Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6291

5951 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة قال أنا ثابت وحميد عن أنس قال كنت أسقي أبا طلحة وسهيل بن بيضاء وأبا عبيدة بن الجراح وأبا دجانة خليط البسر والتمر حتى أشرعت فيهم فنادى رجل ألا إن الخمر قد حرمت فوالله ما انتظروا حتى يعلموا أحقا ما قال أن باطلا فقالوا أكفئ إناءك يا أنس فكفأتها فلم يرجع إلى رؤوسهم حتى لقوا الله عز و جل وكان خمرهم يومئذ البسر والتمر

حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں حضرت ابو طلحہ سہیل بن بیضاء ابو عبیدہ بن جراح اور ابو دجانہ رضی اللہ عنہم کو کچی ، پکی کھجور کا نبیذ پلا رہا تھا یہاں تک کہ اس نے ان میں اپنا اثر شروع کیا۔ اسی وقت ایک منادی نے ندا دی سنو ! بے شک شراب حرام کر دی گئی ۔ اللہ کی قسم انہوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے بھی انتظار نہ کیا کہ آیا یہ سچی بات ہے یا جھوٹی سب نے کہا اے انس اپنا برتن الٹ دو پھر وہ نشہ ان کے سروں کی طرف نہیں لوٹا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملے ان دنوں شراب کچی اور پکی کھجوروں کی ہوتی تھی۔

أبا دجانة خليط البسر والتمر حتى أشرعت فيهم فنادى رجل ألا ← أبا عبيدة بن الجراح ← سهيل بن بيضاء ← كنت أسقي أبا طلحة ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6291

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6292

5952 - حدثنا عبد الله بن محمد بن خشيش قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا هشام عن قتادة عن أنس قال إني لأسقي أبا طلحة وأبا دجانة وسهيل بن بيضاء خليط بسر وتمر إذ حرمت الخمر فارقتها وأنا ساقيهم يومئذ وأصغرهم وإنا نعدها يومئذ خمرا قالوا هذا ما يدل على أن ذلك كان خمرا أيضا قيل لهم ليس في ذلك دليل على ما ذكرت لأنه قد يجوز أن يكون الشراب نقيع تمر مخمر فثبت بذلك قول من كره نقيع التمر ولا يجب بذلك حجة حرمة طبيخه ويحتمل أن يكونوا فعلوا ذلك لعلمهم أن كثير ذلك مسكر فلم يأمنوا على أنفسهم الوقوع فيه لقرب عهدهم به فكسروه لذلك وأما قول أنس وإنها لخمرنا يومئذ فيحتمل أن يكون أراد بذلك ما كنا نخمر والدليل على ذلك ما

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں حضرت ابو طلحہ ، ابو دجانہ ، سہیل بن بیضاء کو کچی ، پکی کھجور کا نبیذ پلا رہا تھا جبکہ شراب کے حرام ہونے کا اعلان ہوا میں ان میں سے سب سے چھوٹا اور ان کا ساتھی تھا میں نے وہ ساری شراب بہادی ہم ان دنوں اسی کو شراب شمار کرتے تھے ۔ یہ روایات دلالت کرتی ہیں کہ کچی پکی کھجور کا نبیذ بھی شراب تھی۔ ان کو جواب میں کہے کہ ان روایات میں تو کوئی دلیل نہیں جو تمہاری اس بات کو ثابت کرے کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ شراب کھجور سے بنائی شراب کا نچوڑ ہو۔ اس سے تو ان لوگوں کا قول ثابت ہو گیا جو کھجور کے نچوڑ کو ناپسند کرتے ہیں اس سے پکے ہوئے نبیذ کی حرمت تو نہ ثابت ہو سکی اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے یہ اس لئے کیا ہو کہ وہ جانتے تھے کہ اس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہے اور ان کو شراب کا زمانہ قریب ہونے کی وجہ سے اس میں دوبارہ مبتلا ہونے کا خطرہ ہو اسی کے پیش نظر انہوں نے اس کے برتن بھی توڑ ڈالے ۔ باقی حضرت انس رضی اللہ عنہ کا قول " انہ لخمر نا یو منذ " اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ان مراد یہ ہو کہ ہم اس کو خمر بنا لیتے تھے اور اس احتمال کی دلیل یہ روایت ہے ۔

نعدها يومئذ خمرا ← ساقيهم يومئذ وأصغرهم، ← سهيل بن بيضاء خليط بسر وتمر إذ حرمت الخمر فارقتها ← أبا دجانة ← إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عبد الله بن محمد بن خشيش

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6292

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6293

5953 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا بن شهاب عن أبي ليلى عن عيسى أن أباه بعثه إلى أنس في حاجة فأبصر عنده طلاء شديدا والطلاء ما يسكر كثيره فلم يكن ذلك عند أنس خمرا وإن كثيره يسكر وثبت بما وصفنا أن الخمر عند أنس لم يكن من كل شراب ولكنها من خاص من الأشربة وقد وجدنا من الآثار ما يدل على ما ذكرنا أيضا مما تأولنا عليه أحاديث أنس

ابو لیلیٰ نے عیسیٰ سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کام کے لئےبھیجا ۔ میں نے وہاں سخت قسم کا طلاء دیکھا۔ طلاء وہ ہے جس کا زیادہ پینا نشہ لائے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں یہ خمر میں شمار نہیں ہوتا تھا حالانکہ اس کا زیادہ پینا نشہ آور تھا۔ اس بات سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں ہرشراب خمر نہیں بلکہ وہ خاص مشروبات سے حاصل ہوتی ہے ہمیں اور بھی آثار ایسے ملتے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں جو ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایات کی تاویلات میں پیش کئے ہیں۔

أَبِي لَيْلَى ← بن شِهَابٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6293

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6294

5954 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا مسعر بن كدام عن أبي عون الثقفي عن عبد الله بن شداد بن الهاد عن عبد الله بن عباس قال حرمت الخمر بعينها والسكر من كل شراب فأخبر بن عباس أن الحرمة وقعت على الخمر بعينها وعلى السكر من سائر الأشربة سواها فثبت بذلك أن ما سوى الخمر التي حرمت مما يسكر كثيره قد أبيح شرب قليله الذي لا يسكر على ما كان عليه من الإباحة المتقدمة تحريم الخمر وأن التحريم الحادث إنما هو في عين الخمر والسكر مما في سواها من الأشربة فاحتمل أن يكون الخمر المحرمة هي عصير العنب خاصة واحتمل أن يكون كل ما خمر من عصير العنب وغيره فلما احتمل ذلك وكانت الأشياء قد تقدم تحليلها جملة ثم حدث تحريم في بعضها لم يخرج شيء مما قد أجمع على تحليله إلا بإجماع يأتي على تحريمه ونحن نشهد على الله عز و جل أنه حرم عصير العنب إذا حدثت فيه صفات الخمر ولا نشهد عليه أنه حرم ما سوى ذلك إذا حدث فيه مثل هذه الصفة فالذي نشهد على الله بتحريمه إياه هو الخمر الذي آمنا بتأويلها من حيث قد آمنا بتنزيلها والذي لا نشهد على الله أنه حرم هو الشراب الذي ليس بخمر فما كان من خمر فقليله وكثيره حرام وما كان مما سوى ذلك من الأشربة فالسكر منه حرام وما سوى ذلك منه مباح هذا هو النظر عندنا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله غير نقيع الزبيب والتمر خاصة فإنهم كرهوا وليس ذلك عندنا في النظر كما قالوا لأنا وجدنا الأصل المجمع عليه أن العصير وطبيخه سواء وأن الطبخ لا يحل به ما لم يكن حلالا قبل الطبخ إلا الطبخ الذي يخرجه من حد العصير إلى أن يصير في حد العسل فيكون بذلك حكمه حكم العسل فرأينا طبيخ الزبيب والتمر مباحا باتفاقهم فالنظر على ذلك أن يكون فيهما كذلك فيستوي نبيذ التمر والعنب النئ والمطبوخ كما استوى العصير وطبيخه فهذا هو النظر ولكن أصحابنا خالفوا ذلك للتأويل الذي تأولوا عليه حديث أبي هريرة وأنس اللذين ذكرنا وشئ رووه عن سعيد بن جبير فإنه

عبدالله بن شداد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ شراب تو بعینہ حرام ہے اور ہر وہ مشروب جو نشہ لے آئے وہ بھی حرام ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ حرمت تو معینہ شراب پرواع ہوئی اور بقیہ مشروبات میں نشے کی حد تک پہنچنے میں واقع ہوئی اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ شراب کے علاوہ دیگر مشروبات کی وہ مقدار حرام ہے جونشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی مقدار کا پینا مباح ہے جو کہ نشہ آور نہ ہو اور شراب کے حرام ہونے سے پہلے اس کی جواباحت ہے اور نئی تحریم وہ معینہ شراب میں تھی اور بقیہ مشروبات میں جو مقدار نشے کو پہنچ جائے ۔ پس اس میں یہ احتمال ہوا کہ حرام شراب وہ خاص طور پر انگوروں کا نچوڑ ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ ہر وہ چیز جو خمار پیدا کرے انگور کے نچوڑ وغیرہ میں سے۔ وہ شراب ہے جب اس بات کا احتمال پیدا ہو گیا تمام چیزوں کو حلت کو پہلے ہے پھر بعض کی حرمت نئی پیدا ہوئی فلہذا جس کے حلال ہونے پر اجماع ہے وہ اس سے نہ نکلے گی جب تک کہ اس کی حرمت پر اجماع ثابت نہ ہو اور ہم الله تعالی کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ اس نے انگوروں کے نچوڑ کو حرام کیا جبکہ اس میں خمر والی صفات پیدا ہوجائیں اور ہم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اس کے علاوہ سب کو حرام کیا ہے جبکہ اس میں اس جیسی حالت پیدا ہوجائے پس جس کی حرمت پر ہم گواہ ہیں وہی ہے کہ جس کی تاویل پرہم ایمان لائے اس طور پر کہ ہم اس کی تنزیل پرایمان لائے اور وہ کہ جس کے بارے میں ہم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ نے اس کو حرام کیا ہے وہ وہی مشروب ہے جو نشہ پیدا نہیں کرتا اور جو نشہ پیدا کرتا ہے اس کی قلیل و کثیر مقدار حرام ہے اور جو اس کے علاوہ مشروبات ہیں ان سے نشے کی مقدار حرام ہے اس کے علاوہ مقدار جائز ہے نظر کا ہمارے نزدیک یہی تقاضا ہے یہ امام ابوحنیفہ ابو یوسف محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے سوائے کشمش اورکھجور کے خاص نچوڑ کے۔ اس کو انہوں نے مکروہ قرار و یا قیاس کے اعتبار سے یہ بات ہمارے نزدیک اس طرح نہیں جیسے انہوں نے کہی ہے کیونکہ ایک اتفاقی اصل یہ ہے کہ نچوڑ اور پکایا ہوا دونوں برابر ہیں اور پکانے سے وہ چیز حلال نہیں ہو جاتی جو کہ پکانے سے پہلے حلال نہیں تھی مگر ایسا پکانا جو اس کو عصیر کی حد سے ہی نکال دے اور وہ شہد کی حد میں داخل ہو جائے اس کا حکم شہد والا ہوگا ہم دیکھتے ہیں کہ کشمش اور کھجور کا پکا ہوا رس بالاتفاق مباح ہے پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں میں حکم ایک جیسا ہو اور اس صورت میں انگور اور کھجور کا نبیذ خواہ کچا ہو یا پکا وہ برابر ہو جائیں گے کہ یہ نظر کا تقاضا ہے لیکن ہمارے علماءنے اس کی مخالفت کی ہے اس کی وجہ وہ تاویل ہے جو انہوں نے روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ کے متعلق گزشتہ سطور میں اختیار کی ہے اور حضرت سعید ابن جبیر کی روایت سے بھی استدلال کیا ہے جو کہ یہ ہے۔

حرمت الخمر بعينها والسكر من كل شراب فأخبر بن عباس ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6294

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 1 باب الخمر المحرمة ما هي ) · حديث 6295

5955 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال أنا هشام عن بن شبرة عن سعيد بن جبير أنه قال في ذلك هي الخمر فاجتنبها

ابن شبرہ نے سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا یہ شراب ہے اس سے گریز کرو یعنی کشمش اور کھجور کا رس۔

في ذلك هي الخمر فاجتنبها ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ ← بن شبرة ← هِشَامٍ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6295

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6296

5956 - حدثنا يزيد بن سنان وربيع الجيزي قالا ثنا عبد الله بن مسلمة قال ثنا عبد الله بن عمر عن عبد الرحمن بن زياد عن مسلم بن يسار عن سفيان بن وهب الخولاني عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كل مسكر حرام

سفیان بن وہب خولانی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اس کی تخریج آئندہ روایت میں دیکھ لیں ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سفيان بن وهب الخولاني ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← يزيد بن سنان وربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6296

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6297

5957 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال أنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كل مسكر خمر وكل مسكر حرام

ابو سلمہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نشہ والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے۔

بن عُمَرَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6297

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6298

5958 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال أنا محمد بن عمرو فذكر بإسناده مثله

یزید بن ہارون نے محمد بن عمرو سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

محمد بن عمرو فذكر بإسناده مثله ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6298

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6299

5959 - حدثنا محمد بن خزيمة قال أنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة وابن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

محمد بن عمرو نے ابو سلمہ سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6299

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6300

5960 - حدثنا بن أبي داود قال أنا الربيع الزهراني قال أنا حماد بن زيد عن أيوب عن نافع عن بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الربيع الزهراني ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6300

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6301

5961 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا الخطاب بن عثمان قال ثنا عبد المجيد عن بن جريج عن أيوب السختياني عن نافع عن بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الْمَجِيدِ، ← الْخَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6301

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 22 كتاب الأشربة ) ‹ ( 2 باب ما يحرم من النبيذ ) · حديث 6302

5962 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا بن أبي مريم قال أنا يحيى بن أيوب قال حدثني بن عجلان عن نافع عن بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بن عَجْلَانَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6302

chevron_left Previous
1…414243…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter