شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب الهجرة · حديث 3769
3769 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد النعيمي ، أنا محمد ابن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا عبد الله بن منير سمع عبد الله بن بكر ، نا حميد ، عن أنس قال سمع عبد الله بن سلام بمقدم رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وهو في أرض يخترف ، فأتى النبي عليه السلام ، فقال : إني سائلك عن ثلاث لا يعلمهن إلا نبي ، فما أول أشراط الساعة ؟ وما أول طعام أهل الجنة ؟ وما ينزع الولد إلى أبيه أو إلى أمه ؟ قال : " أخبرني بهن جبرئيل آنفاً " قال : جبرئيل ؟ قال : " نعم " قال : ذاك عدو اليهود من الملائكة ، فقرأ هذه الآية : ) مَنْ كَانَ عَدُوّاً لَجبْريلَ فَإنَّهُ نَزَّلَهُ على قَلْبِكَ ( " أما أول أشراط الساعة ، فنار تحشر الناس من المشرق إلى المغرب ، وأما أول طعام يأكله أهل الجنة ، فزيادة كبد حوتٍ ، وإذا سبق ماء الرجل ماء المرأة نزع الولد ، وإذا سبق ماء المرأة ماء الرجل نزعت " قال : أشهد أن لا إله إلا الله ، وأشهد أنك رسول الله. يا رسول الله إن اليهود قومٌ بهتٌ ، صفحة رقم 373 وإنهم إن يعلموا بإسلامي قبل أن تسألهم يبهتوني ، فجاءت اليهود ، فقال : " أي رجل عبد الله فيكم ؟ " قالوا : خيرة وابن خيرنا ، وسيدنا وابن سيدنا قال : " أرأيتم إن أسلم عبد الله بن سلام ؟ " قالوا : أعاذه الله من ذلك ، فخرج عبد الله ، فقال : أشهد أن لا إله إلا الله ، وأن محمداً رسول الله. قالوا : شرنا وابن شرنا ، فانتقصوه قال : هذا الذي كنت أخاف يا رسول الله. هذا حديث صحيح.
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ جب سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو یہود کے بڑے عالم تھے) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ تشریف لانے کی خبر سنی تو وہ اپنے باغ میں پھل توڑ رہے تھے۔ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ سے ایسی تین چیزوں کے متعلق پوچھتا ہوں ، جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ بتلائیے! قیامت کی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی کیا ہے؟ اہل جنت کی دعوت کے لیے سب سے پہلے کیا چیز پیش کی جائے گی؟ بچہ کب اپنے باپ کی صورت میں ہو گا اور کب اپنی ماں کی صورت پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے ابھی جبریل علیہ السلام نے آ کر ان کے متعلق بتایا ہے۔‘‘ عبداللہ بن سلام بولے:جبریل علیہ السلام نے؟ فرمایا:’’ہاں ۔‘‘ عبداللہ بن سلام نے کہا کہ وہ تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی:(مَنْ كَاَنَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَى قَلْبِكَ .... ”اے نبی! آپ کہہ دیجیے کہ جو جبریل کا دشمن ہو جس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے۔‘‘(سورۂ بقرہ:۹۷) اور ان کے سوالات کے جواب میں فرمایا:’’قیامت کی سب سے پہلی نشانی ایک آگ ہو گی جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کر لائے گی ، اہل جنت کی دعوت میں جو کھانا سب سے پہلے پیش کیا جائے گا وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا حصہ ہو گا اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غلبہ پا جاتا ہے تو بچہ باپ کی شکل پر ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غلبہ پا جاتا ہے تو بچہ ماں کی شکل پر ہوتا ہے۔‘‘ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بول اُٹھے:میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر عرض کیا:اے اللہ کے رسول! یہودی بڑی بہتان باز قوم ہے، اگر اس سے پہلے کہ آپ میرے متعلق ان سے کچھ پوچھیں، انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو مجھ پر بہتان تراشیاں شروع کر دیں گے۔ بعد میں جب یہودی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا:’’عبداللہ تمہارے یہاں کیسے آدمی سمجھے جاتے ہیں؟‘‘ وہ کہنے لگے:ہم میں سب سے بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے بیٹے ، ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اگر وہ اسلام لے آئیں پھر تمہارا کیا خیال ہو گا؟‘‘ کہنے لگے:اللہ تعالیٰ اس سے انہیں پناہ میں رکھے۔اتنے میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ظاہر ہو کر کہا:میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اب وہی یہودی ان کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر شخص کا بیٹا ہے اور ان کی توہین شروع کر دی۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہی وہ چیز تھی کہ جس سے میں ڈرتا تھا۔
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Immigration section · Hadith 3769
