Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5495

5195 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرنا بن جريج أن أبا الزبير أخبره عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن بعت من أخيك ثمرا فأصابته حائجة فلا يحل لك أن تأخذ منه شيئا بم تأخذ مال أخيك بغير حق

ابو الزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اپنے بھائی کو پھل فروخت کرو پھر اس کو آفت پہنچ جائے تو تمہیں اس قیمت ( نقصان شدہ ) سے کچھ بھی لینا درست نہیں ۔ تم کیوں اپنے بھائی کا مال نا حق لیتے ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← بن جريج أن أبا الزبير ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5495

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5496

5196 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج فذكر بإسناده مثله قالوا قد بين هذا الحديث المعنى الذي ذكرناه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ما ذهب من ذلك من شيء قل أو كثر بعد أن يقبضه المشتري ذهب من مال المشتري وما ذهب في يد البائع قبل أن يقبضه المشتري بطل ثمنه عن المشتري وقالوا ما هذه الآثار المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم التي ذكرتموها فمقبول صحيح على ما جاء ولسنا ندفع من ذلك شيئا لصحة مخرجه ولكنا نخالف التأويل الذي تأولها عليه أهل المقالة الأولى ونقول إن معنى الجوائح المذكورة فيها هي الجوائح التي يصاب الناس بها ويجتاحهم في الأرضين الخراجية التي خراجها للمسلمين فيوضع ذلك الخراج عنهم واجب لازم لأن في ذلك صلاحا للمسلمين وتقوية لهم في عمارة أرضيهم فأما في الأشياء المبيعات فلا فهذا تأويل حديث جابر الذي في أول هذا الباب وأما حديث جابر الثاني فمعناه غير هذا المعنى وذلك أنه ذكر فيه البيع ولم يذكر فيه القبض فذلك عندنا على البياعات التي تصاب في أيدي بائعيها قبل قبض المشتري لها فلا يحل للباعة أخذ أثمانها لأنهم يأخذونها بغير حق فهذا تأويل هذا الحديث عندهم فأما ما قبضه المشترون وصار في أيديهم فذلك كسائر البيعات التي يقبضها المشترون لها فيحدث بها الآفات في أيديهم فكما كان غير الثمار يذهب من أموال المشترين لها لا من أموال باعتها فكذلك الثمار فهذا هو النظر وهو أولى ما حمل عليه هذا الحديث لأنه قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد

ابو عاصم نے ابن جریج سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت نے فریق اول کے مؤقف کو خوب واضح کر دیا۔ دوسروں نے کہا قبضہ کے بعد قلیل و کثیر جو کچھ نقصان ہو گا وہ خریدار کا ہو گا اور مالک کے ہاتھ میں جب تک وہ چیز موجود ہے اس وقت ہونے والے نقصان کی قیمت مشتری کے ذمہ نہ ہو گی ۔ ان آثار مرویہ میں جو کچھ آیا وہ بالکل درست ہے اسناد کی درستی کی وجہ سے کوئی بھی قابل رد نہیں ۔ البتہ ان کی وہ تاویل جو آپ نے کی ہے اس کو درست قرارنہیں دیتے ۔ درست تاویل ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت اول کی تاویل یہ ہے کہ اس سے مراد وہ آفات ہیں جو خراجی زمینوں میں پہنچیں اور لوگوں کو محتاج کر دیں تو اس وقت خراج کا ان سے ہٹانا لازم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا فائدہ ہے اور اراضی کی آبادی میں یہ چیز معاون ہے فروخت شدہ اشیاء سے اس کا تعلق نہیں ۔ اس روایت میں بیع کا ذکر ہے قبضے کا اس میں تذکرہ ہی نہیں ۔ ہمارے ہاں اس سے مراد وہ بیوع ہیں جن میں مشتری کا قبضہ ابھی ثابت نہ ہو تو اس آفت شدہ چیز کی قیمت خریدار سے لینا جائز نہیں کیونکہ وہ بلا بدل ہے ۔یہ اس روایت کی تاویل ہے باقی وہ بیوع جن پر مشتری قبضہ کرے تو دیگر تمام بیوع کی طرح اس میں پیش آمدہ آفت کا تعلق مشتری سے ہو گا جیسا کہ پھلوں کے علاوہ اشیاء میں وہ خریداروں کا مال جاتا ہے ۔ مالکوں کا اس سے تعلق نہیں ہونا پھلوں کا بھی یہی حکم ہے ۔ نظر کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس حدیث کا اس پر محمول کرنا اولیٰ ہے ۔ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5496

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5497

5197 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث ح

ابن وہب نے عمرو بن الحارث سے روایت کی ہے ۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5497

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5498

وحدثنا يونس قال أخبرنا عبد الله بن يوسف ح

یونس نے عبداللہ بن یوسف سے روایت کی ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← وحدثنا يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5498

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5499

وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث

ربیع المؤذن نے شعیب بن لیث سے روایت کی ہے ۔

شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← وحدثنا ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5499

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 8 باب الرجل يشتري الثمرة فيقبضها فيصيبها جائحة ) · حديث 5500

ح وحدثنا أبو أمية قال ثنا يحيى بن إسحاق السيلحيني قال ثنا الليث قالوا جميعا عن بكير بن الأشج عن عياض بن عبد الله عن أبي سعيد الخدري قال أصيب رجل من ثمار ابتاعها فكثر دينه [ ص 36 ] فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم تصدقوا عليه فتصدق عليه فلم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم خذوا ما وجدتم وليس لكم إلا ذلك فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يبطل دين الغرماء بذهاب الثمار وفيهم باعتها ولم يرده على الباعة بالثمن إن كانوا قد قبضوا ذلك منه ثبت أن الجوائح الحادثة في يد المشتري لا تكون مطالبة عنه شيئا من الثمن الذي عليه للبائع فإن قال قائل إن الثمار لا تشبه سائر البياعات لأنها معلقة في رؤوس النخل لا يصل إليها يد من إبتاعها إلا بقطعه إياها وسائر الأشياء ليست كذلك فما يكون مقبوضا بغير قطع مستأنف فهو الذي يذهب من مال المشتري وما كان لا يقبض إلا بقطع مستأنف فهو الذي يذهب من مال البائع قيل له هذا الكلام فاسد من وجهين أما أحدهما فإن رأينا هذه الثمار إذا بيعت في رؤوس النخل فذهبت بكمالها أو ذهب منها شيء في أيدي باعتها ذهب ذلك من أموالهم دون أموال المشترين فكان ذهاب قليلها وكثيرها في ذلك سواء لأنهم لم يقبضوها فإذا قبضوها فذهب منها ما دون الثلث فقد أجمع أنه ذاهب من مال المشتري لأنه ذهب بعد قبضه إياه فلما أستوى ذهاب قليله وكثيره في يد البائع فكان قليله إذا ذهب في يد المشتري ذهب من ماله كان ذهاب كثيره كذلك وكان المشتري لتخلية البائع بينه وبين ثمر النخل قابضا له وإن لم يقطعه فهذا وجه ووجه آخر أنا رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد نهى عن بيع الطعام حتى يقبض وأجمع المسلمون على ذلك وكانت الثمار في ذلك داخلة باتفاقهم وأجمعوا أن المشتري لها لو باعها في يد بائعها كان بيعه باطلا ولو باعها بعد أن خلى البائع بينه وبينها ولم يقطعها كان بيعه جائزا فصار قابضا لها بتخلية البائع بينه وبينها قبل قطعه إياها فثبت بذلك أن قبض المشتري المعلقة في رؤوس النخل هو بتخلية البائع بينه وبينها وإمكانه إياه منها فإذا فعل ذلك به فقد صارت في يده وضمانه وبرئ منها البائع فما حدث فيها من جائحة أتت عليها كلها أو على بعضها فهي ذاهبة من مال المشتري لا من مال البائع وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

تمام روات نے بکیر بن اشج سے انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی کے خریدے ہوئے پھل آفت سے تباہ ہو گئے اس پر قرض ہو گیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر صدقہ کرو۔ چنانچہ اسے صدقہ دیا گیا مگر وہ اتنی مقدار کو نہ پہنچا کہ جس سے قرض کی ادائیگی ہو تو آپ نے قرضداروں کو منع فرمایا یہ لے لو اور اس کے علاوہ تمہارے لئے کچھ نہیں ہے ۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے قرض داروں کا قرض پھل کے تباہ ہونے کے باوجود باطل قرار نہیں دیا اور ان قرض داروں میں فروخت کرنے والے بھی تھے اور نہ آپ نے ثمن کے ساتھ فروخت کرن ےوالے کی طرف لوٹایا کہ وہ اس پر قبضہ کر لیں ۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مشتری کے ہاتھوں میں ہونے والے نقصان کی قیمت کے متعلق بائع سے کسی چیز کی کمی کا مطالبہ نہیں کر سکتا ( اپنی مرضی سے کچھ چھوڑے یہ اس کی مرضی ہے ) اگر کوئی معترض کہے کہ پھل کو دوسری بیوع کے حکم میں شامل نہیں کر سکتے کیونکہ یہ تو کھجور کے اوپر ہوتے ہیں جہاں فروخت کرنے والے کا ہاتھ تو پھل توڑنے کی صورت میں پہنچ سکتا ہے اور دیگر اشیاء ایسی نہیں ۔ پس جو چیز کاٹنے کے بغیر قبضہ میں آتی ہے وہ خریدار کے مال سے جاتی ہے اور جو چیز کاٹنے کے بغیر قبضہ میں نہیں آتی وہ فروخت کرنے والے کے مال سے ضائع ہو گی ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا تمہاری یہ بات دو اعتبار سے غلط ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب پھلوں کو درختوں کے اوپر فروخت کریں اور وہ مکمل طور پر یا کچھ حصہ فروخت کرنے والے کے قبضہ کی صورت میں ضائع ہو جائے تو وہ فروخت کرنے والے کے مال سے ضائع ہوتا ہے خریدار کے مال سے ضائع نہیں ہوتا اس میں قلیل و کثیر کا ضیاع برابر ہے کیونکہ خریدار نے ابھی قبضہ نہیں کیا جب وہ قبضہ کر لے اور تہائی سے کم حصہ ضائع ہو تو بالا تفاق خریدار کے مال سے ضائع ہوگا۔ کیونکہ یہ اس کے قبضہ کے بعد ضائع ہوا۔ پس جب فروخت کرنے والے کے ہاتھ میں تھوڑے او ر زیادہ کا ضائع ہونا برابر ہے تو خریدار کے ہاتھ میں تھوڑے مال کا ضیاع جب اس کی طرف سے ضیاع شمار ہوتا ہے تو زیادہ کا ضیاع بھی اسی کی طرف سے ہوگا اور بائع کا خریدار کو اجازت دینا قبضہ قرار پائے گا۔ یہ فاسد ہونے کی اول وجہ ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے قبضہ کے بغیر غلہ کی فروخت کی ممانعت فرمائی ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے اور پھل بھی سب کے نزدیک اس میں داخل ہیں اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر وہ خریدار کے قبضہ میں ہوں اور خریدار فروخت کر دے تو یہ بیع باطل ہو گی اور اگر وہ بائع کی طرف سے پھلوں تک رسائی کی اجازت دینے کے بعد فروخت کرے اور ابھی پھل نہ توڑے تو یہ بیع جائز ہے ہے کیونکہ بائع کی طرف سے رکاوٹ کے خاتمہ پر وہ پھلوں پر قابض ہو گیا ہے اگر اس سے وہ پھل توڑے نہیں ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ درخت پر لگے ہوئے پھلوں پر خریدار کا قبضہ یہی ہے کہ مالک اسے پھلوں تک پہنچنے کی اجازت دے دے اور وہ ان پر قدر ت پا لے جب وہ ایسا کرے گا تو پھل اس کے قبضہ اور ضمان میں آ گئے اور بائع ان سے بری الذمہ ہو گیا اب جو آفت ان پھلوں پر آئے گی خواہ تمام یا بعض کا ضیاع ہو وہ خریدار کے مال کی ہلاکت ہو گی بائع کے مال سے نہیں ۔ یہی امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

قَائِلٌ ← أصيب رجل من ثمار ابتاعها فكثر دينه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← جَمِيعًا ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5500

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5501

5198 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب وعفان قالا ثنا شعبة عن عبد الله بن دينار عن بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من اشترى طعاما فلا يبيعه حتى يقبضه

عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نےجناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ جس نے غلہ خریدا اس کو اس وقت تک فروخت نہ کرے یہاں تک کہ وہ اس پر قبضہ کرے ۔

مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← وهب وعفان ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5501

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5502

5199 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن عبد الله بن دينار عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5502

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5503

5200 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا يونس بن محمد قال ثنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر عن عمر بن الخطاب عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5503

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5504

5201 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا شجاع بن الوليد عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من اشترى طعاما فلا يبيعه حتى يستوفيه

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا کہ جس نے غلہ خریدا اس کو فروخت نہ کرے جب تک کہ پورے طور پر وصول نہ کر لے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5504

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5505

5202 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر عن عبد الله بن دينار عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من اشترى طعاما فلا يبيعه حتى يقبضه

عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو غلہ خریدے اس کو اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک کہ وہ قبضہ نہ کرے۔

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5505

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 9 باب ما نهى عن بيعه حتى يقبض ) · حديث 5506

5203 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني عبيد الله بن عمر وعمر بن محمد ومالك وغيرهم أن نافعا حدثهم عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من اشترى طعاما يبيعه حتى يستوفيه

نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ جس نے غلہ خریدا وہ اس کو پورے طور پر وصول کرنے کے بغیر فروخت نہ کرے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عبيد الله بن عمر وعمر بن محمد ومالك وغيرهم أن نافعا ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5506

chevron_left Previous
1…585586587…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter