شرح السنة للبغوي · ( كتاب الإيمان ) ‹ ( باب الاعتصام بالكتاب والسنة · حديث 97
97 - قال الشيخ : أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الصمد الترابي المعروف بأبي بكر بن أبي الهيثم ، أنا الحاكم أبو الفضل محمد بن الحسين الحدادي ، أنا أبو يزيد محمد بن يحيى بن خالد ، أنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، نا عبد الرحمن بن مهدي ، عن حماد بن زيد ، عن عاصم بن بهدلة ، عن أبي وائل ، عن عبد الله. قال : خط لنا رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) خطا ، ثم قال : هذا سبيل الله ، ثم خط خطوطا عن يمينه وعن شماله ، وقال : هذه سبل ، على كل سبيل منها شيطان يدعو إليه ، وقرأ : صفحة رقم 197 ) وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ( [ الأنعام : 153 ] عاصم بن بهدلة : كنيته أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي كوفي يقال : مات سنة ثمان وعشرين ومائة ، روى عن أبي وائل شقيق عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو کام میں چھوڑوں تم اسے چھوڑ دو، بے شک تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے بے جا سوالات کرنے کی وجہ سے اور ان پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے، جب میں تمھیں کسی کام سے روکوں تو اس سے رک جاؤ اور . جب کسی کام کا حکم دوں تو حسب استطاعت حکم پر عمل کرو‘ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال یوں ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی، جب اس کا گردوپیش روشن ہو گیا تو آگ کے پروانے اور پتنگے اس میں گرنا شروع ہو گئے، وہ آدی انہیں روکنے لگا اور وہ اس پر غالب ہونے گئے اور بزور گرنے لگے میری اور تمھاری مثال بھی یہی ہے کہ میں تمھیں کمرسے پکڑتا ہوں کہ آگ سے ہٹ جاؤ مگر تم مجھ پر غالب آرہے ہو اور بزور اس میں داخل ہو رہے ہو۔
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Faith) › (The door to sit-in with the Qur’an and Sunnah · Hadith 97
