شرح السنة للبغوي · ( كتاب فضائل الصحابة ) ‹ ( باب مناقب عائشة بنت أبي بكر الصديق أم المؤمنين رضي الله عنها · حديث 3964
3964 - أخبرنا أبو سعيد الطاهري ، أنا جدي عبد الصمد البزاز ، أنا محمد بن زكريا العذافري ، أنا إسحاق الدبري ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن الزهري ، عن عروة عن عائشة قالت : اجتمعت أزواج النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فأرسلن فاطمة إلى النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقلن لها : قولي له : إن نساءك قد اجتمعن ، وهن ينشدنك العدل في بنت ابن أبي قحافة قالت : فدخلت على النبي ( صلى الله عليه وسلم ) وهو مع عائشة في مرطها ، صفحة رقم 165 فقلت له : إن نساءك أرسلنني إليك ، وهن ينشدنك العدل في بنت ابن أبي قحافة ، فقال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " أتحبينني ؟ " قالت : نعم ، قال : " فأحبيها " فرجعت إليهن ، فأخبرتهن بما قال لها ، فقلن : إنك لم تصنعي شيئا ، فارجعي إليه قالت فاطمة : والله لا أرجع إليه فيها أبدا - قال الزهري : وكانت ابنة رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) حقا - فأرسلن زينب بنت جحش قالت عائشة : وهي التي كانت تساميني من أزواج النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقالت : إن أزواجك أرسلنني إليك وهن ينشدنك العدل في بنت ابن أبي قحافة ، قالت : ثم أقبلت علي ، فشتمتني ، قالت : فجعلت أراقب النبي ( صلى الله عليه وسلم ) وأنظر طرفه ، هل يأذن لي في أن أنتصر ، فلم يتكلم فشتمتني حتى ظننت أنه لا يكره أن أنتصر منها منها فاستقبلتها ، فلم ألبث أن أفحمتها ، فقال لها النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : " إنها بنت أبي بكر " قالت عائشة : ولم أر امرأة خيرا وأكثر صدقة وأوصل للرحم وأشد ابتذالا بنفسها في كل شيء يتقرب به إلى الله عز وجل ما عدا سورة من غرب حدة كان فيها يوشك منها الفيئة. صفحة رقم 166 هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن إسماعيل بن أبي أويس ، عن أخيه ، عن سليمان ، عن هشام بن عروة ، وأخرجه مسلم عن عبد بن حميد وغيره ، عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، عن أبيه ، عن صالح ، عن ابن شهاب ، عن محمد بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام ، عن عائشة. وقولها : " ما عدا سورة من غرب " أي ما خلا ثورة من حدة والغرب : الحدة ، يقال : في فلان غرب ، أي : حدة ، يقال للمعربد : سوار ، لأنه يثور إلى الناس ويؤذيهم. وعن أبي موسى الأشعري قال : ما أشكل علينا أصحاب رسول الله [ ] حديث قط ، فسألنا عائشة إلا وجدنا عندها فيه علما. وقال موسى بن طلحة : ما رأيت أحدا أفصح من عائشة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ازواج مطہرات ایک مرتبہ جمع ہوئیں اور انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنا: آپ کی بیویاں جمع ہیں اور وہ آپ سے ابو قحافہ کی بیٹی کے بارے میں انصاف کی طلب گار ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ چادر میں لیٹے ہوئے تھے۔ میں نے آپ سے کہا: آپ کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ وہ آپ سے ابو قحافہ کی بیٹی کی بابت انصاف کی طلب گار ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " کیا تجھے مجھ سے محبت ہے؟" انہوں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: " پھر اس (عائشہ) سے محبت رکھ۔" یہ بات سنی تو فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا واپس ازواج مطہرات کے پاس گئیں اور انہیں آپ کا جواب بتا دیا۔ وہ کہنے لگیں : تو نے تو ہمارا کام نہ کیا۔ دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ سے ہر گز اس کی بابت کوئی بات نہیں کروں گی۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آخر وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر تھیں۔ پھر ازواج مطہرات نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھیجا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں : وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واحد بیوی تھیں جو میرے برابر مرتبہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے کہا: آپ کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور آپ سے ابو قحافہ کی بیٹی کے بارے میں انصاف کی طلب گار ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں : پھر وہ مجھ پر برس پڑیں اور مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ کہتی ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھ رہی تھی اور منتظر تھی کہ آپ آنکھ کے اشارے ہی سے مجھے جواب دینے کی اجازت دیں لیکن آپ نے کوئی بات نہ کی، زینب بدستور مجھے کوستی رہیں حتی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب اگر میں بدلہ لوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند نہیں فرمائیں گے ۔ چنانچہ جب میں متوجہ ہوئی تو تھوڑی دیر میں ہی میں نے انہیں چپ کرا دیا اور دبا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مسکراتے ہوئے) فرمایا: "بلاشبہ یہ ابو بکر کی بیٹی ہے۔" سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: میں نے کوئی ایسی عورت نہیں دیکھی جو سیدہ زینب سے بڑھ کر دینی لحاظ سے نیک ، زیادہ صدقہ کرنے والی ، صلہ رحمی کرنے والی اوراپنے آپ کو ہر اس کام میں کھپا دینے والی جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا باعث ہو۔ البتہ ان کی طبیعت میں کچھ تیزی تھی جو جلد ہی ختم ہو جایا کرتی تھی۔سیدنا ابو موسی ٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم اصحاب رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو جب بھی کسی مسئلہ میں مشکل در پیش ہوتی اور ہم نے اس کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے استفسار کیا تو ہمیں اس مسئلہ کی بابت ان کے ہاں سے علم حاصل ہوا ۔ جناب موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: میں نے اپنی زندگی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کوئی فصیح شخص نہیں دیکھا۔
اجتمعت أزواج النبي فأرسلن فاطمة إلى النبي فقلن لها قولي له ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← محمد بن زكريا العذافري ← جدي عبد الصمد البزاز ← أبو سعيد الطاهري
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · (Book of the Virtues of the Companions) › (Chapter on the Virtues of Aisha Bint Abi Bakr Al-Siddiq, Mother of the Believers, may God be pleased with her · Hadith 3964
