شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب النفخ في الصور · حديث 4299
4299 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو سعيد محمد ابن موسى الصيرفي ، أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ، نا أحمد ابن محمد بن عيسى البرتي ، نا أبو حذيفة ، نا سفيان ، عن الأعمش ، عن عطية بن سعد العوفي عن أبي سعيد أن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) قال : كيف أنعم وصاحب الصور قد التقمه ، وأصغى سمعه ، وحنى جبهته ينتظر ما يؤمر ، فقالوا : يا رسول الله وما تأمرنا ؟ قال : " قولوا حسبنا الله ونعم الوكيل ". صفحة رقم 104 قوله : كيف أنعم أي : كيف أتنعم ، وقيل : كيف أفرح ، والنعمة : المسرة.
سید نا ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "میں کیسے خوش رہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو منہ میں تھاما ہوا ہے ، اپنے کانوں کو جھکا رکھا ہ ، اپنی پیشانی کو نیچے کیا ہوا ہے ۔ وہ اس انتظارمیں ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ملتا ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! اس حالت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : "تم کہو: ((حسبنا اللہ ونعم الوکیل)) ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہتر ین کا رساز ہے ۔"
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أحمد ابن محمد بن عيسى البرتي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد محمد ابن موسى الصيرفي ← أحمد بن عبد الله الصالحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Blowing in pictures · Hadith 4299
