شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب فتنة الشيطان · حديث 4212
4212 - أخبرنا ابن عبد القاهر ، أخبرنا عبد الغافر بن محمد ، أنا محمد ابن عيسى ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج ، نا صفحة رقم 410 أبو كريب محمد بن العلاء ، أنا أبو معاوية ، نا الأعمش ، عن أبي سفيان عن جابر قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " إن إبليس يضع عرشه على الماء ، ثم يبعث سراياه ، فأدناهم منه منزلة أعظمهم فتنة يجيء أحدهم ، فيقول : فعلت كذا وكذا ، فيقول : ما صنعت شيئا ، قال : ثم يجيء أحدهم ، فيقول : ما تركته حتى فرقت بينه وبين امرأته ، قال : فيدنيه منه ويقول : نعم أنت " قال الأعمش : أراه قال : فيلتزمه. هذا حديث صحيح.
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:" ابلیس اپنا عرش پانی پر رکھتا ہے ، پھر اپنے لشکروں کو دنیا میں فساد کرنے کے لیے بھیجتا ہے۔ اس سے جو جتنا قریب ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا فساد ی ہوتا ہے۔ ایک شیطان (اس کے چیلوں میں سے) آ کر کہتا ہے: میں نے فلاں سے بدکاری کروائی) تو شیطان کہتا ہے تو نے کچھ بھی نہیں کیا، پھر کوئی دوسرا آکر کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک میں نے اس میں اور اس کی بیوی میں جدائی نہ کرا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " تو وہ اس کو اپنے پاس کر لیتا ہے کہ تو نے بڑا کام کیا۔" امام اعمش نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"اس کوا پنے ساتھ چمٹا لیتا ہے۔"
جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← صفحة رقم أبو كريب محمد بن العلاء ← مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ← محمد ابن عيسى ← عبد الغافر بن محمد ← ابن عبد القاهر
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter on the temptation of Satan · Hadith 4212
