شرح السنة للبغوي · ( كتاب الإيمان ) ‹ ( باب الإيمان بالقدر · حديث 73
73 - قال الإمام الحسين بن مسعود رحمه الله : أخبرنا أبو الحسن الشيرزي ، أخبرنا زاهر بن أحمد ، أنا أبو إسحاق الهاشمي ، أنا أبو مصعب ، عن مالك ، عن زياد بن سعد ، عن عمرو بن مسلم ، عن طاوس اليماني قال : أدركت ناسا من أصحاب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يقولون : " كل شيء بقدر الله " وسمعت من عبد الله بن عمرو. يقول : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " كل شيء بقدر حتى العجز والكيس ، أو الكيس والعجز ". هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن قتيبة بن سعيد عن مالك. وطاوس : هو أبو عبد الرحمن طاوس بن كيسان الهمداني الخولاني من أبناء الفرس من تابعي اليمن ، أدرك خمسين من الصحابة ، حج أربعين حجة ، مات بمكة سنة ست ومائة. والكيس : العقل.
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا دین بیان کیجئے گویا کہ ہم اب پیدا ہوئے ہیں، ہمیں بتائے کہ ہمارا عمره اسی سال فائدہ دے گا یا ہمیشہ ہمیشہ فائدہ دے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمیشہ ہمیشہ فائدہ دے گا‘‘ سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر کہا: ہمارا دین بیان کئے گویا کہ ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں، ہم جو آج عمل کرتے ہیں وہ کس مقصد کے لیے ہیں، جس کو لکھ کرقلم سوکھ گئی اور تقدیر جاری ہو گئی‘‘، یا مستقبل کے لیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے عمل کرو جس کو لکھ کر قلم سوکھ گئی اور تقدیر جاری ہوگئی۔‘ سراقہ نے کہا: پراس عمل سے کیا فائدہ؟ زہیر کہتے ہیں: ابو الزبیر نے کوئی بات کہی جو مجھے سمجھ نہیں آکی، میں نے بعد میں اس بارے میں اپنے رشتہ دار سے پوچھا تو اس نے کہا: میں نے وہ کلمہ سنا ہے، اس نے کہا تھا: عمل کرو کیونکہ ہر شخص کے لیے آسان کیا گیا ہے‘‘
مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؟ ← أدركت ناسا من أصحاب رسول الله يقولون كل شيء بقدر الله ← طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← أبو إسحاق الهاشمي ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن الشيرزي ← الإمام الحسين بن مسعود
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Faith) › (Chapter on Belief in Destiny · Hadith 73
