شرح السنة للبغوي · ( كتاب الجنائز ) ‹ ( باب البكاء على الميت وما رخص فيه من إرسال الدمع · حديث 1529
1529 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا أصبغ ، عن ابن وهب ، أخبرني عمرو بن الحارث ، عن سعيد بن الحارث الأنصاري عن عبد الله بن عمر اشتكى سعد بن عبادة شكوى ، فأتاه النبي ( صلى الله عليه وسلم ) يعوده مع عبد الرحمن بن عوف ، وسعد ابن أبي وقاص ، وعبد الله بن مسعود ، فلما دخل عليه ، فوجده في غاشية ، فقال : " قد قضى " ؟ فقالوا : لا يا رسول الله ، فبكى النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فلما رأى القوم بكاء النبي ( صلى الله عليه وسلم ) بكوا ، فقال : " ألا تسمعون ؟ إن الله لا يعذب بدمع العين ، صفحة رقم 430 ولا بحزن القلب ، ولكن يعذب بهذا ، وأشار إلى لسانه ، أو يرحم ، وإن الميت يعذب ببكاء أهله عليه " وكان عمر يضرب فيه بالعصا ، ويرمي بالحجارة ، ويحثي التراب. هذا حديث متفق على صحته وأخرجه مسلم عن يونس بن عبد الأعلى ، عن عبد الله بن وهب. قوله : فوجده في غاشية. يحتمل أن يكون المراد منه القوم الحضور الذين غشوه ، ويحتمل أن يكون ما يغشاه من كرب الوجع ، ولذلك سأل : قد قضى ؟ يعني : مات.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عیادہ رضی اللہ عنہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار پرسی کے لیے سیدنا عبدالرحمن بن عوف ، سیدنا سعد بن ابو وقاص اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ہاں تشریف لے گئے ۔ جب آپ اندر گئے تو تیمار داروں کے ہجوم میں انہیں پایا۔ آپ نے دریافت فرمایا : کیا وفات ہو گئی؟ لوگوں نے کہا : نہیں اے اللہ کے رسول ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی شدت مرض دیکھ کر رو پڑے۔ لوگوں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے ۔ پھر آپ نے فرمایا : سنو ! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے آنسو نکلنے پر عذاب نہیں کرے گا، اور نہ دل کے غم پر ہاں اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ آپ نے زبان کی طرف اشارہ کیا، ( اگر زبان سے اچھی بات نکلے تو ) یہ اس کی رحمت کا باعث بھی بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہ ے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میت پر نوحہ کرنے پر ڈنڈے سے مارتے ، پتھر پھینکتے اور رونے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیتے ۔
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Funeral book) › (Chapter on weeping for the dead and sending tears permissible in it · Hadith 1529
