شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 23 كتاب الكراهة ) ‹ ( 5 باب لبس الحرير ) · حديث 6543
6197 - حدثنا يونس قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عقبة بن عامر أنه قال أهدى إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فروج حرير فلبسه ثم ذكر مثله فدلت هذه الآثار أن لبس الحرير كان مباحا وأن النهي عن لبسه كان بعد إباحته فعلمنا أن ما جاء في النهي عن لبسه هو الناسخ لما جاء في إباحة لبسه وهذا أيضا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد وأكثر العلماء وقد روى عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك ما
ابو الخیر سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو ریشم کی قبا بطور ہدیہ دی گئی پس اس کو پہنا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ۔ یہ آثار دلالت کر رہے ہیں کہ ریشم کا استعمال مباح تھا اور ممانعت اس کی اباحت کے بعد اتری ہے پس اس سے ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ جن روایات میں پہننے کی ممانعت وارد ہے وہ پہننے کے متعلق اباحت کی روایات کے لئے ناسخ ہیں اور یہ بھی امام ابو حنیفہ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر علماء امنت کا قول ہے ۔ اس سلسلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مروی روایات ملاحظہ ہوں۔
عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6543
