Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 15 باب الرجل يتطرق في المسجد بالسهام ) · حديث 6759

6396 - فإذا يونس قد حدثنا قال ثنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث والليث بن سعد يزيد أحدهما على الآخر عن أبي الزبير عن جابر قال كان الرجل يتصدق بنبل في المسجد فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا يمر بها إلا وهو آخذ بنصولها

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی تیر صدقہ کرنا چاہتا تھا آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ مسجد سے وہ اس طرح گزرے کہ اس کا پھل ہاتھ میں تھام لے ( تاکہ کسی کو ایذا نہ پہنچے )

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عمرو بن الحارث والليث بن سعد يزيد أحدهما على الآخر ← بن وَهْبٍ ← فإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6759

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 15 باب الرجل يتطرق في المسجد بالسهام ) · حديث 6760

6397 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث عن الليث عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه فبين جابر في هذا الحديث أن الذين كانوا يدخلون بها المسجد إنما كانوا يريدون بها الصدقة فيه لا التخطي فهذا هو ما ما إباحه رسول الله صلى الله عليه و سلم مما في حديث أبي موسى

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ اس روایت میں جابر رضی اللہ عنہ نے وضاحت کر دی کہ مسجد میں اشیاء لے کر داخل ہونے والے صدقہ کا ارادہ رکھتے تھے مسجد کو فقط عبور کرنا مقصود نہ تھا ۔ پس یہ صورت ہے جس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے روایت ابو موسیٰ میں مباح قرار دیا ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6760

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 16 باب المعانقة ) · حديث 6761

6398 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد بن سلمة وحماد بن زيد ويزيد بن زريع عن حنظلة السدوسي عن أنس بن مالك أنهم قالوا يا رسول الله أينحني بعضنا لبعض إذا التقينا قال لا قالوا فيعانق بعضنا بعضا قال لا قالوا أفيصافح بعضنا لبعض قال تصافحوا

حنظلہ سدوسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم ایک دوسرے کے لئے جھکیں جبکہ ایک دوسرے سے ملیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا ۔ پھر ایک دوسرے سے معانقہ کریں آپ نے فرمایا نہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا ۔ کیا ایک دوسرے سے مصافحہ کریں آپ نے فرمایا مصافحہ کرو۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُمْ ← حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ← حماد بن سلمة وحماد بن زيد ويزيد بن زريع ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6761

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 16 باب المعانقة ) · حديث 6762

6399 - حدثنا أبو أمية قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا أبو هلال عن حنظلة عن أنس قال قلنا يا رسول الله ثم ذكر مثله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فكرهوا المعانقة منهم أبو حنيفة ومحمد رحمة الله عليهما وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بها بأسا وممن ذهب إلى ذلك أبو يوسف رحمة الله عليه وكان مما احتجوا به في ذلك ما

حنظلہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے عرض کیا رسول اللہ ﷺ سے پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے معانقہ کو اس روایت کی بناء پر مکروہ قرار دیا ہے ۔ ان میں امام ابو حنیفہ ، اور محمد رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔ فریق ثانی کا کہنا ہے اس میں کوئی حرج نہیں یہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے ۔ دلیل یہ روایات ہیں :

قُلْنَا ← أَنَسٍ، ← حَنْظَلَةُ، ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6762

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 16 باب المعانقة ) · حديث 6763

6400 - حدثنا فهد قال ثنا أبو كريب محمد بن العلاء قال ثنا أسد بن عمرو عن مجالد بن سعيد عن عامر عن عبد الله بن جعفر عن أبيه قال لما قدمنا على النبي صلى الله عليه و سلم من عند النجاشي تلقاني فاعتنقني

عبداللہ بن جعفر نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ہم جب جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں نجاشی کے ہاں سے پہنچے تو آپ مجھے ملے تو آپ نے مجھے گلے لگا لیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← عَامِرٍ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو ← أبو كريب محمد بن العلاء ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6763

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 16 باب المعانقة ) · حديث 6764

6401 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبيد الله بن محمد التميمي قال ثنا أبو عوانة عن الأجلح عن الشعبي قال وافق قدوم جعفر فتح خيبر فقال النبي صلى الله عليه و سلم لا أدري بأي الشيئين أنا أشد فرحا بفتح خيبر أو بقدوم جعفر ثم تلقاه فاعتنقه وقبل بين عينيه

شعبی کہتے ہیں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی آمد فتح خیبر کے موقع پر تھی تو جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں کہ آج مجھے کس بات کی زیادہ خوشی ہے آیا فتح خیبر کی یا آمد جعفر کی پھر آپ ان کو ملے تو ان کو گلے لگا لیا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم لا أدري بأي الشيئين ← وافق قدوم جعفر فتح خيبر ← الشَّعْبِيِّ، ← الأَجْلَحِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6764

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 16 باب المعانقة ) · حديث 6765

6402 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا إبراهيم بن يحيى بن محمد الشجري قال حدثني محمد بن يحيى بن عبادة قال أخبرني بن إسحاق عن محمد بن مسلم بن شهاب الزهري عن عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها قالت قدم زيد بن حارثة المدينة ورسول الله صلى الله عليه و سلم في بيتي فأتاه فقرع الباب باب فقام إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم عريانا والله ما رأيته عريانا قبله فاعتنقه وقبله وقد روى في ذلك عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ما

عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ زید بن حارثہ مدینہ میں آئے تو جناب رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تھے ۔ وہ آئے ور دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ ننگے بدن ان کی طرف اٹھے اللہ کی قسم میں نے اس سے پہلے کبھی آپ کو اس طرح ننگا جسم نہ دیکھا تھا اور آپ نے ان کو گلے لگایا اور بوسہ دیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، ← بن إِسْحَاقَ، ← محمد بن يحيى بن عبادة ← إبراهيم بن يحيى بن محمد الشجري ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6765

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 16 باب المعانقة ) · حديث 6766

6403 - حدثني محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا شعبة عن غالب التمار عن الشعبي أن أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم كانوا إذا التقوا تصافحوا وإذا قدموا من سفر تعانقوا

شعبی بیان کرتے ہیں کہ اصحاب نبی ﷺ جب ملتے تو باہمی مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو مصافحہ کرتے ۔

غَالِبٍ التَّمَّارِ، ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6766

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 16 باب المعانقة ) · حديث 6767

6404 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا أبو الوليد ح

احمد بن داؤد نے ابو الولید سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6767

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 16 باب المعانقة ) · حديث 6768

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا يحيى بن حماد قالا ثنا شعبة فذكر بإسناده مثله

یحییٰ بن حماد نے شعبہ سے روایت کی پھر اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

شعبة فذكر بإسناده مثله ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← وحدثنا بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6768

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 16 باب المعانقة ) · حديث 6769

6405 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا أبو غالب عن أم الدرداء قالت قدم علينا سلمان فقال أين أخي قلت في المسجد فأتاه فلما رآه اعتنقه فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كانوا يتعانقون فدل ذلك على أن ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من إباحة المعانقة متأخر عما روى عنه من النهي عن ذلك فبذلك نأخذ وهو قول أبي يوسف رحمه الله

ابو غالب نے ام الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہمارے ہاں سلمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے پوچھا میرا بھائی کہاں ہے ؟ میں نے کہا مسجد میں ۔ چنانچہ وہ ان کے پاس گئے جب ان کو دیکھا تو ان سے معانقہ کیا ۔ یہ اصحاب رسول اللہ ﷺ ہیں جو کہ باہمی معانقہ کرتے تھے ۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ جو روایات معانقہ کی اباحت والی ہیں وہ ممانعت والی روایات سے متاخر ہیں ۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں یہ ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔ اس باب میں امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے مسلک کو اپنایا اور معانقہ کو درست و مباح قرار دیا ہے ۔

قدم علينا سلمان ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← أبو غالب ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6769

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 17 باب الصور تكون في الثياب ) · حديث 6770

6406 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء قال ثنا شعبة عن علي بن مدرك قال سمعت أبا زرعة بن عمرو بن جرير عن عبد الله بن يحيى عن أبيه قال سمعت عليا عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا تدخل الملائكة بيتا فيه صورة

عبداللہ بن یحییٰ نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے ۔ کہ ( رحمت کے ) فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصاویر ہوں۔

لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ. ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَلِيًّا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى ← أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6770

chevron_left Previous
1…808182…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter