شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب فضل الفقراء · حديث 4068
4068 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، حدثني عبد العزيز ابن أبي حازم ، عن أمه عن سهل بن سعد الساعدي أنه قال : مر رجل على رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقال لرجل عنده جالس : " ما رأيك في هذا ؟ " فقال رجل من أشراف الناس : هذا والله حري صفحة رقم 269 إن خطب أن ينكح ، وإن شفع أن يشفع قال : فسكت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، ثم مر رجل ، فقال له رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " ما رأيك في هذا ؟ " فقال : يا رسول الله هذا رجل من فقراء المسلمين ، هذا حري إن خطب أن لا ينكح ، وإن شفع أن لا يشفع ، وإن قال أن لا يسمع لقوله ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " هذا خير من ملء الأرض مثل هذا ". هذا حديث صحيح.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک آدمی گزرا تو اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھا : اس شخص کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس نے عرض کیا: یہ شخص معزز ( دولت مند) افراد میں سے ہے۔ بخدا ! اس کے بارے میں یہی توقع ہے کہ اگر ( کسی گھرانے میں ) نکاح کا پیغام دے تو اس کا پیغام قبول کیا جائے ، اگر ( کسی کی ) سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، راوی نے بیان کیا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے۔ پھر ایک اور آدمی گزرا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : " اس شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ " اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ ایک غریب مسلمان ہے ۔ اس کے بارے میں توقع ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اسے رشتہ نہ دیا جائے۔ اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے۔اگر بات کرے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " یہ غریب مسلمان اس پہلے شخص جیسے زمین بھر آدمیوں سے بہتر ہے ۔"
سهل بن سعد الساعدي أنه ← أُمِّهِ2، ← عبد العزيز ابن أبي حازم ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد المليحي
Hadith 4068
