شرح السنة للبغوي · ( كتاب الرقاق ) ‹ ( باب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر · حديث 4152
4152 - أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أبي توبة ، أنا محمد ابن أحمد بن الحارث ، أنا محمد بن يعقوب الكسائي ، أنا عبد الله بن محمود ، أنا إبراهيم بن عبد الله الخلال ، نا عبد الله بن المبارك ، عن الأجلح ، عن الشعبي قال : سمعت النعمان بن بشير يقول على المنبر : يا أيها الناس خذوا على أيدي سفهائكم ، فإني سمعت رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يقول : " إن قوما ركبوا البحر في سفينة ، فاقتسموها ، فأصاب كل واحد مكانا ، فأخذ رجل منهم الفأس ، فنقر مكانه ، فقالوا : ما تصنع ؟ قال : مكاني أصنع به ما شئت ، فإن أخذوا على يديه ، نجوا ونجا ، وإن تركوه ، غرق وغرقوا " صفحة رقم 344 فخذوا على أيدي سفهائكم قبل أن تهلكوا.
جناب شعبی رحمۃاللہ علیہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، آپ کہہ رہے تھے: لوگو! اپنے بے وقوف (گنہگار ) لوگوں کے ہاتھ پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے : " بلاشبہ کچھ لوگوں نے کشتی میں بیٹھ کر سمندر کا سفر کیا اور قرعہ ڈالا ۔ ہر ایک کو جگہ مل گئی ۔ ان میں سے ایک شخص نے کلہاڑا پکڑا اور ایک مقام سے سوراخ کر نے لگا، لوگوں نے کہا: کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے جواب دیا: میری جگہ ہے میں اس میں جو چاہے کروں۔ اگر وہ لوگ اس کے ہاتھوں کو پکڑ لیں گے تو خود بھی بچیں گے اور دوسرے بھی بچ جائیں گے اور اگر اسے چھوڑ دیں گے تو وہ بھی ڈوبےگا اور اس کے ہمراہ دوسرے سب لوگ بھی ڈوب جائیں گے لٰہذا معاشرے کے بے وقوف افراد کے ہاتھ پکڑو قبل اس کے کہ وہ تمہیں ہلاکت میں ڈال دیں۔
النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الأَجْلَحِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← إبراهيم بن عبد الله الخلال، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ ← محمد بن يعقوب الكسائي ← محمد ابن أحمد بن الحارث ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن أبي توبة
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (The Book of Riqqa) › (Chapter: Enjoining Good and Forbidding Evil · Hadith 4152
