شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 21 كتاب الصيد والذبائح والأضاحي ) ‹ ( 5 باب من أوجب أضحية في أيام العشر أو عزم على أن يضحي هل له أن يقص شعره أو أظفاره ) · حديث 6111
5784 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك عن عمرو بن مسلم عن سعيد بن مسلم عن سعيد بن المسيب عن أم سلمة رضي الله عنها مثله ولم ترفعه فهذا هو أصل الحديث عن أم سلمة رضي الله عنها فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار وأما النظر في ذلك فإنا قد رأينا الإحرام ينحظر به أشياء مما قد كانت كلها قبله حلالا منها الجماع والقبلة وقص الأظفار وحلق الشعر وقتل الصيد فكل هذه الأشياء تحرم بالإحرام وأحكام ذلك مختلفة فأما الجماع فمن أصابه في إحرامه فسد إحرامه وما سوى ذلك لا يفسد إصابته الإحرام فكان الجماع أغلظ الأشياء التي يحرمها الإحرام ثم رأينا من دخلت عليه أيام العشر وهو يريد ان يضحي أن ذلك لا يمنعه من الجماع فلما كان ذلك لا يمنعه من الجماع وهو أغلظ ما يحرم بالإحرام كان أحرى أن لا يمنع مما دون ذلك فهذا هو النظر في هذا الباب أيضا وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد روى ذلك أيضا عن جماعة من المتقدمين
سعید بن مسیب نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی اور اس کو مرفوع قرار نہیں دیا ۔ یہ آثار کے لحاظ سے اس کا حکم ہے البتہ غور و فکر کے لحاظ سے اس طرح ہے کہ احرام سے کئی ایسی چیزیں منع کر دی جاتی ہیں جوکہ پہلے حلال تھیں مثلاً جماع قبلہ ( بوسہ) ناخن اتارنا بال مونڈھنا ، شکار مارنا یہ تمام اشیاء احرام میں احرام ہیں اور ان کے احکام مختلف ہیں مثلا ً جو احرام میں جماع کرے اس کا احرام ختم ہو جائے گا ان کے علاوہ اور چیز احرام کو فاسد نہیں کرتیں جن چیزوں کو احرام نے حرام کیا ہے ۔ ان میں سے سب سے زیادہ سخت جماع ہے پھر ہم نے غور کیا کہ جب عشرہ دوالحجہ آجائے اور وہ آدمی قربانی کرنا چاہتا ہو تو اس کو جماع سے کوئی چیز مانع نہیں ہے جب احرام کی سب سے زیادہ سخت چیز عشرہ ذوالحجہ میں ممنوع نہیں تو اس سے کم درجہ کی چیز بدرجہ اولیٰ مانع نہ بنے گی اس باب میں قیاس کا تقاضا یہی ہے اور ہمارے ائمہ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے ۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6111
