شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 9 كتاب الأيمان والنذور ) ‹ ( 4 باب الرجل يوجب على نفسه المشي إلى بيت الله ) · حديث 4703
4441 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عيسى بن إبراهيم قال ثنا عبد العزيز بن مسلم قال ثنا يزيد بن أبي منصور عن دخين الحجري عن عقبة بن عامر الجهني قال نذرت أختي أن تمشي إلى الكعبة حافية حاسرة فأتى عليها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ما بال هذه قالوا نذرت أن تمشي إلى الكعبة حافية حاسرة فقال مروها فلتركب ولتختمر قال أبو جعفر رحمه الله فذهب قوم إلى هذه الآثار فقالوا من نذر أن يحج ماشيا أمر أن يركب ولا شيء عليه غير ذلك وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا يركب كما جاء في هذا الحديث فإن كان أراد بقوله لله علي معنى اليمين فعليه مع ذلك كفارة يمين لأن معنى لله علي قد يكون في معنى والله لأن النذر معناه معنى اليمين وقد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أن في النذر كفارة يمين فمما روي في ذلك ما
دخین الحجری نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ ننگے سر اور ننگے پاؤں بیت اللہ جائے گی جناب رسول اللہ ﷺ اس کے ہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا اسے کیا ہے انہوں نے بتلایا کہ اس نے کعبہ تک ننگے سر ننگے پاؤں چلنے کی نذر مانی ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ اس کو کہو کہ سوار ہو جائے اور دوپٹہ پہنے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ جس ادمی نے یہ نذر مان لی کہ وہ پیدل حج کرے گا تو اسے سوار ہونے کا حکم ہو گا اس کے علاوہ اس پر کوئی چیز لازم نہیں ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسے یہ چاہیے کہ وہ سوار ہو جائے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا۔ اب اگر للہ علی سے قسم مقصود تھی تو اس کے ذمہ قسم کا کفارہ بھی ہوگا کیونکہ بعض اوقات یہ الفاظ قسم کے لئے آتے ہیں کیونکہ نذر و قسم کا ایک ہی مطلب ہے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلہ میں حدیث مروی ہے کہ ان فی النذر کفارۃ یمین کہ نذر میں قسم کا کفارہ ہے ۔
نَذَرَتْ أُخْتِي ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← دخين الحجري ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بن أبي داود
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4703
