شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 11 باب سرقة الثمر ) · حديث 4883
4614 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك أيضا ففرق رسول الله صلى الله عليه و سلم في الثمار المسروقة بين ما أواه الجرين منها وبين ما لم يأوه وكان في شجره فجعل فيما أواه الجرين منها القطع وفيما لم يأوه الجرين الغرم والنكال فتصحيح هذا الحديث وما رواه رافع عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله لا قطع في ثمر ولا كثر أن يجعل ما روى رافع هو على ما كان في الحوائط التي لم يحرز ما فيها على ما في حديث عبد الله بن عمرو مما زاد على ما في حديث رافع فهو خلاف ما في حديث رافع ففي ذلك القطع ولا قطع فيما سوى ذلك يستوي هذان الأثران ولا يتضادان وهذا قول أبي يوسف رحمه الله كتاب الجنايات
عمرو بن شعیب نے اپنے والد ، انہوں نے اپنے دادا سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کو روایت کیا ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ چرائے ہوئے پھلوں اور سٹور میں محفوظ پھلوں اور کو درخت پر ہوں اور محفوظ نہ کئے گئے ہوں ان میں سے سٹور میں محفوظ پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور جو محفوظ نہ ہوں ان میں چٹی اور سزا کا حکم فرمایا۔ تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ والی روایت لاقطع طی ثط ولا کثر اس کو ایسے احاطوں والا قرار دیں جن کو دروازے و چوکیدار سے محفوظ نہ کیا گیا ہو جیسا کہ حدیث عبداللہ بن عمرو میں ہے جو حدیث رافع کے علاوہ میں ہے حدیث رافع کے خلاف ہے اس میں ہاتھ کاٹے جائیں گے اس کے علاوہ میں قطع نہیں ہے اب یہ دونوں آثار برابر ہو گئے متضاد نہ رہے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔
هذا قول أبي يوسف كتاب الجنايات ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4883
