے اور انہوں نے اعرج سے بیان کیا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فرمان:(إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُوْنَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیْنَاتِ وَالْھُدَی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ للِنَّاسِ فِی الْکِتَابِ).... ”جولوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، باوجود اس کے کہ ہم اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کر چکے ہیں۔‘‘ (سورۂ بقرہ:۱۵۹) کے متعلق سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ تم کہتے ہو کہ ابو ہریرہ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کثرت کے ساتھ احادیث بیان کرتا ہے، اللہ کے ہاں ہماری ملاقات ہو گی ، وہاں مجھوٹ اور سچ کا پتہ چل جائے گا اور تم کہتے ہو کیا وجہ ہے کہ مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر حدیثیں بیان کیوں نہیں کرتے؟ اور کیا وجہ ہے کہ انصار اس قدر حدیثیں بیان نہیں کرتے؟ حقیقت یہ ہے کہ مہاجرین بھائی بازار میں کاروبار میں مشغول رہتے تھے جبکہ میرے انصار بھائی کھیتوں میں مشغول رہتے تھے اور ان کی دیکھ بھال کرتے تھے اور میں مسکین آدمی تھا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس اقدس میں زیادہ بیٹھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل میں موجود رہتا جبکہ وہ غائب ہوتے اور میں آپ کے فرامین یاد رکھتا جبکہ وہ بھول جاتے تھے۔ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تم میں کون شخص ہے جو اپنا کپڑا میری باتوں کے ختم ہونے تک بچائے رکھے گا؟ پھر اس کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لے گا ، تو اسے کبھی میری باتیں نہیں بھولیں گی۔‘‘ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:چنانچہ میں نے اپنا کپڑہ بچھایا یا کہا کہ میں نے اپنی موٹی چادر بچھائی۔ پھر آپ نے ہمیں باتیں بیان کیں تو میں نے کپڑے کو اکٹھا کر لیا، پس اللہ کی قسم ! جو باتیں میں نے آپ سے سنی تھیں ، ان میں سے کچھ بھی نہیں بھولا اور اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی یہ آیت (میرے پیش نگاہ) نہ ہوتی تو میں تمہیں قطعاًً کوئی چیز بیان نہ کرتا ، پھر انہوں نے یہ آیت مکمل تلاوت کی: (اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ)۔۔۔۔۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري، ← أحمد بن عبد الله الصالحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3723

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب علامات النبوة · حديث 3724

3724 - أخبرنا أبو الحسن عبد الوهاب بن محمد الكسائي ، نا عبد العزيز بن أحمد الخلال ، نا أبو العباس الأصم ( ح ) وأخبرنا أحمد ابن عبد الله الصالحي ، وأبو الفضل محمد بن أحمد العارف ، قالا : أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري ، نا أبو العباس الأصم ، أنا الربيع ، أنا الشافعي ، أنا عبد المجيد بن عبد العزيز ، عن ابن جريج ، أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول : كان النبي ( صلى الله عليه وسلم ) إذا خطب ، استند إلى جذع نخلةٍ من سواري المسجد ، فلما صنع له المنبر ، فاستوى عليه ، اضطربت تلك السارية كحنين الناقة حتى سمعها أهل المسجد حتى نزل رسول الله [ ] فاعتنقها ، فسكتت. هذا حديث صحيح أخرجه محمد من طرق ، عن جابر. وحنين الناقة : ترجيعها صوتها إثر ولدها ، يقال : حنت ، أي : اشتاقت.

سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تو مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے ایک تنے کا سہارا لیتے پھر جب آپ کے لیے منبر بنا دیا گیا اور آپ اس پر تشریف فرما ہوئے تو وہ ستون اونٹنی کے رونے کی طرح رونے اور کپکپانے لگا حتٰی کہ اس کی آواز کو مسجد والوں نے سنا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے اور اس کو گلے لگایا تو اس نے رونا بند کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري، ← أبو الفضل محمد بن أحمد العارف ← أحمد ابن عبد الله الصالحي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← عبد العزيز بن أحمد الخلال ← أبو الحسن عبد الوهاب بن محمد الكسائي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter Signs of Prophecy · Hadith 3724

chevron_left Previous
1…300301302…362
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. (The Book of Faith)
    1. Door2. (Chapter explaining the deeds of Islam and the reward for establishing them)3. (Chapter explaining that deeds are part of faith, and that faith increases and decreases, and responding to the Murji'ah)4. (Chapter of the sweetness of faith and love of God Almighty and His Messenger (may God bless him and grant him peace)5. (Chapter of the one who embraced Islam on the good that he had previously accepted6. (Chapter of pledging allegiance to Islam and its laws and fighting with those who refuse)7. (Chapter signs of hypocrisy8. (Chapter on major sins9. Chapter He who dies does not associate anything with God10. (Chapter on pardoning self-talk11. (Chapter on responding to waswasah12. (The door of Islam began strange and will return as it began13. (Chapter on Belief in Destiny14. (Matters chapter with the will of God Almighty15. (Chapter of business with endings16. (Bab and Abdul Qadriyah17. (Children of the polytheists chapter18. (Chapter on the words of God Almighty (We turn their minds and eyes) as they did not believe in it for the first time.19. (Chapter in response to Jahmiyya20. (Chapter on responding to those who said about the creation of the Qur’an)21. (The door to sit-in with the Qur’an and Sunnah22. (Chapter Rejecting heresies and whims23. (Door to avoiding the people of passions24. (Chapter Reward for one who calls for guidance or revives Sunnah and the sin of one who invents heresy or calls for it)
3. (The Book of Knowledge)
    25. Chapter on communicating the hadith of the Messenger (may God bless him and grant him peace)26. Chapter: The Sin of Who Lied to the Prophet (may God bless him and grant him peace)27. (Chapter of those who say in the Qur’an without knowledge28. (Chapter on litigation in the Qur’an29. (Chapter of the one who narrated a hadeeth who thinks that it is a lie30. (Chapter of the hadith of the People of the Book31. (Chapter on the merit of knowledge32. (Chapter of Al-Tafaqah in Religion33. (Science scribes chapter34. (Chapter on envy in science35. (Chapter: Whoever leaves a note to benefit from it36. (Chapter and feast of the concealment of knowledge he knows37. (Chapter re-speech to understand38. (Chapter on Prevention of Fatwa39. (Chapter put the issue to friends for testing40. (Chapter on entitlement to sermon41. (The door to capture the flag
4. (The Book of Purity)
    42. (Chapter on the merit of ablution43. (Chapter on what requires ablution44. (Ablution from sleep door45. (Ablution door from touching the vulva46. (Ablution from touching a woman chapter47. Chapter Leaving ablution, which touches the fire48. (The chapter on rinsing of milk and suwaiq49. (Chapter of doubt about the event is based on certainty50. (Chapter on outdoor literature51. (The door to concealment when defecating52. (Chapter What to say if he enters the toilet53. (Chapter on hate speech to relieve the toilet54. (Chapter of the places in which it is forbidden to relieve themselves55. (Urine door standing56. (Urine in the vessel chapter57. (Chapter on cleaning oneself with water58. (Chapter on tooth brushing59. (Chapter Intention in ablution and other acts of worship60. (Chapter on washing hands when starting ablution61. (Chapter on naming it in ablution62. (The chapter on rinsing and sniffing, exaggerating them, and picking fingers63. (Chapter Pickling the beard64. (Beginning door in Mayman65. (Chapter on prolonging the bangs66. (Chapter on the obligation to wash the legs67. (Chapter on the attribute of the ablution of the Prophet (may God bless him and grant him peace)68. (Chapter on wiping the head and ears
4. (The Book of Purity)
    75. Chapter What requires washing76. Chapter on how to wash77. Door overturning braids78. Menstrual washing door79. The door of washing a man with a woman80. Ablution door thanks to others81. Ablution door thanks to women82. The side shaking hands and mixing with him door83. The door of the side if he wants to sleep, oud, or food, he does ablution84. Bab al-Muhaddith eats before ablution85. Chapter on the prohibition of reading the Qur’an on the side and staying in the mosque86. The updated section does not touch the Koran87. The door of ablution and washing water88. Chapter Water provisions89. Water door that is not defiled90. Chapter forbidding urine in permanent water91. The door of the purity of the captures of lions and kittens except for a dog92. The door to washing the impurity of a dog93. Menstrual blood washing section94. Urine door hits the ground95. The door of Paul, the boy who was not fed96. Semen that infects a garment97. The door hurts the sole98. Door tanner99. The door of tayammum100. Chapter How to perform tayammum101. Chapter prohibition of Ghashabban menstruating women from homes, as the action of the Jews102. The door of intercourse with menstruating women
5. prayer book
    111. Chapter of the virtue of the five daily prayers112. The door and the feast of the one who does not pray113. Chapter of prayer times114. The door to expediting prayers115. The door to expediting the dawn prayer116. The door to expedite the noon prayer117. The door of the refrigerator at the back in the heat118. The door to accelerate the era119. Chapter and feast from the end of the afternoon until the yellowing of the sun and the warning of the missed120. Door to accelerate Morocco121. The door to delay dinner122. The door of those who hate to be called dinner dark123. Chapter of the merit of Fajr and Asr prayers124. Chapter of the merit of evening and dawn prayers in the congregation125. Middle prayer door126. The door to hasten prayer if the imam is delayed127. The door to spend the past128. Time keeping section129. The door of the catch of time130. The door to prayer and residence, and that it is two-fold, and the residence is individual131. Chapter rewind in the call to prayer132. The door of redemption133. Chapter twisting in the call to prayer134. Chapter on the merit of the call to prayer135. Chapter answering the muezzin136. Chapter of supplication between the call to prayer and residence137. The door to prayer between the call to prayer and residence
5. prayer book
    180. (Chapter of the description of prayer181. (Chapter on takbeer at the beginning of prayer182. (Chapter on raising the hands when opening the opening takbeer, when bowing, rising from it, and standing up from the two rak'ahs183. (Chapter placing the right over the left in prayer184. (Chapter on what begins with prayer of supplication185. (Chapter on seeking refuge186. (Chapter: It is obligatory to read the beginning of the book187. (Opening the door to reciting with al-fatiha and leaving the name out loud188. (Chapter on loudly securing loudspeakers189. (Chapter on the merit of insurance190. (Chapter on reading in the afternoon and afternoon191. (The chapter on reading secrets in the afternoon and afternoon192. (Chapter on reading in the Maghrib prayer193. (Chapter on reading at dinner194. (Chapter on reading in the morning195. (Chapter on reading behind the imam and whoever said: He should not recite if the imam is speaking aloud196. (Chapter What is partial to the illiterate and the non-Muslim recitation197. (Kneeling body door198. (Chapter of the celebration of the one who does not bow and prostrate, and the necessity of tranquility in moderation199. (Chapter on what he says in bowing and prostrating200. (Chapter forbidding reading in bowing and prostrating201. (Chapter on straightening up from kneeling and prostrating202. (Chapter: What to say after straightening up from bowing203. (Bab Al Qunoot204. (Chapter on supplication in Qunoot
6. (Sections of redundancy
    281. (Chapter on Sunan salaries282. (The door of the two rak'ahs of Fajr and their preference283. (Chapter on reducing the two rak'ahs of Fajr and what is recited in them284. (The door of the dajaa after the two rak'ahs of dawn285. (Chapter of the one who prays four before noon and after four286. (Chapter on the four before afternoon and the daytime prayer statement287. (The door to prayer before sunset288. (Chapter of prayer between sunset and dinner289. (The door of the two rak'ahs after dinner
6. (Sections of redundancy
    290. Night prayer door291. The door of the one who opened his prayer with two light rak'ahs at night292. The door to lengthening night prayers293. Chapter how reading at night294. The door of incitement to pray the night295. The door of diligence in the night prayers296. The introduction of minors in the night and other things297. The door to work continuity298. The door to leave work when sleep and apathy prevail299. The door to pray in the middle of the night300. The door of reviving the end of the night and its preference301. Chapter what he says if he rises from the night302. The door of the night prayer is two by two, and the tendon is one303. The door of tendon with three and five and seven or more304. The door makes the last prayer at night and see305. The door of the initiative waxing with tendon306. Witr door before bed307. The door of greed to rise at the end of the night at the end of the tendon308. Chapter of all hours of the night time for Witr309. The door to wake up parents to tendon310. Chapter of what is read in the gut311. Chapter on the merit of Witr312. Night prayer door sitting313. Prayer of the base on the half of the prayer of the Qaem314. The door of the one who slept for his party spent it during the day315. The door to the month of Ramadan and its preference
7. Travel prayer doors
    327. The door of the prayer palace328. The door of the passport of minors in the event of security329. A door if the traveler stays in a house to how short it is330. Chapter prayer for the resident behind the traveler331. The door of those who did not volunteer to travel332. Chapter on volunteering and tendon on the traveler where she headed333. Chapter combining prayers in travel334. The door to combine with an excuse for rain
8. Friday book
    335. The door to impose Friday336. Chapter preferred on Friday and what was said in the hour of response337. The door and the slave of leaving Friday without an excuse338. Friday door in the villages339. Chapter of who is not obligated by Friday340. The door of cleaning and perfume on Friday341. Door early to Friday342. Chapter expediting the Friday prayer and the nap after it343. The door to surrender if ascending the pulpit and relying on the stick344. The door to call to prayer on Friday345. The door of the engagement standing and sitting between the two sermons346. The door of the engagement palace347. Chapter reading the Qur’an in the sermon348. The hatred of raising hands in the sermon349. The door to listen to the sermon and receive the imam350. The door of the person who entered the sermon and the imam prayed two rak'ahs351. The hatred of skipping on Friday352. The door of sleepiness turns353. Chapter reading on Friday prayers354. Chapter If the enemy was not in the direction of the Qiblah, the Imam dispersed them two divisions, and he prayed in each sect355. Chapter of the one who said: The first sect stands up and completes its prayer, then the second sect comes and the imam prays with them one rak'ah356. The door of those who said pray two rak'ahs in each sect357. Section If the enemy was from the direction of the qiblah, the Imam prayed with all of them and guarded in prostration358. The door of the two feasts
9. (Book of invitations)
    408. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for his nation409. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for the one who cursed him from his ummah is to make it a bag for him410. Chapter: The merit of remembrance of God Almighty and the majlis of dhikr411. (Chapter on drawing closer to God Almighty with redundancy and remembrance412. (The door of the one who sits in a council in which God did not mention413. (Chapter on the names of God Almighty414. (Chapter of what was said in the greatest name415. (Chapter of the Reward of Praise416. (Chapter of holding praise by hand417. (Chapter on the Reward of Hamid418. (Chapter on the Reward of Tahlil419. (Chapter: Reward Glory be to God, Praise be to God, and there is no god but God and God is Great420. (Chapter of the merits of there is no strength or power except with God421. (The door for forgiveness422. (Chapter of Repentance423. (The door to the best of forgiveness424. (Chapter what he says if he takes his bed425. Chapter426. (Chapter of what he says when it becomes427. (Chapter on what the married person says428. (Chapter of what he says when talking with parents429. (Chapter on what to say when distress430. (Chapter what to say when angry431. (Chapter of what he says when a rooster crows432. (Chapter of what he says when seeing the crescent
69. (Ablution door once
70. (Ablution door twice twice
71. (Ablution three trips
72. (Chapter on the desirability of ablution for every prayer
73. (Chapter on wiping over the socks
74. (Timing section in the survey
103. Section on the time of puerperium
104. The door of the menstruating woman, if she becomes pure, she should make up the fast and not make up the prayer
105. The chapter on the ruling of the case
106. Bab Al-Safra and Al-Brown
107. The door of his blood
108. Friday washing door
109. Door washing from washing the dead
110. The door of washing when Islam
138. The traveler's call to prayer
139. The door of the call to prayer for morning before dawn
140. The door of the call to prayer for the missed person and the residence for her
141. Chapter when the muezzin resides and when the people rise
142. The door of the one who does not hurry after residency
143. Speech after the stay
144. The door to convert Qibla from Jerusalem to the Kaaba
145. The door of a kiss who missed Mecca
146. The door to prayer in the Kaaba
147. Chapter on the merit of praying in the Grand Mosque, Madinah Mosque and Al-Aqsa Mosque
148. The door of the Al-Aqsa Mosque
149. The door of the Quba Mosque
150. Chapter of the virtue of mosques
151. The door of reward for those who built a mosque
152. Chapter preferred to attain mosques
153. The door of guidance in walking to prayer
154. Door
155. Gravel door in the mosque and sweep it
156. The door to greet the mosque
157. Chapter what to say if he entered the mosque
158. The door of the merit of sitting in the mosque to wait for prayer
159. Chapter on hatred of buying and selling in the mosque
160. The door to sleep in the mosque
161. The hatred of slugs in the mosque and towards the Qiblah
162. The door of eating garlic, not close to the mosque
163. Prayer door on the pulpit
164. Mosques door in homes and cleaned
165. The door to prayer in the pens of sheep and donated camels
166. Chapter of places where prayer was prohibited
167. Door hatred to take the grave as a mosque
168. The door to prayer in one garment
169. Door sidl in prayer
170. The door to prayer in the quilts of women
171. The hatred of prayer door in a dress with flags
172. Chapter about how many clothes a woman prays
173. The door to prayer on the winery and mats
174. Prayer door in slippers
175. Bab Sitra Al-Musalla
176. Door near the jacket
177. Blazer pot door
178. The hatred of passing in the hands of the worshiper and the permissibility of pushing him
179. Door does not cut his prayer what passed between his hands
205. (The door to prostration on seven members
206. (Chapter of the body of prostration
207. (Chapter on the merit of prostration
208. (The door to sitting between the two prostrations
209. (Chapter what he says between the two prostrations
210. (The door to sitting next to the two prostrations in the first and third
211. (Chapter How to get up
212. (Chapter on easing sitting for the first Tashahhud
213. (Chapter on how to sit for the two Tashahhuds
214. Chapter How to put the hands in the two Tashahhuds
215. (Chapter on reading the Tashahhud
216. (Chapter on concealing the tashahhud
217. Chapter: Prayer on the Prophet (may God bless him and grant him peace)
218. Chapter: The merit of praying upon the Prophet (may God bless him and grant him peace)
219. (The chapter on supplication before peace
220. (Chapter of submission in prayer
221. (Chapter on turning away from prayer
222. (The man's door leaves before the imam
223. (Door of the imam staying in the prayer hall until the women leave
224. Chapter: What is desirable to sit in the mosque after the morning prayer
225. (Dhikr chapter after prayer
226. (Chapter on the prohibition of speaking in prayer
227. (Chapter on yawning during prayer
228. (Chapter on crying in prayer
229. (Chapter on dislike abbreviation in prayer
230. (Chapter on detestation of turning around in prayer
231. (The hatred of raising the gaze to the sky in prayer
232. (The chapter on reverence during prayer
233. (Carrying a boy during prayer door
234. (Chapter on killing snakes and scorpions in prayer
235. (The door to simple work does not nullify prayer
236. (Chapter of praise if something swirls during prayer
237. (Chapter on the event in prayer
238. (Chapter on prostration for forgetfulness
239. Chapter: Whoever doubts his prayer and does not know how much he prayed based on certainty
240. (Chapter of the five noon prayers
241. (Chapter on the one who left the first tashahhud
242. (Chapter of the blessings of two rak'ahs
243. (Chapter on prostration of the Qur’an
244. (Chapter on prostration in Hajj
245. (Chapter on prostration on p
246. (Chapter on the prostration of recitation in prayer
247. (The door of prostration with the prostration of the reader
248. (Chapter on the one who neglects the prostration of recitation
249. (Chapter of what he says in the prostration of recitation
250. (Prostration of thanksgiving chapter
251. (Chapter of the times during which it is forbidden to pray
252. (Chapter on the concession to pray at midday on Friday
253. (Chapter on the permission to pray at these times in Mecca, may God protect it
254. (Chapter on what is prayed during these past times
255. Chapter: The Prophet (peace and blessings be upon him) persevering two rak'ahs after Asr
256. (Chapter on the merit of the group
257. (Emphasis on leaving the group
258. (Chapter of the permission to leave in congregation and Friday when rain and excuse
259. (Chapter of starting food if attended and if the prayer is performed
260. (Bab does not pray while he is an injector
261. (Chapter: If the prayer is established, there is no prayer except the written one
262. (Class leveling and completion chapter
263. (Chapter on the merit of the first row
264. (Who is the first in the first grade chapter
265. (Chapter of those who pray behind the row alone
266. (Chapter if there is one man with the imam standing on his right
267. (Chapter if they were three, the imam would lead, and the other two stood behind him in a row, and the woman stood behind the men alone
268. (Chapter if the imam stood in a higher place
269. (Chapter Who is the first to lead the imamate
270. (Chapter about who is the mother of a people and they hate him
271. (Chapter: What an imam must complete the prayer
272. (The Imam door reduces the prayer
273. (Mitigation section to order happen
274. (Chapter: It is obligatory to follow the imam
275. (Chapter and the feast of one who raises his head before the imam
276. (Chapter if the imam prays sitting
277. (The door to the side who prays with people who are people
278. (Chapter of the one who prays alone then catches up with a group he is praying with them
279. (Chapter of the one who prays once and then the mother of people in that prayer
280. (Women go out to mosques door
316. Bab in the night of the fifteenth of Shaban
317. Chapter preferred to volunteer at home
318. Duha prayer door
319. 4 Chapter number of Duha prayers
320. Chapter of the merit of Duha prayer
321. Door time for Duha prayer
322. Chapter of the merit of one who purifies and prays his punishment
323. The door to prayer upon repentance
324. Chapter of Istikhara prayer
325. Chapter of praise prayers
326. Chapter on the merit of volunteering
359. Exit door to the prayer hall on Eid
360. Section No call to prayer or Iqama for Eid prayer and offering prayer
361. The door to eating the day of breaking the fast before going out
362. Chapter Takbeers Eid prayer and reading in it
363. The door of someone who crosses the road if he returns from the prayer hall
364. The door to prayer before and after the Eid prayer
365. The door for women to go out to the two Eids
366. The license door to play on Eid
367. Chapter of the year of Eid al-Adha and delaying the sacrifice
368. Chapter What is desirable from the sacrifice and what is disliked from it
369. Chapter on the reward for the sacrifice
370. Chapter reward work in the tenth of Dhu al-Hijjah
371. Chapter If the tithe enters, whoever wants to sacrifice does not touch anything of his hair and nails
372. Chapter sharing in the sacrifice
373. Chapter eating from the sacrifice after three or more
374. Chapter of the eclipse prayer and its lengthening
375. Chapter of the one who prays in each rak'ah two rak'ahs and the call to prayer is combined
376. Chapter How to read in the eclipse prayer
377. The door of alienation in the eclipse
378. Chapter fear of profit
379. Star Throwing Door
380. The door of prostration when a verse occurs
381. Drops door
382. Door raising hands in dropsy
383. The door of rain of righteous people and people of the house of prophethood
384. Chapter of rain in the Friday sermon
385. The hatred of raining rain
386. The door of the unseen only God knows
387. The jutting door of the rain
388. Chapter on the merit of learning the Qur’an and teaching it
389. Chapter on the merit of reciting the Qur’an
390. Door
391. Chapter preferred to open the book
392. Chapter virtue of Surat Al-Baqara and the family of Imran
393. Chapter on the merit of Ayat al-Kursi and the two verses from the end of Surat al-Baqarah
394. Seven door height
395. Chapter preferred Surat Al-Kahf
396. Door in the pain of downloading prostration and blessing
397. Chapter of the merit of Surat Al-Ikhlas
398. The door of Almoothtin
399. Chapter How to read and rewind it
400. The door to singing the Quran
401. The door to hear the Qur’an
402. The door of pledging the Qur’an and promising those who forgot it
403. Section on how much it reads
404. Door
405. Chapter on the saying of the Prophet (may God bless him and grant him peace): The Qur’an was revealed in seven letters
406. Chapter of collecting the Qur’an
407. Door does not travel the Quran to the land of the enemy
433. (Chapter what to say if he is seen afflicted
434. Chapter What to say if it enters the market
435. (Chapter on penance for the Council
436. (Chapter what he says if he goes out to travel
437. (Chapter what to say if riding an animal
438. (Farewell door
439. (Chapter What to say if he went down
440. (Chapter on Takbir if it rises honor and praise if it is revealed
441. (Chapter what to say if locked from travel
442. (Chapter on praying for infidels with guidance
443. (Chapter on supplication for infidels
444. Chapter: Abandoning supplication to the oppressor
445. (The chapter on seeking refuge
446. (Chapter of the Mosque of supplication
447. (Encouraging supplication chapter
448. (Abandoning urgency section
449. (Chapter of the one who called, let him resolve
450. (Chapter on whose call is answered
451. (Chapter on the etiquette of supplication and raising hands in it
452. ( Door