شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( آخر من يخرج من النار · حديث 4347
4347 - أخبرنا ابن عبد القاهر ، أنا عبد الغافر بن محمد ، أنا محمد ابن عيسى الجلودي ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج ، نا محمد بن طريف بن خليفة ، نا محمد بن فضيل ، نا أبو مالك الأشجعي ، عن أبي حازم ، عن أبي هريرة ( ح ) وأبو مالك عن ربعي عن حذيفة قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " يجمع الله الناس ، فيقوم المؤمنون حتى يزلف لهم الجنة ، فيأتون آدم ، فيقولون : يا أبانا استفتح لنا الجنة ، فيقول : هل صفحة رقم 180 أخرجكم من الجنة إلا خطيئة أبيكم ، لست بصاحب ذلك اذهبوا إلى ابني إبراهيم خليل الله ، فيقول إبراهيم : لست بصاحب ذلك إنما كنت خليلا من وراء وراء اعمدوا إلى موسى الذي كلمه الله تكليما ، فيأتون موسى ، فيقول : لست بصاحب ذلك اذهبوا إلى عيسى كلمة الله وروحه ، فيقول عيسى : لست بصاحب ذلك ، فيأتون محمدا ، فيقوم ، فيؤذن له ، وترسل الأمانة والرحم ، فيقومان جنبتي الصراط يمينا وشمالا ، فيمر أولاكم كالبرق ، ثم كمر الريح ، ثم كمر الطير وشد الرجال تجري بهم أعمالهم ونبيهم قائم على الصراط يقول : يا رب سلم سلم حتى تعجز أعمال العباد حتى يجيء الرجل ، فلا يستطيع السير إلا زحفا ، وفي حافتي الصراط كلاليب معلقة مأمورة بأخذ من أمرت به ، فمخدوش ناج ، ومكردس في النار ، والذي نفس أبي هريرة بيده إن قعر جهنم لسبعون خريفا " هذا حديث صحيح وجنبتا الصراط : ناحيتاه ، وأراد بالمكردس : الموثق الملقى فيها.
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"اللہ تعالیٰ میدان محشر میں لوگوں کو جمع کرے گا ، پس مومن لوگوکھڑے ہوں گے ، جنت کو ان کےقریب کر دیا جائے گا۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے : اے ہمارے باپ!ہمارے لیے جنت کا دروزہ کھول دیجیے ۔ آدم علیہ السلام کہیں گے : تمہیں جنب سے تمہارے باپ کی غلطی نے ہی نکلوایا تھا ، میں اس شفاعت کا اہل نہیں ہو ں ۔ تم میرے بیٹے ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: میں اس شفاعت کے اہل نہیں ہوں ، میں آج سے پہلے پہلے خلیل تھا ، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ ہم کلاج ہوئے ، چنانچہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے ، وہ کہیں گے کہ میں اس ( شفاعت ) کا اہل نہیں ہوں ، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور روح اللہ ہیں (یعنی وہ کلمہ کن سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ) وہ کہیں گے کہ میں اس شفاعت کا اہل نہیں ہوں ، چنانچہ وہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں گے ، آ پ کھڑے ہوں گے ، آپ کو اجازت دی جائے گی، پھر امانت اور رشتہ داری کو لایا جائے گا ، وہ دونوں پل صراط کی دونوں جانب دائیں اور بائیں کھری ہو جائیں گی ، پھر ( پل صراط پر سے لوگوں کا گزر شروع ہو جائے گا) تم میں سے ایک طبقہ بجلی کی مانند (تیز رفتاری کے ساتھ ) گزر جائے گا۔ پھر کچھ لوگو پرندوں کی اڑان کی طرح اور کچھ لوگ آدمیوں کے دوڑنے کی طرح گزریں گے ، ان کے اعمال ان کو چلائیں گے اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پل صراط پر کھرے یہ کہے جا رہے ہوں گے : اے رب !سلامتی عطا کر ، سلامتی عطا کر حتیٰ کہ لوگوں کے اعمال عاجز آجائیں گے ، ایک شخص آئے گا ، وہ پل صراط پر سے اپنے کولھوں کے بل سر کتا ہواآئے گا اور پل صراط کے دونوں کناروں پر کنڈیاں لٹک رہی ہوں گی جنہیں حکم دیا گیا ہوگا کہ وہ ان لوگوں کو اپنی جانب کھینچ لیں جو قابل گرفت قرار پا چکے ہیں ۔ پس کچھ لوگ زخمی ہو کر نجاب پائیں گے اور کچھ لوگ دوذک میں گر جائیں گے ۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جان ہے !بلاشبہ جہنم کی گہرائی ستربرس کی مسافت کے برابر ہے ۔
حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← وأبو مالك ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← محمد بن طريف بن خليفة ← مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ← محمد ابن عيسى الجلودي ← عبد الغافر بن محمد ← ابن عبد القاهر
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (The last to come out of the fire · Hadith 4347
