شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب وعيد الظالم · حديث 4164
4164 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل الخرقي ، أنا أبو الحسن الطيسفوني ، أنا عبد الله بن عمر الجوهري ، نا أحمد بن علي الكشميهني ، نا علي بن حجر ، نا إسماعيل بن جعفر ، عن العلاء ، عن أبيه عن أبي هريرة أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " أتدرون ما المفلس " ؟ قالوا : المفلس فينا من لا درهم ولا متاع له ، قال : " إن المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة ، ويأتي قد شتم هذا ، وقذف هذا ، وأكل مال هذا ، وسفك دم هذا ، وضرب هذا ، فيقضى هذا من حسناته وهذا من حسناته ، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضي ما عليه ، أخذ من خطاياهم ، فطرحت عليه ، ثم طرح في النار ". وبهذا الإسناد عن أبي هريرة أن رسول اله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " لتؤدن الحقوق إلى أهلها يوم القيامة حتى يقاد للشاة الجلحاء من القرناء ". صفحة رقم 361 هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن قتيبة وابن حجر.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟ " صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس نقد درہم ہوں اور نہ کوئی سامان۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " (نہیں ، بلکہ ) میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہے جوقیامت والے دن نماز، روزے اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ کسی کو اس نے گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان تراشی کی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا پیٹا ہو گا، چنانچہ ان تمام (مظلومیں ) کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی ( تاکہ ان پر کیے گئے ظلم کی تلافی ہو جائے) اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں قبل اس کے کہ اس کے ذمے دوسروں کے حقوق واجب الادا ہوں تو ان کے گناہ لے کر اس پرڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أحمد بن علي الكشميهني ← عبد الله بن عمر الجوهري ← أبو الحسن الطيسفوني ← أبو عبد الله محمد بن الفضل الخرقي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter of the Feast of the Unjust · Hadith 4164
