شرح السنة للبغوي · ( كتاب العطايا والهدايا ) ‹ ( باب اللقيط · حديث 2213
2213 - أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن ابن شهاب عن سنين أبي جميلة رجل من بني سليم أنه وجد منبوذا في زمان عمر بن الخطاب ، قال : فجئت به إلى عمر بن الخطاب ، فقال : ما حملك على أخذ هذه النسمة ؟ قال : وجدتها ضائعة ، فأخذتها ، فقال عريفة : يا أمير المؤمنين إنه رجل صالح ، فقال : كذلك ؟ فقال : نعم ، قال : اذهب ، فهو حر ، ولك ولاؤه ، وعلينا نفقته. صفحة رقم 323 قال مالك : الأمر المجتمع عليه عندنا في المنبوذ أنه حر ، وولاؤه للمسلمين يرثونه ، ويعقلون عنه. قال الإمام : فيه بيان أن اللقيط إذا وجد ، لا يجوز تضييعه ، وهو محكوم بحريته وإسلامه ، فيكون ميراثه للمسلمين إذا مات ، ونفقته في بيت مال المسلمين ، وإذا التقطه غير أمين ، لا يترك في يده ، بل يأخذه الإمام ، فيضمه إلى أمين ، وينفق عليه من بيت المال.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک شخص نے دوسرے شخص سے مکان خریدا اور مکان کے خریدار کو اس کے مکان میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا جس سے وہ مکان اس نے خریدا تھا۔ اس سے اس نے کہا بھائی گھڑالے جا کیونکہ میں نے تم سے گھر خریدا ہے سونا نہیں خریدا۔ لیکن پہلے مالک نے کہا کہ میں نے گھر کو ان تمام چیزوں سمیت تمہیں بیچ دیا تھا جو اس کے اندر موجود ہوں۔ یہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے، فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے، فیصلہ کرنے والے نے ان سے کہا کہ لڑکے کا لڑکی سے نکاح کر دو اور سونا انہیں پر خرچ کر دو اور خیرات بھی کر دو۔‘‘
سُنَيْنٍ أَبِي جَمِيلَةَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Book of Gifts and Gifts) › (The foundling door · Hadith 2213
