شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 11 كتاب السير ) ‹ ( 2 باب ما يكون الرجل به مسلما ) · حديث 5015
4741 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الله بن بكر قال ثنا بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال قلت يا رسول الله ما آية الإسلام قال أن تقول أسلمت وجهي لله وتخليت وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتفارق المشركين إلى المسلمين فلما كان جواب رسول الله صلى الله عليه و سلم لمعاوية بن حيدة لما سئل عن آية الإسلام أن تقول أسلمت وجهي لله وتخليت وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتفارق المشركين إلى المسلمين وكان التخلي هو ترك كل الأديان إلى الله ثبت بذلك أن كل من لم يتخل مما سوى الإسلام لم يعلم بذلك دخوله في الإسلام وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين
بہنر بن حکیم نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اسلام کی نشانی کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا تم اس طرح کہو میں نے اپنے چہرے کو اللہ تعالی کے سپرد کیا اور میں نے سب سے بیزاری اختیار کیاور نماز کو تو قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے اور مشرکین سے الگ ہو کر مسلمانوں کے ہاں آجاؤ ۔ رسول اللہ ﷺ کا جواب معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کو یہی تھا جبکہ انہوں نے آپﷺ نے اسلام کی نشانی دریافت کی کہ تم اسلمت وجھی للہ کا اقرار کرے اور دوسروں (ادیان) سے بیزاری اختیار کرے نماز کو قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے اور مشرکین سے کٹ کر مسلمانوں کے ہاں آجائے ۔ تخلی کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالی کے سچے دین کو اختیار کرے اور تمام ادیان کو چھوڑ دے اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس نے اسلام کے علاوہ سے علیحدگی اختیار نہ کی تو اس کا اسلام میں داخلہ معلوم نہ ہو سکے گا ۔ یہی امام ابو حنیفہ ،ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب ہے ۔
قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← بن مرزوق
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5015
