شرح السنة للبغوي · ( كتاب فضائل الصحابة ) ‹ ( باب فضائل علي بن أبي طالب بن عبد المطلب بن هاشم ابن عبد مناف أبي الحسن الهاشمي رضي الله عنه · حديث 3906
3906 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا قتيبة بن سعيد ، نا يعقوب بن عبد الرحمن ، عن أبي حازم أخبرني سهل بن سعد أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال يوم خيبر : " لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه يحب الله ورسوله ، ويحبه الله ورسوله " قال : فبات الناس يدوكون ليلتهم أيهم يعطاها ، فلما أصبح الناس ، غدوا على صفحة رقم 112 رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، كلهم يرجون أن يعطاها ، فقال : " أين علي بن أبي طالب ؟ " قالوا : هو يا رسول الله يشتكي عينيه ، قال : " فأرسلوا إليه " ، فأتي به ، فبصق رسول الله [ ] في عينيه ، ودعا له ، فبرأ حتى كأن لم يكن به وجع ، فأعطاه الراية ، فقال علي : يا رسول الله أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا ؟ قال : " انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم ، ثم ادعهم إلى الإسلام وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه ، فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن يكون لك حمر النعم ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم أيضا عن قتيبة بن سعيد ، قوله : يدوكون ، أي : يخوضون ، يقال : الناس في دوكة ، أي في اختلاط وخوض ، وأصله من الدوك ، وهو السحق ، وتسمى صلابة الطيب مداكا ، شبه الأمر فيه بمن دق شيئا ليستخرج لبه ويعلم باطنه. وأراد بحمر النعم : حمر الإبل وهي أعزها وأنفسها يريد : لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك أجرا وثوابا من أن تكون لك حمر النعم فتتصدق بها.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر والے دن فرمایا: "کل میں ایسے شخص کے ہاتھ میں اسلامی جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دیں گے ، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کا رسول بھی محبت رکھتے ہیں۔" کہا: رات بھر صحابہ اسی خیال میں غلطان و پیچاں رہے کہ دیکھیے صبح پرچم کسے ملتا ہے؟ جب صبح ہوئی تو تمام لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے۔ ان میں سے ہر شخص جھنڈا ملنے کا امید وار تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: "علی بن ابو طالب کہاں ہیں؟ ۔" صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! انہیں آشوب چشم ہے۔ آپ نے فرمایا: "اسے میرے پاس بھیجو۔" چنانچہ انہیں آپ کی خدمت اقدس میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا مبارک لعاب ان کی آنکھوں میں لگایا اور دعا کی تو انہیں صحت ہو گئی۔، کسی قسم کی بھی تکلیف باقی نہ رہی۔ پھر آپ نے انہیں پرچم عطا فرمایا۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کیا میں ان لوگوں سے اس وقت تک نہ لڑوں جب تک یہ ہمارے جیسے مسلمان نہ ہوجائیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: "آرام و سکون سے چلا جا اور جب ان کی سرحد میں اترے تو انہیں اسلام کی دعوت دینا اور انہیں اللہ کے حقوق سے باخبر کرنا (کہ مسلمان ہو نے کے بعد کون کون سے کام ضروری ہیں) اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت سے سرفراز فرما دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔"
سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Book of the Virtues of the Companions) › (Chapter of the Virtues of Ali bin Abi Talib bin Abdul Muttalib bin Hashem Ibn Abd Manaf Abi Al-Hassan Al-Hashemi, may God be pleased with him · Hadith 3906
