شرح السنة للبغوي · كتاب الفضائل ‹ باب دعائه ( صلى الله عليه وسلم ) المشركين وصبره على أذاهم · حديث 3745
3745 - أخبرنا عبد الواحد بن أحمد المليحي ، أنا أحمد بن عبد الله النعيمي ، أنا محمد بن يوسف ، نا محمد بن إسماعيل ، حدثنا أحمد ابن إسحاق ، نا عبيد الله بن موسى ، نا إسرائيل ، عن أبي إسحاق ، عن عمرو بن ميمون. عن عبد الله بن مسعود قال : بينما رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) قائمٌ صفحة رقم 330 يصلي عند الكعبة ، وجمع قريش في مجالسهم إذ قال قائلٌ منهم : ألا تنظرون إلى هذا المرائي أيكم يقوم إلى جزور آل فلانٍ ، فيعمد إلى فرثها ودمها وسلاها ، فيجيءُ به ، ثم يمهله حتى إذا سجد ، وضعه بين كتفيه ، فانبعث أشقاهم ، فلما سجد رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) وضعه بين كتفيه ، وثبت النبي [ ] ساجداً ، فضحكوا حتى مال بعضهم على بعض من الضحك ، فانطلق منطلق إلى فاطمة وهي جويرية ، فأقبلت تسعى ، وثبت النبي ( صلى الله عليه وسلم ) ساجداً حتى ألقته عنه ، فأقبلت عليهم تسبهم ، فلما قضى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) الصلاة قال : " اللهم عليك بقريشٍ ، اللهم عليك بقريشٍ ، اللهم عليك بقريشٍ ، ثم سمى : اللهم عليك بعمرو بن هشامٍ ، وعتبة بن ربيعة ، وشيبة بن ربيعة ، والوليد بن عتبة ، وأمية ابن خلف ، وعقبة بن أبي معيط ، وعمارة بن الوليد ، قال عبد الله : فوالله لقد رأيتهم صرعى يوم بدر ، ثم سحبوا إلى القليب قليب بدرٍ ، ثم قال رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) : " وأتبع أصحاب القليب لعنةً ". صفحة رقم 331 هذا حديث متفق على صحته وأخرجه مسلم عن عبد الله بن عمر ابن محمد بن أبان الجعفي ، عن عبد الرحمن بن سليمان ، عن زكريا ، عن أبي إسحاق بإسناده ، وقال : ودعا عليهم ثلاثاً ، وكان إذا دعا ، دعا ثلاثاً ، وإذا سأل ، سأل ثلاثاً. وقال شعبة عن أبي إسحاق : إذ جاء عقبة بن أبي معيط بلا جزورٍ ، فقذفه على ظهر النبي ( صلى الله عليه وسلم ). قيل : كان هذا الصنيع منهم قبل تحريم هذه الأشياء من الفرث والدم وذبيحة أهل الشرك ، فلم تكن تبطل الصلاة بها ، كالخمر كانت تصيب ثيابهم قبل تحريمها.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ان میں سے ایک شخص نے کہا:کیا تم اس دکھلاوے کی نماز پڑھنے والے کو نہیں دیکھتے کون ہے جو بنی فلاں کے اونٹ کی اوجھٹری لائے اور اسے گوبر ، خون اور بچہ دان سمیت اٹھا لائے پھر کچھ دیر کے لیے رکا رہے اور جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کریں تو ان کی پیٹھ پر ڈال دے؟ اس پر قوم کا بد بخت ترین آدمی عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور اوجھ لا کر انتظار کرنے لگا ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں تشریف لے گئے تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ مبارک پر دونوں کندھوں کے درمیان ڈال دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں ہی پڑے رہے۔ اس کے بعد وہ ہنسی کے مارے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ ایک شخص نے جاکر فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اطلاع دی ، وہ ابھی بچی ہی تھیں ، وہ دوڑتی ہوئی آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے ہی میں پڑے تھے تاکہ انہوں نے اوجھ ہٹا کر چھینکی اور پھر قریش مکہ کو مخاطب کر کے کو سنے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو تین بار فرمایا:”اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے، اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے، اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نام لے لے کر بد دعا کی:”اے اللہ! عمرو بن ہشام، ابو جہل کو پکڑ لے، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، اُمیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید کو پکڑ لے۔‘‘ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:اللہ کی قسم! میں نے دیکھا کہ سب کے سب جنگ بدر والے دن مقتول پڑے تھے، پھر انہیں کھینچ کر بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ کنویں والوں پر لعنت برسائی گئی۔‘‘
Sarah Al Sunnah Al Baghvi · The Book of Virtues › Chapter on his supplication (may God bless him and grant him peace) to the polytheists and his patience with regard to their harm · Hadith 3745
