شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ ( باب غزوة الخندق وهي الأحزاب · حديث 3791
3791 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا عبد الله بن محمد ، نا معاوية بن عمرو ، نا أبو إسحاق ، عن حميد قال صفحة رقم 4 سمعت أنسا [ قال : ] خرج رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) إلى الخندق ، فإذا المهاجرون والأنصار يحفرون في غداة باردة ، فلم يكن لهم عبيد يعملون ذلك لهم ، فلما رأى ما بهم من النصب والجوع قال : اللهم إن العيش عيش الآخرة فاغفر الأنصار والمهاجره فقالوا مجيبين له : نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما بقينا أبدا هذا حديث صحيح
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خندق کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مہاجرین اور انصار سردی میں صبح سویرے ہی خندق کھود رہے ہیں۔ان کے پاس غلام نہیں تھے کہ ان کے بجائے وہ کام کو انجام دیتے۔ جب آپ علیہ السلام نے ان کی اس مشقت اور بھوک کو دیکھا تو دعا کی:اے اللہ ! زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس کے جواب میں کہا:ہم ہی میں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جہاد کرنے کے لیے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔
صفحة رقم ← حُمَيْدٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد المليحي
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › (The door to the battle of the trench, which is the parties · Hadith 3791
