Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح السنة للبغوي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi

by Imam Al Baghvi

4,339 Hadith1416 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب دعائه ( صلى الله عليه وسلم ) المشركين وصبره على أذاهم · حديث 3745

3745 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، حدثنا أحمد ابن إسحاق ، نا عبيد الله بن موسى ، نا إسرائيل ، عن أبي إسحاق ، عن عمرو بن ميمون. عن عبد الله بن مسعود قال : بينما رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قائمٌ صفحة رقم 330 يصلي عند الكعبة ، وجمع قريش في مجالسهم إذ قال قائلٌ منهم : ألا تنظرون إلى هذا المرائي أيكم يقوم إلى جزور آل فلانٍ ، فيعمد إلى فرثها ودمها وسلاها ، فيجيءُ به ، ثم يمهله حتى إذا سجد ، وضعه بين كتفيه ، فانبعث أشقاهم ، فلما سجد رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وضعه بين كتفيه ، وثبت النبي [ ] ساجداً ، فضحكوا حتى مال بعضهم على بعض من الضحك ، فانطلق منطلق إلى فاطمة وهي جويرية ، فأقبلت تسعى ، وثبت النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ساجداً حتى ألقته عنه ، فأقبلت عليهم تسبهم ، فلما قضى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) الصلاة قال : " اللهم عليك بقريشٍ ، اللهم عليك بقريشٍ ، اللهم عليك بقريشٍ ، ثم سمى : اللهم عليك بعمرو بن هشامٍ ، وعتبة بن ربيعة ، وشيبة بن ربيعة ، والوليد بن عتبة ، وأمية ابن خلف ، وعقبة بن أبي معيط ، وعمارة بن الوليد ، قال عبد الله : فوالله لقد رأيتهم صرعى يوم بدر ، ثم سحبوا إلى القليب قليب بدرٍ ، ثم قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " وأتبع أصحاب القليب لعنةً ". صفحة رقم 331 هذا حديث متفق على صحته وأخرجه مسلم عن عبد الله بن عمر ابن محمد بن أبان الجعفي ، عن عبد الرحمن بن سليمان ، عن زكريا ، عن أبي إسحاق بإسناده ، وقال : ودعا عليهم ثلاثاً ، وكان إذا دعا ، دعا ثلاثاً ، وإذا سأل ، سأل ثلاثاً. وقال شعبة عن أبي إسحاق : إذ جاء عقبة بن أبي معيط بلا جزورٍ ، فقذفه على ظهر النبي ( صلى الله عليه وسلم ). قيل : كان هذا الصنيع منهم قبل تحريم هذه الأشياء من الفرث والدم وذبيحة أهل الشرك ، فلم تكن تبطل الصلاة بها ، كالخمر كانت تصيب ثيابهم قبل تحريمها.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ان میں سے ایک شخص نے کہا:کیا تم اس دکھلاوے کی نماز پڑھنے والے کو نہیں دیکھتے کون ہے جو بنی فلاں کے اونٹ کی اوجھٹری لائے اور اسے گوبر ، خون اور بچہ دان سمیت اٹھا لائے پھر کچھ دیر کے لیے رکا رہے اور جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کریں تو ان کی پیٹھ پر ڈال دے؟ اس پر قوم کا بد بخت ترین آدمی عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور اوجھ لا کر انتظار کرنے لگا ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں تشریف لے گئے تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ مبارک پر دونوں کندھوں کے درمیان ڈال دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں ہی پڑے رہے۔ اس کے بعد وہ ہنسی کے مارے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ ایک شخص نے جاکر فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اطلاع دی ، وہ ابھی بچی ہی تھیں ، وہ دوڑتی ہوئی آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے ہی میں پڑے تھے تاکہ انہوں نے اوجھ ہٹا کر چھینکی اور پھر قریش مکہ کو مخاطب کر کے کو سنے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو تین بار فرمایا:”اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے، اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے، اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نام لے لے کر بد دعا کی:”اے اللہ! عمرو بن ہشام، ابو جہل کو پکڑ لے، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، اُمیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید کو پکڑ لے۔‘‘ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:اللہ کی قسم! میں نے دیکھا کہ سب کے سب جنگ بدر والے دن مقتول پڑے تھے، پھر انہیں کھینچ کر بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ کنویں والوں پر لعنت برسائی گئی۔‘‘

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter on his supplication (may God bless him and grant him peace) to the polytheists and his patience with regard to their harm · Hadith 3745

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب دعائه ( صلى الله عليه وسلم ) المشركين وصبره على أذاهم · حديث 3746

3746 - أخبرنا عبد الواحد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، حدثنا علي بن عبد الله ، نا الوليد بن مسلم ، حدثني الأوزاعي ، حدثني يحيى بن أبي كثير ، حدثني محمد بن إبراهيم التيمي ، حدثني عروة بن الزبير قال : قلت لعبد الله بن عمرو بن العاص : أخبرني بأشد ما صنعه المشركون ب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : بينا رسول الله [ ] يصلي بفناء الكعبة إذ أقبل عقبة بن أبي معيط ، صفحة رقم 332 فأخذ بمنكب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ولوى ثوبه في عنقه ، فخنقه به خنقاً شديداً ، فأقبل أبو بكر ، فأخذ بمنكبه ودفع عن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، وقال : أتقتلون رجلاً أن يقول ربي الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم. هذا حديث صحيح.

جناب عروہ بن زبیر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ سخت معاملہ مشرکین نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شانہ مبارک پکڑ کر آپ کی گردن میں کپڑا لپیٹ دیا اور اس کپڑے سے آپ کا گلا بڑی سختی کے ساتھ گھونٹنے لگا، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آ گئے اور انہوں نے اس بد بخت کا مونڈھا پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا کیا اور کہا:(أَتَقْتُلُونَ رِجُلا أَنْ یَقُولَ رَبْیَ اللہُ وَقَدْ جَاءَکُمْ بِالْبَیْنَاتِ رَجُلا أَنْ رَبَّکُمْ)” کیا تم ایسے شخص کو قتل کر دینا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کے پاس سے روشن دلائل بھی لایا ہے۔‘‘ (سورہ غافر:۲۸)

قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ: ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter on his supplication (may God bless him and grant him peace) to the polytheists and his patience with regard to their harm · Hadith 3746

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب دعائه ( صلى الله عليه وسلم ) المشركين وصبره على أذاهم · حديث 3747

3747 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا عبد الله بن يوسف ، أنا ابن وهب ، أخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، حدثني عروة أن عائشة زوج النبي ( صلى الله عليه وسلم ) حدثته أنها قالت للنبي ( صلى الله عليه وسلم ) : هل أتى عليك يومٌ كان أشد من يوم أحد ؟ قال : نعم لقيت من قومك وكان أشد ما لقيت منهم يوم العقبة إذ عرضت نفسي على ابن عبد ياليل بن عبد كلال ، فلم يجبني إلى ما أردت ، فانطلقت وأنا مهموم على وجهي ، فلم أستفق إلا وأنا بقرن الثعالب ، فرفعت رأسي ، فإذا صفحة رقم 333 أنا بسحابةٍ قد أظلتني ، فنظرت ، فإذا فيها جبريل ، فناداني ، فقال : إن الله قد سمع قول قومك لك ، وما ردوا عليك ، وقد بعث إليك ملك الجبال لتأمره بما شئت فيهم ، فناداني ملك الجبال ، فسلم عليّ ، ثم قال : يا محمد إن شئت أن أطبق عليهم الأخشبين ؟ قال النبي [ ] : " بل أرجو أن يخرج الله من أصلابهم من يعبد الله وحده لا يشرك به شيئاً ". هذا حديث متفق على صحته وأخرجه مسلم عن حرملة بن يحيى وغيره عن ابن وهب. والأخشب من الجبال ، الخشن الغليظ ، وأخشبا مكة : جبلاها ، وفي بعض الحديث " لا تزول مكة حتى يزول أخشاها " سميا أخشبين لصلابتهما وغلظ حجارتهما.

جناب عروہ بیان کرتے ہیں کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا:کیا کوئی دن اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ تمہاری قوم قریش کی طرف سے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا اور یہ وہ موقع تھا کہ جب میں نے طائف کے سردار ابن عبد یالیل بن عبد کلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا لیکن اس نے اسلام کو قبول نہیں کیا اور میری دعوت کو ردّ کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا، پھر جب میں قرن ثعالب پہنچا تب مجھ کو کچھ پیش آیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کیے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ سیدنا جبریل علیہ السلام اس میں موجود ہیں اور انہوں نے مجھے آواز دے کر کہا:اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا اور جو انہوں نے ردّ کیا وہ بھی سن چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے۔آپ ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دے دیں۔اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا:اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔‘‘

عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter on his supplication (may God bless him and grant him peace) to the polytheists and his patience with regard to their harm · Hadith 3747

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب دعائه ( صلى الله عليه وسلم ) المشركين وصبره على أذاهم · حديث 3748

3748 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو سعيد محمد ابن موسى الصيرفي ، نا أبو العباس الأصم ، نا محمد بن هشام بن ملاس النميري ، نا مروان الفزاري ، حدثنا حميد الطويل عن أنس قال : رمي رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ، فكسرت رباعيته ، وأدمى وجهه ، فجعل الدم يسيل على وجهه ، فجعل يمسح صفحة رقم 334 الدم عن وجهه ، ويقول : " كيف يفلح قومٌ خضبوا وجه نبيهم بالدم وهو يدعوهم إلى ربهم " فأنزل الله سبحانه وتعالى : ( لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شيءٌ أوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أوْ يُعَذِّبْهُمْ فَإنَّهُمْ ظَالِمُونَ ) ) آل عمران : 128 ). هذا حديث صحيح أخرجه مسلم عن عبد الله بن مسلمة ، عن حمّاد ابن سلمة ، عن ثابتٍ ، عن أنسٍ.

سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارا کیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رہاعی دانت ٹوٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون بہہ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرہ انور سے خون صاف کرتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے:’’وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے کہ جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِشَیْءٌ أَوْیَتُوْبَ عَلَیْھِمْ أَوْیُعَذْبَھُمْ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ)’’ آپ کو کوئی اختیار نہیں ، اللہ چاہے تو انہیں توبہ کی توفیق دے اور چاہے تو انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔‘‘

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ← محمد بن هشام بن ملاس النميري ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو سعيد محمد ابن موسى الصيرفي ← أحمد بن عبد الله الصالحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter on his supplication (may God bless him and grant him peace) to the polytheists and his patience with regard to their harm · Hadith 3748

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب دعائه ( صلى الله عليه وسلم ) المشركين وصبره على أذاهم · حديث 3749

2749 - أخبرنا أبو الحسن عبد الرحمن بن محمد الداودي ، أنا أحمد بن عبيد الله بن محمد بن أحمد بن أبي مسلم الفرضي ببغداد ، حدثنا أبو عبد الله الحسين بن إسماعيل المحملي ، نا أخو كرخوية ، نا أبو معاوية ، نا الأعمش ، عن شقيق. عن عبد الله قال : كأني أنظر إلى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) يحكي نبياً ضربه قومه ، وهو يمسح عن وجهه الدم ، ويقول : " يا رب اغفر لقومي ، فإنهم لا يعلمون ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد عن عمر بن حفصٍ عن أبيه ، وأخرجه مسلم عن محمد بن عبد الله بن نميرٍ ، عن وكيعٍ ، كلاهما عن الأعمش. أخو كرخوية : محمد بن يزيد.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ جس کو اس کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھے جا رہے ہیں اور کہتے جا رہے ہیں:’’میرے پروردگار! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نہیں جانتی۔‘‘

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أخو كرخويه، ← أبو عبد الله الحسين بن إسماعيل المحملي ← أحمد بن عبيد الله بن محمد بن أحمد بن أبي مسلم الفرضي ← أبو الحسن عبد الرحمن بن محمد الداودي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter on his supplication (may God bless him and grant him peace) to the polytheists and his patience with regard to their harm · Hadith 3749

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب دعائه ( صلى الله عليه وسلم ) المشركين وصبره على أذاهم · حديث 3750

3750 - أخبرنا أبو علي حسان بن سعيد المنيعي ، أنا أبو طاهر الزيادي ، أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ، نا أحمد بن يوسف السلمي ، نا عبد الرزاق ، أنا معمر ، عن همام بن منبه قال : نا أبو هريرة قال : قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " اشتد غضب الله على قومٍ فعلوا ب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وهو حينئذٍ يشير إلى رباعيته ، اشتد غضب الله على رجلٍ يقتله رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) في سبيل الله ". هذا حديث متفق على صحته أخرجه محمد بن إسحاق بن نصر ، وأخرجه مسلم عن محمد بن رافع ، كلاهما عن عبد الرزاق.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر انتہائی سخت ہوا جس نے اس کے نبی کے ساتھ یہ کیا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اشارہ آگے کے دندان مبارک کے ٹوٹ جانے کی طرف تھا۔ اللہ تعالیٰ کا غضب اس شخص (اُبی بن خلف) پر انتہائی سخت ہوا جسے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے راستے میں قتل کیا۔‘‘

أَبُو هُرَيْرَةَ ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الزِّيَادِيُّ ← أبو علي حسان بن سعيد المنيعي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter on his supplication (may God bless him and grant him peace) to the polytheists and his patience with regard to their harm · Hadith 3750

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب دعائه ( صلى الله عليه وسلم ) المشركين وصبره على أذاهم · حديث 3751

3751 - أخبرنا أحمد بن عبد الله الصالحي ، أنا أبو بكر أحمد ابن الحسن الحيري ، أنا حاجب بن أحمد ، نا عبد الرحيم بن منيب ، نا الفضل بن موسى ، نا إسماعيل بن أبي خالد ، عن قيس عن خباب قال : شكونا إلى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وهو متوسد بردةً له في ظل الكعبة ، فقلنا : ألا تدعو الله لنا ؟ ألا تستنصر الله لنا ؟ فجلس محماراً لونه أو وجهه ، فقال لنا : " لقد كان من قبلكم يؤخذ الرجل ، فيحفر له في الأرض ، ثم يجاء بالمنشار ، فيجعل فوق رأسه ، ثم يجعل صفحة رقم 336 بفرقتين ما يصرفه عن دينه ، ويمشط بأمشاط الحديد ما دون لحمه من عظمٍ وعصبٍ ما يصرفه عن دينه ، وليتمن الله هذا الأمر حتى يسير الراكب منكم من صنعاء إلى حضرموت لا يخشى إلا الله ، ولكنكم تعجلون ". هذا حديث صحيح أخرجه محمد عن محمد بن المثنى ، عن يحيى عن إسماعيل.

سیدنا خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حالات کی سختی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سایہ تلے چادر مبارک پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے عرض کیا:آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے؟ آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے مدد کیوں نہیں طلب کرتے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ، چہرا مبارک غصہ میں سرخ ہو گیا اور ہم سے فرمایا:”تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں کہ جن میں سے ایک شخص کو پکڑا جاتا اور اسے زمین میں گاڑ دیا جاتا ، پھر آرالا کر سر کے اوپر رکھ دیا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے اور یہ چیز بھی انہیں دین سے نہ پھیر سکی ، بعض کو تو لوہے کی کنگھیوں سے چھیلا جاتا اور گوشت سے گزر کر ہڈیوں اور پٹوں تک پہنچا دیا جاتا اور یہ معاملہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا، اس دین اسلام کو تو اللہ تعالیٰ خود ایک دن کمال تک پہنچائے گا کہ تم میں سے ناقہ سوار صفا سے حضر موت تک تنہا جائے گا اور راستے میں اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہ ہو گا لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔‘‘

خَبَّابٍ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو بكر أحمد ابن الحسن الحيري ← أحمد بن عبد الله الصالحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter on his supplication (may God bless him and grant him peace) to the polytheists and his patience with regard to their harm · Hadith 3751

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب المعراج · حديث 3752

3752 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، نا هدبة بن خالد ، نا همام بن يحيى ، نا قتادة ، عن أنس بن مالك عن مالك بن صعصعة أن نبي الله ( صلى الله عليه وسلم ) حدثهم عن ليلة أسري به ، قال : بينما أنا في الحطيم وربما قال في صفحة رقم 337 الحجر مضطجعاً إذ أتاني آتٍ ، فقد قال : وسمعته يقول : فشق ما بين هذه إلى هذه ، فقلت للجارود - وهو إلى جنبي - : ما يعني به ؟ قال : من ثغرةِ نحره إلى شعرته ، وسمعته يقول : من قصه إلى شعرته ، فاستخرج قلبي ، ثم أتيت بطست من ذهب مملوءٍ إيماناً ، فغسل قلبي ، ثم حشيَ ، ثم أعيد ، ثم أتيت بدابةٍ دون البغل وفوقَ الحمار أبيض ، فقال له الجارود : هو البراق يا أبا حمزة ؟ قال أنسٌ : نعم يضع خطوه عند أقصى طرفه ، فحملت عليه ، فانطلق بي جبريل حتى أتى السماء الدنيا ، فاستفتح ، قيل : من هذا ؟ قال جبريل : قيل : ومن معك ؟ قال : محمدٌ ، قيل : وقد أرسل إليه ؟ قال : نعم ، قيل : مرحباً به صفحة رقم 338 فنعم المجيء جاء ، ففتح ، فلما خلصت ، فإذا فيها آدم ، فقال : هذا أبوك آدم ، فسلم عليه ، فسلمت عليه ، فرد السلام ، ثم قال : مرحباً بالابن الصالح ، والنبي الصالح ، ثم صعد بي حتى أتى السماء الثانية ، فاستفتح ، قيل : من هذا ؟ قال : جبريل ، قيل : ومن معك ؟ قال : محمد ، قيل : وقد أرسل إليه ؟ قال : نعم ، قيل : مرحباً به ، فنعم المجيء جاء ، ففتح ، فلما خلصت إذا يحيى وعيسى ، وهما ابنا خالةٍ ، قال : هذا يحيى وعيسى ، فسلم عليهما ، فسلمت ، فرداً ، ثم قالا : مرحباً بالأخ الصالح ، والنبي الصالح ، ثم صعد بي إلى السماء ، فاستفتح ، قيل : من هذا ؟ قال : جبريل ، قيل : ومن معك ؟ قال : محمد ، قيل : وقد أرسل إليه ؟ قال : نعم ، قيل : مرحباً به ، فنعم المجيء جاء ، ففتح ، فلما خلصت إذا يوسف ، قال : هذا يوسف ، فسلم عليه ، فسلمت عليه ، فرد ، ثم قال : مرحباً بالأخِ الصالحِ ، والنبي الصالح ، ثم صعد بي حتى أتى السماء الرابعة ، فاستفتح ، قيل : من هذا ؟ قال : جبريل ، قيل : ومن معك ؟ قال : محمد ، قيل : أوقد أرسل إليه ؟ قال : صفحة رقم 339 نعم ، قيل : مرحباً به ، فنعم المجيءُ جاء ، ففتح ، فلما خلصت ، فإذا إدريس ، قال : هذا إدريس ، فسلم عليه ، فسلمت عليه ، فرد ، ثم قال : مرحباً بالأخ الصالحِ والنبي الصالح ، ثم صعد بي حتى أتى السماء الخامسة ، فاستفتح ، قيل : من هذا ؟ قال : جبريل ، قيل : من معك ؟ قال : محمد ، قيل : وقد أرسل إليه ؟ قال : نعم ، قيل : مرحباً به ، فنعم المجيء جاء ، ففتح ، فلما خلصت ، فإذا هارون ، قال : هذا هارون ، فسلم عليه ، فسلمت عليه ، فرد ، ثم قال : مرحباً بالأخ الصالح ، والنبي الصالح ، ثم صعد بي حتى أتى السماء السادسة ، فاستفتح ، قيل : من هذا ؟ قال : جبريل ، قيل : ومن معك ؟ قال : محمد ، قيل : قد أرسل إليه ؟ قال : نعم ، قال : مرحباً به ، فنعم المجيء جاء ، فلما خلصت ، فإذا موسى ، قال : هذا موسى ، فسلم عليه ، فسلمت عليه ، ثم قال : مرحباً بالأخ الصالح. والنبي الصالح ، فلما تجاوزت ، بكى ، قيل له : ما يبكيك ؟ قال : أبكي لأن غلاماً بعث بعدي يدخل الجنة من أمته أكثر ممن يدخلها صفحة رقم 340 من أمتي ، ثم صعد بي إلى السماء السابعة ، فاستفتح جبريل ، قيل من هذا ؟ قال : جبريل ، قيل : ومن معك ؟ قال : محمد ، قيل : وقد بعث إليه ؟ قال : نعم ، قال : مرحباً به ، فنعم المجيء جاء ، فلما خلصت ، فإذا إبراهيم ، قال : هذا أبوك إبراهيم ، فسلم عليه ، فسلمت عليه ، فرد السلام ، ثم قال : مرحباً بالابن الصالح ، والنبي الصالح ، ثم رفعت إلى سدرة المنتهى ، فإذا نبقها مثل قلال هجر ، وإذا ورقها مثل آذان الفيلة ، قال : هذا سدرة المنتهى ، وإذا أربعة أنهارٍ : نهران باطنان ، ونهران ظاهران ، فقلت : ما هذان يا جبريل ؟ قال : أما الباطنان ، فنهران في الجنة ، وأما الظاهران ، فالنيل والفرات ، ثم رفع لي بيت المعمور ، ثم أتيت بإناءٍ من خمرٍ ، وإناء من لبنٍ ، وإناء من عسل ، فأخذت اللبن ، فقال : هي الفطرة أنت عليها وأمتك ، ثم فرضت علي الصلاة خمسين صلاة كل يومٍ ، فرجعت ، فمررت على موسى ، فقال : بم أمرت ؟ قال : أمرت بخمسين صلاةً كل يومٍ ، قال : إن أمتك لا تستطيع خمسين صلاة كل صفحة رقم 341 يومٍ ، وإني والله لقد جربت الناس قبلك ، وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة ، فارجع إلى ربك ، فسله التخفيف لأمتك ، فرجعت ، فوضع عني عشراً ، فرجعت إلى موسى ، فقال مثله ، فرجعت ، فوضع عني عشراً ، فرجعت إلى موسى ، فقال مثله ، فرجعت ، فوضع عني عشراً ، فرجعت إلى موسى ، فقال مثله ، فرجعت ، فأمرت بعشر صلواتٍ كل يومٍ ، فقال مثله ، فرجعت ، فأمرت بخمس صلواتٍ كل يومٍ ، فرجعت إلى موسى ، فقال : بم أمرت ؟ قلت : أمرت بخمس صلوات كل يومٍ ، قال : إن أمتك لا تستطيع خمس صلواتٍ كل يومٍ ، وإني قد جربت الناس قبلك ، وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة ، فارجع إلى ربك ، فسله التخفيف لأمتك قال : سألت ربي حتى استحييت ، ولكني أرضى وأسلم ، قال : فلما جاوزت نادى منادٍ : أمضيت فريضتي ، وخففت عن عبادي ". هذا حديث متفق على صحته وأخرجه مسلم عن محمد بن المثنى صفحة رقم 342 عن محمد بن أبي عدي ، عن سعيد ، عن قتادة. قوله : بينما أنا في الحطيم. الحطيم : الحجر ، سمي حطيماً لما حطم من جداره ، فلم يسو ببناء البيت. قد ، أي : قطع. والشعرة : العانة : والقص : الصدر. وقيل في قول حزان السماوات : أرسل إليه ، أي : هل أرسل إليه للعروج إلى السماء ، وأما بعثه رسولاً إلى الخلق ، فكان شائعاً مستفيضاً قبل العروج. وذكر الخطابي على بكاء موسى ( صلى الله عليه وسلم ) قال : لا يجوز أن يتأول بكاؤه على الحسد له ، لأن ذلك لا يليق بصفات الأنبياء والأولياء ، وإنما بكى من ناحية الشفقة على أمته ، إذ قصر عددهم عن مبلغ عدد أمة محمد ( صلى الله عليه وسلم ). وقوله : إن غلاماً بعث بعدي. ليس على سبيل الإزراء به ، لكنه على معنى تعظيم المنة لله عليه ، إذ قد أحقه لذلك من غير طول عمرٍ في عبادته ، وقد تسمي العرب المستجمع للسن غلاماً ما دامت فيه بقية من قوةٍ. قوله : وإذا نبقها مثل قلال هجر. يريد أن حب ثمرها في الكبر مثل قلال هجر ، وهي الجرار ، وهي معروفة عندهم.

جناب قتادہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ مالک بن صعصعہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو اسرا کی رات کے بارے میں بتاتے ہوئے فرمایا ’’میں اس رات حطیم میں لیٹا ہوا تھا۔‘‘ اور بعض موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’حجر میں لیٹا ہوا تھا کہ میرے پاس ایک فرشتہ آیا۔‘‘ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک چیرا، میں نے جارود سے پوچھا جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے کہ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس سے کیا مراد تھی؟ تو انہوں نے کہا:سینے کے گڑھے سے لیکر ناف تک چیرا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینے کے اوپر سے ناف تک چاک کیا، ’’پھر میرا دل نکالا ، بعد ازاں میرے پاس سونے کی ایک طشتری لائی گئی جو ایمان سے بھری ہوئی تھی ، چنانچہ میرا دل دھویا گیا ، بعد ازاں اس میں اللہ کی محبت ڈالی گئی اور پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سفید رنگ کا جانور لایا گیا، جو گھوڑے سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا۔‘‘ جارود نے سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:ابو حمزہ! کیا وہ بُراق تھا؟ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:ہاں۔ اس کا ہر قدم اس کی منتہائے نظر پر پڑتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”مجھے اس پر سوار کیا گیا اور جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ میں آسمان دنیا (پہلے آسمان) تک پہنچا۔ جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، اس سے پوچھا گیا کون؟ انہوں نے بتایا:میں جبریل علیہ السلام ہوں۔ دریافت کیا گیا:آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا:محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا:ان کی جانب کسی کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا:جی ہاں۔ آواز آئی:ان کے آنے پر ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں، کیا ہی مبارک آنے والے ہیں اور دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر گیا تو میں نے وہاں آدم علیہ السلام کو دیکھا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا:یہ آپ کے جد امجد آدم علیہ السلام ہیں، انہیں سلام کیجیے! میں انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا:نیک بیٹے ، صالح پیغمبر کو خوش آمدید ہو!۔ بعد ازاں مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ دوسرا آسمان آ گیا ، جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا کہا، تو آواز آئی کہ کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ میں جبریل علیہ السلام ہو۔ پھر دریافت کیا گیا:آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا:محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا:کیا آپ کو انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ جبریل علیہ السلام نے کہا:جی ہاں۔ پھر آواز آئی:انہیں خوش آمدید! اچھے آنے والے ہیں، اور پھر اس کے بعد دروازہ کھول دیا گیا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”جب میں دوسرے آسمان پر پہنچا تو وہاں سیدنا یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام تھے اور یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ یحییٰ علیہ السلام اور یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ انہیں سلام کیجیے!۔ میں نے سلام کیا اور ان دونوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا:ٹیک بھائی اور صالح پیغمبر کو خوش آمدید ہو۔ بعد ازاں مجھے تیسرے آسمان پر لے جایا گیا اور جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا تو دریافت کیا گیا:کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا:میں جبریل ہوں۔استفسار کیا گیا:آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا:محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا:ان کی جانب کسی کو بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا:ہاں۔ کہا گیا:ان کو خوش آمدید ہو۔ ان کا تشریف لانا بہت ہی بہتر ہے۔ اس کے بعد دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اس میں داخل ہوا تو وہاں یوسف علیہ السلام تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یوسف علیہ السلام ہیں ، انہیں سلام کہیں، چنانچہ میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا:نیک بھائی اور صالح پیغمبر کو خوش آمدید ہو۔ اس کے بعد مجھے چوتھے آسمان تک لے جایا گیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا تو دریافت کیا گیا کہ کون ہے؟ بتایا کہ جبرائیل، پوچھا گیا:آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا:محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ پوچھا گیا:انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا:جی۔ کہا گیا:انہیں خوش آمدید ہو، کیا ہی عمدہ آنے والے ہیں! چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اس میں پہنچا تو وہاں ادریس علیہ السلام تھے۔ جبریل علیہ السلام نے بتایا:یہ ادریس علیہ السلام میں انہیں سلام کہیں۔ میں نے سلام کیا ، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا:نیک بھائی اور نیک پیغمبر کو خوش آمدید ہو۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے پانچویں آسان تک لے گئے۔ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا:کون صاحب ہیں؟ جواب دیا گیا کہ جبریل۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون صاحب ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا:محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ دریافت کیا گیا ان کی جانب کسی کو بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا:ہاں۔ کہا گیا:ان کو خوش آمدید ہو، ان کا تشریف لانا بہت بہتر ہے۔ چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں ہارون علیہ السلام تھے۔ جبرائیل نے بتایا کہ یہ ہارون علیہ السلام ہیں انہیں سلام کہیں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ نیک بھائی اور نیک پیغمبر کو خوش آمدید ہو۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے چھٹے آسمان تک لے گئے۔ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پوچھا گیا:کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا:میں جبرائیل ہوں۔ دریافت کیا گیا:آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ دریافت کیا گیا:کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ پھر کہا:انہیں خوش آمدید ہو۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ! جب میں پہنچا تو وہاں مویٰ علیہ السلام تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کہیں۔ میں نے انہیں سلام کہا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا:خوش آمدید ہو نیک نبی اور نیک بھائی کو۔ جب میں آگے بڑھا تو رونے لگے۔ کسی نے پوچھا:آپ رو کیوں رہے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا:میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میرے بعد ایک نو جوان رسول بنا کر بھیجا گیا، اس کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ساتویں آسمان تک پہنچایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ دریافت کیا گیا:کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب میں کہا:جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا:آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا:محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ سوال کیا گیا:کیا ان کی جانب کسی کو بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا:ہاں۔ کہا گیا: خوش آمدید ہو، ان کا تشریف لانا بہت ہی مبارک ہے۔ جب میں اندر گیا تو ابراہیم علیہ السلام تشریف رکھتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا:یہ آپ کے جد امجد ابراہیم علیہ السلام ہیں، انہیں سلام کہیں۔ میں نے انہیں سلام کہا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا:نیک بیٹے اور پارسا نبی کو خوش آمدید ہو۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کی جانب لے جایا گیا۔ اس کے پھل (بیر) ہجر (شہر) کے مٹکوں کے برابر تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کے برابر تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا:میں سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ وہاں چار نہریں تھیں ، دو نہریں پوشیدہ اور دو ظاہر تھیں۔ میں نے دریافت کیا:اے جبرائیل! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے بتایا:یہ دو پوشیدہ نہریں جنت کی اور یہ دو ظاہر نہریں نیل وفرات ہیں۔ پھر میرے سامنے بیت معمور ظاہر کیا گیا۔ پھر میرے سامنے ایک برتن میں شراب ، دوسرے برتن میں دودھ اور تیسرے میں شہد پیش کیا گیا، چنانچہ میں نے دودھ کے پیالے کو اٹھا لیا۔ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ وہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے۔ پھر مجھ پر روزانہ کی پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں واپس آیا اور میرا گزر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا:آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے بتایا کہ مجھ پر روزانہ کی پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:بلاشبہ آپ کی امت روزانہ پچاس نمازیں ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی اور اللہ کی قسم! بلاشبہ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنو اسرائیل کی اصلاح کی زبردست کوشش کر چکا ہوں۔ آپ اپنے پروردگار کی طرف واپس جائیں اور اپنی اُمت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں۔ (آپ نے فرمایا:) چنانچہ میں بارگاہ الہٰی میں واپس گیا تو مجھے دس نمازیں معاف کر دی گئیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ انہوں نے پھر پہلے جیسی بات کہی تو میں (بارگاہ الہٰی میں) واپس گیا تو اللہ تعالیٰ نے مزید دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، انہوں نے پھر پہلے جیسی بات کہی ، میں بارگاہ الہٰی میں واپس گیا تو اللہ تعالیٰ نے مزید دس نماز معاف کر دیں اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں روزانہ دس نمازیں ادا کروں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر پہلے کی سی بات کہی تو میں واپس گیا تو مجھے روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا ، انہوں نے دریافت کیا:آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے بتایا کہ روزانہ کی پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:بلاشبہ آپ کی امت روزانہ پانچ نماز یں ادا نہیں کر سکے گی۔ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنی اسرائیل کی اصلاح کی زبردست کوشش کر چکا ہوں لہٰذا آپ اپنے رب کی جانب جائیں اور امت کے لیے مزید تخفیف کا مطالبہ کریں۔ میں نے جواب دیا:میں نے اپنے پروردگار سے بار بار سوال کیا ہے اور اب مجھے شرم آتی ہے، میں اس فیصلے پر خوش ہوں اور میں اپنا اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :”جب میں آگے گزر گیا تو غیب سے آواز آئی کہ میں نے اپنے بندوں پر اپنے فرض کو نافذ کیا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی۔‘‘

مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Bab Al-Mi'raj · Hadith 3752

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب المعراج · حديث 3753

3753 - أخبرنا ابن عبد القاهر الجرجاني ، أنا عبد الغافر بن محمد الفارسي ، أنا محمد بن عيسى الجلودي ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم بن الحجاج ، نا شيبان بن فروخ ، نا حماد بن سلمة ، نا ثابت البناني صفحة رقم 343 عن أنس بن مالك أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : " أتيت بالبراق ، وهو دابةٌ أبيض طويل فوق الحمار ، ودون البغل يقع حافره عند منتهى طرفه ، قال : فركبته حتى أتيت بيت المقدس قال : فربطته بالحلقة التي تربط به الأنبياء قال : ثم دخلت المسجد ، فصليت فيه ركعتين ، ثم خرجت ، فجاءني جبريل بإناء من خمر وإناء من لبن ، فاخترت اللبن ، فقال جبريل : اخترت الفطرة ، قال : ثم عرج بنا إلى السماء ، وساق مثل معناه... قال : فإذا أنا بآدم فرحب بي ، ودعا لي بخيرٍ ، وقال في السماء الثالثة : فإذا أنا بيوسف ، إذا هو قد أعطي شطر الحسن ، فرحب بي ، ودعا لي بخيرٍ ، ولم يذكر بكاء موسى. وقال في السماء السابعة : فإذا أنا بإبراهيم مسنداً ظهره إلى البيت المعمور ، وإذا هو يدخله كل يوم سبعون ألف ملكٍ لا يعودون إليه ، ثم ذهب بي إلى السدرة المنتهى ، وإذا ورقها كآذان الفيلة ، وإذا ثمرها كالقلال ، قال فلما غشيها من أمر الله ما غشي تغيرت ، فما أحدٌ من خلق الله يستطيع أن ينعتها من حسنها ، وأوحى إليّ ما أوحى ، صفحة رقم 344 ففرض علي خمسين صلاةً في كل يومٍ وليلةٍ ، فنزلت إلى موسى ، فقال : ما فرض ربك على أمتك ؟ قلت : خمسين صلاةً قال : ارجع إلى ربك ، فسله التخفيف ، فإن أمتك لا تطيق ذلك ، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم ، قال : فرجعت إلى ربي ، فقلت : يا رب خفف على أمتي ، فحط عني خمساً ، فرجعت إلى موسى ، فقلت : حط عني خمساً. قال : إن أمتك لا تطيق ذلك ، فارجع إلى ربك فسله التخفيف قال : فلم أزل أرجع بين ربي وبين موسى حتى قال : يا محمد إنهن خمس صلوات كل يومٍ وليلةٍ لكل صلاة عشرٌ ، فذلك خمسون صلاةً ، من هم بحسنةٍ ، فلم يعملها كتبت له حسنةٌ ، فإن عملها ، كتبت له عشراً ، ومن هم بسيئةٍ ، فلم يعملها ، لم يكتب شيئاً ، فإن عملها ، كتبت سيئةً واحدةً ، قال : فنزلت حتى انتهيت إلى موسى ، فأخبرته ، فقال : ارجع إلى ربك ، فسله التخفيف ، فقال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : فقلت : قد رجعت إلى ربي حتى استحييت منه ". هذا حديث صحيح.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”میرے پاس بُراق لایا گیا اور وہ سفید رنگ کا دراز قد چوپایہ تھا، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا، جہاں تک اس کی نگاہ جاتی وہاں اس کا قدم پڑتا تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” میں اس پر سوار ہوا یہاں تک کہ میں بیت المقدس میں آیا، میں نے اس بُراق کو مسجد کے باہر اس حلقے کے ساتھ باندھ دیا جہاں دیگر انبیائے کرام علیہ السلام باندھا کرتے تھے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بھر میں مسجد اقصٰی میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کی ، پھر میں مسجد سے باہر نکلا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے۔ میں نے دودھ کا برتن لے لیا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا:آپ نے فطرت کو پسند کیا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’پھر ہمیں آسان کی جانب لے جایا گیا۔‘‘ اور اس کے بعد سیدنا انس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی مضمون بیان کیا جو سابق حدیث میں گزر چکا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اچانک میں نے آدم علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید اور میرے لیے خیرو برکت کی دعا کی۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسرے آسمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں یوسف علیہ السلام کے پاس تھا، انہیں آدھا حسن دیا گیا تھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی ۔‘‘ لیکن اس حدیث کے راوی نے سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس روایت میں موسیٰ علیہ السلام کے رونے کا ذکر نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ میں ساتویں آسمان میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس تھا جو بیت المعمور کے ساتھ پشت لگائے بیٹھے تھے۔ بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار فرشتے طواف کے لیے داخل ہوتے ہیں جنہیں دوبارہ داخل ہونا نصیب نہیں ہوتا۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب لے جایا گیا۔ اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی مانند تھے اور اس کے پھل مٹکوں کے برابر تھے۔ جب اس درخت کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی ڈھاپنے والی چیز سے ڈھانپ دیا گیا تو اس درخت کی حالت بدل گئی۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس درخت کے حسن کو بیان نہیں کر سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی پھر مجھ پر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کی جانب گیا، انہوں نے دریافت کیا:آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا:دن رات میں پچاس نمازیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:اپنے پروردگار کی جانب واپس جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کر لیں۔ اس لیے کہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، میں نے بنو اسرائیل کو آزمایا ہے اور ان کا امتحان لیا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ میں اپنے پروردگار کی جانب واپس گیا اور عرض کیا:اے میرے پالنہار! میری امت پر تخفیف فرما۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اور میری امت سے پانچ نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کی جانب واپس گیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازوں کو معاف کر دیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی لہٰذا آپ اپنے پر دردگار کی طرف واپس جائیں اور اس سے مزید تخفیف کے ملتجی ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں مسلسل اپنے پروردگار اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے محمد! یہ رات دن میں گویا پانچ نمازیں ہیں لیکن ان میں سے ایک نماز کا ثواب اس کے برابر ہے (اس طرح سے پانچ نمایں ثواب میں) پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔ جس شخص نے نیکی کا ارادہ کیا اور اسے نہ کر سکا تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر اس نے نیک کام کیا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور جس شخص نے برائی کا ارادہ کیا لیکن اس برے کام کو نہ کر سکا تو اس کے نامہ اعمال میں کچھ نہیں لکھا جائے گا۔ اگر اس نے (اپنے ارادے کے مطابق) برائی کی تو ایک برائی لکھی جائے گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا:”پھر میں بارگاہ رب العزت سے اترا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:اپنے پروردگار کی طرف واپس جائیں اور ان سے تخفیف کا مطالبہ کریں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں نے کہا کہ میں بار بار اپنے رب کے پاس گیا ہوں، اب مجھے اس کے پاس جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔“

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثابت البناني صفحة رقم ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ← محمد بن عيسى الجلودي ← عبد الغافر بن محمد الفارسي ← ابن عبد القاهر الجرجاني

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Bab Al-Mi'raj · Hadith 3753

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب المعراج · حديث 3754

3754 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، نا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، حدثنا محمد بن إسماعيل ، نا يحيى بن بكير ، نا الليث ، عن يونس ، عن ابن شهاب عن أنس بن مالك قال : كان أبو ذر يحدث أن رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قال : فرج عني سقف بيتي ، وأنا بمكة ، فنزل جبريل ، ففرج صدري ، ثم غسله بماء زمزم ، ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمةً وإيماناً ، فأفرغه في صدري ، ثم أطبقه ، ثم أخذ بيدي ، فعرج بي إلى السماء ، فلما جئت إلى السماء الدنيا قال جبريل لخازن السماء : افتح ، قل : من هذا ؟ قال : هذا جبريل ، قال : هل معك أحدٌ ؟ قال : نعم ، معي محمد ( صلى الله عليه وسلم ) ، فقال : أرسل إليه ؟ قال : نعم ، فلما فتح ، علونا السماء الدنيا إذا رجلٌ قاعدٌ على يمينه أسودةٌ ، وعلى يسارة أسودةٌ ، إذا نظر قبل يمينه ضحك ، وإذا نظر قبل شماله ، بكى ، فقال : مرحباً بالنبي الصالح ، والابن الصالح ، قلت لجبريل : من هذا ؟ قال : هذا آدم وهذه الأسودة عن يمينه وشماله نسم بنيه ، فأهل اليمين منهم أهل الجنة ، والأسودة التي عن شماله أهل صفحة رقم 346 النار ، فإذا نظر عن يمينه ضحك ، وإذا نظر قبل شماله ، بكى حتى عرج بي إلى السماء الثانية ، فقال لخازنها : افتح ، فقال له خازنها مثل ما قال الأول ، قال أنس : فذكر أنه وجد في السماوات آدم وإدريس وموسى وعيسى وإبراهيم ، ولم يثبت كيف منازلهم غير أنه ذكر أنه وجد آدم في السماء الدنيا وإبراهيم في السماء السادسة. قال ابن شهاب : فأخبرني ابن حزم أن ابن عباس وأبا حبة الأنصاري كانا يقولان : قال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) : ثم عرج بي حتى ظهرت لمستوى أسمع فيه صريف الأقلام ، قال ابن حزمٍ وأنس بن مالك : قال النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ففرض الله على أمتي خمسين صلاة ، قال : فرجعت بذلك حتى مررت على موسى ، فقال : ما فرض الله لك على أمتك ؟ قلت : فرض خمسين صلاةً ، قال : فارجع إلى ربك ، فإن أمتك لا تطيق ، فراجعني ، فوضع شطرها ، فرجعت إلى موسى ، فقلت : وضع شطرها ، فقال : راجع ربك فإن أمتك لا تطيق ، فراجعت ، فوضع شطرها فرجعت إليه ، فقال : ارجع إلى ربك ، فإن أمتك صفحة رقم 347 لا تطيق ذلك ، فراجعته ، فقال : هي خمسٌ ، وهي خمسون لا يبدل القول لدي ، فرجعت إلى موسى ، فقال : راجع ربك ، فقلت : استحييت من ربي ، ثم انطلق بي حتى انتهى بي إلى السدرة المنتهى ، وغشيها ألوان لا أدري ما هي ، ثم أدخلت الجنة ، فإذا فيها حبائل اللؤلؤ ، وإذا ترابها المسك. هذا حديث متفق على صحته أخرجه مسلم عن حرملة بن يحيى ، عن ابن وهب ، عن يونس ، وقال : " فإذا فيها جنابذ اللؤلؤ يريد : قباب اللؤلؤ " ، والجنابذ : جمع الجنبذة ، وهي القبة ، ولم يعرف الخطابي الحبائل والأسودة : جمع سواد وهو شخص الإنسان. صفحة رقم 348 والنسم : جمع نسمةٍ ، وهي النفس ، وكل دابة فيها روح ، فهي نسمةٌ ، والنسم : الروح ، وأراد أرواح أولاده ، وقوله : ظهرت ، أي : صعدت ، والمستوى : المصعد. وقوله : أسمع صريف الأقلام : يريد - والله أعلم - ما يكتبه الملائكة من أقضية الله عز وجل ، وما ينسخونه من اللوح المحفوظ.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میرے لیے میرے گھر کی چھت کھولی گئی جب کہ میں مکہ میں تھا۔ جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا، بعد ازاں اسے زمزم کے پانی کے ساتھ دھویا، پھر وہ سونے کی اک طشتری لائے جس میں ایمان اور حکمت تھا اور اسے میرے دل میں داخل کر دیا۔ پھر سینے کے سوراخ کو ملا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی جانب لے گئے۔ جب میں آسمان دنیا یعنی پہلے آسان پر پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے نگران سے کہا کہ دروازہ کھولو! اس نے پوچھا:کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ جبرائیل ہوں۔ فرشتے نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا:ہاں! میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ نگران فرشتے نے پوچھا:ان کی جانب پیغام بھیجا گیا تھا؟ جبریل علیہ السلام نے اثبات میں جواب دیا۔ جب دروازہ کھل گیا تو آسمان دنیا پر چلے گئے تو وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور اس کے آل اولاد میں سے کچھ لوگ اس کی دائیں جانب اور کچھ لوگ بائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے، جب وہ اپنی دائیں جانب نظر اٹھاتا تو ہنسنے لگتا اور جب وہ اپنی بائیں جانب نظر اٹھا تا تو رونے لگتا۔ اس نے کہا:صالح پیغمبر اور صالح بیٹے کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میر سیدنا آدم علیہ السلام ہیں اور ان کی دائیں اور بائیں جانب ان کی اولاد ہے۔ ان میں سے دائیں جانب والے جنتی جبکہ بائیں جانب والے دوزخی ہیں۔ جب وہ دائیں جانب دیکھتے ہیں تو مسکراتے ہیں اور جب وہ بائیں جانب دیکھتے ہیں تو روتے ہیں۔ یہاں تک کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے جایا گیا اور جبریل علیہ السلام نے نگران فرشتے سے دروازہ کھولنے کے لیے کہا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو پہلے آسمان کے نگران نے کہی تھی۔‘‘ اس حدیث کے راوی سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمانوں میں آدم، ادریس، موسیٰ اور عیسیٰ اور ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی لیکن ان کی منازل اور مقامات کا تفصیل احوال ذکر نہیں فرمایا البتہ صرف آدم علیہ السلام سے پہلے آسمان پر اور ابراہیم علیہ السلام سے چھٹے آسمان پر ملنے کا ذکر فرمایا۔ ابن شہاب زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں:مجھے ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ نے بتایا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو حبہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بعد ازاں مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایک بلند مقام پر پہنچا جہاں مجھے قلموں سے لکھنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہاں اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ میں اس حکم کے ساتھ واپس آیا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا:اللہ تعالیٰ نے تمہاری امت پر کیا چیز فرض کی ہے؟ میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے مشورہ دیا کہ آپ اپنے پروردگار کی جانب واپس جائیں اس لیے کہ آپ کی اُمت اس کی استطاعت نہیں رکھتی۔ اس طرح موسیٰ علیہ السلام نے مجھے واپس کیا تو کچھ نمازیں معاف کر دی گئیں پھر میں موسیٰ علیہ السلام کی جانب گیا، میں نے بتایا کہ کچھ نمازیں معاف کر دی گئیں ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اپنے پروردگار کے پاس پھر جائیں اس لیے کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔ میں اللہ رب العزت کی طرف واپس گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:نمازیں بظاہر پانچ ہیں لیکن ثواب پچاس نمازوں کا ہے، میرے علم میں تبدیلی نہیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کی جانب گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ پھر اپنے پروردگار کے پاس جائیں۔ میں نے عرض کیا کہ اب میں اپنے پروردگار کے پاس جانے میں شرم محسوس کرتا ہوں۔ پھر مجھے لے جایا گیا یہاں تک کہ میں سدرۃ المنتہیٰ کے قریب گیا جسے رنگ دنور نے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ اس کی حقیقت کیا تھی۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو وہاں میں نے موتیوں کے محل نما گنبدوں کا مشاہدہ کیا اور یہ بھی دیکھا کہ اس جنت کی مٹی کستوری تھی۔‘‘

کَانَ أَبُو ذَرٍّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Bab Al-Mi'raj · Hadith 3754

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب المعراج · حديث 3755

3755 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، حدثنا الحميدي ، نا سفيان ، نا عمرو ، عن عكرمة. عن ابن عباس في قوله سبحانه وتعالى : ( وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الّتِي أَرَيْنَاكَ إلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ ) ) الإسراء : 60 ) قال : هي رؤيا عين أريها رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) ليلة أسري به إلى بيت المقدس قال : ) وَالشَّجَرَةِ المَلْعُونَةِ في القُرْآنِ ( ( الإسراء : 60 ) قال : هي شجرة الزقوم. صحيح.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:(وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ إِلا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ )’’جو رویا (عینی رؤیت) ہم نے آپ کو دکھائی تھی وہ لوگوں کے لیے صاف آزمائش ہی تھی۔‘‘ (بنی اسرائیل:۲۰) کے متعلق کہا:اس سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس معراج کی رات دکھایا گیا تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس تک لے جایا گیا تھا۔ اور قرآن مجید میں ہے: (وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُونَۃَ فِی الْقُرْآنِ)’’اوراسی طرح وہ درخت بھی جس سے قرآن میں اظہار نفرت کیا گیا ہے۔‘‘ (سورہ اسراء:۲۰) سے مراد تھوہر کا درخت ہے۔

تعالى وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الّتِي أَرَيْنَاكَ إلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ الإسراء ← ابن عباس في قوله سبحانه ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أحمد بن عبد الله النعيمي ← عبد الواحد بن أحمد المليحي

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Bab Al-Mi'raj · Hadith 3755

شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب المعراج · حديث 3756

3756 - أخبرنا ابن عبد القاهر ، أنا عبد الغافر بن محمد الفارسي ، أخبرنا محمد بن عيسى الجلودي ، نا إبراهيم بن محمد بن سفيان ، نا مسلم ابن الحجاج ، نا أبو بكر بن أبي شيبة ، نا أبو أسامة ، حدثني مالك بن صفحة رقم 349 مغول ( ح ) قال مسلم : ونا ابن نمير ، نا أبي ، نا مالك بن مغولٍ ، عن الزبير بن عدي ، عن طلحة ، عن مرة عن عبد الله قال : لما أسري ب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) انتهي به إلى سدرة المنتهى ، وهي في السماء السادسة ، إليها ينتهي ما يعرج به من الأرض ، فيقبض منها ، وإليها ينتهي ما يهبط به من فوقها ، فيقبض منها ، قال : ) إذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى ( قال : فراشٌ من ذهب ، قال : فأعطي رسول الله [ ] ثلاثاً : أعطي الصلوات الخمس ، وأعطي خواتم سورة البقرة ، وغفر لمن لا يشرك بالله من أمته شيئاً المقحمات. هذا حديث صحيح. المقحمات : أراد الذنوب العظام التي تقحم أصحابها في النار ، أي : تلقيهم فيها ، والقحم : الأمور الشاقة ، وقوله سبحانه وتعالى : ( هذا فَوْجٌ مُقتحِمٌ مَعَكُمْ ) ) ص : 59 ) أي : داخلٌ معكم النار.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج کرایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا اور یہ چھٹے آسمان میں ہے، جو چیز بھی زمین سے اوپر لے جائی جاتی ہے اسے وہاں روک دیا جاتا ہے اور اس کے اوپر سے جو کچھ بھی نیچے آتا ہے اسے بھی وہیں روک لیا جاتا ہے۔ (اس کے بعد) ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی:(إِذْیَغْشَی السَّدْرَۃَ مَا یَغْشَی)” جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی۔‘‘ (سورہ نجم:۱۲) اور کہا کہ اس سے مراد سونے کے پتنگے ہیں اور کہا کہ اسی مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں ، سورہ بقرہ کی آخری آیات اور مسلمانوں کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← طَلْحَةَ، ← الزبير بن عدي ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَبِي ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← مُّسْلِمٍ ← مالك بن صفحة رقم مغول ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مسلم ابن الحجاج ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ← محمد بن عيسى الجلودي ← عبد الغافر بن محمد الفارسي ← ابن عبد القاهر

Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Bab Al-Mi'raj · Hadith 3756

chevron_left Previous
1…1112131415
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. (The Book of Faith)
    1. Door2. (Chapter explaining the deeds of Islam and the reward for establishing them)3. (Chapter explaining that deeds are part of faith, and that faith increases and decreases, and responding to the Murji'ah)4. (Chapter of the sweetness of faith and love of God Almighty and His Messenger (may God bless him and grant him peace)5. (Chapter of the one who embraced Islam on the good that he had previously accepted6. (Chapter of pledging allegiance to Islam and its laws and fighting with those who refuse)7. (Chapter signs of hypocrisy8. (Chapter on major sins9. Chapter He who dies does not associate anything with God10. (Chapter on pardoning self-talk11. (Chapter on responding to waswasah12. (The door of Islam began strange and will return as it began13. (Chapter on Belief in Destiny14. (Matters chapter with the will of God Almighty15. (Chapter of business with endings16. (Bab and Abdul Qadriyah17. (Children of the polytheists chapter18. (Chapter on the words of God Almighty (We turn their minds and eyes) as they did not believe in it for the first time.19. (Chapter in response to Jahmiyya20. (Chapter on responding to those who said about the creation of the Qur’an)21. (The door to sit-in with the Qur’an and Sunnah22. (Chapter Rejecting heresies and whims23. (Door to avoiding the people of passions
24. (Chapter Reward for one who calls for guidance or revives Sunnah and the sin of one who invents heresy or calls for it)
3. (The Book of Knowledge)
    25. Chapter on communicating the hadith of the Messenger (may God bless him and grant him peace)26. Chapter: The Sin of Who Lied to the Prophet (may God bless him and grant him peace)27. (Chapter of those who say in the Qur’an without knowledge28. (Chapter on litigation in the Qur’an29. (Chapter of the one who narrated a hadeeth who thinks that it is a lie30. (Chapter of the hadith of the People of the Book31. (Chapter on the merit of knowledge32. (Chapter of Al-Tafaqah in Religion33. (Science scribes chapter34. (Chapter on envy in science35. (Chapter: Whoever leaves a note to benefit from it36. (Chapter and feast of the concealment of knowledge he knows37. (Chapter re-speech to understand38. (Chapter on Prevention of Fatwa39. (Chapter put the issue to friends for testing40. (Chapter on entitlement to sermon41. (The door to capture the flag
4. (The Book of Purity)
    42. (Chapter on the merit of ablution43. (Chapter on what requires ablution44. (Ablution from sleep door45. (Ablution door from touching the vulva46. (Ablution from touching a woman chapter47. Chapter Leaving ablution, which touches the fire48. (The chapter on rinsing of milk and suwaiq49. (Chapter of doubt about the event is based on certainty50. (Chapter on outdoor literature51. (The door to concealment when defecating52. (Chapter What to say if he enters the toilet53. (Chapter on hate speech to relieve the toilet54. (Chapter of the places in which it is forbidden to relieve themselves55. (Urine door standing56. (Urine in the vessel chapter57. (Chapter on cleaning oneself with water58. (Chapter on tooth brushing59. (Chapter Intention in ablution and other acts of worship60. (Chapter on washing hands when starting ablution61. (Chapter on naming it in ablution62. (The chapter on rinsing and sniffing, exaggerating them, and picking fingers63. (Chapter Pickling the beard64. (Beginning door in Mayman65. (Chapter on prolonging the bangs66. (Chapter on the obligation to wash the legs67. (Chapter on the attribute of the ablution of the Prophet (may God bless him and grant him peace)68. (Chapter on wiping the head and ears69. (Ablution door once70. (Ablution door twice twice71. (Ablution three trips72. (Chapter on the desirability of ablution for every prayer73. (Chapter on wiping over the socks74. (Timing section in the survey
4. (The Book of Purity)
    75. Chapter What requires washing76. Chapter on how to wash77. Door overturning braids78. Menstrual washing door79. The door of washing a man with a woman80. Ablution door thanks to others81. Ablution door thanks to women82. The side shaking hands and mixing with him door83. The door of the side if he wants to sleep, oud, or food, he does ablution84. Bab al-Muhaddith eats before ablution85. Chapter on the prohibition of reading the Qur’an on the side and staying in the mosque86. The updated section does not touch the Koran87. The door of ablution and washing water88. Chapter Water provisions89. Water door that is not defiled90. Chapter forbidding urine in permanent water91. The door of the purity of the captures of lions and kittens except for a dog92. The door to washing the impurity of a dog93. Menstrual blood washing section94. Urine door hits the ground95. The door of Paul, the boy who was not fed96. Semen that infects a garment97. The door hurts the sole98. Door tanner99. The door of tayammum100. Chapter How to perform tayammum101. Chapter prohibition of Ghashabban menstruating women from homes, as the action of the Jews102. The door of intercourse with menstruating women103. Section on the time of puerperium104. The door of the menstruating woman, if she becomes pure, she should make up the fast and not make up the prayer105. The chapter on the ruling of the case106. Bab Al-Safra and Al-Brown107. The door of his blood108. Friday washing door109. Door washing from washing the dead110. The door of washing when Islam
5. prayer book
    111. Chapter of the virtue of the five daily prayers112. The door and the feast of the one who does not pray113. Chapter of prayer times114. The door to expediting prayers115. The door to expediting the dawn prayer116. The door to expedite the noon prayer117. The door of the refrigerator at the back in the heat118. The door to accelerate the era119. Chapter and feast from the end of the afternoon until the yellowing of the sun and the warning of the missed120. Door to accelerate Morocco121. The door to delay dinner122. The door of those who hate to be called dinner dark123. Chapter of the merit of Fajr and Asr prayers124. Chapter of the merit of evening and dawn prayers in the congregation125. Middle prayer door126. The door to hasten prayer if the imam is delayed127. The door to spend the past128. Time keeping section129. The door of the catch of time130. The door to prayer and residence, and that it is two-fold, and the residence is individual131. Chapter rewind in the call to prayer132. The door of redemption133. Chapter twisting in the call to prayer134. Chapter on the merit of the call to prayer135. Chapter answering the muezzin136. Chapter of supplication between the call to prayer and residence137. The door to prayer between the call to prayer and residence138. The traveler's call to prayer139. The door of the call to prayer for morning before dawn140. The door of the call to prayer for the missed person and the residence for her141. Chapter when the muezzin resides and when the people rise142. The door of the one who does not hurry after residency143. Speech after the stay144. The door to convert Qibla from Jerusalem to the Kaaba145. The door of a kiss who missed Mecca146. The door to prayer in the Kaaba147. Chapter on the merit of praying in the Grand Mosque, Madinah Mosque and Al-Aqsa Mosque148. The door of the Al-Aqsa Mosque149. The door of the Quba Mosque150. Chapter of the virtue of mosques151. The door of reward for those who built a mosque152. Chapter preferred to attain mosques153. The door of guidance in walking to prayer154. Door155. Gravel door in the mosque and sweep it156. The door to greet the mosque157. Chapter what to say if he entered the mosque158. The door of the merit of sitting in the mosque to wait for prayer159. Chapter on hatred of buying and selling in the mosque160. The door to sleep in the mosque161. The hatred of slugs in the mosque and towards the Qiblah162. The door of eating garlic, not close to the mosque163. Prayer door on the pulpit164. Mosques door in homes and cleaned165. The door to prayer in the pens of sheep and donated camels166. Chapter of places where prayer was prohibited167. Door hatred to take the grave as a mosque168. The door to prayer in one garment169. Door sidl in prayer170. The door to prayer in the quilts of women171. The hatred of prayer door in a dress with flags172. Chapter about how many clothes a woman prays173. The door to prayer on the winery and mats174. Prayer door in slippers175. Bab Sitra Al-Musalla176. Door near the jacket177. Blazer pot door178. The hatred of passing in the hands of the worshiper and the permissibility of pushing him179. Door does not cut his prayer what passed between his hands
5. prayer book
    180. (Chapter of the description of prayer181. (Chapter on takbeer at the beginning of prayer182. (Chapter on raising the hands when opening the opening takbeer, when bowing, rising from it, and standing up from the two rak'ahs183. (Chapter placing the right over the left in prayer184. (Chapter on what begins with prayer of supplication185. (Chapter on seeking refuge186. (Chapter: It is obligatory to read the beginning of the book187. (Opening the door to reciting with al-fatiha and leaving the name out loud188. (Chapter on loudly securing loudspeakers189. (Chapter on the merit of insurance190. (Chapter on reading in the afternoon and afternoon191. (The chapter on reading secrets in the afternoon and afternoon192. (Chapter on reading in the Maghrib prayer193. (Chapter on reading at dinner194. (Chapter on reading in the morning195. (Chapter on reading behind the imam and whoever said: He should not recite if the imam is speaking aloud196. (Chapter What is partial to the illiterate and the non-Muslim recitation197. (Kneeling body door198. (Chapter of the celebration of the one who does not bow and prostrate, and the necessity of tranquility in moderation199. (Chapter on what he says in bowing and prostrating200. (Chapter forbidding reading in bowing and prostrating201. (Chapter on straightening up from kneeling and prostrating202. (Chapter: What to say after straightening up from bowing203. (Bab Al Qunoot204. (Chapter on supplication in Qunoot205. (The door to prostration on seven members206. (Chapter of the body of prostration207. (Chapter on the merit of prostration208. (The door to sitting between the two prostrations209. (Chapter what he says between the two prostrations210. (The door to sitting next to the two prostrations in the first and third211. (Chapter How to get up212. (Chapter on easing sitting for the first Tashahhud213. (Chapter on how to sit for the two Tashahhuds214. Chapter How to put the hands in the two Tashahhuds215. (Chapter on reading the Tashahhud216. (Chapter on concealing the tashahhud217. Chapter: Prayer on the Prophet (may God bless him and grant him peace)218. Chapter: The merit of praying upon the Prophet (may God bless him and grant him peace)219. (The chapter on supplication before peace220. (Chapter of submission in prayer221. (Chapter on turning away from prayer222. (The man's door leaves before the imam223. (Door of the imam staying in the prayer hall until the women leave224. Chapter: What is desirable to sit in the mosque after the morning prayer225. (Dhikr chapter after prayer226. (Chapter on the prohibition of speaking in prayer227. (Chapter on yawning during prayer228. (Chapter on crying in prayer229. (Chapter on dislike abbreviation in prayer230. (Chapter on detestation of turning around in prayer231. (The hatred of raising the gaze to the sky in prayer232. (The chapter on reverence during prayer233. (Carrying a boy during prayer door234. (Chapter on killing snakes and scorpions in prayer235. (The door to simple work does not nullify prayer236. (Chapter of praise if something swirls during prayer237. (Chapter on the event in prayer238. (Chapter on prostration for forgetfulness239. Chapter: Whoever doubts his prayer and does not know how much he prayed based on certainty240. (Chapter of the five noon prayers241. (Chapter on the one who left the first tashahhud242. (Chapter of the blessings of two rak'ahs243. (Chapter on prostration of the Qur’an244. (Chapter on prostration in Hajj245. (Chapter on prostration on p246. (Chapter on the prostration of recitation in prayer247. (The door of prostration with the prostration of the reader248. (Chapter on the one who neglects the prostration of recitation249. (Chapter of what he says in the prostration of recitation250. (Prostration of thanksgiving chapter251. (Chapter of the times during which it is forbidden to pray252. (Chapter on the concession to pray at midday on Friday253. (Chapter on the permission to pray at these times in Mecca, may God protect it254. (Chapter on what is prayed during these past times255. Chapter: The Prophet (peace and blessings be upon him) persevering two rak'ahs after Asr256. (Chapter on the merit of the group257. (Emphasis on leaving the group258. (Chapter of the permission to leave in congregation and Friday when rain and excuse259. (Chapter of starting food if attended and if the prayer is performed260. (Bab does not pray while he is an injector261. (Chapter: If the prayer is established, there is no prayer except the written one262. (Class leveling and completion chapter263. (Chapter on the merit of the first row264. (Who is the first in the first grade chapter265. (Chapter of those who pray behind the row alone266. (Chapter if there is one man with the imam standing on his right267. (Chapter if they were three, the imam would lead, and the other two stood behind him in a row, and the woman stood behind the men alone268. (Chapter if the imam stood in a higher place269. (Chapter Who is the first to lead the imamate270. (Chapter about who is the mother of a people and they hate him271. (Chapter: What an imam must complete the prayer272. (The Imam door reduces the prayer273. (Mitigation section to order happen274. (Chapter: It is obligatory to follow the imam275. (Chapter and the feast of one who raises his head before the imam276. (Chapter if the imam prays sitting277. (The door to the side who prays with people who are people278. (Chapter of the one who prays alone then catches up with a group he is praying with them279. (Chapter of the one who prays once and then the mother of people in that prayer280. (Women go out to mosques door
6. (Sections of redundancy
    281. (Chapter on Sunan salaries282. (The door of the two rak'ahs of Fajr and their preference283. (Chapter on reducing the two rak'ahs of Fajr and what is recited in them284. (The door of the dajaa after the two rak'ahs of dawn285. (Chapter of the one who prays four before noon and after four286. (Chapter on the four before afternoon and the daytime prayer statement287. (The door to prayer before sunset288. (Chapter of prayer between sunset and dinner289. (The door of the two rak'ahs after dinner
6. (Sections of redundancy
    290. Night prayer door291. The door of the one who opened his prayer with two light rak'ahs at night292. The door to lengthening night prayers293. Chapter how reading at night294. The door of incitement to pray the night295. The door of diligence in the night prayers296. The introduction of minors in the night and other things297. The door to work continuity298. The door to leave work when sleep and apathy prevail299. The door to pray in the middle of the night300. The door of reviving the end of the night and its preference301. Chapter what he says if he rises from the night302. The door of the night prayer is two by two, and the tendon is one303. The door of tendon with three and five and seven or more304. The door makes the last prayer at night and see305. The door of the initiative waxing with tendon306. Witr door before bed307. The door of greed to rise at the end of the night at the end of the tendon308. Chapter of all hours of the night time for Witr309. The door to wake up parents to tendon310. Chapter of what is read in the gut311. Chapter on the merit of Witr312. Night prayer door sitting313. Prayer of the base on the half of the prayer of the Qaem314. The door of the one who slept for his party spent it during the day315. The door to the month of Ramadan and its preference316. Bab in the night of the fifteenth of Shaban317. Chapter preferred to volunteer at home318. Duha prayer door319. 4 Chapter number of Duha prayers320. Chapter of the merit of Duha prayer321. Door time for Duha prayer322. Chapter of the merit of one who purifies and prays his punishment323. The door to prayer upon repentance324. Chapter of Istikhara prayer325. Chapter of praise prayers326. Chapter on the merit of volunteering
7. Travel prayer doors
    327. The door of the prayer palace328. The door of the passport of minors in the event of security329. A door if the traveler stays in a house to how short it is330. Chapter prayer for the resident behind the traveler331. The door of those who did not volunteer to travel332. Chapter on volunteering and tendon on the traveler where she headed333. Chapter combining prayers in travel334. The door to combine with an excuse for rain
8. Friday book
    335. The door to impose Friday336. Chapter preferred on Friday and what was said in the hour of response337. The door and the slave of leaving Friday without an excuse338. Friday door in the villages339. Chapter of who is not obligated by Friday340. The door of cleaning and perfume on Friday341. Door early to Friday342. Chapter expediting the Friday prayer and the nap after it343. The door to surrender if ascending the pulpit and relying on the stick344. The door to call to prayer on Friday345. The door of the engagement standing and sitting between the two sermons346. The door of the engagement palace347. Chapter reading the Qur’an in the sermon348. The hatred of raising hands in the sermon349. The door to listen to the sermon and receive the imam350. The door of the person who entered the sermon and the imam prayed two rak'ahs351. The hatred of skipping on Friday352. The door of sleepiness turns353. Chapter reading on Friday prayers354. Chapter If the enemy was not in the direction of the Qiblah, the Imam dispersed them two divisions, and he prayed in each sect355. Chapter of the one who said: The first sect stands up and completes its prayer, then the second sect comes and the imam prays with them one rak'ah356. The door of those who said pray two rak'ahs in each sect357. Section If the enemy was from the direction of the qiblah, the Imam prayed with all of them and guarded in prostration358. The door of the two feasts359. Exit door to the prayer hall on Eid360. Section No call to prayer or Iqama for Eid prayer and offering prayer361. The door to eating the day of breaking the fast before going out362. Chapter Takbeers Eid prayer and reading in it363. The door of someone who crosses the road if he returns from the prayer hall364. The door to prayer before and after the Eid prayer365. The door for women to go out to the two Eids366. The license door to play on Eid367. Chapter of the year of Eid al-Adha and delaying the sacrifice368. Chapter What is desirable from the sacrifice and what is disliked from it369. Chapter on the reward for the sacrifice370. Chapter reward work in the tenth of Dhu al-Hijjah371. Chapter If the tithe enters, whoever wants to sacrifice does not touch anything of his hair and nails372. Chapter sharing in the sacrifice373. Chapter eating from the sacrifice after three or more374. Chapter of the eclipse prayer and its lengthening375. Chapter of the one who prays in each rak'ah two rak'ahs and the call to prayer is combined376. Chapter How to read in the eclipse prayer377. The door of alienation in the eclipse378. Chapter fear of profit379. Star Throwing Door380. The door of prostration when a verse occurs381. Drops door382. Door raising hands in dropsy383. The door of rain of righteous people and people of the house of prophethood384. Chapter of rain in the Friday sermon385. The hatred of raining rain386. The door of the unseen only God knows387. The jutting door of the rain388. Chapter on the merit of learning the Qur’an and teaching it389. Chapter on the merit of reciting the Qur’an390. Door391. Chapter preferred to open the book392. Chapter virtue of Surat Al-Baqara and the family of Imran393. Chapter on the merit of Ayat al-Kursi and the two verses from the end of Surat al-Baqarah394. Seven door height395. Chapter preferred Surat Al-Kahf396. Door in the pain of downloading prostration and blessing397. Chapter of the merit of Surat Al-Ikhlas398. The door of Almoothtin399. Chapter How to read and rewind it400. The door to singing the Quran401. The door to hear the Qur’an402. The door of pledging the Qur’an and promising those who forgot it403. Section on how much it reads404. Door405. Chapter on the saying of the Prophet (may God bless him and grant him peace): The Qur’an was revealed in seven letters406. Chapter of collecting the Qur’an407. Door does not travel the Quran to the land of the enemy
9. (Book of invitations)
    408. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for his nation409. Chapter of the supplication of the Prophet (may God bless him and grant him peace) for the one who cursed him from his ummah is to make it a bag for him410. Chapter: The merit of remembrance of God Almighty and the majlis of dhikr411. (Chapter on drawing closer to God Almighty with redundancy and remembrance412. (The door of the one who sits in a council in which God did not mention413. (Chapter on the names of God Almighty414. (Chapter of what was said in the greatest name415. (Chapter of the Reward of Praise416. (Chapter of holding praise by hand417. (Chapter on the Reward of Hamid418. (Chapter on the Reward of Tahlil419. (Chapter: Reward Glory be to God, Praise be to God, and there is no god but God and God is Great420. (Chapter of the merits of there is no strength or power except with God421. (The door for forgiveness422. (Chapter of Repentance423. (The door to the best of forgiveness424. (Chapter what he says if he takes his bed425. Chapter426. (Chapter of what he says when it becomes427. (Chapter on what the married person says428. (Chapter of what he says when talking with parents429. (Chapter on what to say when distress430. (Chapter what to say when angry431. (Chapter of what he says when a rooster crows432. (Chapter of what he says when seeing the crescent433. (Chapter what to say if he is seen afflicted434. Chapter What to say if it enters the market435. (Chapter on penance for the Council436. (Chapter what he says if he goes out to travel437. (Chapter what to say if riding an animal438. (Farewell door439. (Chapter What to say if he went down440. (Chapter on Takbir if it rises honor and praise if it is revealed441. (Chapter what to say if locked from travel442. (Chapter on praying for infidels with guidance443. (Chapter on supplication for infidels444. Chapter: Abandoning supplication to the oppressor445. (The chapter on seeking refuge446. (Chapter of the Mosque of supplication447. (Encouraging supplication chapter448. (Abandoning urgency section449. (Chapter of the one who called, let him resolve450. (Chapter on whose call is answered451. (Chapter on the etiquette of supplication and raising hands in it452. ( Door