Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5399

5108 - فإذا يونس قد حدثنا قال ثنا سفيان عن أبي الزبير قال سمعت جابرا يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يبيع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض

ابوالز بیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول ﷺ نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی سے سودا نہ کرے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ والله تعالی ان کو ایک دوسرے سے رزق دے گا۔

جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← فإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5399

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 3 باب تلقي الجلب ) · حديث 5400

5109 - حدثنا فهد قال ثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا وهيب عن عطاء بن حكيم بن أبي زيد أنه جاءه في حاجة قال فحدثني عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال دعوا الناس فليصب بعضهم من بعض وإذا استنصح أحدكم أخاه فلينصح له فعلمنا بذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما نهى الحاضر أن يبيع للبادي لأن الحاضر يعلم أسعار الأسواق فيستقصي على الحاضرين فلا يكون لهم في ذلك ربح وإذا باعهم الأعرابي على غرته وجهله بأسعار الأسواق ربح عليه الحاضرون فأمر النبي صلى الله عليه و سلم أن يخلى بين الحاضرين وبين الأعراب في البيوع ومنع الحاضرين أن يدخلوا عليهم في ذلك فإذا كان ما وصفنا كذلك وثبت إباحة التلقي الذي لا ضرر فيه بما وصفنا من الآثار التي ذكرنا صار شرى المتلقي منهم شرى حاضر من باد فهو داخل في قول النبي صلى الله عليه و سلم دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض وبطل أن يكون في ذلك خيار للبائع لأنه لو كان له فيه خيار إذا لما كان المشتري في ذلك ربح ولا أمر النبي صلى الله عليه و سلم حاضرا أن يعترض عليه ولا أن يتولى البيع للبادي منه لأنه يكون بالخيار في فسخ ذلك البيع أو يرد له ثمنه إلى الأثمان التي تكون في بياعات أهل الحضر بعضهم من بعض ففي منع النبي صلى الله عليه و سلم الحاضرين من ذلك إباحة الحاضرين التماس غرة البادين في البيع منهم والشراء منهم وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين

وہیب نے عطاء بن حکیم بن ابوزید سے روایت کی ہے کہ میں ایک کام کے لئے ان کے ہاں گیا توانہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لوگوں کو چھوڑ دو بعض بعض سے فائدہ اٹھائیں گے جب تم میں سے کوئی نصیحت طلب کرے تو وہ اپنے بھائی کو مخلصانہ نصیحت کرے۔ ان روایات سے معلوم ہوگیا کہ جناب رسول ﷺنے شہری کو دیہاتی سے سودا کرنے سے اس وجہ سے منع فرمایا کیونکہ شہری کو منڈی کے بھاؤ معلوم ہیں۔ وہ شہریوں پر انتہائی بھاؤ لگائے گا اس طرح ان کو کچھ بھی نفع نہ ہوگا اور جب دیہاتی بازار کا بھاؤ معلوم نہ ہونے کی حالت میں پہنچے گا تو دوسرے شہریوں کو بھی نفع پہنچے گا تو جناب رسول ﷺنے حکم فرمایا کہ شہریوں اور دیہاتیوں کو خرید و فروخت میں آزاد چھوڑ دیا جائے اور شہریوں کو اس سلسلہ میں ان کے ہاں جانے سے منع کر دیا۔ اب جبکہ یہ بات اس طرح ہے جیسا کہ ہم نے بیان کی تو اب آگے جا کر اس سودہ کرنے کی اباحت ثابت ہوئی جس میں شہریوں کوضرر نہ ہو۔ جن روایات کو ہم نے ذکر کیا ہے اس میں باہرنکل کر خریدنے والے کا خریدنا دہ شہری کے دیہاتی سے خریدنے کی طرح ہوا۔ پس یہ جناب رسول ﷺ کے قول دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض میں داخل ہے اور اس سے بائع کے خیار کا بطلان بھی ثابت ہوگیا کیونکہ اگر اس کو اختیار ہوگا تو مشتری نفع سے قطعا محروم رہے گا اور پھر آپ کی بھی حکم نہ فرماتے کہ اس کے سلسلہ میں کوئی تعرض کرے اور نہ یہ فرماتے کہ کوئی دیہاتی کے لئے خریداری کا ذمہ دارانہ بنے کیونکہ اس کو تو خود ذاتی طور پر بیع کے فسخ کا اختیار حاصل ہے یا اس کی ثمن کے رد کرنے کا اختیاران اثمان کے ساتھ حاصل ہے جو شہریوں کی بیوع میں ایک دوسرے کی طرف واپس ہوتی ہیں۔ جناب رسول ﷺ کے حاضرین کو اس بات سے روک دینے سے شہریوں کے لئے اس بات کا جوازمل گیا کہ وہ دیہاتیوں کی بے خبری سے فائدہ اٹھائیں اور ان سے سودا خر ید ہیں۔ یہ امام ابوحنیفہ ابو یوسف محمد رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک ہے۔

أَبِيهِ ← فحدثني ← عطاء بن حكيم بن أبي زيد أنه جاءه في حاجة ← وُهَيْبٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5400

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5401

5110 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة ح

ابراہیم بن مرزوق نے وہب سے انہوں نے شعبہ سے۔

شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5401

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5402

وحدثنا إبراهيم قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان ح

ابراہیم نے ابوحذیفہ سے انہوں نے سفیان سے۔

سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5402

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5403

وحدثنا أبو بكرة قال أخبرنا مؤمل قال أخبرنا سفيان ح

ابوبکرہ نے مومل سے انہوں نے سفیان سے۔

سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5403

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5404

وحدثنا نصر بن مرزوق قال أخبرنا علي بن معبد قال ثنا إسماعيل بن جعفر قالوا جميعا عن عبد الله بن دينار عن بن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال كل بيعين فلا بيع بينهما حتى يتفرقا أو يكون بيع خيار

نصربن مرزوق نے علی بن معبد سے انہوں نے اسمائیل بن جعفرسے۔ تمام نے عبداللہ بن دینارسے . انہوں نے ابن عمررضی اللہ عنہ ر سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا خریدار اور بائع کے درمیان سودا اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں یا اس خرید وفروخت میں وہ خیار طے کر لیں۔

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← جَمِيعًا ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5404

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5405

5111 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عارم قال ثنا حماد بن زيد قال ثنا أيوب عن نافع عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم البيعان بالخيار ما لم يتفرقا قال أو يقول أحدهما لصاحبه اختر وربما قال أو يكون بيع خيار

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب نبی اکرمﷺ نے فرمایا باہمی خرید وفروخت کرنے والوں کو جدا ہونے تک اختیار ہوتا ہے یا ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ نہیں اختیار ہے بعض اوقات اس طرح فر ما یا یہ بیع خیار و الی ہو گی۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5405

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5406

5112 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا شجاع عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كل بيعين بالخيار ما لم يتفرقا أو يكون بيع خيار

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول ﷺ نے فرمایا خرید وفروخت کرنے والوں کو جدا ہونے سے پہلے تک اختیار ہے یابیع خیار ہے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← شجاع ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5406

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5407

5113 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن قتادة عن أبي الخليل عن عبد الله بن الحارث عن حكيم بن حزام عن النبي صلى الله عليه و سلم قال البيعان بالخيار حتى يتفرقا أو ما لم يتفرقا فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما وإن كذبا وكتما محقت بركة بيعهما

عبداللہ بن حارث حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرمﷺ سےروایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا خریدار اور فروخت کنندہ کو اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں انہوں نے حتى يتفرقا يا مالم يتفرق فرمایا۔ اگر وہ دونوں سچ بولنے اور بات واضح کرنے والے ہوں گے تو سودے میں برکت ڈال دی جائے گی اور اگر انہوں نے جھوٹ اور کتمان عیب سے کام لیاتو سودے کی برکت ختم کردی جائے گی۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5407

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5408

5114 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا هشام بن حسان عن أبي الوضئ عن أبي برزة أنهم اختصموا إليه في رجل باع جارية فنام معها البائع فلما أصبح قال لا أرضاها فقال أبو برزة إن النبي صلى الله عليه و سلم قال البيعان بالخيار ما لم يتفرقا وكانا في خباء شعر

ابو الوضئ نے حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ ان کے ہاں لوگ ایک لونڈی کی بیع کا مقدمہ لے کر آئے پھر بائع ان دونوں کے پاس سو گیا صبح ہوئی تو اس نے کہا مجھے لونڈی پسند نہیں ۔ حضرت ابو برز رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا۔ بائع اورمشتری کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں اور یہ دونوں ایک اونی خیمے میں تھے۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← أَبِي الْوَضِيِّ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5408

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5409

5115 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال أخبرنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد عن حميد بن مرة عن أبي الوضئ قال نزلنا منزلا فباع صاحب لنا من رجل فرسا فأقمنا في منزلنا يومنا وليلتنا فلما كان الغد قام الرجل يسرج فرسه فقال له صاحبه إنك قد بعتني فاختصما إلى أبي برزة فقال إن شئتما قضيت بينكما بقضاء رسول الله صلى الله عليه و سلم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول البيعان بالخيار ما لم يتفرقا وما أراكما تفرقتما

ابوالوضئ کہتے ہیں کہ ہم ایک پڑاو پراترے تو ہمارے ایک ساتھی نے ایک شخص کو گھوڑا فروخت کیا ہم اس منزل پر ایک دن رات ٹھہرے دوسرے دن وہ شخص کھڑا ہوا اور گھوڑے پر زین کسنے لگا خریدار نے کہا تم نے یہ میرے ہاتھ فروخت کر دیا ہے پھر وہ اپنا جھگڑالے کر حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا اگرتم پسند کرو میں تمہارے مابین جناب رسول اکرمﷺ والے فیصلے کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہوں میں نے جناب رسول ﷺکوفرماتے سنا آپ نے فرمایا خرید وفروخت کرنے والے کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدانہ ہوں اور میرے خیال میں تم ایک دوسرے جدا نہیں ہوئے۔

أَبِي الْوَضِيِّ، ← حميد بن مرة ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5409

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 13 كتاب البيوع ) ‹ ( 4 باب خيار البيعين حتى يتفرقا ) · حديث 5410

5116 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال أخبرنا همام عن قتادة عن صالح أبي الخليل عن عبد الله بن الحارث عن حكيم بن حزام أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال البيعان بالخيار حتى يتفرقا أو ما لم يتفرقا فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما فإن كذبا وكتما فعسى أن يدور بينهما فصل وتمحق بركة بيعهما قال همام فسمعت أبا التياح يقول سمعت هذا الحديث من عبد الله بن الحارث عن حكيم بن حزام عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثل هذا

عبدالله بن حارث نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول ﷺ نے فرمایا بائع و مشتری کو جدا ہونے تک خیار ہوتا ہے اگر وہ سچ کہیں گے اور چیز کی حقیقت بتلا دیں گے تو ان کو برکت دی جائے گی اور اگر وہ چھپائیں گے تو ممکن ہے کہ مال کی گردش تو باقی رہے گر سودے کی برکت مٹ جائے۔ ہمام راوی کہتے ہیں میں نے الوالتیاح کو کہتے سنا کہ میں نے یہ روایت خود عبد الله بن الحارث عن حکیم بن حزاعن النبیﷺ کی اسی سند اسی طرح سنی ہے۔

حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5410

chevron_left Previous
1…577578579…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter